فن مصوری کا مذہبی استعمال 

جب سے دنیا وجود میں آئی ہے، اس میں انسان نے ہمیشہ بنیادی طور پر دو مذاہب میں سے ایک کو اپنایا ہے۔ ایک مذہب توحید ہے اور دوسرا مذہب شرک۔ مذہب توحید کا اصل مسئلہ خداے واحد کی ذات والا صفات ہے۔ خدا ے و احد کو ماننے والے ۲۲؂ ابتدا ہی سے یہ بات سمجھتے تھے کہ ہم خدا کو اپنے تصور میں نہیں لا سکتے۔ انھیں یہ غلط فہمی کبھی لاحق نہیں ہوئی کہ خدا کی شبیہ بنائی جا سکتی ہے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہم حال یا ماضی کے کسی دور میں بھی موحدین کے ہاں خدا کی کوئی تصویریا اس کا کوئی مجسمہ نہیں پاتے۔ یہ موحدین حواس کی گرفت میں نہ آنے والے یعنی نہ دکھائی دینے والے اور نہ محسوس ہونے والے خدا کو مانتے تھے۔ ظاہر ہے کہ وہ جب اس کے قائل ہی نہیں تھے کہ خدا کو تصور اور حواس کی گرفت میں لانا ممکن ہے تو پھر وہ اس کی شبیہ کیسے بنا سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی نبی اور اس کے صحابہ کے ہاں خداکی کوئی تصویر نہیں ملتی، بلکہ وہاں خدا کی تصویر کا کوئی تصور بھی نہیں پایا جاتا۔

لیکن جہاں تک مذہب شرک کا تعلق ہے تو اس کے ماننے والوں کے ہاں صورت حال بالکل مختلف ہے۔ وہاں خدا کی تصویر بنانا بھی ایک بڑی عبادت ہے اور اس کی تصویر رکھنا بھی ۔ ان کے ہاں تصویر سازی اور مجسمہ سازی کو مذہبی مقام و مرتبہ حاصل ہے۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مذہب شرک کی بنیاد وہ دیوی دیوتا ہیں،جنھیں مشرکین خدا کے ساتھ شریک سمجھتے ہیں۔ یہ دیوی دیوتا ظاہر ہے کہ ذہن انسانی ہی کی تخلیق ہیں، یہ اپنا کوئی حقیقی وجود رکھتے ہی نہیں ہیں۔ چنانچہ انسان نے اپنے ذہن میں جب انھیں تخلیق کر لیا اور اپنے تصور کی آنکھ سے انھیں دیکھ لیا تو اس کے سامنے یہ بڑا اہم مسئلہ آیا کہ وہ دوسروں تک اپنے ان خداؤں کا تصور کیسے منتقل کرے، یہ خدا ظاہر ہے کہ اس کے ذہن میں اپنی پوری تصاویر کے ساتھ موجود تھے، ان کے بارے میں یہ کہنا درست نہیں تھا کہ یہ’لیس کمثلہ شئٌ‘(الشوریٰ ۴۲: ۱۱) (اس کے مثل کوئی چیز نہیں ہے) ہیں۔ چنانچہ مشرکین نے اپنے ان متصور خداؤں کی تصویریں اور مجسمے بنا کر لوگوں کو ان سے متعارف کرایا۔ یہ تصویریں اور مجسمے صرف تعارف ہی کے لیے نہ تھے، بلکہ یہ ان ’آلھۃ‘ کی یاد اور ان کے ذکر کے حوالے سے انتہائی کارآمد تھے۔ کہیں فرشتوں کو خدا مانا گیا تو ان کی خیالی تصاویر بنا دی گئیں، ارواح کو الوہیت کا درجہ دیا گیا تو ان کے لیے کچھ وجود بنائے گئے، جنھیں ان ارواح کا مہبط (اترنے کی جگہ) قرار دیا گیا۔ بعض انسانوں کو الوہیت میں شامل کیا گیا تو ان کی تصاویر اور مجسمے بنائے گئے اور انھیں ان خداؤں کے نازل ہونے کی جگہیں اور ان کے رہنے کا مقام بتایا گیا۔

