سترہواں باب 

سابقہ ابواب میں کیے گئے تجزئے کے مطابق اب ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ ہم یہ اندازہ لگائیں کہ امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ یعنی ایک نئی باوقار زندگی کے لیے کن باتوں پر عمل ضروری ہے۔ اگر اس کو مختصر انداز میں بیان کیا جائے تو دنیوی کامیابی کے لیے درج ذیل چار نکاتی لائحہ عمل ضروری ہے۔ وہ نکات یہ ہیں: 
O۔سائنس اور ٹیکنالوجی 
O۔جمہوری کلچر 
O۔انصاف
O۔حکمت وصبر، یعنی جذباتی ردِ عمل سے پرہیز کرکے مقابل طاقتوں سے امن کا وقفہ حاصل کرنا 
اب ان چار نکات کی تھوڑی سی تفصیل 
سابقہ تجزئے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ اس دنیا میں عزت ووقار کے ساتھ جینے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی پر دسترس ایک بنیادی شرط ہے۔ اس کے بغیر دنیا میں عزت ووقار کے ساتھ جینے کا خواب دیکھنا فضول ہے۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے، یہی طاقت وقوت ہے اور یہی دولت ہے۔ اس کے سامنے باقی تمام سرمایہ ہیچ ہے۔ مثلاً عالم اسلام کے تمام ممالک بشمول تیل پیدا کرنے والے ممالک کی مجموعی آمدنی صرف ایک عام سے یورپی ملک اسپین کی آمدنی سے بھی کم ہے۔ سائنس پر صرف وہی قوم دسترس حاصل کرسکتی ہے جو یہ تہیہ کرلے کہ اُسے اپنے سب بچوں کو پہلے بارہ برس مفت اور لازمی تعلیم دینی ہے۔ ایسا ہوجائے تو پھر یہ بچے فطرت کے خودکار نظام کے تحت زندگی کے مختلف شعبوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔ یہی لوگ آگے بڑھ کر ملک کو سیاسی قیادت فراہم کرتے ہیں، فنونِ لطیفہ اور ادب کے میدان میں نام پیدا کرتے ہیں، ڈاکٹر اور انجنئیر بنتے ہیں، اور انہی میں سے بہت سے لوگ سائنس کی تحقیق کو بھی اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیتے ہیں۔ جب تک ملک کے سو فیصد بچوں کو ابتدائی بارہ برس کی یکساں، مفت اور لازمی تعلیم کی دولت سے مالا مال نہ کیا جائے، تب تک دوسرا مرحلہ نہیں آسکتا۔ 
یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مقابل قوتیں ہمیں سائنسی علوم پر دسترس حاصل کرنے دیں گی۔ اس کا جواب یہ ہے کہ اگر ہم ان علوم کو حاصل کرنے کا تہیہ کرلیں تو کوئی بھی ملک ہمارے اس عزم میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ آج ٹیکنالوجی کا حصول جتنا آسان ہے، اُتنا کبھی نہ تھا۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ایجاد نے ٹیکنالوجی کے حصول میں موجود اکثر رکاوٹیں قابل عبور بنادی ہیں۔ تاہم یہ کوئی قلیل المیعاد کام نہیں ہے۔ جب ملکی توانائیوں کا پورا رُخ اس طرف پھیر دیا جائے تب کہیں جاکر چند دہائیوں میں اوسط درجے کی ترقی تک پہنچا جاسکتا ہے۔ اور اس کے بھی مزید چند دہائیوں کے بعد ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ آنے کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے۔ تاہم جب ہم ایک دفعہ اوسط درجے تک بھی پہنچ جائیں تو ہمارے عزت ووقار کا سفر شروع ہوجائے گا اور مقابل طاقتوں کے لیے ہمارا استحصال آسان نہیں رہے گا۔ 
