لغت میں توبہ کے معنی ’الرجوع من الذنب‘یعنی گناہ سے رجوع کے بیان ہوئے ہیں۔ ’’لسان العرب‘‘ میں ہے:

 

تاب الی اللّٰہ یتوب توبًا وتوبۃ ومتابًا: اناب و رجع عن المعصیۃ الی الطاعۃ.(۱/ ۲۳۳)

’’’تاب الی اﷲ‘ جس سے فعل مضارع ’یتوب‘ اور جس کے مصدر ’توبًا‘،’ توبۃ‘ اور ’متابًا‘ ہیں، اس کے معنی انابت اور گناہ کے راستے سے خدا کی اطاعت کی طرف پلٹنے کے ہیں ۔‘‘

 

توبہ کے اس معنی کو سامنے رکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی اصل روح انابت یا پوری طرح سے خدا کی طرف متوجہ ہونا ہے۔ انسان اگر فی الواقع اپنے پروردگار سے محبترکھتا ہے تو ظاہر ہے کہ پھر اس کی پسند و ناپسند کے معاملے میں وہ بے پروا نہیں ہو سکتا ۔ توبہ دراصل کسی کمزوری کی وجہ سے خدا کی پسند سے ہٹ جانے کے بعد شدید پشیمانی کا احساس، اپنے رب کے حضور معافی کی درخواست اور اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ پھر کبھی اس غلطی کا مرتکب نہیں ہو گا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی بات واضح کرتے ہوئے فرمایا:

 

فان التوبۃ من الذنب الندم والاستغفار.(مسند احمد،رقم ۲۵۰۷۷)

’’گناہ سے توبہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ آدمی اپنے گناہ پرپشیمان ہو اور ان کے لیے اللہ سے معافی مانگے۔‘‘

 

ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا:

 

التوبۃ من الذنب ان یتوب منہ ثم لا یعود فیہ.(مسند احمد،رقم ۴۰۴۳) 

’’گناہ سے توبہ یہ ہے کہ انسان اس سے پلٹ آئے اور پھر اس میں نہ پڑے ۔‘‘

 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ان ارشادات کی روشنی میں یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ توبہ محض کچھ مخصوص الفاظ کے ورد کا نام نہیں ہے۔ اس کی اصل روح شدید پشیمانی اور پروردگار عالم کی ناراضی کا خوف ہے۔ انسان جس سے جتنی زیادہ محبت کرتا ہے، اس کے دل میں اس کو خوش کرنے کی اتنی ہی زیادہ تمنا ہوتی اور اس کی ناراضی مول لے لینے پر وہ اتنا ہی زیادہ پشیمان اور شرمندہ ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو توبہ دراصل خدا کے ساتھ تعلق کی تجدید کا اظہار ہے۔

غور کیجیے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ توبہ کے تین اجزا ہیں: ایک علم سے متعلق ہے، دوسرا کیفیتسے اور تیسرا ارادے سے۔ سچی توبہ کے لیے سب سے پہلے اس بات کی معرفت ضروری ہے کہ گناہ خدا سے دوری کا باعث ہے۔ ہر وہ شخص جو خدا سے فی الواقع محبت رکھتا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے دل پر یہ بات بہت شاق گزرے گی کہ اس کے گناہوں کی وجہ سے اس کا رب اس سے ناراض ہو گیا ہے۔ انسان کے اندر جب اس بات کی معرفت پیدا ہوتی اور اسے اس بات کا شعور ہوتا ہے تو اس کے اندر شدید ندامت اور پشیمانی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ کیفیت انسان پر جتنی زیادہ شدید ہوتی ہے، اتنا ہی زیادہ اس کے اندر اس بات کا عزم اور ارادہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ ایسے تمام اعمال کو اپنے ماضی، حال اور مستقبل گویا اپنی پوری زندگی سے نکال دے گا، جن کی وجہ سے وہ اپنے رب سے دور ہوا ہے۔ وہ اس بات کا عزم کرتا ہے کہ وہ ایسے تمام کام فوراً چھوڑ دے گا۔ وہ اس بات کا عزم کرتا ہے کہ وہ جب تک زندہ رہے گا، انھیں پھر کبھی اختیار نہ کرے گا۔ وہ اس بات کا عزم کرتا ہے کہ اپنے ماضی کو اپنے گناہوں سے پاک کرنے کے لیے جہاں تک اس سے ممکن ہوا، وہ ان گناہوں کی تلافی کرنے کی کوشش کرے گا۔

جس طرح گندگی میں رہنے سے کپڑے میلے ہوجاتے اور پھر صاف کرنے کے لیے انھیں صابن اور پانی سے دھونا ضروری ہو جاتا ہے، اسی طرح خدا کی نافرمانی سے دل میلا ہو جاتا اور روح کمزور پڑ جاتی ہے۔ دل کا میل ندامت کے آنسوؤں سے دھلتا اور روح کو خدا کی فرماں برداری سے طاقت ملتی ہے۔ 

توبہ خدا کی نافرمانی اور اس سے بے وفائی کا راستہ چھوڑنے اور اس کی جگہ پر اس کی فرماں برداری اور وفاداری کا راستہ اختیار کرنے کا نام ہے۔