مشرک قوموں کے احوال سے پتا چلتا ہے کہ فن مصوری اور مجسمہ سازی سے ان کی بہت سی اغراض وابستہ تھیں۔ سب مشرک قوموں نے اپنے افکار، اپنے احوال اور اپنی ثقافت کے مطابق مختلف اشکال پر اپنے اپنے آلہہ تخلیق کر رکھے تھے۔ مثال کے طور پر آپ یونانی تہذیب کو دیکھیں تو انھوں نے اپنے معبودوں کو انسانی صفات سے متصف ٹھیرایا تھا۔ ان کے معبودوں میں عشق و محبت اور نفرت و دشمنی ، ہر طرح کے جذبات پائے جاتے تھے۔ وہ شادیاں بھی کرتے تھے اور ان سے نسل بھی چلتی تھی۔ غرض ان کی پوری ایک الگ کائنات تھی، جو دراصل، یونان کی مشرک قوم ہی کے ذہن میں پائی جاتی تھی، لیکن اپنے انھی ذہنی تصورات کی بنا پر انھوں نے اپنے خارج میں مشرکانہ تصاویر اور مجسموں کی ایک دنیا بسا رکھی تھی۔ اس طرح کی دنیا محض یونان ہی نہیں مصر، ہندوستان اور دوسرے کئی ممالک میں بھی پائی جاتی تھی۔ 

مشرک قوموں میں یہ تصاویر اور مجسمے ہی ان کے عقائد کی طرف دعوت دیتے اور یہی ان کے تصورات کی ترویج کا بہترین ذریعہ تھے۔ لہٰذا یہ کہنا صحیح ہے کہ ان کے عقائد اور ان کے تصورات کی زندگی پوری طرح فن مصوری اور مجسمہ سازی سے وابستہ تھی۔ ان کے ہاں یہ فن کوئی معمولی فن نہیں تھا۔ وہ اسی فن کے ذریعے سے اپنے خدا ؤں کو ان کے محسوس وجود میں لاتے تھے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ مشرک قوموں میں تصویر سازی اور مجسمہ سازی ایک بڑی عبادت کا درجہ رکھتی تھی۔

اب ہم اس بات کا مطالعہ کرتے ہیں کہ مشرک قوموں میں فن مصوری سے دل چسپی کی کیا نوعیت رہی ہے ؟ 

 

مشرک قوموں کی فن مصوری سے دل چسپی

مشرک قوموں میں فن مصوری اور مجسمہ سازی جب مذہب شرک کی خدمت میں باقاعدہ سرگرم عمل ہوا تو اسے ایک مقدس فن قرار دیا گیا، کیونکہ اسی فن کے ذریعے سے وہ بڑے اہتمام اور بڑی محنت کے ساتھ، اپنے خدا کو وجود میں لایا کرتے تھے۔ وہ کسی شے یا کسی انسان کے روپ میں خدا کی تصویر یا مجسمہ بنایا کرتے اور اس میں اپنے فن سے کمال پیدا کر دیتے تھے۔ ان تصاویر اور مجسموں کو آج بھی دیکھیں تو آدمی حیران رہ جاتا ہے۔

اب سے ڈھائی ہزار سال پہلے جب بدھا کی مورت بنائی گئی تو یہ مورت ایک تاریخی شخص کی اصل صورت کا عکس نہیں تھی، بلکہ مقررہ جسمانی صفات کا ایک ہم آہنگ مجموعہ تھی۔ یہ کامل حسن، کامل علم اور کامل خیر کا ایک پیکر تھی۔ یہ آدمیت کے روپ میں الوہیت کا انسانی تصور تھا، جسے انسان نے اپنے فکر و خیال کی آخری حدوں پر کھڑے ہو کر تخلیق کیاتھا۔

