تصویر کی حلت و حرمت کے بارے میں قرآن مجید نے براہ راست کوئی کلام نہیں کیا، البتہ اس معاملے میں اس نے بالواسطہ طور پر بنیادی رہنمائی ضرور دی ہے۔ سورۂ سبا میں ارشاد فرمایاہے:

 

یَعْمَلوْنَ لَہٗ مَا یَشَآءُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَ تَمَاثِیْلَ وَ جِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَ قُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ،ِ اعْمَلُوْٓا اٰٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا، وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ.(۳۴: ۱۳)

’’وہ (جنات) اس (سلیمان علیہ السلام) کے لیے بناتے جو وہ چاہتا، محرابیں، تماثیل (مجسمے اور تصاویر)، بڑے بڑے حوضوں جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں، اے آلِ داؤد، عمل کرو شکر گزاری کے ساتھ، میرے بندوں میں کم ہی لوگ شکر گزار ہیں۔‘‘

اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ سلیمان علیہ السلام جنات سے تماثیل بنوایا کرتے تھے۔ تماثیل کا یہ ذکر ہماری بحث سے متعلق ہے، چنانچہ ہم خاص اس لفظ کے حوالے سے اس آیت کا مدعا سمجھنے اور اس سے رہنمائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

آیت میں تماثیل کا مفہوم

تماثیل، تمثال کی جمع ہے۔’’ لسان العرب‘‘ میں تمثال کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ ’التمثال اسمٌ للشیءِ المصنوعِ مُشبھاً بخلق من خلق اللّٰہ‘۔ یعنی تمثال ہر اس مصنوعی شے کا نام ہے، جو خدا کی بنائی ہوئی کسی شے ( جان دار یا بے جان ) کی مانند بنائی گئی ہو۔ صاحب ’’کشاف‘‘ زمخشری رحمہ اللہ تمثال کا مفہوم ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: ’التمثال کل ما صوّر علی صورۃ غیرہٖ من حیوان او غیر حیوانٍ‘۔ یعنی تمثال ہر وہ مجسمہ یا تصویر ہے جو کسی دوسری چیز کی صورت کے مماثل بنائی گئی ہو، خواہ وہ چیز جان دار ہو یا بے جان۔پس انسان ہو یا حیوان، درخت ہو یا چٹان، ان کے مجسمے اوران کی تصاویر تماثیل کہلائیں گی۔اسی طرح اگر جنات یا فرشتوں کی (خیالی ) تصاویر یا ان کے خیالی مجسمے بنائے جاتے ہیں تو وہ بھی تماثیل ہی کہلائیں گے۔آیت میں تماثیل کا لفظ نکرہ ہے ۔ لہٰذا ظاہر ہے کہ آیت میں تماثیل کے اس لفظ سے کوئی خاص تما ثیل مراد نہیں ہیں۔ یہ لفظ یہاں اپنے عام معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ چنانچہ اس سے مراد عام تصاویر اور عام مجسمے ہیں، خواہ وہ جان دار شے کے ہوں یا بے جان شے کے۔

 

آیت کا تجزیہ 

اس آیت سے تماثیل کے بارے میں ہمیں درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

۱۔ سلیمان علیہ السلام جنات سے تماثیل (تصاویر اور مجسمے) بنواتے تھے۔

۲۔ یہ تصاویر اور مجسمے جان داروں کے بھی ہو سکتے تھے اوربے جان چیزوں کے بھی۔ ۲؂   انھیں بنانے یا نہ بنانے میں اس حوالے سے کوئی فرق نہیں کیا جاتا تھا۔ ہماری اس بات کی دلیل تماثیل کا وہ لفظ ہے، جو زیر بحث آیت میں موجود ہے۔ یہ لفظ جان دار اوربے جان، دونوں کی تصاویر اور مجسموں کے لیے بولا جاتا ہے۔ 

۳۔ سلیمان علیہ السلام کو جنات سے تماثیل بنوانے اور اس کے علاوہ دوسرے کام کرانے کا جو اختیار دیا گیا تھا، اس پر اللہ نے انھیں یہ تعلیم دی ہے کہ وہ اس کا شکر ادا کرنے والے بنیں۔

