اس ضمن میں مولانا گوہر رحمن صاحب نے دوسری بات یہ فرمائی ہے کہ امت کی تشکیل کا مقصد چونکہ ’’اقامت دین‘‘ اور ’’اظہار دین‘‘ ہے، اس وجہ سے امت مسلمہ کی نمائندہ حکومت کا مقصد بھی ’’اقامت دین‘‘ اور ’’اظہار دین‘‘ ہی ہونا چاہیے۔ مولانا کی نظر میں جو حکومت ’’اقامت دین‘‘ اور ’’اظہار دین‘‘ کا فریضہ انجام نہیں دیتی، وہ ’’بالفعل‘‘ حکومت تو ہوتی ہے، مگر ’’بالحق‘‘ حکومت نہیں ہوتی۔ حکومت ’’بالفعل‘‘ کے قوانین کی عام حالات میں اگرچہ پابندی کی جائے گی، تاہم اسے ’’الجماعۃ‘‘ کہہ کر اس کے التزام کو دین کا تقاضا قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ان کے نزدیک اگر ایسا ہو تو امریکا اور برطانیہ میں قائم ہونے والی غیرمسلموں کی حکومتیں بھی ’’الجماعۃ‘‘ ہی قرار پائیں گی جو بالبداہت غلط ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’...ایک حکومت تو وہ ہوتی ہے جو ایک امر واقعہ کے طور پر بالفعل قائم ہوتی ہے اور عملاً لوگ اس کو حکومت وقت کے طور پر تسلیم بھی کرتے ہیں اور اس کے انتظامی اور نظم و نسق سے متعلق قواعد و ضوابط کی پابندی بھی کرتے ہیں۔ مثلاً اس کی ریلوے لائینوں اور ایئر لائینوں پر چلتے ہیں اور ٹریفک کے قواعد کی پابندی کرتے ہیں، اس سے اپنا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنواتے ہیں اور اس کو ٹیکس اور دوسرے سرکاری واجبات بھی ادا کرتے ہیں۔ بلکہ اپنے حقوق حاصل کرنے اور تنازعات کا تصفیہ کرانے کے لیے اس کی عدالتوں میں جانے پر بھی اپنے آپ کو مجبور پاتے ہیں۔ ایسی حکومتیں تو آج امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان اور روس میں بھی عملاً قائم ہیں اور ان ممالک کے مسلمان شہری ان کے ملکی قوانین کی پابندی بھی کرتے اور مباحات کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ان حکومتوں کے انتظامی قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا شرعاً ممنوع بھی نہیں ہے۔ لیکن کیا صرف بالفعل موجود ہونے اور حکومت وقت ہونے کی وجہ سے ان غیرمسلم حکومتوں کو ’’الجماعۃ‘‘ کہا جا سکتا ہے، جس کا التزام دین کا تقاضا ہے اور جس سے الگ ہونا جاہلیت ہے ؟ ظاہر ہے کہ کوئی مسلمان بھی ان حکومتوں کو ’’الجماعۃ‘‘ نہیں کہہ سکتا۔ کیوں نہیں کہہ سکتا ؟ اس لیے کہ یہ حکومتیں بالفعل تو ہیں، مگر بالحق نہیں ہیں۔ قرآن و سنت کی رو سے بالحق حکومت وہ ہوتی ہے جو اللہ کی حاکمیت اور قرآن و سنت کی بالا دستی کو نہ صرف یہ کہ اعتقاداً تسلیم کرتی ہو بلکہ عملاً حکومت کا پورا نظام قرآن و سنت کے مطابق چلاتی ہو ورنہ وہ ظالم حکومت ہو گی اور ’لا ینال عہدی الظالمین‘ ظالموں کو امامت اور حکومت کا حق نہیں ہے۔ اسی طرح پاکستان اور دوسرے بہت سے اسلامی ممالک کے اسمی اور نسلی مسلمانوں کی حکومتیں بالفعل حکومتیں تو ہیں مگر بالحق حکومتیں نہیں ہیں۔ اس لیے کہ ان کے حکمران اسماً اور نسلاً مسلمان ہونے کے باوجود عملاً قرآن و سنت کی بالا دستی بھی تسلیم نہیں کرتے بلکہ ملک کا نظام سیکولرازم اور لا دین سیاست کے اصولوں کے مطابق چلاتے ہیں ۔‘‘(ماہنامہ فاران، جون ۱۹۹۵ء، ۲۲)