مجسمہ چاہے بدھ کا ہو یا کسی اور کا، فن سنگ تراشی میں سنگ تراش کو باقاعدہ کچھ اصولوں پر عمل کرنا ہوتا تھا، یہ اصول عام تھے ۔

مشرکین کے ہاں مجسموں کی کئی قسمیں ہوتی تھیں۔ بعض مجسمے ایسے تھے، جنھیں بنانا ، بنوانا اور رکھنا ثواب کا کام تھا ۔انھیں دیکھنے سے شرک پر ایمان رکھنے والے شخص کے دل میں ایک خاص کیفیت پیدا ہوتی تھی۔ بعض مجسمے ایسے تھے جو عبادت گاہ کے اندر بطور بت کے رکھے جاتے تھے، عبادت کی تکمیل کے لیے معبد میں ان کی موجودگی ضروری تھی۔ مجسموں کی یہ دونوں اقسام بناتے ہوئے سنگ تراش کا مقصد اپنے ذاتی احساسات کو ظاہر کرنا یا اپنے کسی تصور کی تشکیل نہیں ہوتی تھی۔ وہ بس مقررہ قاعدوں کے مطابق ہی ایک بت بناتا تھا ۔یہ برا سمجھا جاتا تھا کہ وہ خود سے کسی انسان کی شکل پر بت کو بنا دے یا وہ بت بناتے ہوئے دوسری مادی اشیا کی نقل کرے۔ مجسمہ ساز کے لیے لازم تھا کہ جن دیوتاؤں کے بت بنانا اس کے پیش نظر ہوتا ،وہ ان بتوں کو ان دیوتاؤں کے دھیانوں (یعنی وہ تصور جو دیوتا کی خصوصیتوں یا علامتوں کی بنا پر قائم کیا گیا تھا) کے مطابق بنائے، کیونکہ یہی دھیان ان آکاش باسیوں (دیوتاؤں)کے لیے مناسب تھے۔ ان دیوتاؤں کی علامات و خصوصیات کتابوں میں لکھی ہوتی تھیں، مصور ان کتابوں کا مطالعہ کرتا تا کہ وہ ان کا صحیح اور کامیاب دھیان کرسکے اور پھر اس کے لیے یہ ضروری تھا کہ وہ اپنے دھیان پر بھروسا کرے، نہ کہ حواس پر یا ان چیزوں پر جو دیکھی جا سکتی ہیں۔ چنانچہ مجسمہ ساز ان کے دھیان میں محو ہو رہتا، حتیٰ کہ وہ اپنا منصوبہ پورا کر لیتا۔

بت ساز کو اپنی پاکیزگی اور تزکیے کے لیے یہ ہدایت دی جاتی تھی کہ وہ کام شروع کرنے سے پہلے روزہ رکھے، ظاہر اور باطن کو پاک کرنے لیے مقررہ عمل کرے اور رات کو یہ دعا مانگے کہ اے دیوتاؤں کے دیوتا، مجھے خواب میں یہ بتا دے کہ میں اس کام کو جس کا میں نے ارادہ کیا ہے، کیسے انجام دوں؟ چنانچہ مجسمہ سازی اپنی جگہ پر ایک پوری عبادت تھی، لیکن ظاہر ہے کہ اس عبادت کے لیے فن سنگ تراشی کا جاننا ضروری تھا۔ 

بت ساز کا منصب خوب صورت شکلیں بنانا نہیں تھا، اسی طرح اس کا موضوع انسان یا مادی چیزیں بنانا بھی نہیں تھا۔ بت تو پتھر کا کوئی ٹکڑا یا اقلیدسی شکلوں کا کوئی مجموعہ بھی ہو سکتا تھا، لازمی بات صرف یہ تھی کہ وہ اصولوں کے مطابق بالکل صحیح بنایا جائے،ورنہ اس کی پوجا نہیں کی جا سکے گی۔ اسی طرح اگر کوئی بت انسانی صورت پر بنایا جاتاتھا تو بھی بعض باتوں کا انتہائی خیال رکھا جاتا تھا۔مثلاًایسی صورت میں اس کی آنکھیں مخصوص منتر پڑھتے ہوئے بنائی جاتی تھیں، کیونکہ ان کا یہ عقیدہ تھا کہ اس کے بغیر دیوتا بت کو اپنا مسکن ہی نہیں بنائے گا اور اس بت کی پوجا بے معنی ہو جائے گی۔ 

