چھٹی نوعیت کی احادیث 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کے علاوہ ایک اور وجہ سے بھی تصاویر سے گریز کیا ہے، البتہ اس پہلو سے آپ نے انھیں ممنوع یا حرام قرار نہیں دیا۔ اس سے متعلق احادیث درج ذیل ہیں:

عن عائشۃ قالت کان لنا ستر فیہ تمثال طائر وکان الداخل اذا دخل استقبلہ فقال لی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حولی ھذا فانی کلما دخلت فرایتہ ذکرت الدنیا.(مسلم ، رقم ۲۱۰۷) 

’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا: ہمارا ایک پردہ ہوا کرتا تھا، اس میں پرندے کی ایک تصویر بنی ہوئی تھی۔ جب بھی کوئی گھر میں آنے والا آتا، اسے اپنے سامنے وہ تصویر نظر آتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: اس کو ہٹا دو، میں جب بھی گھر میں آتا ہوں اور اسے دیکھتا ہوں تو مجھے دنیا یاد آتی ہے۔‘‘

عن ابن عمر رضی اللّٰہ عنھما قال اتی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم بیت فاطمۃ فلم یدخل علیھا وجاء علی فذکرت لہ ذلک فذکرہ للنبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال انی رایت علی بابھا سترا موشیاً فقال ما لی وللدنیا فاتاھا علی فذکر ذلک لھا فقالت لیامرنی فیہ بما شاء قال ترسل بہ الی فلان اھل بیت بھم حاجۃ. ( بخاری ، رقم ۲۶۱۳) 

’’ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر (دروازے تک) آئے، لیکن گھر میں داخل نہیں ہوئے اور واپس چلے گئے۔ پھر جب علی (رضی اللہ عنہ) آئے، فاطمہ (رضی اللہ عنہا) نے اُن سے یہ واقعہ بیان کیا۔ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا (آپ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل کیوں نہیں ہوئے)؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اُس کے دروازے پر نقش و نگار والا پردہ دیکھا تھا۔ پھر فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق۔ علی رضی اللہ عنہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور انھیں یہ بات بتائی۔ انھوں نے کہا: وہ مجھے اس کے بارے میں جو چاہتے ہیں حکم دیں۔ آپ نے فرمایا: اسے فلاں گھر والوں کے پاس بھجوا دو، اُنھیں اِس کی ضرورت ہے۔‘‘

 

تجزیہ

ان احادیث سے درج ذیل نکات معلوم ہوتے ہیں: 

۱۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر میں پرندے کی ایک تصویر دیکھی تو فرمایا کہ اس کو ہٹا دو، کیونکہ اس سے مجھے دنیا یاد آتی ہے۔

۲۔آپ نے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہاکے گھر کے دروازے پر نقش و نگار والا پردہ دیکھا تو ان کے گھر میں داخل ہونے سے گریز کیا اور فرمایا: میرا دنیا سے کیا تعلق۔ 

۳۔ جس منقش پردے سے گریز کیا تھا، اسی کے بارے میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ پردہ فلاں کے پاس بھجوا دو، انھیں اس کی ضرورت ہے۔

ان احادیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پرندے کی تصویر کو دیکھ کر یہ کہنا کہ اسے ہٹا دو، یہ مجھے دنیا یاد دلاتی ہے اور منقش پردے کو دیکھ کر اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہاکے گھر میں داخل ہونے سے گریز کرنا اور یہ کہنا کہ میرا دنیا سے کیا تعلق، یہ دونوں جملے بتاتے ہیں کہ آپ کا اس تصویر اور نقش و نگار سے یہ گریز بالکل دوسری نوعیت کا ہے۔ یہاں آپ تصویر اور نقش و نگار کو دنیا کی خوش نمائی اور اس کی رونق کا ایک مظہر سمجھتے ہوئے اس سے بے رغبتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ یہ ایک ایسے انسان کا رویہ ہے ، جو آخرت کی طرف سے اپنی توجہ اور یکسوئی کو ایک لمحے کے لیے بھی ہٹانا نہیں چاہتا۔ یہاں تصویر کی حلت و حرمت کا معاملہ زیر بحث ہی نہیں ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ آپ نے وہ منقش پردہ کسی حاجت مند شخص کے گھر بھجوا دیا۔ اگر مسئلہ حلت و حرمت کا ہوتا تو آپ ایسا ہرگز نہ کرتے، آپ ضرور اسے پھاڑ دیتے، جیسا کہ ہم نے بعض احادیث میں آپ کا یہ رویہ دیکھا ہے۔ پھر آپ ان تصاویر سے گریز کی جو وجہ بیان کرتے ہیں ،وہ واضح طور پر آپ کا’زہد عن الدنیا‘ (دنیا سے گریز کرنا) ہے، نہ کہ ان تصاویر کے بارے میں دین و شریعت کا کوئی حکم۔