اس آیت میں تصاویر اور مجسموں کے لیے جو لفظ (تماثیل) استعمال کیا ہے، وہ جان دار اور بے جان، دونوں کے لیے یکساں طور پر استعمال ہوتا ہے اور یہاں چونکہ یہ نکرہ یعنی اپنے عام معنوں میں استعمال ہوا ہے، لہٰذااس سے کوئی سی بھی تصاویر اور کوئی سے بھی مجسمے مراد ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ آیت میں تماثیل کے لفظ کے اس استعمال سے واضح طور پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ تصویر یا مجسمہ بنانے میں قرآن مجید کے نزدیک حلت و حرمت کے پہلو سے جان دار اور بے جان کا فرق کوئی حیثیت نہیں رکھتا اور اس کے نزدیک کوئی جان دار شے ہو یا بے جان، دونوں کی تصویر و تمثال بنائی جا سکتی ہے۔ چنانچہ اگر ایک کی تصویر جائز اور دوسرے کی ناجائز ہوتی، یعنی معاملہ اتنا سنگین ہوتا تو یہ ضروری تھا کہ قرآن اس طرح کا جامع لفظ نہ بولتا جو جان دار اور بے جان، دونوں کی تصاویر اور مجسموں کے لیے بولا جاتا ہے۔

نیز یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اس آیت میں تماثیل کا ذکر بہت مثبت انداز میں کیا گیا ہے اور پھر یہی نہیں، بلکہ ان کا ذکر کرنے کے بعد ’اعملوا آل داؤد شکرًا، وقلیل من عبادی الشکور‘ (اے آل داؤد، عمل کروشکر گزاری کے ساتھ، میرے بندوں میں کم ہی شکر کرنے والے ہیں) کے الفاظ سے سلیمان علیہ السلام کو خدا کی اس نعمت پر شکر ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یہ الفاظ اس حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں کہ آل داؤد کامحرابیں اور تماثیل بنوانا، یہ سب خدا کے فضل سے تھا ، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اس پر ان سے شکر کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگر یہ تماثیل شر ہوتیں تو پھر ان کے بنوانے پر شکر کا مطالبہ ہر گز نہ کیا جاتا۔

جن لوگوں نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ جان دار کی تماثیل بنی اسرائیل کے ہاں حرام نہیں تھیں، البتہ ہماری شریعت میں یہ حرام ہیں۔ ان کے تصور کی غلطی ہم نے سابقہ صفحات میں تفصیلاً بیان کر دی ہے، لیکن اسی حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اگر بالفرض تصویر سازی کو ہماری شریعت میں ممنوع ہی قرار دیا جانا تھا تو خدا اپنی اس کتاب میں، جسے اس نے قیامت تک کے لیے رشد و ہدایت بنا کر اتارا ہے، سلیمان علیہ السلام کے تماثیل بنوانے اور اس پر ان سے شکر کا مطالبہ کیے جانے کو یوں بغیر کسی وضاحت کے ہرگز بیان نہ کرتا، کیونکہ ان آیات کا یہ اسلوب قاری کے لیے تماثیل کے بارے میں کم از کم جواز کا ذہن ضرور پیدا کر دیتا ہے۔

قرآن مجید نے تماثیل کے بارے میں سلیمان علیہ السلام کا رویہ بتاتے ہوئے، اس نوعیت کا بھی کوئی اشارہ تک نہیں دیا کہ یہ تماثیل بنوانا صرف ان کے لیے خاص تھا۔ امت مسلمہ جس میں یہ قرآن نازل ہو رہا ہے، اسے ایک سابقہ امت کے نبی کا تماثیل سازی کا عمل اس تعریفی انداز میں بتایا گیا ہے کہ اس کے بارے میں کوئی وہم تک نہیں پیدا ہوتاکہ یہ کوئی برا یا کم تر درجے کا عمل ہے، بلکہ اس آیت کو پڑھنے کے بعد آدمی کے دل میں تصویر و مجسمہ سازی کی شرافت ہی کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید اس سلسلے میں ہمیں تماثیل سازی کے جواز سے ہٹ کر کوئی مختلف بات نہیں کہہ رہا۔

 

نتیجہ 

اس آیت کے تجزیے اور اس پر غور و فکر سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے نزدیک تصویر سازی کا فن فی نفسہٖ کوئی شر نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اندر وہ شرافت رکھتا ہے کہ اس سے اللہ کے برگزیدہ نبی فائدہ اٹھائیں اور اس نعمت پر خدا کا شکر ادا کریں۔ 