ہم مجسمہ سازی اور تصویر سازی کے اس کام کو جو مذہبی مقصد کا حامل تھا، اگر جمالیات کے نقطۂ نظر سے جانچیں تو ہمارا مذاق، خواہ تربیت یافتہ نہ بھی ہو، تب بھی ہمیں ان تصاویر اور مجسموں میں خوبیاں نظر آئیں گی۔ 

مشرک قوموں میں روحانی تصورات کو مجسم کرنا فن مصوری اور سنگ تراشی کا کمال تھا۔ چنانچہ جب کسی صناع یا مجسمہ ساز کا موضوع دیوتا ہوتے تھے اور اس کا مقصد ان دیوتاؤں کی عظمت و قوت اور ان کے جلال و جمال کو انسان کے ذہن نشین کرنا ہوتا تو وہ حسن اور عشق کی جو کیفیت چاہتا دکھا سکتا تھا۔ 

بعض ادوار کے صناعوں اور مجسمہ سازوں نے جب دیوتاؤں کو انسان کے روپ میں ظاہر کیا، تو انھوں نے انسان کے جسم کو ہاتھ، پاؤں سر اور دھڑ کا مجموعہ سمجھ کر نہیں بنایا،بلکہ اسے دائمی حرکت، جسے ہم زندگی کہتے ہیں، اس کی علامت جان کربنایا ہے۔ انسان کو تو بے شک بڑھاپا لاحق ہو جاتا ہے، لیکن قدرت سدا جوان رہتی ہے، پس سنگ تراشوں نے دیوتاؤں کے جسم کے لیے جوانی کی کیفیت لازمی مانی۔ انھوں نے انسانی جسم کو استعارۃً انسانی حسن اور قوت سے برترحسن اور قوت کا مظہر بنا دیا۔ انسانی صورت کے بت کے جسم پر جو جلد ظاہر کی گئی، اسے اس قدر نرم اور نازک دکھایا کہ اس کے اندرزندہ وجود کی طرح گردش کرتا ہوا خون محسوس کیا جا سکے، بدن کے جوڑ اس طرح سے بنائے کہ وہ حرکت کرتی ہوئی قوتوں کی گزر گاہ معلوم ہوں۔ ان صناعوں نے مجسموں کے چہروں کو کامل علم اور کامل سکون کی مثال سمجھا، اور ان کے لیے ایسی نیم باز آنکھیں بنائیں، جو دنیا کو نہیں دیکھتیں، بلکہ شخصیت اور وجود کی گہرائیوں کو دیکھتی ہیں۔ ان کی ایسی صورتیں بنائیں، جن پر جذبات کا اثر پڑ ہی نہیں سکتا۔ 

یہ تصاویر اور مجسمے جس طرح بنائے جاتے تھے، اس سے تصویر اور مجسمہ کوئی ساکت چیز نہیں رہتا تھا، بلکہ شعاع کی طرح ہر اس شخص کی آنکھوں میں سما جاتا، جو اس کے راستے میں آ جاتا اور یہ زندگی کی ایک موج بن کر خود بہتا اور دوسروں کو بہاتا ۔ مصوروں اور مجسمہ سازوں نے اپنے کمال فن سے یہ ظاہر کیا کہ یہ مجسمے یا تصاویر پیچ و تاب کی منزل کے اس پار سکوت کے وہ حسین نمونے ہیں، جن کی پرستش انسان پر لازم ہے۔ 