دوسرا نکتہ یہ ہے کہ تمام مسلم ممالک اپنے ہاں کا مل جمہوری کلچر کو بطورِ اصول وقدر اختیار کرلیں۔ جمہوریت کے بغیر عوام عملاً غلام رہتے ہیں۔ جمہوریت ہی کے ذریعے سے صحت مند مسابقت کا ذہن فروغ پاتا ہے جس سے ترقی کا راستہ کھل سکتا ہے۔ جمہوریت ہی کے ذریعے سے عوام کو اعتماد ملتا ہے اور اپنے ملک کے نظام کے ساتھ عوام کی محبت پروان چڑھتی ہے۔ درحقیقت جمہوریت امت مسلمہ کے اتحاد کی منزل کی طرف جانے والی پہلی سیڑھی ہے۔ مسلمان ممالک بھی صرف اُس وقت ایک دوسرے کے قریب آسکتے ہیں اور اُن کا تعاون عملی حقیقت میں بدل سکتا ہے جب ان سب کے ہاں جمہوری کلچر وجود میں آجائے۔ ہم سب کی یہ دلی تمنا ہے کہ عالم اسلام کو متحد ہوجانا چاہیے۔ تاہم اس امر کی طرف ہماری نگاہ نہیں جاتی کہ اس کے لیے اولین شرط یہ ہے کہ سب مسلمان ممالک جمہوریت پر کاربند ہوجائیں۔ آج کے حالات میں اس شرط کو پورا کیے بغیر ایک حد سے زیادہ تعاون پر کاربند ہونا ممکن نہیں ہے۔ درحقیقت مسلمان ممالک میں جمہوریت کا فقدان ہی او آئی سی کی کمزوری کی اصل وجہ ہے۔ اس کو ایک اور مثال کے ذریعے یوں واضح کیا جاسکتا ہے کہ آج سب یورپی اقوام نے ’’یورپین یونین‘‘ بناکر اپنے درمیان سرحدوں کو تقریباً ختم کردیا ہے اور یہ سب ممالک ایک دوسرے کے بے حد قریب آگئے ہیں۔ اس کی اصل وجہ ان سب ملکوں کے سیاسی نظام کے اندر کارفرماجمہوری کلچر کی قدر (Value)ہے۔ اگر یہ سب ممالک جمہوری اقدار پر کاربند نہ ہوتے تو یہ کبھی ایک دوسرے کے قریب نہ آسکتے۔ دنیا کے سب سے زیادہ ترقی یافتہ ممالک کی تنظیم یعنی جی ایٹ کی مضبوطی کا اصل راز بھی یہی ہے۔ چونکہ ان سب ممالک میں جمہوری کلچر موجود ہے اور یہی ان کے درمیان قدرِ مشترک ہے، اسی لیے ان کے لیے آپس میں مل بیٹھ کر مکالمہ کرنے اور متفقہ فیصلے کرنے میں بہت کم رکاوٹیں پیش آتی ہیں۔ اس کے بالکل برعکس جب اوآئی سی کے اجلاس میں بادشاہ، امراء، فوجی ڈکٹیٹر اور نیم جمہوری حکمران اکٹھے بیٹھے ہوتے ہیں تو ان کے درمیان عملی اعتبار سے کوئی سیاسی قدرِ مشترک موجود نہیں ہوتی۔ چنانچہ اول تو یہ لوگ کوئی بامقصد فیصلہ کرہی نہیں سکتے اور کرتے ہیں تو اُس پر عمل درآمد ان کے لیے ناممکن ہوتا ہے۔ 
تیسرا نکتہ عوام کو انصاف کی فراہمی ہے۔ انصاف کا مطلب یہ ہے کہ قانون کے سامنے سب شہری برابر ہوں۔حکمران اور ایک عام انسان کے لیے ایک ہی قانون ہو۔ ہر معاملہ شفاف ہو اور ہر کسی کے لیے، خصوصاً حکمرانوں اور طاقت ور لوگوں کے لیے احتساب کا نظام موجود ہو۔ بعض مسلمان ممالک میں صورت حال نسبتاً بہتر ہے۔ لیکن اکثر مسلمان ملکوں، خصوصاً پاکستان میں، حصول انصاف ناممکن حد تک مشکل ہے۔ اس ملک میں ہر عدالت کے باہر سینکڑوں لوگوں کی ایک بھیڑ لگی ہوتی ہیں۔ ہر عدالت میں کیسوں کا ایک انبار لگا ہوتا ہے۔ اگر کسی کیس کا فیصلہ تین چار برس میں ہوجائے تو یہ ایک خود قسمتی کی بات تصور کی جاتی ہے۔ ایسے بھی کیس ہیں جن میں فیصلوں کی نوبت دس سال میں بھی نہیں آتی۔ اس دوران میں ایک کیس سے کئی کیس بن جاتے ہیں۔ لوگ عدالتوں سے مایوس ہوکر اپنا بدلہ خود لینے کی ٹھان لیتے ہیں۔ ہر جج کے سامنے سماعت کے لیے سینکڑوں کیس ہوتے ہیں۔ ہر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے سماعت کے لیے ہزاروں کیس موجود ہوتے ہیں۔ کیسز کا یہ انبار سال کے سال بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ اس ملک میں عدالت کے ذریعے انصاف حاصل کرنے کی توقع عام طور پر محض ایک خواب ہی ہوتی ہے۔ جس ملک میں ایک عام آدمی کو انصاف نہ ملے یااُسے بہت تاخیر کے ساتھ انصاف ملے، ایسے ملک کو کسی بھی معیار کی رو سے ایک مہذب ملک قرار نہیں دیا جاسکتا۔ آج سے سترہ برس بیشتر1991ء میں اس راقم نے اپنی کتاب’’پاکستان اور اکیسویں صدی‘‘ میں صفحہ134تا140اور 426تا436میں پاکستان کے عدالتی نظام پر بحث کی تھی۔ سترہ برس گزرنے کے بعد بھی وہ ساری بحث اُسی طرح تازہ ہے جس طرح وہ اُس وقت تھی۔ ایک جائزے کے مطابق ہمارے ملک میں سرزد ہونے والے جرائم میں سے صرف تین فیصد مجرموں کو کوئی سزا مل پاتی ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے مرکزی اور صوبائی بجٹ کا ایک فیصد حصہ بھی ایک عام آدمی کو انصاف کی فراہمی کے لیے مختص نہیں کیا جاتا۔ اگرچہ ہمارا سارا عدالتی نظام اصلاح کا محتاج ہے، لیکن باقی اگر کوئی اصلاح نہ کی جائے اور صرف یہی ایک اصلاح کی جائے کہ ہر لیول پر ججوں کی تعداد چار گنا بڑھا دی جائے تو اس سے ایک عام انسان کو انصاف کی فراہمی میں بڑی مدد مل جائے گی۔ اس اصلاح پر بجٹ کا ایک فیصد حصہ بھی نہیں لگے گا لیکن فی الوقت حکمران اس کے لیے بھی تیار نہیں ہیں۔ اس لیے کہ یہ اُن کی ترجیحات میں کوئی نمایاں مقام نہیں رکھتا۔ 
یہ جو پاکستان کے اندر ہر طرف بدامنی ہے، ہر انسان قانون کو ہاتھ میں لینے کے لیے تیار ہوتاہے، لاقانونیت کا دور دورہ ہے، ہر انسان کے خیال میں قانون بندوق کی نالی سے جنم لیتا ہے، لوگوں کے جذبات ہر وقت اشتعال اور ہیجان میں مبتلا رہتے ہیں اور ہر فرد ہر وقت لڑنے مارنے کے لیے تیار ہوتا ہے، اس کی اصل وجہ انصاف کی عدم فراہمی ہے۔ انصاف کی فراہمی سے ایک عام انسان سکھ کا سانس لیتا ہے اور پرامن ماحول میں ہر مثبت سرگرمی زور پکڑتی ہے۔ ملک میں معاشی سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں اور یوں بلحاظ مجموعی ملک ترقی کی طرف گامزن ہوجاتا ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس سے ملک کے اندر اعتماد اور اتحاد کی فضا جنم لیتی ہے۔ جب دوسری جنگ عظیم کے دوران میں برطانیہ ایک انتہائی نازک صورت حال سے دوچار تھا تو چرچل نے پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب تک برطانیہ کی عدالتیں عام انسان کو پوری جاں فشانی کے ساتھ انصاف فراہم کررہی ہیں، اُس وقت تک برطانیہ کی اس جنگ میں شکست کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ چرچل جیسے عظیم مدبر کی یہ بات سو فیصد صحیح تھی۔ چنانچہ امت مسلمہ کے حوالے سے یہ بھی ہماری ایک بڑی ترجیح ہونی چاہیے کہ عام انسان کو جلد، فوری اور سستا انصاف فراہم کیا جائے۔ 
