قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات سے توبہ کی قبولیت کے بارے میں بعض باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ یہاں ہم ایک ترتیب کے ساتھ ان کا ذکر کریں گے۔

 

۱۔ توبہ میں جلدی

ارشاد باری ہے:

 

اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَھَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓءِکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْھِمْ وَکَانَ اللّٰہُ عَلِیْمًا حَکِیْمًا وَلَیْسَتِ التَّوْبَۃُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ حَتّٰی اِذَا حَضَرَ اَحَدَھُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْءٰنَ وَلاَ الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ ھُمْ کُفَّارٌ اُولٰٓءِکَ اَعْتَدْنَا لَھُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا.(النساء۴: ۱۷۔۱۸) 

’’اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری تو انھی کے معاملے میں ہے جوجذبات سے مغلوب ہو کر برائی کاارتکاب کر بیٹھتے ہیں، پھر جلد ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے اور اللہ علیم و حکیم ہے۔ اور ان لوگوں کی توبہ (کی کوئی حیثیت) نہیں ہے جو برابر برائی کرتے رہے، یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سر پر آن کھڑی ہوئی تو وہ بولا کہ اب میں نے توبہ کر لی۔ اور نہ ان لوگوں کی توبہ ہے جو کفر ہی پر مر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

 

ان آیات سے توبہ کے بارے میں جو بنیادی باتیں معلوم ہوتی ہیں، وہ یہ ہیں کہ ایسے لوگوں کی توبہ قبول کرنے کا اللہ نے وعدہ فرمایا ہے جو جذبات کے کسی وقتی غلبے کی وجہ سے کوئی گناہ کر بیٹھتے اور پھر فوراً ہی ان کے دل اللہ کی یاد سے لرز اٹھتے اور وہ اپنے کیے کی معافی کے خواست گار بن جاتے ہیں۔ ان کے برعکس وہ لوگ جو برابر گناہ میں پڑے رہتے، اپنی ساری زندگی خدا کو ناراض کرنے والے کاموں کی نذر کر دیتے اور پھر جب موت ان کے سر پر آن کھڑی ہوتی اور انھیں یہ یقین ہوجاتا ہے کہ اللہ کے حضور میں جانے کا وقت آ پہنچا ہے تو پھر توبہ و استغفار کا ورد شروع کر دیتے ہیں۔ ان کی توبہ اللہ تعالیٰ ہرگز قبول نہیں فرمائیں گے۔ اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرمائیں گے جو کفر ہی کی حالت میں مر جاتے ہیں۔

مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ اس آیت کے تحت لکھتے ہیں:

 

’’ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے توبہ کی قبولیت اور عدم قبولیت کی دو صورتیں معین ہو جاتی ہیں۔ جو لوگ جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں، پھر فوراً توبہ اور اصلاح کر لیتے ہیں، اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر ان کی توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری لی ہے۔اس کے برعکس جو لوگ برابر گناہ کیے چلے جاتے ہیں، یہاں تک کہ جب ملک الموت ان کے سر پر آ دھمکتا ہے، اس وقت وہ توبہ کرتے ہیں یا وہ لوگ جو کفر کی حالت ہی میں مرتے ہیں، ان کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ ان دونوں حدوں کے معین ہو جانے کے بعد اب ایک سوال رہ جاتا ہے کہ ان لوگوں کی توبہ کا کیا حکم ہے جن کو گناہ کے بعد جلد ہی توبہ کرنے کی سعادت تو حاصل نہیں ہوئی، لیکن اتنی دیر بھی انھوں نے نہیں لگائی کہ موت کا وقت آن پہنچا ہو۔ اس سوال کے جواب میں یہ آیت خاموش ہے اور یہ خاموشی جس طرح امید پیدا کرتی ہے، اسی طرح خوف بھی پیدا کرتی ہے اور قرآن حکیم کا منشا یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ بین الرجاء والخوف ہی رہے، لیکن کبھی کبھی ذہن اس طرف جاتا ہے کہ اس امت کے اس طرح کے لوگ امید ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے نجات پا جائیں گے، اس لیے کہ ان کے باب میں شفاعت کے ممنوع ہونے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے۔‘‘ (تدبر قرآن ۲/ ۲۶۷)

 