ان مجسموں کو دیکھنے والا اگر خداے واحد کے تصور سے ناآشنا ہوتا تو وہ محسوس کرتا کہ شاید ان مجسموں کے صناعوں نے ایسے کامل وجود کی جھلک دیکھ لی ہے، جو ساکن بھی ہے اور متحرک بھی، جو ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، جو مشَکَّل بھی ہے اور شکل و صورت سے بالا تر بھی۔ ۲۳؂

اس سارے مطالعے سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ فن مصوری اور مجسمہ سازی مذہب شرک کی بنیادی ضروریات کوپورا کرتا تھا اور مشرکین اس فن سے گہری دل چسپی رکھتے تھے۔ اگر یہ فن کسی مشرک قوم سے چھین لیا جائے تو گویا ہم نے اس کے ایمان و عقیدہ کی جڑ کاٹ کر رکھ دی ہے۔

اب ضروری ہے کہ اس سے متعلق ہم اس سوال کی طرف بڑھیں کہ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں فن مصوری کے ترقی پانے کی کیا وجہ ہے؟

 

دوسرے مذاہب میں فن مصوری کے ترقی پانے کی وجہ 

درج بالا تفصیل سے ہمارے اس سوال کا پورا جواب بھی سامنے آ جاتا ہے کہ اسلام سے ہٹ کر اگر دیکھا جائے تو بعض دوسرے مذاہب میں فن تصویر سازی کے ترقی پانے کی کیا وجہ ہے۔ آپ دیکھیں وہ سارے مذاہب جو مشرکانہ ہیں، ان میں تصویر سازی اور مجسمہ سازی کو ایک بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ بدھ مت ، جین مت ، ہندو ازم اور آشوریا ئی ، یونانی، مصر ی تہذیبوں کے مذاہب، ان سب میں جہاں جہاں بھی شرک پایا جاتا ہے، تصویر سازی اور مجسمہ سازی کا فن ان کی تہذیب اور ان کے مذہب کا رو ح رواں ہے۔ حتیٰ کہ عیسائیت میں بھی جب شرک داخل ہوا تو پھر کلیسا ؤں کو عیسٰی علیہ السلام ، مریم علیہا السلام اور دیگر صلحا کی تصاویر ۲۴؂ ہی سے آباد کیا گیا۔ خود عرب ۲۵ ؂ کا حال یہ ہے کہ اسلام کے بالکل ابتدائی زمانے میں جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ابھی کعبہ پر غلبہ حاصل نہ ہوا تھا، بیت اللہ ۳۶۰ بتوں سے معمور تھا، ان میں سے کچھ لکڑی کے بنے ہوئے تھے، کچھ پتھر سے تراشے ہوئے تھے اور کچھ رنگ دار تصاویر تھیں۔ ہر قبیلے نے اپنا ایک بت بیت اللہ میں سجا رکھا تھا۔ 

چنانچہ یہ فن مصوری اور مجسمہ سازی ہی وہ فن ہے، جس سے مشرکین نے نہ صرف یہ کہ شرک کی دنیا آباد کی ہے، بلکہ اسی فن کو انھوں نے مذہب شرک کی بقا کا ذریعہ بنایا ہے۔ جن مذاہب میں اس فن کی یہ اہمیت تھی، ان میں یہ فن کیوں نہ ترقی پاتا اور کیوں نہ اپنے کمال کی بلندیوں کو پہنچتا۔ 

اب ہم اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ احادیث میں تصویر کے بارے میں یکسر منفی رویے کی کیا وجہ ہے؟ 

 

