تماثیل کے حوالے سے احادیث کے ذخیرے کو دیکھیں تو ہمیں اس میں چھ مختلف نوعیتوں کی احادیث ملتی ہیں۔

پہلی نوعیت کی احادیث 

یہ احادیث کی وہ نوعیت ہے، جس میں مصوروں یا تماثیل کے بارے میں کوئی بات اجمالاً کہی گئی ہے۔ یہ احادیث درج ذیل ہیں:

عن وھب بن عبد اللّٰہ قال ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لعن المصور.(بخاری ،رقم ۲۰۸۶) 

’’وہب ابن عبداللہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصاویر بنانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘

عن عائشۃ انھا اشترت نمرقۃ فیھا تصاویر. فلما راھا رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، قام علی الباب ، فلم یدخل فعرفت او فعرفت فی وجھہ الکراھیۃ فقالت یا رسول اللّٰہ ، اتوب الی اللّٰہ والی رسولہ ، فماذا اذنبت فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم : ما بال ھذہ النمرقۃ فقالت اشتریتھا لک تقعد علیھا وتوسدھا. فقال :  رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان اصحاب ھذہ الصور یعذبون ، ویقال لھم احیوا ما خلقتم. ثم قال : ان البیت الذی فیہ الصور لا تدخلہ الملائکۃ.(مسلم ، رقم ۲۱۰۷)

’’حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ انھوں نے ایک غالیچہ (گدا) خریدا، اُس میں تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (گھر میں داخل ہوتے ہوئے) اُسے دیکھا تو آپ دروازے ہی پر رُک گئے اور گھر میں داخل نہیں ہوئے تو میں نے جان لیا یا یوں کہیں کہ آپ کے چہرے سے ناگواری ٹپکی پڑتی تھی (میں کیسے نہ جان لیتی) ۔ چنانچہ انھوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا :اے اللہ کے رسول، میں اللہ اور اس کے رسول کی جناب میں توبہ کرتی ہوں، میں نے کیا غلطی کی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: یہ گدا کیسا ہے؟ انھوں نے کہا: میں نے یہ آپ کے لیے خریدا ہے تاکہ آپ اس پر بیٹھیں اور اس پر ٹیک لگائیں۔جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان تصویروں والوں کو عذاب دیا جائے گااور ان سے کہا جائے گا کہ جو کچھ تم نے تخلیق کیا ہے اسے زندہ کرو۔ پھر آپ نے فرمایا:جس گھر میں تصاویر ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔‘‘

قال عبد اللّٰہ سمعت النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول ان اشد الناس عذابا یوم القیامۃ المصورون.(مسلم، رقم ۲۱۰۷)

’’عبداللہ کہتے ہیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بے شک قیامت کے دن شدید ترین عذاب میں گرفتار ہونے والے مصور ہوں گے ۔ ‘‘ 

قال ابن عباس سمعت محمدا صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول من صور صورۃ فی الدنیا کلف یوم القیامۃ ان ینفخ فیھا الروح و لیس بنافخ.(بخاری ، رقم۵۹۶۳)

’’ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، میں نے محمدصلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے دنیا میں کوئی تصویر بنائی اسے قیامت کے دن مجبور کیا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے اور وہ اس میں روح پھونک نہ سکے گا۔‘‘

عن عبد اللّٰہ ابن عمر رضی اللّٰہ عنھما ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ان الذین یصنعون ھذہ الصور یعذبون یوم القیامۃ یقال لھم احیوا ما خلقتم.(بخاری ، رقم ۵۹۵۱)

’’عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک وہ لوگ جو یہ تصاویر بناتے ہیں، قیامت کے دن عذاب دیے جائیں گے، اُن سے کہا جائے گاکہ جو تم نے بنایا ہے اُسے زندہ کرو۔‘‘ 

 

تجزیہ 

ان احادیث سے مصوروں اور تصاویر کے بارے میں درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

۱۔ مصور (تصویر اور مجسمہ بنانے والا) ملعون ہے۔

۲۔ مصوروں کو قیامت کے دن شدید ترین عذاب دیا جائے گا۔

۳۔ مصوروں سے یہ تقاضا کیا جائے گا کہ وہ اپنی تصاویر میں روح پھونکیں اور انھیں زندہ کریں، لیکن وہ ایسا نہ کر سکیں گے۔

۴۔ جس گھر میں تصاویر ہوں، اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔

 

نتیجہ 

ان درج بالا احادیث سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ دین میں تصاویر کے لیے کوئی گنجایش نہیں اور نہ تصاویر بنانے والے مصوروں ہی کے لیے اسلام میں کوئی جگہ ہے۔ مصور خواہ کسی بھی تصویر کا ہو اور تصویر خواہ (جان دار یا بے جان) کسی بھی شے کی ہو ، بہرحال اس کا بنانے والا جہنمی ہے اور وہ تصویر حرام ہے۔ اس بات کو اگر انھی لفظوں میں مان لیا جائے تو اس کے نتیجے میں درج ذیل باتوں کو ماننا پڑتا ہے: 

۱۔ قرآن اور حدیث میں تضاد پایا جاتا ہے، جیسا کہ پیچھے سلیمان علیہ السلام کے حوالے سے یہ بات زیر بحث آ چکی ہے کہ ان کے دربار میں تماثیل موجود تھیں اور قرآن نے انھیں غلط نہیں کہا۔

