قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا سے قریب ہونے، اس کے دربار میں شرف قبولیت پانے اور اس سے توبہ و استغفار کرنے کا بہترین وقت سورج طلوع ہونے سے پہلے کا وہ وقت ہے جب دنیا سکون کی نیند سو رہی ہوتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب اللہ کے وہ بندے جنھیں دنیا کی ہر نعمت اور دل چسپی سے بڑھ کر خدا کی خوشنودی عزیز ہے، اپنے نرم بستر چھوڑ کر خدا کے حضور قیام و سجود میں اس سے سرگوشیاں کرتے، اس کے حضور میں اپنے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کرتے اور اپنے گناہوں کی معافی مانگتے اور اس کے لیے توبہ و استغفار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ کے مقرب بندوں کی ایک صفت یہ بھی بیان ہوئی ہے کہ ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں اور اپنے پروردگار کو خوش کرنے کی دھن انھیں چین کی نیند نہیں سونے دیتی۔ چنانچہ فرمایا:

 

تَتَجَافٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا وَّ مِمَّا رَزَقنْٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ. (السجدہ ۳۲: ۱۶) 

’’ان کے پہلو بستروں سے کنارہ کش رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو پکارتے ہیں خوف اور طمع کے ساتھ اور جو ہم نے انھیں بخشا ہے، اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘

 

دوسرے مقام پر فرمایا ہے:

 

کَانُوْا قَلِیْلاً مِّنَ الَّیْلِ مَا یَھْجَعُوْنَ وَبِالْاَسْحَارِھُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ. (الذّٰریٰت۵۱: ۱۷۔۱۸) 

’’وہ راتوں کو کم ہی سویا کرتے اور صبح دم اٹھ کر اپنے پروردگار سے مغفرت کے طالب ہوتے تھے۔‘‘

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی بے شمار روایات میں بھی اس وقت کی دعا و مناجات اور توبہ و استغفار کی قبولیت کی نوید سنائی گئی ہے۔ ایک روایت میں آپ نے فرمایا:

 

فاذا مضی ثلث اللیل اونصف اللیل نزل الی السماء الدنیا جل و عز فقال ھل من سائل فاعطیہ ھل من مستغفر فاغفر لہ ھل من تائب فاتوب علیہ ھل من داع فاجیبہ.(مسند احمد،رقم ۹۲۲۰) 

’’جب ایک تہائی یا آدھی رات گزر جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ سماے دنیا پر تشریف لے آتے اور فرماتے ہیں: ہے کوئی مانگنے والا کہ میں اسے دوں؟ ہے کوئی مغفرت کا طالب کہ میں اسے معاف کروں؟ہے کوئی توبہ کا خواست گار کہ میں اس کی توبہ قبول کروں؟ ہے کوئی پکارنے والا کہ میں اس کی پکار کا جواب دوں؟‘‘