تصویر کے بارے میں احادیث میں منفی رویے کی وجہ 

درج بالا بحث سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ احادیث میں تصاویر کو بس مٹا دینے ہی کی بات کیوں پائی جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب میں جس دعوت کا علم بلند کیا تھا ، وہ سرتاسر توحید کی دعوت تھی۔ آپ کے ساتھ مشرکین عرب کا اصلاً ایک ہی جھگڑا تھا اور وہ یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنے بے رحمانہ طریقے سے شرک کی بیخ کنی پر کیوں کمر بستہ ہو گئے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے توحید کی حمایت اور شرک کی مخالفت میں بہت سختی دکھائی ہے۔ آپ نے اہل شرک کے ساتھ ان کے مذہب کے معاملے میں کوئی رو رعایت نہیں برتی۔ آپ نے شرک کے ہر نشان کو بس مٹا کر ہی چھوڑا۔ کہیں بھی کوئی تسمہ نہیں لگا رہنے دیا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہم احادیث میں یہ دیکھتے ہیں کہ آپ اہل شرک کے ہاں پائی جانے والی مشرکانہ تصاویر سے شدید دشمنی کا اظہار کرتے ہیں اور آپ انھیں ہر طریقے اور ہر حوالے سے بس مٹا ہی دینا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ خداے احد کے نبی کی شان یہی ہونی چاہیے۔

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ دور جدید میں تصویر کا غالب استعمال کیا ہے؟ یعنی اپنے استعمالات کے حوالے سے تصویر آج ہمارے سامنے کس روپ میں آتی ہے؟ 

 

دور جدید میں تصویر کا غالب استعمال

جہاں تک شرک کے حوالے سے تصویر کے استعمال کا تعلق ہے، تو اس کی نفی آج بھی نہیں کی جا سکتی، کیونکہ مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوموں میں آج بھی تصویر مظہر شرک کے طور پر اپنا کردار ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہے اور وہ قومیں آج بھی بڑے پیمانے پر اس سے یہ خدمت لیتی ہیں، لیکن آج کے اس دور میں ایسا نہیں ہے کہ تصویر کا بڑا استعمال بس یہی ہے، بلکہ اب تصویر کو انتقال معلومات کے لیے بہت بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ زندگی کے تقریباً ہر گوشے میں معلومات ، آرا، افکار، مسائل، افراد اور اشیا کو بہترین صورت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے (Communication)کا کام آج تصویر ہی کے ذریعے سے لیا جاتا ہے۔ یہ چیز پہلے ممکن نہ تھی اور آج یہ اس وجہ سے ممکن ہو گئی ہے کہ اب تصویر صرف ساکت نہیں، متحرک شکل میں، بہت مشکل سے نہیں، بڑی آسانی کے ساتھ، چھوٹے پیمانے پر نہیں،بہت بڑے پیمانے پر اور کسی کم تر شکل میں نہیں، بہت بہتر شکل میں وجود میں لائی جا سکتی ہے۔ پہلے یہ ممکن نہیں تھا اور پھر یہی نہیں، بلکہ آج تصویر کو ایک جگہ بیٹھے ہوئے ، ایک لمحے کے اندر کہیں سے کہیں بھیج دینا بھی انسان کے اختیار میں ہے، صرف ایک آدھ تصویر کو نہیں،بلکہ ایک پورے علاقے اور پورے ماحول کو تصویر کے روپ میں اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پر رکھ دیا جا سکتا ہے۔ 

آج ایک استاذ مشرق بعید کے کسی ملک میں ایک کلاس روم میں کھڑا طلبہ کو پڑھاتا ہے اور مغرب کے بعید علاقوں میں گھر بیٹھے ہوئے طلبہ اس سے براہ راست استفادہ کرتے ہیں۔ یہ تصویر ہی ہے جس نے پوری دنیا کو اس کی بہترین صورت میں ایک گلوبل ویلج بنا دیا ہے۔ اگر تصویر کا یہ وجود نہ ہوتا، جو آج ہے تو بے شک تیز تر ذرائع مواصلات کی مدد سے انسان دور و نزدیک کی بہت سی خبریں تو ضرور لے آتا، لیکن اس کے باوجود اس کی واقفیت اور اس کی معلومات بہت ناقص اور بہت ادھوری ہوتیں۔ وہ جو کچھ سنتا، اس کی تصویر بس اپنے تصور ہی میں بناتا۔ یہ تصوراتی تصویر تو وہ ضرور بنا لیتا، کیونکہ اس کے بنانے پر انسان فطری طور پر مجبور ہے، لیکن اس کی بنائی ہوئی یہ ذہنی تصویر لازماً ہر دوسرے شخص کے تصور سے مختلف ہوتی۔ نتیجۃً وہ بہت کچھ جان کر بھی یہی کہتا کہ ’لیس الخبرکالمعاینۃ‘ (سنی سنائی باتیں، آنکھوں دیکھی جیسی نہیں ہوتیں)، لیکن اس ایک تصویر کی وجہ سے اب خبر نے عین معاینہ کا روپ دھار لیا ہے۔