۲۔ خود احادیث کے اپنے مابین بھی تضاد ہے، جیسا کہ آگے آنے والی بعض احادیث سے معلوم ہو گا کہ وہی تصاویر حرام ہیں ،جن میں روح ہو۔

۳۔ تصویر کی حلت و حرمت کے حوالے سے فقہا کا مختلف تصاویر میں فرق کرنا بالکل غلط تھا ۔ یعنی فقہا کی یہ بات غلط ہے کہ کچھ تصاویر حرام اور کچھ تصاویر حلال ہیں۔

۴۔ ہر نوعیت کی تصاویر کی یکسر حرمت کا یہ تصور بتاتا ہے کہ اسلام جو دین فطرت ہے، وہ فنون لطیفہ کے بارے میں بالکل منفی رویہ رکھتا ہے، حالانکہ ان (فنون لطیفہ) کی بنیاد انسان کی اپنی فطرت میں ہے۔ 

ان باتوں میں سے بعض کو تو کسی صورت میں بھی ماننا ممکن نہیں اور بعض کو ماننا بہت دشوار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اصل بات جاننے کے لیے باقی احادیث کو بھی دیکھنا ہو گا تاکہ ہم تمام احادیث پر غور کر کے صحیح موقف جان سکیں۔

 

دوسری نوعیت کی احادیث

احادیث کے ذخیرے پر جب ہم دوبارہ نظر ڈالتے ہیں تو اس میں ایک اور نوعیت کی احادیث بھی دکھائی دیتی ہیں، جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ تصاویر کی اپنی ساخت ہی کی بعض ایسی قسمیں ہیں جو ممنوع نہیں ہیں۔ اسی طرح ممنوع تصاویر والی شے کے محل کی بھی بعض ایسی صورتیں ہیں، جن میں اس شے کا استعمال ممنوع نہیں رہتا، حالانکہ اس پر ممنوع تصویریں موجود ہوتی ہیں۔یہ احادیث درج ذیل ہیں:

قال ابو طلحۃ: ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال: لا تدخل الملائکۃ بیتاً فیہ صورۃ. قال بسر، فمرض زید بن خالد فعدناہ، فاذا نحن فی بیتہ بستر فیہ تصاویر فقلت لعبید اللّٰہ الخولانی الم یحدثنا فیالتصاویر فقال انہ قال الا رقم ۳؂ فی ثوب الا سمعتہ؟ قلت لا ، قال بلی ، قد ذکرہ. (بخاری ، رقم ۳۲۲۶) 

’’ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں کوئی تصویر ہو۔ بُسر کہتے ہیں: پھر ایک موقع پر جب زید بن خالد بیمار ہوئے تو ہم ان کی عیادت کو گئے۔ تو اُن کے گھر میں کیا دیکھتے ہیں کہ ایک پردہ ہے ، جس پر تصاویر بنی ہوئی ہیں۔ میں نے عبید اللہ خولانی سے پوچھا: کیا انھوں نے ہم سے تصاویر کی حرمت بیان نہیں کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے یہ بھی تو کہا تھا کہ سوائے اِس کے کہ کسی کپڑے پر کوئی نقش بنا ہو۔کیا تم نے یہ بات نہیں سنی تھی، میں نے کہا: نہیں۔ انھوں نے کہا: کیوں نہیں ، انھوں نے یقیناً یہ الفاظ کہے تھے۔‘‘

عن عبید اللّٰہ انہ دخل علی ابی طلحۃ الانصاری یعودہ قال فوجد عندہ سھل بن حنیف فدعا ابو طلحۃ انساناً فنزع نمطا من تحتہ فقال لہ سھل بن حنیف لم تنزعہ قال لان فیہ تصاویر وقد قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فیھا ما قد علمت فقال سھل الم یقل رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم الا ما کان رقما فی ثوب قال بلی ولکنہ اطیب لنفسی.(موطا ، رقم ۱۸۰۲)

’’حضرت عبیداللہ سے روایت ہے کہ وہ ابوطلحہ انصاری کے پاس ان کی عیادت کے لیے آئے تو ان کے پاس سہل بن حنیف کو بھی بیٹھے ہوئے پایا،اس اثنا میں ابو طلحہ نے کسی آدمی کو بلایا اور اپنے نیچے سے گدا نکالنے کوکہااور اس نے وہ گدا نکال دیا تو سہل بن حنیف نے ان سے کہا کہ آپ نے اسے اپنے نیچے سے کیوں نکالا ہے ، انھوں نے کہا :اس لیے کہ اس میں تصاویر ہیں اور آپ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں کیا فرمایا ہے۔ سہل نے کہا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ سوائے اس کے کہ کسی کپڑے پر کوئی نقش بنا ہو۔ (ابو طلحہ) کہتے ہیں: کیوں نہیں بات ایسے ہی ہے، لیکن میں اپنے لیے یہ زیادہ بہتر سمجھتا ہوں (کہ ایسی مرقوم تصاویر کے استعمال سے بھی گریز ہی کروں۔)‘‘

عن ابی ہریرۃ رفعہ فی التماثیل انہ رخص فیما کان یوطأ و کرہ ماکان منصوباً. (الدرایۃ فی تخریج احادیث الہدایہ، رقم ۲۳۸) 

’’ابو ہریرہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ جو تصاویر محل اہانت میں پامال ہوں، آپ نے ان کی اجازت دی ہے اور جو کھڑی ہوں وہ ناجائز ہیں۔‘‘

عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا انھا کانت اتخذت علی سھوۃ لھا سترا فیہ تماثیل فھتکہ النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فاتخذت منہ نمرقتین فکانتا فی البیت یجلس علیھما.(بخاری ، رقم ۲۴۷۹)

