جہاں تک فتووں کے بارے میں ہمارے اور مولانا محترم کے درمیان اختلاف کا تعلق ہے، اس میں ہمیں افسوس ہے کہ قارئین کو اصطلاحات کی بھول بھلیاں میں الجھا کر خلط مبحث پیدا کیا جا رہا ہے۔ ہم نے اپنی پچھلی بحث ہی میں یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ کس قسم کے فتوے ہیں جنھیں ناجائز قرار پانا چاہیے۔ اس کے جواب میں مولانا محترم نے ’فتویٰ‘، ’امر‘ اور ’قضا‘کی اصطلاحات کی تفصیل کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ ان میں سے کس کی کیا حیثیت ہے۔
ہم نے اپنے پچھلے مضمون میں یہ واضح کیا ہے کہ جس ’فتویٰ‘ پر ہمیں اعتراض ہے، وہ دراصل ’فتویٰ‘ کے نام پر ’قضا‘ کے معاملات ہیں۔ مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ ’فتویٰ‘، ’امر‘ اور ’قضا‘ کا فرق سمجھانے کے بجاے لوگوں کو یہ بتائیں کہ ہم نے اپنی مثالوں میں جن ’فتووں‘کو حدود سے متجاوز قرار دیا ہے، وہ انھیں کس بنیاد پر جائز قرار دیتے ہیں۔ وہ اگر اس نکتے کو واضح فرمائیں گے تو ہم ان کے فرمودات پر غور کرکے اپنی معروضات پیش کر دیں گے۔ مولانا کی موجودہ غیر متعلق بحث کے بارے میں ہمیں فی الحال کچھ کہنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

____________