ان آیات سے، جیسا کہ مولانا امین احسن اصلاحی رحمہ اللہ نے تصریح کی ہے، یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگرچہ جس شخص نے جذبات سے مغلوب ہوکر گناہ کرنے کے بعد فوراً توبہ نہیں کی، اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی توبہ کی قبولیت کی کوئی ضمانت نہیں دی گئی، تاہم اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے توبہ کا دروازہ ہر شخص پر اس وقت تک کھلا رکھا ہے، جب تک اس کی موت کا وقت نہ آن پہنچے۔ چنانچہ یہی بات واضح کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

 

ان اللّٰہ یقبل توبۃ العبد ما لم یغرغر. (ترمذی، رقم ۳۴۶۰) 

’’بے شک ،اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرما لیتے ہیں، جب تک اس کی جان ہنسلی تک نہیں پہنچ جاتی۔‘‘

 

اسی طرح عبد اللہ ابن عمر ورضی اللہ عنہما کہتے ہیں:

 

من تاب قبل موتہ عامًا تیب علیہ ومن تاب قبل موتہ بشھر تیب علیہ حتی قال یومًا حتی قال ساعۃ حتی قال فواقًا.(مسند احمد،رقم ۶۶۲۶) 

’’جس شخص نے اپنی موت سے ایک سال پہلے توبہ کی ،اس کی توبہ قبول ہو جاتی ہے۔ اور جس نے ایک ماہ پہلے توبہ کی، اس کی توبہ بھی قبول ہو جاتی ہے۔ پھر انھوں نے موت سے ایک دن پہلے توبہ کرنے کا ذکر بھی کیا، یہاں تک کہ انھوں نے ایک گھڑی اور پھر چند لمحوں کا ذکر بھی کیا۔‘‘

 

اس میں شبہ نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ بات ہمارے لیے ایک بہت بڑی بشارت ہے، لیکن اس کا یہ نتیجہ ہرگزنہیں نکلنا چاہیے کہ ہم اپنے گناہوں کی توبہ کو مؤخر کریں۔ موت ہم پر اچانک آ دھمکے گی۔ ہم نے اگر اس مہلت سے فوراً فائدہ نہ اٹھایا تو کیا خبر ہے کہ ہم سے اس کی توفیق چھین لی جائے، اس لیے یہ ضروری ہے کہ جو موقع ہمیں آج میسر ہے، اس سے ہم فائدہ اٹھائیں اور سچے دل سے اپنے رب کے حضور توبہ کریں۔ یسعیاہ نبی نے کہا ہے:

 

’’جب تک خداوند مل سکتا ہے ، اس کے طالب ہو۔ جب تک وہ نزدیک ہے، اسے پکارو۔ شریر اپنی راہ کو ترک کرے اور بد کردار اپنے خیالوں کو اور وہ خداوند کی طرف پھرے اور وہ اس پر رحم کرے گا اور ہمارے خدا کی طرف، کیونکہ وہ کثرت سے معاف کرے گا۔‘‘(یسعیاہ ۵۵ : ۶۔ ۷) 

 

۲۔عمل کی اصلاح 

توبہ کی قبولیت کی دوسری لازمی شرط عمل کی اصلاح ہے۔ اگر ایک شخص فی الواقع اپنے کیے پر نادم اور شرمندہ ہے اور اس کے لیے سچے دل سے معافی کا خواست گار ہے تو ظاہر ہے کہ اس کے اندر اس گناہ سے بچنے کا عزم بھی ہونا چاہیے اور یہ عزم اس کے عمل میں نظر بھی آنا چاہیے۔ قرآن مجید میں اسی بات کے پیش نظر توبہ کی قبولیت کے لیے عمل کی اصلاح کو ایک لازمی چیز قرار دیا ہے۔ چنانچہ دیکھیے، حق بات کو چھپانے کی سزا بیان کرنے کے بعد فرمایا:

 

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا وَ اَصْلَحُوْا وَبَیَّنُوْا فَاُولٰٓءِکَ اَتُوْبُ عَلَیْھِمْ وَاَنَا التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ.(البقرہ ۲: ۱۶۰)

’’البتہ، جن لوگوں نے توبہ کر لی اور اصلاح کر لی اور (جو کچھ چھپاتے تھے، اسے) واضح طور پر بیان کر دیا تو ان کی توبہ میں قبول کروں گا۔ میں بڑا توبہ قبول کرنے والا (اور) رحم کرنے والا ہوں۔‘‘

