نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی روایتوں اور قدیم آسمانی صحیفوں میں توبہ کی ترغیب دیتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ سے بہت خوش ہوتا ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

 

اللّٰہ افرح بتوبۃ عبدہ من احدکم سقط علی بعیرہ وقد اضلہ فی ارض فلاۃ.(بخاری،رقم ۵۸۳۴ ) 

’’اللہ اپنے بندے کی توبہ سے اس سے کہیں زیادہ خوش ہوتا ہے، جتنا تم اس وقت خوش ہوتے ہو، جب کسی بیابان زمین میں تمھارا کھویا ہوا اونٹ مل جائے۔‘‘

 

اس روایت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گناہ گار بندوں کوبھٹکے ہوئے اونٹوں سے تعبیر کیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ جس طرح تمھارے دل میں اپنے کھوئے ہوئے اونٹ کے مل جانے کی آرزو ہوتی اور اس کے مل جانے پر تم خوشی مناتے ہو، اسی طرح اللہ بھی یہ چاہتا ہے کہ اس کا بھٹکا ہوا بندہ اس کے پاس واپس آ جائے اور جب وہ آ جاتا ہے تو اللہ اس پر بہت خوش ہوتا ہے۔

حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی توبہ و استغفار کی ترغیب دیتے ہوئے اسی قسم کی تمثیل میں بات سمجھائی ہے۔ لوقا میں ہے:

 

’’تم میں کون ایسا آدمی ہے جس کے پاس سو بھیڑیں ہوں اور ان میں سے ایک کھو جائے تو ننانوے کو بیابان میں چھوڑ کر اس کھوئی ہوئی کو جب تک مل نہ جائے ڈھونڈتا نہ رہے ؟ پھر جب مل جاتی ہے تو وہ خوش ہو کر اسے کندھے پر اٹھا لیتا ہے ۔اور گھر پہنچ کر دوستوں اور پڑوسیوں کو بلاتا اور کہتا ہے میرے ساتھ خوشی کرو کیونکہ میری کھوئی ہوئی بھیڑ مل گئی۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ اسی طرح ننانوے راست بازوں کی نسبت جو توبہ کی حاجت نہیں رکھتے ، ایک توبہ کرنے والے گناہ گار کے باعث آسمان پر زیادہ خوشی ہو گی۔ یا کون ایسی عورت ہے جس کے پاس دس درہم ہوں اور ایک کھو جائے تو وہ چراغ جلا کر گھر میں جھاڑو نہ دے اور جب تک مل نہ جائے کوشش سے ڈھونڈتی نہ رہے ؟ اور جب مل جائے تو اپنی دوستوں اور پڑوسنوں کو بلا کر نہ کہے کہ میرے ساتھ خوشی کرو، کیونکہ میرا کھویا ہوا درہم مل گیا۔ میں تم سے کہتا ہوں کہ اسی طرح ایک توبہ کرنے والے گناہ گار کے باعث خدا کے فرشتوں کے سامنے خوشی ہوتی ہے۔‘‘ ( ۱۵: ۳۔ ۱۰) 

 

جس شخص کو خدا کی خوشنودی عزیز ہے، اسے چاہیے کہ اپنے آپ کو خدا کی مغفرت اور اس کی خوشنودی کا اہل بنا لے۔ وہ اپنے ایمان اور عمل کے ذریعے سے خدا کے قریب ہونے کی کوشش کرے۔ اللہ کا پیغمبر انھیں اللہ ہی کی طرف سے خوش خبری دیتا ہے:

 

ومن تقرب الی شبرًا تقربت الیہ ذراعًا ومن تقرب الی ذراعًا تقربت الیہ باعًا واذا اقبل الی یمشی اقبلت الیہ اھرول.(مسلم، رقم ۴۹۲۷) 

’’(اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:) جو شخص بالشت برابر میرے قریب آتا ہے، میں گز بھر اس کے قریب ہو جاتا ہوں۔جو شخص گز بھر میرے قریب ہوتا ہے، میں اس کے دو گز قریب ہو جاتا ہوں اور جو میری طرف چلتے ہوئے آتا ہے، میں اس کی طرف دوڑتے ہوئے جاتا ہوں۔‘‘

 

خدا کی طرف پلٹنے اور اس کی طرف چلنے کا راستہ، توبہ ہی کا راستہ ہے۔ قرآن مجید ہمیں پکارتا ہے:

 

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّکَفِّرَ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ وَیُدْخِلَکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗنُوْرُھُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا اِنَّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ.(التحریم ۶۶:۸)

’’اے ایمان والو، اللہ کی طرف مخلصانہ رجوع کرو۔ امید ہے کہ تمھارا پروردگار تمھارے اوپر سے تمھارے گناہ جھاڑ دے اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن میں نہریں بہ رہی ہوں گی۔جس دن کہ اللہ نبی کو اور ان لوگوں کوجو اس کے ساتھ ایمان لائے، رسوا نہیں کرے گا۔ ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دہنے چل رہی ہو گی، وہ دعا کر رہے ہوں گے: اے ہمارے پروردگار، ہمارے لیے اس روشنی کو کامل کر اور ہماری مغفرت فرما۔ بے شک، تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

 

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی پسند کا راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

____________