’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے اپنے گھر کے ایک طاقچے پر ایک ایسا پردہ لٹکا دیا تھا، جس پر تصاویر بنی ہوئی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا تو اس کو پھاڑ دیا۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ) پھر انھوں نے اس کے دو تکیے بنا لیے۔ وہ دونوں تکیے گھر میں رہے، اس حال میں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان پر بیٹھا کرتے تھے۔‘‘ 

 

تجزیہ 

ان احادیث سے درج ذیل باتیں سامنے آتی ہیں:

۱۔ اگر کسی کپڑے پر ممنوع تصاویر نقش و نگار کی صورت میں بنی ہوں ، یعنی وہ تصاویر اپنی ساخت کے اعتبار سے اصلاً، تصاویر کے ضمن میں نہیں ، بلکہ نقش و نگار کے ضمن میں آتی ہوں، جیسے مختلف اشیا کے خاکے وغیرہ بنائے جاتے ہیں تو ایسی ممنوع تصاویر کی وجہ سے اس کپڑے کا استعمال ممنوع قرار نہیں پاتا۔ یعنی خاکوں یا نقش و نگار کی صورت میں بنی ہوئی یہ ممنوع تصاویر حرام ہونے کے باوجود جن اشیا پر بنی ہوں ان کے استعمال کو ممنوع نہیں بناتیں ۴؂ ۔

۲۔ اس کپڑے یا اس شے کا استعمال بھی ممنوع نہیں ہے ، جس پر اگرچہ ناجائز تصاویر بنی ہوں، لیکن وہ کپڑا یا وہ شے محل اہانت میں ہو، یعنی اس پر بیٹھا جاتا ہو یا وہ قدموں تلے روندی جاتی ہو۔ 

احادیث کے پہلے گروپ سے یہ اجمالی بات ہمارے سامنے آئی تھی کہ مصورملعون ہے اور قیامت کے دن اس کو شدید عذاب ہو گا ۔ اس سے ہمیں یہ تاثر ملتا تھا کہ ہر تصویر بنانا اور ہر تصویر والی شے کو استعمال میں لانا ناجائز ہے ۔ احادیث کے اس گروپ سے ہمیں ایک یہ بات معلوم ہوئی کہ جس شے پرممنوع تصویر نقش و نگار یا خاکے کی صورت میں بنی ہو، اس شے کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے اور دوسری یہ بات کہ ممنوع تصویر والی شے اگر محل اہانت میں ہو تو اس کو استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔

 

نتیجہ 

ان احادیث سے یہ بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ اسلام میں تصویر کا ممنوع ہونا کسی علت ہی کی بنا پر ہو گا، کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ممنوع تصاویروالی اشیا کا استعمال بھی بعض صورتوں میں ممنوع نہیں رہتا۔ اگر تصویر محض تصویر ہونے کی حیثیت سے ممنوع ہوتی تو اسے ہر صورت اور ہر محل میں ممنوع ہونا چاہیے تھا، لیکن یہ احادیث بتاتی ہیں کہ ایسا نہیں ہے، بلکہ جوں ہی کسی خاص صورت میں وہ وجہ زائل ہو جاتی ہے جس کی بنا پر تصویر والی شے کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا تھا تو اس شے کے استعمال کی حرمت بھی زائل ہو جاتی ہے۔ 

لیکن ان سب احادیث سے بھی ہمارے سامنے یہ بات نہیں آئی کہ وہ کون سی واضح اور متعین نوعیت کی تصاویر ہیں جو اسلام میں ممنوع ہیں اور وہ کیا علت ہے جس کی بنا پر وہ ممنوع قرار دی جاتی ہیں؟ 

اب ہم پہلے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کون سی تصاویر ہیں جنھیں خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صریحاً ممنوع قرار دیا ہے اور پھر اس کے بعد ہم ان شاء اللہ یہ دیکھیں گے کہ ان کی ممانعت کی علت کیا ہے۔ 

 

تیسری نوعیت کی احادیث 

ممانعت کے حوالے سے واضح اور متعین تصاویر کی تلاش میں جب ہم احادیث کے ذخیرے کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ہمارے سامنے جو احادیث آتی ہیں، ان سب میں شرک کے حوالے سے تصاویر کے بارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد یا آپ کا کوئی عمل موجود ہے۔ یہ احادیث درج ذیل ہیں:

عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنھا ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لم یکن یترک فی بیتہ شیئاً ، فیہ تصالیب الا نقضہ. (بخاری ، رقم ۵۹۵۲) 

’’عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں ہر اُس چیز کو جس پر صلیب بنی ہوتی ضرور توڑ دیتے۔‘‘

عن عائشۃ ان ام حبیبۃ و ام سلمۃ ذکرتا ، کنسیۃ راینھا بالحبشۃ فیھا تصاویر ، لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم . فقال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ؛ ان اولئک اذا کان فیھم الرجل الصالح، فمات بنوا علی قبرہ مسجدا و صوروا فیہ تلک الصور اولئک شرار الخلق عند اللّٰہ یوم القیامۃ. (مسلم ،رقم ۵۲۸ ) 

’’عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کنیسہ کا ذکر کیا ، جسے انھوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اس میں تصاویر تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اِن( عیسائیوں) میں جب کوئی نیک آدمی ہوتا، پھر وہ مر جاتا تو اُس کی قبر پر مسجد بنادیتے اور اُس مسجد میں یہ تصاویر بناتے تھے۔ قیامت کے دن یہ لوگ اللہ کے ہاں بدترین مخلوق شمار ہوں گے۔‘‘

عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما قال دخل النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم البیت فوجد فیہ صورۃ ابراہیم و صورۃ مریم فقال اما لھم فقد سمعوا ان الملائکۃ لا تدخل بیتا فیہ صورۃ. ھذا ابراہیم مصور فما لہ یستقسم. (بخاری ، رقم ۳۳۵۱) 

’’ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکہ کے روز) بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اُس میں ابراہیم (علیہ السلام) اور مریم (علیہا السلام)کے مجسمے دیکھے۔ آپ نے فرمایا: ان (قریش) کو کیا ہوا، اِنھوں نے تو یہ سن رکھا تھا کہ فرشتے اُس گھر میں نہیں جاتے، جس میں کوئی مجسمہ یاتصویر ہو۔ (دیکھو) یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا مجسمہ بنایا گیا ہے، (اِن کے ہاتھ میں انھوں نے پانسے کے تیر پکڑا دیے)، وہ بھلا فال کھولا کرتے تھے۔‘‘

عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما قال ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم لما قدم ابی ان یدخل البیت و فیہ الآلھۃ فامر بھا فاخرجت فاخرجوا صورۃ ابراہیم و اسماعیل....(بخاری ، رقم۱۶۰۱) 

’’ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (مکہ) آئے تو انھوں نے بیت اللہ میں معبودانِ باطل کی موجودگی میں، داخل ہونا گوارا نہیں کیا۔ چنانچہ آپ نے اُنھیں نکالنے کا حکم دیا، وہ نکالے گئے۔ لوگوں نے (اُن میں موجود) ابراہیم (علیہ السلام) اور اسمٰعیل (علیہ السلام) کا مجسمہ بھی نکالا...۔‘‘

عن ابن عباس ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم لما رأی الصور فی البیت لم یدخل حتی امر بھا فمحیت.... (بخاری، رقم ۳۳۵۲) 

’’ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (فتح مکہ کے موقع پر) جب بیت اللہ میں تصاویر دیکھیں، تو آپ اس میں داخل نہیں ہوئے یہاں تک کہ آپ نے انھیں مٹانے کا حکم دیا اور وہ مٹا دی گئیں...۔‘‘ 

عن صفیۃ بنت شیبۃ قالت لما اطمأن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم عام الفتح طاف علی بعیر یستلم الرکن بمحجن بیدہ ثم دخل الکعبۃ فوجد فیھا حمامۃ عیدان فکسر ھا ثم قام علی باب الکعبۃ فرمی بھا وانا انظرہ. (ابن ماجہ ، رقم ۲۹۴۷) 

’’صفیہ بنت شیبہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن جب ذرا پُرسکون ہوئے تو آپ نے اونٹ پر سوار ہو کر حجر اَسود کا اُس لکڑی سے استلام کیا، جو آپ کے ہاتھ میں تھی۔ پھر آپ کعبہ میں داخل ہوئے، آپ نے وہاں لکڑی کی ایک کبوتری پائی تو آپ نے اسے توڑ پھوڑ دیا اور پھر آپ کعبے کے دروازے پر کھڑے ہوئے اور اسے پھینک دیا اور میں اُس وقت آپ (کے اِس سارے عمل) کو دیکھ رہی تھی۔‘‘

 

تجزیہ 

احادیث کے اس گروپ سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں:

۱۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر اس شے کو توڑ پھوڑ دیتے تھے ، جس پر صلیب کی تصویر بنی ہوتی، یعنی اس شے کو استعمال میں لانا آپ کو ہرگز گوارا نہ تھا۔

۲۔ عیسائی اپنے صالحین کی قبروں پر عبادت گاہیں بنایا کرتے تھے اور ان عبادت گاہوں میں اپنے صالحین کی تصاویر رکھا کرتے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان عیسائیوں کے بارے میں ہمیں یہ بتایا ہے کہ یہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں اپنے اس عمل کی بنا پر بدترین مخلوق قرار پائیں گے۔

۳۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فاتح کی حیثیت سے جب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے بیت اللہ میں معبودان باطل کی تصاویر اور ان کے مجسمے دیکھے۔ ان میں ابراہیم علیہ السلام، اسمٰعیل علیہ السلام اور مریم علیہا السلام کے مجسمے بھی رکھے ہوئے تھے۔ آپ نے اس صورت حال میں بیت اللہ میں داخل ہونا بالکل گوارا نہ کیا، پھر جب آپ کے حکم سے ان معبودان باطل کے مجسمے نکال دیے گئے اور ان کی تصاویر مٹا دی گئیں تو آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ آپ نے ان مجسموں اور ان تصاویر کو دیکھ کر یہ کہا کہ قریش کے ان لوگوں کو کیا ہوا ہے، انھوں نے تو یہ سن رکھا تھا کہ فرشتے اس گھر میں داخل نہیں ہوتے، جس میں کوئی مجسمہ یا تصویر ہو۔ 

۴۔کعبہ میں جو مختلف بت رکھے ہوئے تھے، ان کے ساتھ لکڑی کی بنی ہوئی ایک کبوتری بھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بھی اسی طرح توڑ پھوڑ دیا ، جیسے آپ نے بت توڑے تھے یا جیسے آپ صلیب کی تصویر والی اشیا کو توڑ پھوڑ دیتے تھے۔ 

