جو شخص سچے دل سے توبہ کرتا، اپنے گناہوں کی بخشش کا طالب بنتا اور خدا کی پسند کے مطابق زندگی گزارنے کا پختہ عزم کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے یہ خوش خبری دی گئی ہے کہ وہ اپنی رحمت سے محض اس کے سابقہ گناہوں کوہی معاف نہیں فرما دیں گے، بلکہ انھیں نیکیوں سے بدل دیں گے۔ ارشاد ہے:

 

اِلَّا مَنْ تَابََ واٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا فَاُولٰٓءِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِھِمْحَسَنٰتٍ.(الفرقان ۲۵: ۷۰) 

’’البتہ، جس نے (زنا اور قتل جیسے جرائم کے بعد بھی) توبہ کی اور ایمان اور عملِ صالحکے ساتھ اپنی زندگی گزاری، اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو نیکیوں سے بدل دیں گے۔‘‘

 

ایک موقع پر فرمایا:

 

فَمَنْ تَابَ مِنْ بَعْدِ ظُلْمِہٖوَاَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰہَ یَتُوْبُ عَلَیْہِ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ.(المائدہ۵: ۳۹)

’’پھر جس نے اپنے اس ظلم کے بعد توبہ اور اصلاح کر لی تو اللہ اس پر عنایت کی نظر فرمائے گا۔ بے شک، اللہ غفور و رحیم ہے۔‘‘

 

ایک دوسرے موقع پر فرمایا:

 

کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلٰی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ اَنَّہٗمَنْ عَمِلَ مِنْکُمْ سُوْٓءً ا بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِہٖوَاَصْلَحَ فَاَنَّہٗغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ.(الانعام۶: ۵۴) 

’’تمھارے رب نے اپنے اوپر رحمت واجب کر رکھی ہے۔جو کوئی تم میں سے نادانی سے کوئی برائی کر بیٹھے گا، پھر وہ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لے گا تو وہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔‘‘

 

کتاب امثال میں ہے:

 

’’جو اپنے گناہوں کو چھپاتا ہے ، کامیاب نہ ہو گا، لیکن جو ان کا اقرار کر کے ان کو ترک کرتا ہے اس پر رحمت ہو گی۔ مبارک ہے وہ آدمی جو سدا ڈرتا رہتا ہے، لیکن جو اپنے دل کو سخت کرتاہے ، مصیبت میں پڑے گا۔‘‘ (۲۸: ۱۳۔ ۱۴)

 

اسی طرح انجیلوں میں اسی حوالے سے حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کا یہ قول نقل ہوا ہے:

 

’’پس توبہ کے موافق پھل لاؤ۔‘‘ (متی ۳: ۸ )

 

عمل کی اس اصلاح میں یہ بات آپ سے آپ شامل ہے کہ جہاں کہیں اس گناہ کا ازالہ ممکن ہو جس سے توبہ واستغفار کی جا رہی ہے، وہاں اپنے گناہ کا ازالہ بھی کیا جائے۔ چنانچہ اسی حوالے سے سورۂ بقرہ میں یہود کو ملعون ہو جانے کی وعید سنانے کے بعد ان کو معافی کی راہ بتائی گئی ہے، اس میں یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ وہ جس جرم میں ملوث رہے ہیں، اس کا ازالہ کریں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق جو باتیں وہ چھپاتے رہے ہیں، ان کا برملا اعتراف کریں اور انھیں لوگوں کے سامنے کھلے طریقے سے بیان کریں۔ ارشاد ہے:

 

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا فَاُولٰٓءِکَ اَتُوْبُ عَلَیْھِمْ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ.(البقرہ ۲: ۱۶۰)

’’البتہ، جن لوگوں نے توبہ کر لی اور اصلاح کر لی اور (جو کچھ چھپاتے تھے، اسے) واضح طور پر بیان کر دیا تو ان کی توبہ میں قبول کروں گا۔ میں بڑا توبہ قبول کرنے والا (اور) رحم کرنے والا ہوں۔‘‘