چوتھا نکتہ حکمت وصبر ہے، یعنی ہر اہم فیصلہ کرتے وقت جذباتی ردِعمل سے مکمل پرہیز اور پیش آمدہ حالات کا بالکل معروضی (Objective)انداز میں تجزیہ کرکے بہترین لائحہ عمل بنانا۔ قرآن مجید میں صبروحکمت کی تعلیم ایک سودس مرتبہ سے زیادہ آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید اس ذہنی روئے کو ہمارے دل ودماغ کے اندر پوری طرح سمونا چاہتا ہے، تاکہ زندگی کے ہرہر مرحلے میں ہم صبروحکمت کے ساتھ جینا سیکھیں۔ 
صبر دراصل ایک ذہنیت کا نام ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حالات ناسازگار ہوں، مشکلات زیادہ ہوں اور ہر طرف سے خطرے امڈے چلے آرہے ہوں تو ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ حال اور مستقبل کے لیے منصوبہ بندی اور تیاری کی جائے۔ اگر تیاری کے مرحلے میں انتظار کی ضرورت ہوتو انتظار کیا جائے اور اشتعال، فوری ردِ عمل اور ہیجان انگیز اقدامات سے گریز کیا جائے۔پوری پوری دنیوی تدبیر کی جائے۔ یہ طرزِ عمل اختیار کیا جائے کہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم بہترین دنیوی حکمت عملی بناکر اس کے مطابق کام کریں، اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور جب اس کی طرف سے منظوری آئے گی تو حالات بدل جائیں گے۔ ہمارا اصل کام بہترین حکمت عملی کے ساتھ تیاری اور ثابت قدمی ہے۔ گویا بہترین تدبیر ہمارا کام ہے اور نتیجے کا فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ 
صبروحکمت کامطلب یہ بھی ہے کہ جذباتی نعرے نہ لگائے جائیں، جذباتی تقریریں نہ کی جائیں، مقابل قوتوں کو بلا ضرورت نہ للکارا جائے اور بغیر سوچے سمجھے اقدامات نہ اٹھائے جائیں۔ ہر مثبت بات کی جائے اور منفی بات سے حتی الوسع پرہیز کیا جائے۔ ہر احتجاج اور ردعمل قانون اور مسلمہ اخلاقیات کے تحت ہو۔ دراصل جذباتی اور بلند بانگ نعرے اور دعوے ایک انتہا پسندانہ ردعمل کی ذہنیت کو جنم دیتے ہیں۔ جس میں انسان بے سوچے سمجھے مرنے مارنے پر اُتر آتا ہے۔ ایسی کیفیت میں کیے گئے تمام جذباتی فیصلے نیم پختہ اور غلط ہوتے ہیں۔ جس کا نتیجہ خود ہمارے لیے زہرِ قاتل ہوتا ہے۔ پچھلے تین سو برس سے ہم سے ایسے ہی غلط فیصلے سرزد ہورہے ہیں۔ اب اس ذہنیت سے پرہیز ہمارے مستقبل کی کامیابی کے لیے ایک اہم شرط ہے۔ اقبال نے کیا خوب کہا تھا: 
اس نکتے کی ایک ضمنی شق یہ بھی ہے کہ ہم مقابل طاقتوں سے امن کا وقفہ خرید لیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس وقت جہاں جہاں مسلمان اور غیر مسلم ممالک کے درمیان مسلح تنازعات درپیش ہیں ،ان کے بارے میں ہم یک طرفہ فیصلہ کرلیں کہ ہم اس کے حل میں اپنی طرف سے طاقت استعمال نہیں کریں گے ،ہم مکالمے کے ذریعے سے سمجھوتے کی طرف پیش رفت کی کوشش کریں گے اور اگر سمجھوتا نہیں ہوتا تب بھی کسی بھی حالت میں مسلح کارروائی کی طرف قدم نہیں اٹھائیں گے۔ کسی بھی سمجھوتے کے لیے ہم’’ منصفانہ ‘‘ کی شرط عائد نہیں کریں گے ، بلکہ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر عملی حل کی طرف بڑھیں گے ۔
