قرآن مجید ہی سے یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص گناہوں کو چھوڑنے اور خدا کی پسند کا راستہ اختیار کرنے کا عزم کرتا، اپنے سابقہ گناہوں پر توبہ کرتا اور خدا سے معافی کا طلب گار ہوتا ہے تو آسمانوں پر خدا کے فرشتے بھی اللہ کے حضور میں اس کے حق میں دعا کرتے ہیں۔ سورۂ غافر میں فرشتوں کی اس دعا کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 

اَلَّذِیْنَ یَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗیُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّھِمْ وَ یُؤْمِنُوْنَ بِہٖوَیَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْ ءٍ رَّحْمَۃً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِیْلَکَ وَقِھِمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ رَبَّنَا وَاَدْخِلْھُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ نِ الَّتِیْ وَعَدْتَّھُمْ وَ مَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَآءِھِمْ وَاَزْوَاجِھِمْ وَذُرِّیّٰتِھِمْ اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ. وَ قِھِمُ السَّیِّاٰتِ وَمَنْ تَقِ السَّیِّاٰتِ یَوْمَءِذٍ فَقَدْ رَحِمْتَہٗوَذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ.(۴۰: ۷۔۹) 

’’جو عرش کو اٹھائے ہوئے اور جو اس کے ارد گرد ہیں، وہ اپنے رب کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، اس کی حمد کے ساتھ اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں جو ایمان لائے ہیں۔ اے ہمارے رب، تیری رحمت اور تیرا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے تو ان لوگوں کی مغفرت فرماجو توبہ کریں اور تیرے راستے کی پیروی کریں اور انھیں جہنم کے عذاب سے بچا۔ اور اے ہمارے رب، ان کو عدن کے ان باغوں میں داخل کر جن کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔ اور ان کو بھی جو ان کے آبا، ازواج اور ذریات میں سے جنت کے اہل ٹھہرے۔ بے شک، تو عزیز و حکیم ہے۔ اور ان کو برے نتائج اعمال سے بچا اور جن کو تو نے اس دن برے نتائج سے بچایا، وہی ہیں جن پر تو نے رحم فرمایا اور یہی درحقیقت بڑی کامیابی ہے۔‘‘