یہ تصویر کا وہ ظہور اور وہ استعمال ہے، جس سے کسی کوبھی انکار نہیں۔ انسان کی شناخت کا معاملہ ہو تو تصویر چاہیے۔ طلب علم کا مسئلہ درپیش ہو تو بہترابلاغ اس کے بغیر ممکن نہیں۔ طب کی تعلیم میں اس کا کردار تو ہمیشہ سے مسلم ہی تھا، لیکن اب یہ ایکس ریز اور الٹرا ساؤنڈ جو انسان کے داخلی جسم کی تصویر اتارتے ہیں، ان کے وجود نے انسان کی زندگی میں تصویر کے کردار کو ہمہ گیر کر دیا ہے۔ معاشرے کے دشمنوں ، چوروں، ڈاکووں اور قاتلوں کو قابومیں لانے کے لیے ان کی تصاویر معاشرے کے لیے آنکھ کی حیثیت رکھتی ہیں۔

مختلف تہذیبیں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتی ہیں۔ آج اس میں تصویر اسلحے کا کردار ادا کرتی ہے۔ اب اس کا استعمال اسلحے کا استعمال ہے، اسے حرام کر دیجیے، گویا آپ نے اسلحے کو اپنے اوپر حرام کر لیا۔ 

تلوار سے مومن بھی کام لیتا ہے اور کافر بھی۔ بے شک شیطان نے بھی تصویر سے بھرپور خدمت لی ہے۔ جنسی بے راہ روی پھیلانے میں آج تصویر کا بے پناہ کردار ہے، گویا وہ اس کام پر مسلط کر دی گئی ہے، لیکن آپ غور کریں، اس کا یہ بھرپور کردار بالکل اسی طرح سے ہے، جیسے سرکشی پیدا کرنے میں دولت اور صحت کا کردار ہوتا ہے۔ جیسے شیطان وہاں خدا کی ان نعمتوں سے کام لیتا ہے، ویسا ہی اس نے تصویر سے بھی کام لیا ہے۔

اس ساری بحث سے ہماری مراد ہرگز یہ نہیں ہے کہ تصویر کا بہت فائدہ ہے، یہ حرام بھی ہے تو اسے حلال کر لو، بلکہ اس سے ہمیں یہ کہنا ہے کہ تصویر کے اس روپ اور اس کے اس وافر استعمال نے خود تصویر کی جو تصویر ہمارے ذہنوں میں بنائی ہے، وہ اس سے بالکل مختلف ہے جو مثلاً ہر طرف مشرکانہ تصاویر کو دیکھ کر انسان کے ذہن میں بنا کرتی تھی۔ چنانچہ اس صورت حال کے نتیجے میں اس کے بارے میں انسان کا تصور بالکل بدل گیا ہے،دور جدید میں تصویر اصلاً، مظہر شرک کے روپ میں ہمارے سامنے نہیں آتی ،بلکہ انسان کی دنیا میں اپنی بے پناہ افادیت کی مختلف صورتوں کو لیے ہوئے آتی ہے۔

اس کے بعد اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ تصویر کے حوالے سے دین اسلام کا موقف کیا ہے؟

 