 

نتیجہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پرندے یعنی جان دار کی تصویر سے بر بناے زہد گریز تو کیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس تصویر سے وہ سلوک نہیں کیا، جو آپ نے مشرکانہ تصاویر کے ساتھ اختیار کیا ہے ۔ 

 

زیر بحث حدیث کا دوسرا متن

اس کے بعد آپ دیکھیں کہ ’’مسلم‘‘ کی یہی روایت جس میں پرندے کی تصویر کا ذکر ہے، اسے امام مسلم ایک دوسری سند سے بھی لائے ہیں۔ اس سند سے مروی متن میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے ، یہ اضافہ بہت اہم ہے اور یہ ہمیں صریح طور پر بتاتا ہے کہ آپ نے پرندے ( یعنی جان دار) کی تصویر کو حلت و حرمت کے حوالے سے دیکھا ہی نہیں ہے۔ 

دوسری سند کے حوالے سے یہ روایت درج ذیل الفاظ میں منقول ہے:

عن عائشۃ قالت کان لنا ستر فیہ تمثال طائر وکان الداخل اذا دخل استقبلہ فقال لی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم حولی ہذا فانی کلما دخلت فرایتہ ذکرت الدنیا... فلم یامرنا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم بقطعہ.(صحیح مسلم، رقم ۲۱۰۷) 

’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہمارے ہاں ایک پردہ ہوا کرتا تھا، اُس پر ایک پرندے کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ گھر میں داخل ہونے والا کوئی شخص جونہی داخل ہوتا تو اُسے اپنے سامنے پاتا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: اِسے ہٹا دو، میں جب بھی گھر میں داخل ہوتے ہوئے اِسے دیکھتا ہوں، میرا دھیان دنیا کی طرف چلا جاتا ہے... رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اِسے پھاڑ دینے کا حکم نہیں دیا، (یعنی صرف اُسے اُس جگہ سے ہٹا دینے ہی کا حکم دیا)۔‘‘ 

 

تجزیہ 

یہ روایت اصلاً وہی ہے جو ابھی ہم اوپر پڑھ آئے ہیں، لیکن اس میں جن الفاظ کا اضافہ ہے، ان کے حوالے سے آپ دیکھیں کہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پرندے کی تصویر کے ساتھ وہ معاملہ نہیں کیا جو آپ نے مثلاً بیت اللہ میں موجود تصاویر کے ساتھ اور صلیب کی تصاویر کے ساتھ اختیار کیا ہے۔ آپ نے پرندے کی تصویر کو پھاڑنے کا حکم نہیں دیا، بلکہ اسے برقرار رہنے دیا ہے۔ اس کی صاف وجہ یہ ہے کہ یہ تصویر اپنے اندر وہ قباحت رکھتی ہی نہ تھی، جو قباحت مثلاً بیت اللہ میں موجود تصاویر اور صلیب کی تصاویر میں پائی جاتی تھی۔ پرندے کی اس تصویر میں محض تزیین و آرایش ہی کا پہلو تھا۔ تزیین و آرایش فی نفسہٖ دین میں ممنوع نہیں ہے۔ البتہ اگر یہ ہمیں ہمارے اپنے حالات میں دنیا کی یاد اور آخرت سے غفلت کا باعث بنتی ہوتو پھر آخرت کی طرف یکسوئی قائم رکھنے کی خاطر، اس سے ممکن حد تک گریز کرنا چاہیے۔ ۶؂

 

نتیجہ

چنانچہ یہ روایت اس پر نص قاطع ہے کہ پرندے یعنی جان دار کی تصویر حرام نہیں ہے۔ 

 

