قرآن مجید کے مطابق آخرت میں کامیابی کے لیے یہ ضروری ہے کہ دنیا کی اس زندگی میں انسان اپنے آپ کو ہر قسم کی آلایش سے صاف کر کے اپنا تزکیہ کر لے۔ اللہ کی جنت پاک نفوس ہی کی جگہ ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو تزکیہ ہی ہے جس سے انسان کو جنت کی ابدی بادشاہی میں داخلے کا پروانہ ملتا ہے۔ خدا کے نبی اسی تزکیہ کی راہ دکھانے اور انسان کو اسی کا طریقہ سکھانے کے لیے تشریف لائے۔خدا کی شریعت اسی تزکیہ کے لوازم اور اس کے راستے کی تعلیم دینے کے لیے نازل ہوئی۔ تزکیۂ نفس کا یہ عمل انسان کے ظاہر اور اس کے باطن، دونوں پہلوؤں سے مطلوب ہے۔

قرآن مجید سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جس طرح وضو، غسل اور طہارت حاصل کرنے کے دوسرے طریقے انسان کے ظاہری وجود کو صاف کر دیتے اور اس طرح اس کے جسمانی وجود کے تزکیہ کا ذریعہ بنتے ہیں ، بالکل اسی طرح سے سچے دل سے کی جانے والی توبہ انسان کے باطنی وجود کو دھو دیتی اور اس طرح اس کے روحانی وجود کے تزکیہ کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ قرآن مجید نے توبہ اور تطہیر کا ذکر ساتھ ساتھ کر کے ان دونوں کے مابین اسی مناسبت کو نمایاں کیا ہے۔ ارشاد ہے:

 

اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَھِّرِیْنَ.(البقرہ۲: ۲۲۲)

’’بلا شبہ، اللہ بہت زیادہ توبہ کرنے والوں اور بہت پاک صاف رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘

 

مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ اس آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

 

’’...توبہ اور تطہر کی حقیقت پر غور کیجیے تو معلوم ہو گا کہ توبہ اپنے باطن کو گناہوں سے پاک کرنے کا نام ہے اور تطہر اپنے ظاہر کو نجاستوں اور گندگیوں سے پاک کرنا ہے۔ اس اعتبار سے ان دونوں کی حقیقت ایک ہوئی اور مومن کی یہ دونوں خصلتیں اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں۔ اس کے برعکس جو لوگ ان سے محروم ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مبغوض ہیں۔‘‘ (تدبر قرآن ۱/ ۵۲۶)