اس سے پہلے احادیث کے جن گروپوں کا ہم نے مطالعہ کیا ہے،ان میں تصاویر یا تماثیل کے الفاظ اجمالاً استعمال کیے گئے تھے، لہٰذا ان سے ان تصاویر و تماثیل کا واضح مصداق ہمارے سامنے نہیں آتا تھا، لیکن اس گروپ میں بیان کردہ احادیث میں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ اجمال تفصیل میں ڈھل گیا ہے۔ 

چنانچہ ان احادیث سے یہ اہم بات ہمارے سامنے آتی ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف انھی تماثیل کے بارے میں وعید سناتے، انھی کو مٹا تے اور انھی کو توڑتے ہوئے دیکھتے ہیں جو سب کی سب صریحاً مظہر شرک ہیں ۔ 

آپ دیکھیے کہ صلیب کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ رویہ کتنا سخت ہے کہ آپ اپنے گھر میں جس کپڑے پر صلیب کا نشان دیکھتے ہیں، اسے پھاڑ دیتے ہیں اور جس شے پر صلیب کا نشان بنا ہوا پاتے ہیں، اسے توڑ دیتے ہیں۔ یہ صلیب ہمیشہ سے عیسائیوں کے نزدیک ان کے عقیدے کا ایک مقدس نشان ہے۔ یہ اس صلیب کی یادگار ہے، جس پر عیسائی روایت کے مطابق، خدا کے اکلوتے بیٹے کو سولی دی گئی تھی اور وہ اپنے ماننے والوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کرتے ہوئے، اپنے آسمانی باپ کے پاس چلا گیا تھا۔ یہ صلیب ہمیشہ سے عیسائیوں کے اس پورے مشرکانہ عقیدے کی ایک نمایاں علامت رہی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مشرکانہ عقیدے کی اس علامت کو اپنے ہاں بالکل گوارا نہیں کرتے اور اسے توڑ پھوڑ دیتے ہیں۔

اس کے بعد آپ یہ دیکھیے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کنیسہ میں موجود تصاویر کا ذکر کیا گیا تو آپ نے یہ بتایا کہ یہ تصاویر صالحین کی قبروں پر بنائی جانے والی عبادت گاہوں میں رکھی جاتی ہیں۔ان تصاویر کے بارے میں عیسائیوں کے عقائد سے بھی ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے اور ہمارے جلیل القدر اسلاف نے بھی ان کے بارے میں یہی بات بیان کی ہے کہ عیسائی ان تصاویر اور مجسموں سے برکت حاصل کرتے اور ان سے شفاعت حاصل کرتے تھے۔ انھی تصاویر میں عیسٰی علیہ السلام اور مریم علیہا السلام کی تصاویر اور ان کے مجسمے بھی ہوتے تھے، یہ دونوں ہستیاں آج بھی ان کے نزدیک الوہیت کا درجہ رکھتی ہیں۔

بیت اللہ میں موجود تماثیل کے حوالے سے غور کریں، جب فتح مکہ کے بعد آپ کے ہاتھ میں سارا اقتدار آ گیا تو آپ بیت اللہ کے پاس تشریف لے گئے، لیکن آپ اس میں داخل نہیں ہوئے، کیونکہ اس میں لکڑی اور پتھر کی وہ تصاویر و تماثیل موجود تھیں، جنھیں ’آلھۃ ‘ قرار دیا جاتا تھا اور ان کی پرستش کی جاتی تھی۔ عقیدۂ شرک کے مطابق یہ’آلھۃ ‘ خدا تھے اور اللہ تعالیٰ کے شریک تھے۔ مشرکین عرب سے آپ کا سارا اختلاف یہی تھا کہ یہ خدا نہیں ہیں اور ان کی پرستش کا کوئی جواز نہیں ہے۔ لہٰذا اب جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیت اللہ پر غلبہ دے دیاتھا تو آپ اس میں ان بتوں کی موجودگی کیسے گوارا کر سکتے تھے۔ چنانچہ آپ نے اس وقت تک بیت اللہ میں قدم نہیں رکھا جب تک اسے ان معبودان باطل سے پاک نہیں کر لیا، حتیٰ کہ کبوتری کا وہ مجسمہ، جو ان معبودان باطل کے ساتھ بیت اللہ میں رکھا ہوا تھا، اسے بھی آپ نے اسی طرح توڑ پھوڑ دیا، جیسے آپ صلیب کی تصویر والی اشیا کو توڑ پھوڑ دیتے تھے۔ 

 

نتیجہ

اس گروپ کی احادیث سے یہ بات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجمل الفاظ میں جن تصاویر و تماثیل کی شناعت بیان کی تھی، ان سے مراد وہی تصاویر و تماثیل ہیں جن کے بارے میں الوہیت کے تصورات پائے جاتے تھے اور آپ نے انھی کو بنانے والے مصوروں کو شدید عذاب کی وعید سنائی ہے۔ 

احادیث میں موجود اجمال کی اس تفصیل کو جاننے کے بعد، اب ہم پھر روایات کے ذخیرے کی طرف آتے اور یہ دیکھتے ہیں کہ خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تصاویر کی حرمت کی کوئی علت بیان کی ہے یا نہیں؟ 

 

چوتھی نوعیت کی احادیث

حرمت تصویر کی علت کے حوالے سے ذخیرۂ روایات میں درج ذیل حدیث موجود ہے:

عن ابی زرعۃ قال دخلت مع ابی ھریرۃ فی دار مروان ، فرای فیھا تصاویر فقال : سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول، قال اللّٰہ عزوجل: ومن اظلم ممن ذھب یخلق خلقا کخلقی، فلیخلقوا ذرۃ او لیخلقوا حبۃ او لیخلقوا شعیرۃ. (مسلم ،رقم ۲۱۱۱) 

’’ابو زرعہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ابوہریرہ کے ساتھ مروان کے گھر میں داخل ہوا۔ اُنھوں نے وہاں تصاویر دیکھیں تو کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعا لیٰ فرماتے ہیں: اُس شخص سے بڑاظالم کون ہو گا جو میرے تخلیق کرنے (مخلوقات بنانے) کی طرح تخلیق کرنے (مخلوقات بنانے) نکل کھڑا ہوا۔ (ایسی جسارت کرنے والوں کو چاہیے کہ) وہ ایک ذرہ تو تخلیق کر کے دکھائیں یا ایک دانہ یا ایک جو ہی تخلیق کر کے دکھا دیں۔‘‘

 

اسی مضمون کی کئی احادیث ہیں۔ تکرار سے بچتے ہوئے، ہم یہاں ایک ہی بنیادی حدیث لائے ہیں۔ اس حدیث میں تصویر کی حرمت کی اصل علت بیان کی گئی ہے۔ فقہا اور علما، سبھی اس پر متفق ہیں کہ تصویر کی حرمت کی اصل علت یہی ہے، جو اس میں بیان ہوئی ہے۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس حدیث سے ہمیں تصاویر کی حرمت کی کیا علت معلوم ہوتی ہے۔

 

تجزیہ 

اس حدیث میں تین باتیں بیان ہوئی ہیں:

پہلی یہ کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مروان کے گھر میں تصاویر دیکھیں تو انھوں نے ان پر تنقید کرتے ہوئے، تصاویر کے بارے میں حدیث قدسی میں موجود اللہ تعالیٰ کا ایک قول بیان کیا۔

دوسری یہ کہ تصویر بنانے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ کہا ہے کہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے ،جو میرے تخلیق کرنے کی طرح تخلیق کرنے چل پڑا۔

اور تیسری یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان مصوروں کے سامنے جو اس کی طرح تخلیق کرنے کی جسارت کرتے ہیں، یہ چیلنج رکھا ہے کہ تم ہماری کسی چھوٹی سی تخلیق جیسی تخلیق ہی کر کے دکھا دو، یعنی تم مٹی کا ایک ذرہ یا گندم کا ایک دانہ یا جو کا ایک دانہ ہی تخلیق کر کے دکھا دو۔ 

اس حدیث میں غور طلب بات یہ ہے کہ اس میں خدا جس تصویر کی بات کر رہا ہے ،وہ درحقیقت خدا کی تخلیق کردہ اشیا کی نوعیت ہی کی ایک شے تخلیق کرنا ہے، یہ تصویر سازی دراصل، خدا کے عمل تخلیق کی نقالی کرتے ہوئے بالکل اسی طرح کا کوئی وجود تخلیق کر دینا ہے، نہ کہ خدا کی بنائی ہوئی اشیا کی ہیئت کا کپڑے یا کاغذ پر نقش بنانا۔ یہ خدا کی بنائی ہوئی اشیا کے مقابل میں کوئی شے بنانا ہے۔ یہ خدا کی بنائی ہوئی اشیا کی ہیئت کی نقل اتارتے ہوئے، ان کا مجسمہ بنا لینا یا ان کی تصویر بنا لینا نہیں ہے۔ خدا مجسمے اور تصویریں نہیں بناتا، یہ چیزیں تو اپنی حقیقت ہی میں نقل ہوتی ہیں۔ خدا نقل نہیں بناتا، وہ اصل بناتا ہے۔ لہٰذا خدا کی طرح کوئی اصل شے بنانے کی کاوش ہی وہ چیزہے ، جو اس حدیث میں زیر بحث ہے۔ 

چنانچہ اس حدیث سے تصویر کی شناعت اور اس کی حرمت کی جو علت ہمارے سامنے آتی ہے، وہ خدا کے عمل تخلیق کی نقالی کرنا ہے ، نہ کہ خدا کی بنائی ہوئی اشیا کی نقالی کرنا۔ 

تیسری نوعیت کی احادیث سے متعلق بحث میں یہ اہم بات ہمارے سامنے آئی تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صرف انھی تماثیل کو مٹاتے اور توڑتے ہیں اور انھی کے بارے میں وعید سناتے ہیں جو صریحاً مظہر شرک ہوتی ہیں۔ حرمت کی یہ علت کہ تصاویر خدا کے عمل تخلیق کی نقالی ہوتی ہیں، یہ بھی ظاہر ہے کہ انھی تصاویر سے متعلق ہے جن کے بارے میں الوہیت کے تصورات پائے جاتے ہیں، جیسا کہ بیت اللہ میں موجود معبود ان باطل کی تماثیل اور عیسیٰ علیہ السلام اور مریم علیہا السلام کی تصاویر کا معاملہ ہے۔یہ سب تماثیل و تصاویر مذہب شرک کا مظہر اتم تھیں۔ چنانچہ اس حدیث میں انھی تصاویر کے بنانے کو خدا کے عمل تخلیق کی نقالی قرار دیا گیا اور انھی کے بنانے والوں کو ظالم ترین لوگ کہا گیا ہے۔

