انسان کے دل میں ازل سے جنت کو پانے کی ایسی شدید تمنا اور ایسی بھرپور آرزو موجود ہے کہ وہ اسے فوراً حاصل کر لینا چاہتا ہے۔ وہ اس کے لیے انتظار کرنے کو تیار نہیں ہوتا، وہ اس دنیا ہی میں اپنے لیے جنت بنا لینا چاہتا ہے۔ وہ خواہشات اور تمنائیں جو اسے جنت کی ابدی زندگی کی یاد دلاتیں اور جن پر قابو پا کر وہ جنت کی لا فانی نعمتوں کا حق دار بن سکتا تھا ، وہ انھی کا غلام بن جاتا ، ان کو پورا کرنے کے لیے اپنے رب کی ناراضی مول لے لیتا اور اپنے آپ کو جہنم کے ابدی عذاب کی نذر کر دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے سب کچھ مل جائے ، فوراً مل جائے ، بغیر کسی انتظار کے مل جائے۔ انسان کی اسی کمزوری کی طرف قرآن نے بعض اشارے کیے ہیں۔ ایک مقام پر فرمایا:

 

وَکَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلاً.(الاسراء ۱۷: ۱۱) 

’’اور انسان بڑا ہی جلد باز ہے۔‘‘

 

اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک اور مقام پر فرمایا:

 

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ.(الانبیاء ۲۱ : ۳۷) 

’’انسان عجلت کے خمیر سے پیدا ہوا ہے۔‘‘

 

اپنی خواہشات ، اپنے جذبات و احساسات اور اپنی آرزوؤں کو پورا کر گزرنے کے معاملے میں انسان کی یہی جلد بازی اور عجلت پسندی اسے خدا کے حدود سے تجاوز کرنے پر ابھارتی اور وہ سب کچھ کر ڈالنے پر آمادہ کر دیتی ہے جواسے اپنے پروردگار سے دور کرنے اور اس کی حقیقی کامیابی کی راہ کھوٹی کرنے کا باعث ہو سکتا ہے۔ وہ اپنی انھی خواہشات اور آرزوؤں کو پورا کرنے کی خاطر دوسروں کے مال پر ڈاکا ڈالتا، وہ انھی کی تکمیل میں رشوت لے لیتا ، لوگوں کے حقوق غصب کر لیتا، ناپ تول میں ڈنڈی مارلیتا ، یہاں تک کہ وقت آنے پر اپنے ہی جیسے انسان کی جان بھی لے لیتا ہے۔ انسان کی یہ آرزوئیں اسے چین سے بیٹھنے نہیں دیتیں۔ وہ ہر منزل پر پہنچ کر اپنے لیے ایک نئی منزل متعین کر لیتا ہے۔ اس کی یہ آرزوئیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ انھیں اگر کوئی چیز ختم کرتی ہے تو وہ انسان کی موت ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

 

لوکان لابن آدم وادیان من مال لابتغی ثالثًا ولا یملأ جوف ابن آدم الا التراب.(بخاری، رقم ۵۹۵۶) 

’’ابن آدم کے پاس اگر اتنا مال ہوجس سے دو وادیاں بھر جائیں، (تب بھی اس کی خواہشات ختم نہیں ہوتیں) وہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس ایک تیسری وادی کو بھرنے والا مال بھی ہو۔اورابن آدم کا پیٹ تو مٹی ہی بھرتی ہے۔‘‘

 

انسان جب ان راہوں پر نکلتا ہے تو اس کا ضمیر اسے پکارتا، اس کو ملامت کرتا اور اسے سیدھے راستے پر واپس آنے کو کہتا ہے۔ بارہا انسان اپنے ضمیر کی اس آواز کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح رفتہ رفتہ اس کے ضمیر کی یہ آواز کمزور پڑتی چلی جاتی ہے، پھر ایک وقت وہ آ جاتا ہے جب اس کا ضمیر اسے ملامت کرنا بند کر دیتا ہے ۔ بڑی سے بڑی برائی پر بھی وہ خاموش رہتا ہے ۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب انسان کے دل سے برائی کا شعور ہی ختم ہو جاتا ہے ۔ قرآن مجید میں کفارقریش کے انکار کی وجہ بتاتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرما دیا ہے کہ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ انھیں حق کے معاملے میں کوئی اشتباہ پیش آگیا ہے ، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی اپنی بدعملیوں کے نتیجے میں اب ان کے دل ایسے زنگ آلود ہو گئے ہیں کہ قرآن جیسی عظیم یاددہانی بھی اب ان پر اثر انداز نہیں ہو رہی۔ ارشاد ہے:

 

اِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ.کَلاَّ بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ.(المطففین۸۳: ۱۳۔ ۱۴) 

’’جب اس کو ہماری آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو اگلوں کے فسانے ہیں۔ ہرگز نہیں ،بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔‘‘

 

اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: 

 

ان العبد اذا اخطأ خطیءۃ نکتت فی قلبہ نکتۃ سوداء فاذا ھو نزع واستغفر وتاب سقل قلبہ وان عاد زید فیھا حتی تعلو قلبہ وھو الران الذی ذکر اللّٰہ (کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ).(تر مذی، رقم ۳۲۵۷) 