ایک وضاحت 

جان دار کی تصویر بھی چونکہ بعض دوسری بے جان اشیامثلاً پہاڑ،ندی، جنگل اور وادی کی تصاویر کی طرح دنیا یاد دلانے کا باعث بن سکتی ہے، لہٰذا اس پہلو سے اگر اس سے گریز پیش نظر ہو تو وہ اختیار کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ گریز پھر جان دار اور بے جان ہر شے کی تصویر سے یکساں طور پر ہو گا اور محض تصویر ہی سے نہیں ، منقش کپڑے سے بھی ہو گا، مزین عمارت سے بھی ہو گا۔ غرض یہ گریز ہر اس چیز سے ہو گا ،جو دنیا یاد دلانے کا باعث بنتی ہے یا بن سکتی ہے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کاگریز اصلاً تصویر سے نہیں تھا، بلکہ اس تزیین و آرایش سے تھا، جو اس کپڑے میں پائی جاتی تھی اور جس کی بنا پر، وہ دنیا یاد دلانے کا ذریعہ بن رہا تھا۔ یہ بات اچھی طرح ذہن میں رہے کہ یہ گریز اسلامی قانون و شریعت کا حکم نہیں ہے۔ یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے رنگ زہد کا ظہور ہے، آپ سے زہدکا یہ رنگ بلا شک و شبہ ثابت ہے، چنانچہ طبیعتوں کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی پیروی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوۂ حسنہ ہی کا اتباع ہو گی۔ 

بہرحال، درج بالا حدیث کے الفاظ واضح طور پر یہ بتا رہے ہیں کہ پرندے یعنی جان دار کی تصویر شرعاً حرام نہیں ہے۔ اگر جان دار کی تصویر کی حلت و حرمت کوئی مسئلہ ہوتی تو یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی حرمت اور قباحت کو بیان نہ کرتے اور نہ اس بات ہی کا کوئی امکان تھاکہ آپ پرندے کی تصویر سے گریز کی اصل علت کو بھول کر، بالکل ایک دوسری بات بیان کر دیں، جس کے نتیجے میں ایک حرام بات، بالکل جائز اور مباح بن جائے۔ نعوذ باللّٰہ من ذلک۔ 

 

حرمت تصویر سے متعلق مزید دو احادیث 

یہاں ضروری ہے کہ ہم درج ذیل دو روایتوں کو بھی دیکھ لیں، ان میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حقیقت ذرا مختلف الفاظ سے بیان کی ہے: 

عن ابن عباس یقول سمعت ابا طلحۃ یقول سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول لا تدخل الملائکۃ بیتا فیہ کلب ولا صورۃ تماثیل. (بخاری، رقم ۳۲۲۵) 

’’ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو طلحہ کو سنا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے جس میں کتا ہو یا تماثیل کی تصویر ہو۔‘‘

عن نجی... قال علی... قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم... قال جبریل... انھا ثلاث لن یلج ملک (دارا) ما دام فیھا ابداً واحد منھا کلب او جنابۃ او صورۃ روح. (مسند احمد ، رقم  ۶۴۸) 

’’نجی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل فرماتے ہیں کہ تین چیزیں اگر کسی (گھر) میں موجود ہوں تو فرشتہ اُس (گھر ) میں کبھی نہیں جاتا۔ ان تین میں سے ایک کتا ہے، دوسری چیز جنبی آدمی اور تیسری چیز روح کی تصویر۔‘‘

ان دو احادیث میں نئی بات صرف اتنی ہے کہ پہلی میں تماثیل کی تصویر کو ممنوع قرار دیا گیا اور دوسری میں روح کی تصویر کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ تماثیل کی تصویر سے اور روح کی تصویر سے کیا مراد ہے؟ 

 

پہلی حدیث کا تجزیہ 

اس حدیث میں ہمارے موضوع سے متعلق یہ بات بتائی گئی ہے کہ اللہ کے فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تماثیل کی تصویر ہو۔ممنوع تماثیل سے مراد، جیسا کہ ہم پیچھے تفصیلاً بحث کر چکے ہیں ، وہ اوثان و اصنام ہیں جن کی عبادت کی جاتی تھی، چنانچہ ’تماثیل کی تصویر‘ سے مراد انھی اوثان و اصنام کی تصویر ہے۔ 

 

نتیجہ 

اس حدیث میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جس گھر میں اوثان و اصنام کی کوئی تصویر ہو گی، اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ ظاہر ہے کسی صریح مظہر شرک کی موجودگی ملائکہ کو کیسے گوارا ہو سکتی ہے۔

 

دوسری حدیث کا تجزیہ

اس کے بعد اب ہم دوسری حدیث میں آنے والے ’صورۃ روح‘ کے الفاظ کو دیکھتے ہیں۔ یہ الفاظ اسی پس منظر میں بولے جا رہے ہیں، جس کا ہم پیچھے بہت تفصیل سے مطالعہ کر آئے ہیں۔ چنانچہ ’صورۃ روح‘ کا مطلب ہے: روح والی تصویر۔ یعنی وہ تصویر جس کے بارے میں یہ عقیدہ ہو کہ اس میں روح موجود ہے اور اس روح کی وجہ سے یہ زندہ وجود کی طرح نافع و ضار ہے، جیسا کہ عربوں میں یہ تصور عام پایا جاتا تھا۔