مولانا محترم کی یہ ساری بات جس مقدمہ پر قائم ہے، وہ یہ ہے کہ جو حکومت عملاً قرآن و سنت کی بالا دستی تسلیم نہ کرتی ہو، اسے ’’الجماعۃ‘‘ نہیں کہا جا سکتا۔ مولانا کی اس بات کو صحیح تسلیم کرنے کے لیے درج ذیل سوالوں کے جواب تلاش کرنے ضروری ہیں:
۱۔ مولانا نے حکومت بالفعل اور حکومت بالحق کی جو تفریق کی ہے، قرآن مجید اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور آپ سے مروی ارشادات میں اس کی کیا بنیاد ہے ؟
۲۔ مولانا نے اس ضمن میں قرآن مجید کے الفاظ ’لَا یَنَالُ عَہْدِی الظّٰلِمِیْنَ‘ کا حوالہ دیا ہے، مگر قرآن مجید میں یہ الفاظ اس سیاق و سباق میں آئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے جب یہ وعدہ فرمایا کہ ’اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا‘ ،’’میں تجھے ان لوگوں کا سردار بناؤں گا‘‘ (البقرہ۲: ۱۲۴) تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان سے پوچھا: ’وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ‘ (کیا یہ شرف میری اولاد کو بھی حاصل ہو گا؟) اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’لَا یَنَالُ عَہْدِی الظّٰلِمِیْنَ‘ (میرا یہ عہد ان لوگوں کو شامل نہیں ہے جو ظالم ہوں گے)۔ اس سیاق و سباق میں ظاہر ہے کہ ’لَا یَنَالُ عَہْدِی الظّٰلِمِیْنَ‘ میں جس عہد کا ذکر ہے، وہ ریاست کی سربراہی کا نہیں، بلکہ دینی پیشوائی یا امامت کا ہے۔ مولانا سے ہم اس ضمن میں یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے’اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَامًا‘ کے الفاظ میں جو عہد کیا تھا، اس کے معنی کیا تھے؟ اس کے معنی کیا ریاست کی امامت کے تھے یا دینی و مذہبی پیشوائی کے ؟
۳۔ اگر عملاً قرآن و سنت کی بالادستی تسلیم کر لینے ہی پر کوئی حکومت ’’الجماعۃ‘‘ کہلانے کی مستحق ہوتی ہے تو پھر ان روایتوں کے کیا معنی ہیں جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ حکمران فاجر و فاسق ہی کیوں نہ ہوں، وہ ظلم و عدوان ہی پر کیوں نہ اتر آئیں اور اپنی رعایا کے حقوق ادا کرنے سے انکار ہی کیوں نہ کر دیں، تب بھی ان کی اطاعت پر قائم رہنا ضروری اور ’’الجماعۃ‘‘ کے ساتھ وابستہ رہنے کا تقاضا ہے؟ مولانا کے نزدیک کیا ایسے حکمران قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہوتے ؟ کیا حکمرانوں کے معاملے میں قرآن مجید کا یہ حکم نہیں ہے کہ ’اِذَا حَکَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْکُمُوْا بِالْعَدْلِ‘ (النساء ۴: ۵۸)؟ اور کیا حکمران قرآن مجید کے اس عمومی حکم کے مخاطب نہیں ہیں کہ ’لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ‘ (النساء ۴: ۲۹)؟ مولانا کے نزدیک اگر ظلم، غیر عادلانہ رویہ، فسق و فجور اور اپنی رعایا میں سے بعض کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر سلوک کرنا قرآن مجید کے احکام کی ’’عملاً‘‘ خلاف ورزی ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسے حکمرانوں کی اطاعت پر قائم رہنے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’الجماعۃ‘‘ سے جڑے رہنے کا تقاضا کیوں قرار دیا ہے؟ مزید براں اگر عدل و انصاف جیسی بنیادی چیز سے گریز حکمران کو اطاعت کے حق سے محروم کرنے کا باعث نہیں بنتا تو پھر قرآن و سنت کی وہ کون سی ’’عملاً‘‘خلاف ورزی ہے جو قرآن مجید یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کے مطابق اسے اس حق سے محروم کر دیتی ہے؟