’’بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر سیاہ دھبا پڑ جاتا ہے، پھر جب وہ اسے چھوڑ دیتا، اپنے رب سے معافی مانگتا اور توبہ کرتا ہے تو اللہ اس کے دل کو صاف کر دیتے ہیں۔ اور اگر وہ گناہ کی طرف لوٹے تو اس کے دل کا یہ دھبا بڑا ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا دل بالکل سیاہ ہو جاتا ہے، یہی وہ زنگ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے ’کَلَّا بَلْ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ‘میں ذکر کیا ہے۔‘‘

 

اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت کے اندر روشنی ودیعت فرمائی اور اسے سوچنے، سمجھنے اور خیر و شر کے درمیان تمیز کرنے کی صلاحیت سے بہرہ مند کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ انسان جب اپنی ان صلاحیتوں کی قدر کرتا اور ان سے فائدہ اٹھاتا ہے تو اللہ کی طرف سے اسے مزید ہدایت کی توفیق ملتی ہے۔ اس کے برعکس، انسان اگر ان صلاحیتوں سے فائدہ نہ اٹھائے اور ان کے مقابلے میں نفس کی خواہشات ہی کو اپنا رہنما بنا لے تو آہستہ آہستہ اس کی بدعملیوں کا زنگ اس کی ان صلاحیتوں پر چڑھنا شروع ہو جاتا اور بتدریج اس طرح ان کا احاطہ کر لیتا ہے کہ اس کے اندر کسی صحیح بات کے قبول کر لینے کی صلاحیت سرے سے باقی ہی نہیں رہ جاتی۔ چنانچہ جو لوگ یہ رویہ اختیار کرتے ہیں ، آہستہ آہستہ ان کی فطرت کا نور بھی ان سے چھین لیا جاتا اور انھیں ہدایت کی توفیق سے محروم کر کے ان کے دلوں پر مہر کر دی جاتی ہے۔ حضرت مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام نے یہی بات تمثیلی انداز میں اس طرح سمجھائی ہے:

 

’’جو تھوڑے میں دیانت دار ہے ، وہ بہت میں بھی دیانت دار ہے اور جو تھوڑے میں بد دیانت ہے ، وہ بہت میں بھی بد دیانت ہے۔ پس جب تم ناراست دولت میں دیانت دار نہ ٹھہرے تو حقیقی دولت کون تمھارے سپرد کرے گا؟‘‘(لوقا۱۶: ۱۰۔۱۱)

 

اپنے ضمیر کی آواز کو دبانے اور اسے خاموش کرنے کے بجاے انسان اس کی پکار پر اگر کان دھرے اور اللہ کی پسند کا راستہ اختیار کرنے کا پختہ عزم کر لے تو دین کی اصطلاح میں اس کا یہ عمل ’توبہ‘ کہلاتا ہے۔

اس دنیا میں انسان کی آزمایش کے لیے جو قانون کارفرما ہے، اس میں یہ تو بہت مشکل ہے کہ انسان غلطیوں اور خطاؤں سے اپنے آپ کو پوری طرح سے پاک کر لے۔ غلطی تو اس سے کسی نہ کسی صورت میں ہو ہی جائے گی، کبھی جانتے بوجھتے اور کبھی انجانے میں۔ چنانچہ یہ خدا کی خاص عنایت ہے کہ اس نے انسان کی کامیابی کے لیے یہ ضروری قرار نہیں دیا کہ وہ غلطی نہ کرے ، اس کے برعکس انسان کی کامیابی کے لیے جو بات اس نے لازم ٹھہرائی ہے، وہ یہ ہے کہ جب کبھی وہ کسی غلطی، کسی گناہ یا کسی خطا کا مرتکب ہو اور اسے اپنی اس غلطی کا شعور ہو جائے تو وہ توبہ کا راستہ اختیار کرے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے:

 

کل بنی آدم خطاء وخیر الخطائین التوابون.(ابن ماجہ،رقم ۴۲۴۱)

’’ابن آدم خطا تو بہرحال کرے گا ۔ البتہ ان خطاکاروں میں سے سب سے بہتر وہ ہیں جو اپنی خطا کے بعد توبہ کریں۔‘‘

 

جس طرح سونے کو جلا کر اس کا کھوٹ نکالا جاتا ہے، بالکل اسی طرح انسان کو بھی اپنے آپ کو ندامت و پشیمانی کی آگ پر جلا کر اپنے اندر سے شر کا خاتمہ کرنا اور اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو اللہ کی جنت کا اہل بنانا ہے۔ اس کے پاس آج یہ اختیار، البتہ موجود ہے کہ وہ چاہے تو اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں جلنے کے لیے چھوڑے رکھے یا ندامت و پشیمانی کی آگ سے اپنے دل کا زنگ صاف کر لے۔ 

انسان کے لیے اللہ کی جنت میں داخل ہونے کا واحد راستہ یہی ہے کہ وہ اپنی غلطیوں پر حساس رہے اور انھیں یاد کر کے ان سے توبہ کرے۔ آخرت میں کامیابی کے حوالے سے توبہ کی یہ اہمیت اس بات کی متقاضی ہے کہ اس کو قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی روشنی میں پوری طرح سے سمجھا جائے۔ توبہ کی اسی اہمیت کے پیش نظر ہم یہاں اختصار کے ساتھ اس کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کریں گے ۔