ہمارے مستقبل کا تمام تر انحصار اب اس بات پر ہے کہ آیا اس قوم میں کوئی حقیقی فکری قیادت فروغ پاسکتی ہے یا نہیں؟ہم نے پہلے باب میں عرض کیا تھا کہ قوم کے دو بنیادی حصے ہوتے ہیں: ایک فعال طبقہ جو قیادت اور اشرافیہ پر مشتمل ہوتا ہے اور دوسرے غیر فعال عوام الناس ۔قوموں کی راہوں کا تعین پہلا طبقہ کرتا ہے اور اس طبقہ کی رہنمائی فکری قیادت کیا کرتی ہے۔ہم آج اگر ایک تباہ کن صورت حال کے دہانے پر کھڑے ہیں تو اس کا سبب اسی فکری قیادت سے ہماری محرومی ہے۔ہمارے قومی حالات کا سب سے منفی پہلو یہی ہے کہ اس وقت ملک میں کوئی حقیقی فکری قیادت موجود نہیں۔قیام پاکستان کے وقت جو کچھ فکری قیادت تھی ، اس کے سر پر سیاست اور اقتدار بری طرح سوار ہوگئے۔جب فکری قیادت اپنا کام چھوڑ کر سیاسی میدان میں اترتی ہے تو اس کے بعد سیاسی میدان میں کامیابی ملے نہ ملے، وہ اپنے شعبہ میں بڑی حد تک غیر مؤثر ہوجاتی ہے۔ سیاست تو لوگوں کی پسند و ناپسند کی رعایت کرکے ہی کی جاسکتی ہے ، جبکہ فکری رہنمائی میں لوگوں کے اوہام و تعصبات، جذبات و معتقدات اور اعمال و روایات پر تنقید کیے بغیر چارہ نہیں۔سیاست میں اترنے والوں کو اپنے آدرشوں کو خیر باد کہنا پڑتا ہے۔ یہی ہمارے ہاں بھی ہوا۔اس کے بعد ہمارے قومی مزاج میں پیدا ہونے والے بعض منفی رجحانات، مثلاً جذباتیت، انتہا پسندی، ظاہر پرستی، اخلاقی انحطاط اور علمی جمود نے کسی حقیقی فکری قیادت کے پنپنے کے امکانات بہت محدود کردیے۔ جو اکادکا لوگ موجود ہیں ، انھیں اپنی بات کہنے کے بعد جان بچانا مشکل ہوجاتا ہے۔
ہم نے اس کتاب کی تیاری کے دوران میں تاریخ کے ہزاروں صفحات کا مطالعہ کیا ہے۔ متعدد قوموں اور تہذیبوں کے حالات کا جائزہ لیا ہے۔ اس کے بعد اہل پاکستان کے جو حالات ہمارے سامنے ہیں ، انھیں دیکھ کر ہم پر بار بار مایوسی طاری ہو جاتی ہے۔اندھیر نگری چوپٹ راج کا جو تماشا یہاں ہر سطح پرصبح و شام نظر آتا ہے ، اس کے بعد کوئی امید کرنا آسان نہیں۔ بالخصوص خدا سے وفاداری کا عہد باندھنے کے بعد منافقت اور غداری کی جو کہانی ہم اپنے اپنے گھروں میں لکھ رہے ہیں، اس کا نتیجہ کبھی بھی اچھا نہیں نکل سکتا۔
ان مایوس کن حالات میں امید کی کوئی کرن اگر موجود ہے تو وہ یہ ہے کہ اس قوم کے ہر طبقہ میں ابھی تک زندہ لوگ پیدا ہورہے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن سے ہر میدان میں نئی قیادت وجود میں آسکتی ہے۔اس کتاب کے اصل مخاطب وہی لوگ ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جو نفسانفسی اور خود غرضی کے اس دور میں قوم کے درد میں تڑپتے ہیں۔جو اپنے نقطۂ نظر کے علاوہ دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ جو جذباتیت اور انتہا پسندی کے بجاے اصول پسندی کو اپنا معیار بناتے ہیں۔جو دنیاپرست الحادی تہذیب کے مقابلے میں نبیوں کی تہذیب کو غالب دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ خدا ان کی نگاہ میں ایسا بڑا ہے کہ وہ کسی اور کی بڑائی کو دل میں جگہ نہیں دے سکتے ۔ جو رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم کواس طرح آخری نبی مان چکے ہیں کہ آپ کے بعد کسی اور کی بات کو وہ حرف آخر نہیں سمجھتے۔جو صحابۂ کرام کی طرح حق پر کسی اور چیز کو ترجیح نہیں دے سکتے اور اس کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جواس قوم کی تباہ حال تقدیر بدل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور یہی لوگ اس دھرتی پر ہماری واحد امیدہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے سامنے ہم تعمیر ملت کا لائحۂ عمل رکھنا چاہتے ہیں۔

____________