’صورۃ روح‘ کے الفاظ کی تالیف ’صورۃ فیہا روح‘ (تصویر جس میں روح ہے)ہے۔ عربی میں اس کی مثال ’بستان اشجارٍ‘ یعنی ’بستان فیہا اشجار‘ (باغ جس میں درخت ہیں) ہے یا ’دار السلام‘یعنی ’دار فیہا السلام‘ (گھر جس میں سلامتی ہے) ہے۔

 

نتیجہ 

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ وہ تصاویر ممنوع ہیں جن کے بارے میں یہ تصور ہو کہ ان میں روح موجود ہے۔

یہاں تک کی ساری بحث اس سے متعلق تھی کہ تصاویر و تماثیل کے بارے میں ہمیں براہ راست قرآن مجید اور احادیث سے کیا رہنمائی ملتی ہے۔ اب ہم یہ دیکھیں گے کہ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے تصاویر کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو کیا سمجھا تھا۔


۳؂ ’رقم فی ثوب‘ کی وضاحت میں’’ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری‘‘ کے مصنف لکھتے ہیں: ’اصل الرقم الکتابۃ، والصورۃ غیر الرقم‘ یعنی رقم کی حقیقت کتابت ہے اور تصویر غیر کتابت ہوتی ہے۔ چنانچہ ’رقم فی ثوب‘ سے مراد، جیسا کہ ابن الاثیر کہتے ہیں ’النقش والوشم‘ (نقش و نگار) ہے۔

۴؂ یہاں نقش و نگار یا خاکوں کی نوعیت کی جو تصاویر زیر بحث ہیں، یہ اگر فی نفسہٖ ممنوع نہ ہوتیں تو صحابۂ کرام کے ہاں ان تصاویر والی اشیا کے استعمال کی حرمت کا خیال بھی پیدا نہ ہوتا۔

۵؂ ان اوثان اور اصنام سے مراد وہ تماثیل ہی ہیں، جن کی پرستش کی جاتی تھی، قرآن مجید میں انھی اوثان اور اصنام کے بارے میں ایک دوسری جگہ پر ’ما ہذہ تماثیل التی انتم لہا عاکفون‘ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔

۶؂ دنیا یاد دلانے والی شے سے گریز کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ آدمی قرینے اور سلیقے ہی کے اظہار سے گریز کرنے لگ جائے، قرینہ اور سلیقہ تو انتہائی فطری چیزیں ہیں۔ یہ گریز دراصل، اس آرایش و زیبایش اور اس زیب و زینت سے ہے جو خاص اس مقصد کے لیے ہوتی ہے کہ کسی شے کو آدمی کی نظروں میں کھبا دے۔

اس آرایش و زیبایش اور اس زیب و زینت کا معیار تمدن کے فرق کے ساتھ بدلتا رہتا ہے۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک غیر ترقی یافتہ صحرائی تمدن میں محض ایک پرندے کی تصویر دنیا یاد دلانے کا باعث بن جائے اور ایک ترقی یافتہ تمدن میں اس سے بدرجہا مزین اشیا بھی دنیا یاد دلانے کا باعث نہ بنیں، بلکہ کوئی خاص مزین شے ہی اس کا ذریعہ بنے۔ 

طبائع اور مزاجوں کے فرق کے ساتھ زہد کا اپنا رنگ اور اس کا اظہار بہت مختلف ہو جاتا ہے۔ زہد یحییٰ علیہ السلام کا اپنا رنگ ہے اور زہد سلیمان علیہ السلام کا اپنا رنگ۔ ایک نوعیت کے زہد میں ٹاٹ کا لباس پہنا جاتا ہے اور دوسرے میں ’صرح ممرد‘ (شیشوں جڑا محل) بنوایا جاتا ہے اور پھراس میں زہد اپنا اظہار ’فطفق مسحاً بالسوق والاعناق‘ ( وہ ان گھوڑوں کی پنڈلیاں اور گردنیں تلوار سے اڑانے لگ پڑا) کی صورت میں کرتا ہے۔ الغرض زہد کے کئی رنگ ہو سکتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی رنگ زہد کے حوالے سے ہمیں یہ بتایا ہے کہ ابو ذر رضی اللہ عنہ میں عیسیٰ علیہ السلام کا رنگ زہد پایا جاتا ہے ۔

کسی کے رنگ زہد کی پیروی تبھی کی جا سکتی ہے، اگر اس رنگ کا طبعی ذوق انسان میں موجود ہو۔