اس نکتے کی بنیاد یہ ہے کہ اس وقت ہم کمزور اور ہماری مقابل قوتیں توانا اور مضبوط ہیں۔قبل از وقت میدان جنگ میں کود پڑنا خود اپنے ہاتھوں سے ایک اور شکست کو تحریر کرنا ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ درحقیقت مسلمانوں کو درپیش ہر مسئلے کا ایک ایسا ممکن عملی حل موجود ہے جس پر عمل پیر ا ہونے سے معاملات سدھر سکتے ہیں ۔فی الوقت ہمارے سامنے پانچ مسائل ہیں ۔یعنی کشمیر ،فلسطین، عراق، افغانستان اور وہ مقامات جہاں مسلمان اقلیتیں جنگِ آزادی لڑ رہی ہیں۔ ان تمام مسائل کا پر امن حل ممکن ہے۔
مسلمان مما لک کو ایک دفعہ امن کا وقفہ میسر آجائے تو وہ اگلے پچاس برس کے اندر اندر ترقی یافتہ ممالک کے ہم پلہ بن سکتے ہیں ،اپنے معاشروں کی تعمیر کر سکتے ہیں اور خوش حالی کی نئی منزلوں کی طرف پیش قدمی کر سکتے ہیں ۔واضح رہے کہ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جس پر دنیا کی ہر ہوش مند قوم عمل کر تی ہے۔خود مغرب نے اپنے زریں دور میں بھی اس پر عمل کیا ہے ۔مثلاً پرتگیزی نو آبادی ایسٹ تیمور جو عیسائی اکثریت پر مشتمل تھا ،نے 1974ء میں آزادی کا اعلان کیا ۔بعد ازاں اس پر انڈونیشیا نے قبضہ کر لیا ۔اگرچہ اُسی وقت اقوام متحدہ نے ایسٹ تیمور کی آزادی کے حق میں قرار دا د بھی منظور کر لی، تاہم انڈونیشیا کی طاقت کے سبب اس کے خلاف کوئی عملی کارروائی نہیں کی گئی ۔چھبیس برس بعد جب انڈونیشیا ایک بڑے داخلی بحران سے دو چار ہوا تو ایسٹ تیمور کی آزادی کا راستہ خود بخود نکل آیا اور مغرب نے اس کے لیے اقوام متحدہ کے تحت تمام انتظامات کیے ۔
درج بالا چار نکتے کہنے میں تو بہت آسان ہیں لیکن ان پر عمل درآمد ایک عزمِ صمیم اور اپنے ذاتی مفادات کی بہت بڑی قربانی چاہتا ہے۔ تاہم حقیقت یہی ہے کہ امتِ مسلمہ کے مسائل کے حل کی اصل کنجی یہی ہے۔ ہم مسلمانوں کی موجودہ ذہنیت کا ایک رُخ یہ بھی ہے کہ ہم فوری نتائج چاہتے ہیں اور ہماری خواہش یہ ہوتی ہے کہ پردۂ غیب سے ایسا کچھ کام ہوجائے جس کے ذریعے ہم دنیا کی سب سے برتر قوم بن جائیں۔ عمل کی دنیا میں یہ ممکن نہیں۔ عمل کی دنیا کا طریقہ یہ ہے کہ ایک مستقل عزم کے ساتھ اپنے جذبات اور مفادات کی قربانی دی جائے۔ اس کے بعد کہیں جاکر اس کا پھل ملے گا۔ پشتو زبان کی ایک کہاوت ہے: 
ترجمہ: (جب تم اپنے بدن کا گوشت گھلا دوگے، تو تب کہیں جاکر تم شکار کا گوشت کھانے کے قابل ہوسکوگے) 
پشتو زبان کی ایک اور کہاوت ہے: 
ترجمہ: (اگر تم نے سوسال بعد بھی اپنی بے عزتی کا بدلہ لے لیا تو یہ سمجھو کہ تم نے یہ بہت جلدی لیا۔) 
اس کا مطلب یہ ہے کہ تیاری میں چاہے جتنا وقت گزر جائے، لیکن پوری تیاری کے بغیر کبھی کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے۔