چنانچہ ہمارے خیال میں قرآن مجید کی یہ آیت اپنے قاری میں تماثیل (تصاویر اور مجسموں) کے جواز ہی کا تصور پیدا کرتی ہے۔

 

تماثیل سے متعلق کچھ مزید آیات 

قرآن مجید میں تماثیل کا ذکر ایک اور جگہ پر بھی آیا ہے ۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ قرآن کے اس مقام سے ہمیں تماثیل کے بارے میں کیا معلوم ہوتا ہے۔ 

سورۂ انبیاء میں فرمایا:

اِذْ قَالَِ لاَبِیہِ وَ قَوْمِہٖ مَا ہٰذِہِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْٓ اَنْتُمْ لَھَا عٰاکِفُوْنَ. قَالُوْا وَجَدْنَآ اٰبَآءَناَ لَھَا عٰبِدِیْنَ. قَالَ لَقَدْ کُنْتُمْ اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُکُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ.(۲۱: ۵۲۔۵۴) 

’’جب اس(ابراہیم ) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا:یہ کیا تماثیل ہیں، جن پر تم دھرنا دیے بیٹھے ہو۔انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے تو اپنے باپ دادا کو انھی کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔اُس (ابراہیم) نے کہا: تم بھی اور تمھارے باپ دادا بھی ایک کھلی ہوئی گمراہی میں مبتلا رہے ہو۔‘‘

 

آیات کا تجزیہ 

سورۂ انبیاء کی ان آیات میں ’التماثیل‘ کا لفظ عربی گرائمر کے حوالے سے دیکھیں تو نکرہ نہیں، بلکہ معرفہ ہے اور اس پر آنے والا ’ ال‘ عہد حضوری کا ہے۔ یہ ’ال‘ حاضر و موجود تماثیل کو خاص کر رہا ہے۔ چنانچہ ’ھذہ التماثیل‘ کا مطلب ہو گا: یہ (تمھارے سامنے) موجود تماثیل۔ اس آیت میں ’التماثیل‘ کا لفظ موصوف کے طور پر آیا ہے اور اس موصوف کی صفت ’التی انتم لھا عاکفون‘ ہے، یعنی یہ تمھارے سامنے موجود تماثیل جن پر تم دھرنا دیے بیٹھے ہو۔

اس سے معلوم ہوا کہ آیت میں تماثیل کے لفظ سے عام تماثیل مراد نہیں ہیں،بلکہ اس سے وہ خاص تماثیل مراد ہیں، جو اس وقت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے مخاطبین کے سامنے موجود تھیں اور جن کی عبادت کی خاطر وہ لوگ ان پر دھرنا دیے بیٹھے تھے۔ 

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ان تماثیل کے بارے میں خود ان آیات سے کیا بات ہمارے سامنے آتی ہے۔ ان آیات کے سیاق و سباق کو ملحوظ رکھتے ہوئے، اگر ان کا مفہوم بیان کیا جائے تو وہ کچھ اس طرح سے ہے:

’’ ابراہیم علیہ السلام اپنے مشرک باپ اور اپنی مشرک قوم سے سوال کر تے ہیں کہ یہ کیسی تماثیل ہیں، جن پر تم دھرنا دیے بیٹھے ہو۔ وہ جواب میں کہتے ہیں: ہم تو ان کی عبادت میں لگے ہوئے ہیں، پھر وہ اپنے اس عبادت کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طرح سے ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے، چنانچہ ہم انھی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے، ان کی عبادت کر رہے ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام اس بات کے جواب میں کہتے ہیں کہ اللہ کے بجائے ان کی عبادت کرنا تو ایک واضح گمراہی ہے۔ کل تمھارے باپ دادا اس گمراہی میں مبتلا تھے اور آج تم اس گمراہی میں مبتلا ہو۔‘‘ 

چنانچہ ان آیات سے ان تماثیل کے بارے میں درج ذیل باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں:

۱۔ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے لوگ ان تماثیل کی عبادت کرتے تھے، یعنی ان کے ہاں انھیں معبود قرار دیا جاتا اور ان کی پرستش کی جاتی تھی۔