یہاں یہ اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ تصاویر بنانا یا اس طرح کے مجسمے تراشنا کیا محض ایک فن ہی کا اظہار نہیں ہے، انھیں خدا کے عمل تخلیق کی نقالی کیوں کہا گیا ہے؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ تمام تصاویر و تماثیل دراصل انسانی ذہن ہی کی تخلیق تھیں، انسان نے خود ہی انھیں سوچا، خود ہی ان کو گھڑا، خود ہی ان کے بارے میں الوہیت کے تصورات تخلیق کیے اور پھر خود ہی اس نے لوگوں کو ان تصورات سے متعارف کرایا تھا ۔ چنانچہ انسان ہی نے ان کے بارے میں لوگوں کو یہ بتایا کہ یہ بظاہر بے حس و حرکت ہونے کے باوجود حقیقت میں زندہ ہیں، یہ اس کائنات میں تصرف کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ یہ جنگ اور قحط کے زمانے میں انسانوں کی مافوق الفطرت طریقے سے مدد کر سکتی ہیں ۔ یہ امن اور خوش حالی کے زمانے میں برکت کا باعث ہوتی ہیں اور پھر یہی نہیں، بلکہ ان کے بارے میں اس نے یہ تصور بھی دیا کہ الوہی صفات سے متصف یہ تماثیل قیامت کے دن خدا کے ہاں پرزور شفاعت کرنے کی طاقت رکھتی ہیں اور یہ خدا کے عدل کو باطل کر سکتی ہیں۔ یہ خدائی صفات سے متصف ہستیاں ہیں، یہ بڑے خدا کے ساتھ چھوٹے خدا ہیں۔ چنانچہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ ان کی عبادت کرے۔ 

لہٰذاوہ شخص جو اس تصور اور اس عقیدے کے ساتھ کوئی تصویر یا مجسمہ بناتا ہے، اس کے بارے میں یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ وہ خدا کے مخلوق بنانے کی طرح مخلوق بنا رہا ہے، کیونکہ وہ محض ایک تصویر بنانے والا مصور یا ایک مجسمہ بنانے والا سنگ تراش نہیں ہے، بلکہ وہ ایک ایسی مخلوق بنانے والا ہے جس کے بارے میں وہ درج بالا خود ساختہ عقائد و نظریات رکھتا ہے۔

قرآن مجید میں مشرکین کے انھی عقائد و نظریات پر شدید تنقید کی گئی ہے۔ قرآن کی بات ان خداؤں کی نفی سے شروع ہوتی اور خداے واحد کے اثبات پرختم ہوتی ہے۔ شرک کا یہ سارا ڈھونگ سراپا جھوٹ ہے۔ قرآن مجید خالص حق کی بات کرتا ہے، چنانچہ وہ اسے کیسے گوارا کر سکتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان احادیث میں مصوروں کو اسی ڈھونگ رچانے پر شدید وعید سنائی اور ان پر لعنت فرمائی ہے۔ آپ نے یہ بتایا کہ قیامت کے دن یہ لوگ شدید عذاب میں گرفتار ہوں گے، وہاں ان سے یہ کہا جائے گا کہ تم نے جو تصاویر بنائی تھیں، جنھیں تم زندہ اور کائنات میں تصرف کرنے والی ہستیاں قرار دیتے تھے، دیکھو وہ سب مردہ ہیں، تم اب ان میں وہ ارواح ڈالو جو تم ان میں موجود سمجھتے تھے اور جس کی بنا پر تم انسانوں کو ان کے بارے میں گمراہ کرتے تھے۔ یہ حکم ظاہر ہے کہ باطل ’آلھۃ‘ کے بارے میں ان کے تصورات کے انتہائی ابطال ہی کے لیے دیا جائے گا۔ چنانچہ وہاں یہ کچھ بھی نہ کر سکیں گے۔خداے واحد کے سامنے یہ مصور اس کا کوئی بھی شریک تخلیق نہ کر سکیں گے۔ لہٰذا یہ شدید عذاب میں گرفتار ہوں گے۔

 

نتیجہ 

اس ساری بحث سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ان احادیث میں اسی تصویر کی بات کی گئی ہے، جسے بنانا درحقیقت، خدا کی تخلیقات جیسی کوئی شے کو تخلیق کرنا ہے۔ چونکہ مشرکانہ عقائد کا حامل مصور بزعم باطل، اپنے پاس سے اسی طرح خدا کا کوئی شریک تخلیق کرتا ہے، جیسے کہ خدا واقعۃً اپنے پاس سے مخلوقات تخلیق کرتا ہے، اس وجہ سے اسے ’یخلق خلقا کخلقی‘کا مصداق قرار دیا گیا ہے، لیکن چونکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کوئی چیز تخلیق کر ہی نہیں سکتا اور خدا کا کوئی شریک ہے ہی نہیں۔ لہٰذا اس مصور کی یہ تخلیق سر تا سر جھوٹ، وہم اور فریب ہوتی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ اسے خدا کا شریک گھڑنے کے عمل پر سخت وعید سنائی گئی ہے ۔

 

پانچویں نوعیت کی احادیث 

تصویر کی شناعت کی اصل علت اس کا مظہر شرک ہونا ہے، اس کی بہت واضح تصدیق ان احادیث سے بھی ہوتی ہے، جن میں قدرے تفصیل سے یہ بتایا گیا ہے کہ تصویر بنانے والوں کا اصل جرم کیا ہے اور ان کے ساتھ قیامت کے دن کیا معاملہ ہو گا، یہ احادیث درج ذیل ہیں:

عن ابی ہریرۃ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال یجمع اللّٰہ الناس یوم القیامۃ فی صعید واحد ثم یطلع علیھم رب العالمین فیقول الا یتبع کل انسان ماکانوا یعبدونہ فیمثل لصاحب الصلیب صلیبہ ولصاحب التصاویر تصاویرہ ولصاحب النار نارہ فیتبعون ما کانوا یعبدون.(ترمذی ، رقم ۲۵۵۷) 

’’ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو ایک بڑے میدان میں جمع کرے گا۔ پھر جہانوں کا پروردگار ان پر ظاہر ہو گا۔ پھر وہ کہے گا کہ آ گاہ رہو، ہر انسان کو اپنے معبود کے پیچھے چلنا ہو گا۔ پھر صلیب والے کے لیے اس کی صلیب ممثل کر دی جائے گی اور تصاویر کے پجاری کے لیے اس کی تصاویر اور آگ کے پجاری کے لیے اس کی آگ ممثل کی جائے گی۔ پھر سب لوگ اپنے اپنے معبود کے پیچھے چلیں گے۔‘‘

عن ابی سعید الخدری قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم... یجمع اللّٰہ الناس یوم القیامۃ فی صعید واحد قال فیقال من کان یعبد شیئا فلیتبعہ قال فیتبع الذین کانوا یعبدون الشمس الشمس فیتساقطون فی النار ویتبع الذین کانوا یعبدون القمر القمر فیتساقطون فی النار و یتبع الذین کانوا یعبدون الاوثان الاوثان والذین کانوا یعبدون الاصنام الاصنام فیتساقطون فی النار قال وکل من کان یعبد من دون اللّٰہ حتی یتساقطون فی النار.(مسند احمد ، رقم ۱۰۷۴۳)

’’ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ... اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو ایک بڑے میدان میں جمع کرے گا۔آپ نے فرمایا: پھر کہا جائے گا: ہر آدمی اپنے معبود کی پیروی کرے۔ چنانچہ سورج کے پجاری سورج کی پیروی کریں گے تو وہ پے در پے آگ میں جا گریں گے اور چاند کے پجاری چاند کی پیروی کریں گے اور پے در پے آگ میں جا گریں گے اور اوثان (تماثیل) کو پوجنے والے اوثان کی اور اصنام ۵؂ (تماثیل) کو پوجنے والے اصنام کی ، پس یہ پے در پے آگ میں جا گریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خدا کے سوا، ہر وہ چیز جس کی عبادت کی جاتی تھی، وہ اپنے پیرووں کو لے کر چلے گی حتیٰ کہ وہ (سب) آگ میں جا گریں گے ۔‘‘ 

 

تجزیہ 

یہ احادیث سورۂ انبیاء کی آیت ’ انکم وما تعبدون من دون اللّٰہ حصبُ جہنم، أنتم لہا واردون‘۔ (یقیناًتم اور یہ چیزیں جنھیں تم اللہ کے علاوہ پوجتے ہو ، جہنم کا ایندھن بنیں گی، تم اس جہنم میں داخل ہو کر رہو گے ) کا صریح بیان اور اس کی واضح شرح ہیں۔ 

ان میں یہ بتایا گیا ہے :

۱۔ قیامت کے دن سب لوگ ایک بڑے میدان میں جمع کیے جائیں گے۔ 

۲۔ انسانوں کے سب باطل معبود ممثل کیے جائیں گے۔ ان میں صلیب ، تصاویر ، آگ ، سورج ، چاند، اوثان اور اصنام (تماثیل ) وغیرہ سب شامل ہوں گے۔

۳۔ پھر سب انسانوں سے کہا جائے گا کہ وہ اپنے اپنے معبودوں کے پیچھے چلیں ، یہ معبود ان کو سیدھے جہنم میں لے جائیں گے۔ چنانچہ صلیب کے پجاری صلیب کی پیروی کرتے ہوئے جہنم میں جا گریں گے۔ تصاویر و تماثیل (اوثان و اصنام) کے پجاری تصاویر و تماثیل کی پیروی کرتے ہوئے جہنم میں جا گریں گے۔ آگ کے پجاری آگ کی پیروی کرتے ہوئے جہنم میں جا گریں گے۔ سورج اور چاند کے پجاری، سورج اور چاند کی پیروی کرتے ہوئے آگ میں جا گریں گے۔ آپ نے فرمایا: خدا کے سوا، ہر وہ چیز جس کی عبادت کی جاتی ہے ، وہ اپنے پیرووں سمیت آگ میں جا گرے گی۔ 

 

نتیجہ 

یہ احادیث واضح طور پر یہ بتا رہی ہیں کہ مذہب کو صرف انھی تصاویر پر اعتراض ہے جن کے بارے میں لوگوں میں الوہیت کے تصورات پائے جاتے ہیں۔ اسی لیے قیامت کے دن تصویر کو ان اشیا کی صف میں شامل کیا جائے گا، جنھیں دنیا میں الہٰ سمجھا گیا اور ان کی پرستش کی گئی ہے، جیسے کہ آفتاب و ماہتاب اور آگ وغیرہ۔ چنانچہ قیامت کے دن انسان کے مذعومہ خداؤں کی یہ تصاویر بھی دوسرے معبودان باطل کی طرح، اپنے پجاریوں کی رہنمائی کریں گی اور انھیں سیدھا دوزخ میں جا گرائیں گی۔

اس کے بعد ہم پھر ذخیرۂ احادیث کی طرف آتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شرک کے علاوہ کسی اور علت کی بنا پر بھی تصاویر کے بارے میں کچھ فرمایا ہے؟