امت مسلمہ کو لگ جانے والا سب سے خطرناک مرض وہ ہوتا ہے جو اسے توحید اور اس کے تقاضوں سے دور کردے۔ دور قدیم میں یہ فتنہ شرک تھا اور دورجدید میں الحاد نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ہم پچھلے باب میں اس کی کچھ تفصیل بیان کرچکے ہیں۔اس کامختصر تاریخی پس منظریہاں بیان کیے دیتے ہیں۔
مسلمانوں کے اثر سے اہل مغرب میں نشاۃ ثانیہ کا جو عمل شروع ہوا، وہ عیسائی مذہبی قیادت کی مخالفت کی بنا پر انکار مذہب سے انکار خدا تک جا پہنچا۔انیسویں صدی میں یہ فکر خیال غالب ہوچکا تھا کہ انسان کو اب خدا کی ضرورت نہیں رہی،تاہم بیسویں صدی میں صورت حال بہت سی وجوہات کی بنا پر تبدیل ہوگئی۔ لوگوں نے جان لیا کہ خدااور مذہب سے دامن چھڑانا آسان نہیں، لیکن جدید ذہن کے سامنے مذہب کی شکل میں جو کچھ رہنمائی موجود تھی ، اسے قبول کرنا اس کے لیے ممکن نہ تھا۔چنانچہ ایک درمیانی راستہ نکالا گیا۔خدا اور مذہب ، دونوں کو قبول کرلیا گیا ، مگر دونوں کی حیثیت ایک ثقافتی ورثے کی تھی۔آج لوگ خدا کو پکارتے ، عبادت گاہوں میں جاتے اورمذہبی تہوار مناتے ہیں ، مگر ان کی حیثیت تہذیبی روایات کی سی ہے۔ عملی زندگی میں کوئی بھی مذہب کی رہنمائی قبول نہیں کرتا۔
ہمارے نزدیک یہ رویہ صرف دنیا کی زندگی کو مقصود بنانے سے پیدا ہوتا ہے۔ توحید ایک نامکمل عقیدہ ہے جب تک اس کے ساتھ آخرت کا جوڑ نہ لگا یا جائے۔اس دنیا میں چونکہ انسان کو آزمایش کے لیے بھیجا گیا ہے ، اس لیے خدا ہمیشہ اپنے آپ کو پردۂ اسباب میں مستور رکھتا ہے۔ یہ پردہ روز قیامت اٹھایا جائے گا جہاں خدا اپنی تمام تر صفات کے ساتھ لوگوں کے سامنے جلوہ گر ہوگا۔
اہل مغرب میں اگر یہ رویہ پایا جاتا ہے تو کوئی عجیب بات نہیں ، کیونکہ جو مذہبی رہنمائی وہاں موجود ہے ، اس میں بھی عقیدۂ آخرت کا تصور نہایت مبہم اور نامکمل ہے، مگر جب مسلمان یہ کام کرتا ہے تو وہ ایک بدترین جرم کا ارتکاب کرتا ہے، اس لیے کہ اسلام میں آخرت پر اتنا ہی زور دیا گیا ہے جتنا کہ توحید پر ۔مگر دنیا پرستی کی مغربی لہر جب یورپ سے نکلی اور چار عالم میں پھیلی تو مسلمان بھی اس سے اسی طرح متاثر ہوئے، جس طرح بنی اسرائیل شرک سے متاثر ہوئے تھے۔آج ہمارے دلوں میں بھی دنیا کی محبت اس طرح رچ بس گئی ہے کہ ہم اپنی تمام تر دینی ذمہ داریوں اور اخروی جواب دہی کو فراموش کر گئے ہیں۔ ہمیں دنیا کے سامنے توحید کا علم بلند رکھنا تھا ، مگر ہمارا حال یہ ہوچکا ہے کہ خو ف وخواہش اور امید واندیشہ کا ہر جذبہ اسی دنیا اور دنیا والوں سے وابستہ ہوچکا ہے۔ ہمارا رونااور ہنسنا ، لینا اور دینا، بیٹھنا اور اٹھنا دنیا کی زندگی کے لیے ہے۔ہر وہ مقام جہاں خدا کی جنت اور دنیا کے فائدہ میں سے کسی ایک کا انتخاب ہمارے سامنے آتا ہے ، بلا جھجک ہمارا انتخاب دنیا اور اس کا فائدہ ہوتا ہے۔خدا نے اپنی جنت پانے کے جو شرائط مقرر کیے ہیں ، ان کے حساب سے جنت وہی پائے گا جو قربانی کے درجے میں اس کے لیے محنت کرے، ہم لوگ تو خواہش کے درجے میں بھی جنت کے طلب گار نہیں ۔ ہم تو بس مال و دنیا کے طلب گار بن کر رہ گئے ہیں۔ گاڑی، بنگلہ، اسٹیٹس، بینک بیلنس اور مال و دنیا کے دیگر مظاہر ہمارے مالک و آقا بن چکے ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔
دنیا کی محبت میں گرفتار ہونے کے بعد کسی مسلم گروہ کے لیے خدا پرستی کی وہ زندگی گزارنا ممکن نہیں رہتاجو سرتاسر قربانیوں سے عبارت ہوتی ہے۔ امت مسلمہ کے ساتھ زیادہ بڑا سانحہ یہ ہوتا ہے کہ توحید چھوڑنے کے بعد خدا انھیں اجتماعی سطح پر دنیا میں بھی کچھ نہیں دیتا۔ ان پر ذلت و رسوائی مسلط کردی جاتی ہے۔ عارضی طور پر جو دنیوی فراخی انھیں حاصل ہوتی ہے ، وہ جلد یا بدیر کسی سزا کے بعد چھین لی جاتی ہے۔
عصر حاضر میں توحید سے ہمیں دور کرنے والادوسرا عنصر شرک ہے۔ گو صحابۂ کرام کی قربانیوں کے نتیجے میں نظری طور پر شرک مر چکا ہے اور کوئی بھی اس احمقانہ نظریے سے وابستگی کو درست ثابت نہیں کرسکتااور نہ کرتا ہے، لیکن غیر اللہ کو خدا کا مقام دینے کا مرض بہرحال آج بھی عام ہے۔ یہ علم و عقیدہ ، دونوں کی سطح پر ہوتا ہے۔عقیدہ کی عوام الناس میں جو گمراہی پھیلی ہوئی ہے، اس سے اکثر لوگ واقف ہیں اور اس پر بہت تنقید ہوچکی ہے۔ہم اس مرض کی طرف توجہ دلانا چاہیں گے جو علمی سطح پر ظاہر ہوتاہے۔ عام زبان میں اسے اکابر پرستی کہتے ہیں۔وہ اہل علم، بزرگ اور صالحین جنھیں ان کے ہم عصر اپنے جیسا جانتے تھے، وقت کی گر د، ان کی صور ت گری اس طرح کرتی ہے کہ آنے والے عزت و شرف اور علم و بزرگی کا ہر وہ تاج ان کے سر پر رکھنا ضروری سمجھتے ہیں جو صرف اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو زیب دیتا ہے۔اس کے بعد ان سے اختلاف کرنا ایک جرم بن جاتا ہے۔اسلاف سے اختلاف کرنے والوں کو لوگ بلا جھجک رد کردیتے ہیں۔ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے دور کا ایک ’’معمولی‘‘ انسان ان سراپا علم وعظمت ائمہ سے اختلاف کی جرأت کیسے کرسکتا ہے۔کاش ،لوگ یہ جانتے کہ جس معاشرے میں عدم برداشت فروغ پاجائے، وہ ذہنی طور پر مردہ اور زوال کا شکار ہوجاتا ہے۔
دنیا پرستی اور اکابر پرستی کے یہ امراض جو راہ توحید کے سب سے بڑے دشمن ہیں اوربدقسمتی سے ہمارے قومی وجود کا پوری طرح احاطہ کیے ہوئے ہیں، ان کا واحد علاج قرآن کی براہ راست رہنمائی ہے۔ شرط یہ ہے کہ قرآن پڑھتے وقت صرف قرآن پڑھا جائے۔بغیر کسی تفسیر کے جب خالی الذہن ہوکر قرآن پڑھا جائے گا تو جو بنیادی پیغام بار بار سامنے آئے گا، وہ یہ ہوگا:
’’لوگو، تمھارا رب ایک ہی ہے اور وہی ہر بڑائی اور عظمت کا واحد مستحق ہے۔وہ اپنی تمام تر صفات کے ساتھ ہر آن تمھارے ساتھ ہے۔ تمھیں ایک روز اس کے حضور پیش ہوکر تنہا اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔جہاں اس کے فرماں بردار جنت میں اور نافرمان جہنم میں جائیں گے۔‘‘
اس فکر کے ساتھ جینے والا کبھی دنیا پرست ہوسکتاہے نہ اکابر پرست ۔اس ذہن کے ساتھ دھرتی پر چلنے والا خدا کا بہترین بندہ اور انسانوں کے لیے ایک فائدہ مند وجود ہوگا۔ یہی وہ لوگ ہیں جو آج اس معاشرے میں سب سے کم ہوگئے ہیں۔

____________