 

مولانا امین احسن رحمہ اللہ اس آیت کی وضاحت میں لکھتے ہیں:

 

’’...اس توبہ کے ساتھ ’اَصْلَحُوْا‘ کی شرط لگائی ہے، جس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ توبہ اس وقت تک معتبر نہیں ہے، جب تک آدمی اس غلطی کی اصلاح نہ کرے جس کا مرتکب ہو رہا ہے۔ مزید شرط اس کے ساتھ ’بَیَّنُوْا‘ کی لگائی ۔ یہ موقع کی مناسبت سے ہے اور سابق الذکر ’اَصْلَحُوْا‘ کی وضاحت کر رہی ہے۔ یعنی آخری نبی سے متعلق تورات کے جن حقائق و بینات کو انھوں نے چھپایا ہے، اس کو ظاہر کریں۔‘‘(تدبر قرآن ۱/ ۳۸۸۔۳۸۹) 

 

امام نووی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ’’ریاض الصالحین‘‘ میں توبہ کی قبولیت کے لیے چار لازمی شرائط بیان کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

 

التوبۃ واجبۃ من کل ذنب فان کانت المعصیۃ بین العبد و بین اللّٰہ تعالٰی لا تتعلق بحق آدمی فلھا ثلاثۃ شروط: احدھا ان یقلع عن المعصیۃ والثانی ان یندم علی فعلھا والثالث ان یعزم الا یعود الیھاابدًا فان فقداحد الثلاثۃ لم تصح توبتہ وان کانت المعصیۃ تتعلق بآدمی فشروطھا اربعۃ: ھذہ الثلاثۃ وان یبرأ من حق صاحبھا ، فان کانت مالاً و نحوہ ردہ الیہ ... او طلب عفوہ.(۱/ ۸) 

’’ہر قسم کے گناہ کے بعد توبہ لازم ہے۔ اگر گناہ اللہ اور بندے کے مابین معاملات سے متعلق ہے، جس میں کسی انسان کی کوئی حق تلفی نہیں ہوئی تو اس کی توبہ کے لیے تین لازمی شرائط ہیں: ایک یہ کہ وہ گناہ کا یہ کام چھوڑ دے۔ دوسرے یہ کہ وہ اس گناہ میںملوث ہونے پر نادم ہو اور تیسرے یہ کہ وہ اس بات کا پختہ عزم کرے کہ وہ اس گناہ میں دوبارہ ملوث نہیں ہو گا۔کسی توبہ میں ان تینوں میں سے کوئی ایک شرط بھی اگر مفقود ہو تو وہ توبہ صحیح نہیں ہو گی۔ اس کے برعکس اگر معاملہ انسانی حقوق سے متعلق ہو تو اس میں ایک چوتھی شرط بھی پوری کرنی لازم ہو جاتی ہے۔ وہ یہ کہ توبہ کرنے والا پہلے اپنے بھائی کے حق سے اپنے آپ کو بری کرے۔ چنانچہ اس نے اگر کسی کو کوئی مالی نقصان پہنچایا ہے تو وہ اس کا یہ نقصان پورا کرے ... یا اس سے اس نقصان کی معافی مانگے۔‘‘

 

۳۔ قتل خطا کی صورت میں توبہ کے طریقے کا تعین

قبولیت توبہ کے لازمی شرائط عام طور پر یہی ہیں۔ قتل خطا کا معاملہ، البتہ ان سے کچھ مختلف ہے۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ دنیوی سزا بیان فرما دی ہے، بلکہ یہ بھی بتا دیا ہے کہ اس گھناؤنے جرم سے اپنے نفس کو پاک کرنے کے لیے، اپنے کیے کی تلافی کے طور پر آدمی ایک غلام آزاد کرے اور اگر غلام موجود نہ ہو تو پھر اس کے بدلے میں لگاتار دو ماہ کے روزے رکھے۔ اس طرح کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر دینے کے جرم کی توبہ کا طریقہ چونکہ اللہ تعالیٰ ہی نے متعین فرما دیا ہے۔ لہٰذا اس جرم کی توبہ کے طور پر اب یہ شرط پوری کرنی بھی لازم ہو گی۔