ہمارے نزدیک، جیسا کہ ہم پہلے بھی واضح کر چکے ہیں، اصل بات یہ ہے کہ ’’الجماعۃ‘‘ سے مراد کوئی حکومت نہیں، بلکہ مسلمانوں کا نظم اجتماعی ہے۔ یہ نظم اجتماعی جب قائم ہو جائے تو اس سے وابستہ رہنا ہی دین کا تقاضا ہے۔ اس میں اگر کوئی بگاڑ پیدا ہو جائے، اس کی باگ اگر کسی ’’اسمی‘‘ اور ’’نسلی‘‘ مسلمان کے ہاتھ میں آ جائے، اس کو چلانے والے ظلم و عدوان اور اپنی رعایا کے حقوق کو غصب کرنے پر اتر آئیں، جب تک یہ قائم ہے، ہر حال میں اس کے ساتھ وابستہ رہنا ہی دین و شریعت کا تقاضا ہے۔ اس معاملے میں اگر کوئی استثنا ہے تو وہ صرف یہ ہے کہ حکمران کی ایسی کوئی بات نہ مانی جائے جسے مان لینے سے پروردگار عالم کی نافرمانی لازم آتی ہو۔ حکمران کی اطاعت سے ہاتھ کھینچ لینا، قرآن مجید کے اشاروں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی رو سے صرف اس صورت میں جائز ہے، جب حکمران ’’کفر بواح‘‘ یعنی کھلے کفر کا مرتکب ہو۔ اس صورت میں بھی ترک اطاعت حکمران کی اجازت ہی ہے، اب بھی یہ دین کا کوئی حکم یا اس کا تقاضا نہیں ہے۔
اس وضاحت سے آپ سے آپ یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ امریکا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان اور روس کی حکومتیں ’’الجماعۃ‘‘ کی نمائندہ حکومتیں کیوں نہیں ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں ’’الجماعۃ‘‘ مسلمانوں کے نظم اجتماعی کو کہا گیا ہے، اسی وجہ سے بعض حدیثوں میں اس کے لیے ’جماعۃ المسلمین‘ کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ چنانچہ جو حکومت مسلمانوں کے نظم اجتماعی کی نمائندہ حکومت نہ ہو، اسے ’’الجماعۃ‘‘ یا ’’جماعت المسلمین‘‘ کی نمائندہ حکومت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ دوسری طرف جب مسلمانوں کے نظم اجتماعی میں بگاڑ پیدا ہو گیا ہو تو اس سے اس کے نظم اجتماعی یا ’’الجماعۃ‘‘ ہونے کی نفی نہیں ہو جاتی۔ اس صورت میں، یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ ’’الجماعۃ‘‘ میں بگاڑ پیدا ہو گیا ہے، مگر یہ بہرحال نہیں کہا جا سکتا کہ ’’الجماعۃ‘‘ کا وجود ہی ختم ہو گیا ہے۔ یہ ایسی ہی بات ہے، جیسے کوئی شخص یہ کہے کہ ’’امیر المومنین‘‘ یعنی مسلمانوں کے حکمران میں فلاں فلاں اوصاف ہونے چاہییں۔ ظاہر ہے اگر کوئی ایسا شخص مسلمانوں کا امیر منتخب ہو جائے جس میں یہ اوصاف موجود نہ ہوں تو اس سے اس کے ’’امیرالمومنین‘‘ ہونے کی نفی نہیں ہو جائے گی۔ بالکل اسی طرح ’’الجماعۃ‘‘ کے مطلوبہ اوصاف کی غیر موجودگی میں ’’الجماعۃ‘‘ کے وجود کی نفی نہیں ہوتی۔ اس میں شبہ نہیں کہ ایسی صورت حال میں مسلمانوں کو دین و شریعت کے حدود میں رہتے ہوئے حالات کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے، مگر کسی اصلاحی جدوجہد کے جواز کو ثابت کرنے کے لیے ’’الجماعۃ‘‘ کے وجود کی نفی کسی حال میں بھی ضروری نہیں ہے۔

____________