۲۔ قرآن مجید نے تماثیل کی اس عبادت کو ایک واضح گمراہی قرار دیا ہے۔

 

نتیجہ 

تماثیل کی عبادت کھلی ہوئی گمراہی ہے۔اس قوم میں یہ تماثیل مظہر ضلالت (شرک)تھیں۔ چنانچہ مذہب توحید میں ایسی تماثیل جائز نہیں ہو سکتیں، جنھیں معبود سمجھا جاتا اور ان کی عبادت کی جاتی ہو۔

 

خلاصہ 

قرآن مجید میں دو مقامات پر تماثیل کا ذکر ہوا ہے ۔ 

ایک مقام پر تماثیل کا لفظ نکرہ یعنی اپنے عام معنوں میں استعمال ہوا ہے اور بغیرکسی خاص صفت کے آیا ہے، چنانچہ اس جگہ یہ لفظ جان دار اور بے جان، دونوں کی تماثیل کو شامل ہے۔ یہاں قرآن مجید تماثیل کے بارے میں ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ خدا کے ایک جلیل القدر پیغمبر سلیمان علیہ السلام کی دل چسپی کی چیزیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں تماثیل بنوانے اور دوسرے کام کرانے کے لیے اپنی مخلوقات میں سے ایک غیر مرئی مخلوق پر اقتدار دے رکھا تھا۔ اور انھوں نے اپنے ہیکل میں کئی تماثیل بنوائی تھیں، جس پر اللہ نے ان سے کہا کہ اے آل داؤد، شکر گزاری کے ساتھ عمل کرو۔ چنانچہ اس آیت سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ قرآن مجید کے نزدیک تماثیل سازی کا فن قطعاً کوئی شر نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے اندر وہ شرافت رکھتا ہے کہ اس سے اللہ کے برگزیدہ نبی فائدہ اٹھائیں ۔

دوسرے مقام پر تماثیل کا لفظ معرفہ آیا ہے اور یہ ایک خاص صفت کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ اس جگہ وہ خاص تماثیل زیر بحث ہیں، جن کی عبادت کی جاتی ہے۔ ان تماثیل کے بارے میں یہ بتایا گیا کہ ان کی عبادت کھلی ہوئی گمراہی ہے۔ نتیجۃً ایسی تماثیل مظہر ضلالت ہیں ۔ چنانچہ قرآن مجید کے اس مقام سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ خاص تماثیل ،جنھیں معبود سمجھا جاتا اور جن کی عبادت کی جاتی ہے، ان کا وجود دین توحید میں کسی صورت میں بھی گوارا نہیں ہو سکتا۔ 

مختصراً یہ کہ قرآن مجید سے ہمیں بالواسطہ طور پر تماثیل کے عمومی جواز کا تصور ملتا ہے، الا یہ کہ وہ مظہر شرک ہوں۔ مظہر شرک ہونے کی صورت میں ظاہر ہے کہ وہ بالکل ناجائز ہوں گی۔ 

اس کے بعد اب ہم یہ دیکھیں گے کہ تماثیل کے بارے ہمیں احادیث سے کیا رہنمائی ملتی ہے۔


۲؂ تورات میں سلیمان علیہ السلام کے محل کا ذکر کرتے ہوئے اس کی تفصیل ان الفاظ میں کی گئی ہے:

’’اور ان حاشیوں پر جو پڑوں کے درمیان تھے، شیر اور بیل اور کرُّوبی (فرشتے) بنے ہوئے تھے۔‘‘ (۱۔ملوک: ۷: ۲۹) 

ہیکل کی تعمیر کے بیان میں ہے:

’’اور الہام گاہ میں اس نے زیتون کی لکڑی کے دو کروبی دس دس ہاتھ اونچے بنائے۔ اور کروبی کا ایک بازو پانچ ہاتھ کا اور دوسرا بازو بھی پانچ ہاتھ کا تھا۔ دوسرا کروبی دس ہاتھ کا پہلے کے موافق... اور الہام گاہ کے دروازے کے لیے... زیتون کی لکڑی کے کواڑ تھے ان پر کروبیوں اور کھجوروں اور کھلے ہوئے پھولوں کی تصویریں کھو دیں۔‘‘ (۱۔ملوک ۶ :۲۳۔ ۲۴،۳۱۔۳۲)