توبہ کی یہی وہ اہمیت ہے جس کی وجہ سے انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام کی دعوت کا ایک اہم جزاپنی قوم کو توبہ اور انابت کا رویہ اختیار کرنے کی ترغیب دینا بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنی قوم کو ان کی غلط روش سے باز آجانے کی نصیحت کرتے ہیں۔ وہ انھیں یہ سمجھاتے ہیں کہ جس راہ پر وہ چل رہے ہیں، اس کا انجام نہایت گھناؤنا ہے۔ وہ انھیں خدا کی پکڑ سے ڈراتے ہیں۔ وہ انھیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ انابت کا رویہ اختیار کریں اور اپنے گناہوں پر توبہ و استغفار کریں۔ وہ انھیں کہتے ہیں:

 

وَاسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ.(ہود ۱۱: ۹۰)

’’اور اپنے رب سے مغفرت مانگو ،پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ بے شک، میرا رب نہایت مہربان اور بڑی محبت کرنے والا ہے۔‘‘

 

اس طرح وہ انھیں سمجھاتے ہیں کہ تم اگر آخرت کی فلاح چاہتے ہو تو اپنے رب سے معافی مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ رجوع کرنے سے مراد، جیسا کہ ہم اوپر واضح کر چکے ہیں، یہ ہے کہ آدمی نے جو روش اختیار کر رکھی ہے ، اس سے باز آکر وہ راہ اختیار کرے جو خدا کی پسندیدہ اور ابدی فلاح کی طرف لے جانے والی ہے۔ غور کیجیے تو آیت کے آخر میں خدا کی صفات رحمت اور محبت کے ذکر میں استغفار اور توبہ کی ترغیب بھی ہے اور قبولیت توبہ کی بشارت بھی۔ گویا اس طرح انبیا علیہم الصلوٰۃ والسلام ایک طرف توبہ کی ترغیب دیتے ہیں اور دوسری طرف اپنے مخاطبین کو اس بات کی بشارت بھی دیتے ہیں کہ ان کے جرائم کتنے ہی سنگین ہوں، وہ اگر صدق دل سے خدا کی طرف رجوع کریں گے تو وہ انھیں ہر گز نہ ٹھکرائے گا ۔ یہی بات اور بھی زیادہ واضح الفاظ میں حضرت صالح علیہ السلام کی دعوت کے ضمن میں اس طرح نقل ہوئی ہے:

 

یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰہَ مَالَکُمْ مِّنْ اِلٰہٍ غَیْرُہٗھُوَ اَنْشَاَکُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاسْتَعْمَرَکُمْ فِیْھَا فَاسْتَغْفِرُوْہُ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِِ انَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ. (ہود ۱۱: ۶۱) 

’’اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو۔ اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں۔ اسی نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور اس میں آباد کیا۔ تو تم اس سے مغفرت مانگو، پھر اس کی طرف رجوع کرو۔ بے شک، میرا رب (تمھارے) قریب بھی ہے اور (تمھاری توبہ) قبول کرنے والا بھی۔‘‘ 

 

خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی دعوت کا خلاصہ کرتے ہوئے سورۂ ہود میں فرمایا:

 

اآرٰکِتٰبٌ اُحْکِمَتْ اٰیٰتُہٗثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَکِیْمٍ خَبِیْرٍ اَلَّا تَعْبُدُوْٓاِ الَّا اللّٰہَ اِنَّنِیْ لَکُمْ مِّنْہُ نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ وَّاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوْبُوْٓا اِلَیْہِ یُمَتِّعْکُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلآی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّیُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہٗوَ اِنتَوَلَّوْا فَاِنِّیْٓ اَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ کَبِیْرٍ اِلَی اللّٰہِ مَرْجِعُکُمْ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ.(۱۱: ۱۔۴)

’’یہ ’الر‘ ہے۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جس کی آیتیں پہلے محکم کی گئیں، پھر خداے حکیم و خبیر کی طرف سے ان کی تفصیل کی گئی کہ تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو۔ میں تمھارے لیے اس کی طرف سے ہوشیار کرنے والا اور خوش خبری دینے والا ہوں۔ اور یہ کہ تم اپنے رب سے مغفرت چاہو ، پھر اس کی طرف رجوع کرو وہ تمھیں ایک وقت معین تک اچھی طرح بہرہ مند کرے گا، اور ہر مستحق فضل کو اپنے فضل سے نوازے گا۔ اور اگر تم منہ موڑو گے تو میں تم پر ایک ہول ناک دن کے عذاب کا اندیشہ رکھتا ہوں۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کا پلٹنا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔‘‘

 

یہی بات حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حوالے سے انجیلوں میں اس طرح نقل ہوئی ہے:

 

’’...تندرستوں کو طبیب کی ضرورت نہیں، بلکہ بیماروں کو۔ میں راست بازوں کو نہیں،بلکہ گناہ گاروں کو توبہ کے لیے بلانے آیا ہوں۔‘‘ (لوقا ۵: ۳۲)

 

انبیاے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی دعوت کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ ایک طرف اپنے مخاطبین کوخدا کی پسند اور ناپسند سے آگاہ کرتے اور دوسری طرف ان میں خدا کی رضا اور خوشنودی حاصل کرنے کی بھرپور تمنا پیدا کرنے کا کام کرتے ہیں ۔وہ انھیں ان کی غلطیوں کے بارے میں اس درجہ حساس بنا دیتے ہیں کہ ان کے دن رات دوسروں کی غلطیاں اور گناہ تلاش کرنے کے بجاے اپنے گناہوں سے توبہ و استغفار کرنے میں بسر ہوتے ہیں۔ وہ ان کے اندر اپنے گناہوں کو بڑا سمجھنے اور ان کے مقابلے میں دوسروں کے گناہوں کو حقیر جاننے کا شعور بیدار کردیتے ہیں۔ ان کا مشن کوئی سیاسی انقلاب برپا کر دینا یا کوئی منصفانہ نظام قائم کر دینا نہیں، بلکہ اللہ کی بھٹکیہوئی بھیڑوں کو سیدھے راستے پر لے آنا ، ان کے دلوں میں ایک مرتبہ پھر خداے واحد کی محبت اور اس کی رضا اور خوشنودی حاصل کر لینے کی تمنا پیداکر دینا ہوتا ہے۔ 

توبہ و انابت کا رویہ اصل میں انسان کی اسی تمنا کا عملی اظہار ہے۔