تصویر کے حوالے سے دین کا موقف 

تصویر کے بارے میں قرآن مجید کی آیات اورا حادیث نبوی کی رہنمائی سے سابقہ صفحات میں یہ بات تو کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ مذہب کا تصویر و تمثال پر اعتراض صرف اور صرف کسی دینی یا اخلاقی خرابی ہی کی بنا پر ہے، ورنہ اسے ان چیزوں کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہنا۔ چنانچہ نقاشی ، مصوری، فوٹوگرافی اور مجسمہ سازی میں سے جو چیز بھی کسی دینی یا اخلاقی خرابی کا باعث بنے گی، وہ اس خاص حوالے سے ممنوع قرار پائے گی۔ البتہ ایک اور بات بھی ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ کسی چیز کے بارے میں یہ خدشہ ہو کہ وہ کسی خرابی کی طرف لے جانے کا ذریعہ بن سکتی ہے، جیسے کہ کسی خاص علاقے اور کسی خاص دور میں یہ مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے کہ مجسمہ سازی شرک کی طرف رغبت کا ذریعہ بننے لگے تو اس صورت میں مجسمہ سازی کو ’سداً للذریعۃ‘ ممنوع قرار دے دیا جائے گا، لیکن ظاہر ہے کہ یہ ممانعت بس اس خاص علاقے میں، اس خاص دور تک اور اس خاص خرابی کی حد تک ہی ہو گی۔ 

بعض علما کا خیال ہے کہ آج بھی مجسمہ اور شرک ایسے ہی ہیں جیسے جسم اور روح، ہمیں اس سے اتفاق نہیں ہے، لیکن اگر اسے درست مانا جائے تو پھر ظاہر ہے کہ مجسمہ سازی ہمیشہ کے لیے ممنوع ہو گی۔ 

اسی طرح اگر کسی موقع پر کسی خاص نوعیت کی تصاویر بجائے خود درست ہونے کے باوجود کسی اخلاقی خرابی کا باعث بننے لگ جاتی ہیں تو انھیں بھی ’سداً  للذریعۃٗ ممنوع قرار دیا جائے گا۔

لیکن فی نفسہٖ تصاویر کے بارے میں کسی اعتراض کی گنجایش کیونکر ہو سکتی ہے جبکہ خدا اور اس کے رسول نے انھیں جائز رکھا ہو۔مسلمانوں کو اسی چیز پر اعتراض ہوتا ہے، جس پر اللہ اور اس کے رسول کو اعتراض ہو۔ چنانچہ نقاشی ،مصوری، فوٹوگرافی اور مجسمہ سازی میں سے کوئی چیز بھی فی نفسہٖ ممنوع نہیں ہے۔ البتہ اگر ان میں خرابی کا کوئی عنصر شامل ہو جائے تو پھر الگ بات ہے۔ پھر مذہب اس کا سنجیدگی سے نوٹس لے گا۔

اب ہم اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ کیا مقدس افراد یا اشیا کی تصاویر بنانا جائز ہے ؟

 

مقدس افراد یا اشیا کی تصاویر 

مقدس افراد یا اشیا کی تصاویربنانے کے بارے میں قرآن و حدیث میں صریح الفاظ میں کوئی ممانعت نہیں پائی جاتی۔ لہٰذا اصولاً ایسی تصاویر کی حرمت کا فتویٰ نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ ان کے اندر پایا جانے والا تقدس، چونکہ ان تصاویر کے مظہر شرک بننے کا باعث ہو سکتا ہے، لہٰذا ہماری رائے میں عقیدت کے جذبے سے مقدس افراد یا اشیا کی تصاویر بنانا مکروہ کے درجے میں ہے۔ چنانچہ اس رائے کے مطابق عقیدت کے جذبے سے مثلاً بیت اللہ، مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی صالح شخص کی تصویر بنانا دینی اعتبار سے مکروہ عمل ہو گا۔ البتہ عقیدت کے جذبے سے ہٹ کر کسی ضرورت کے تحت ان کی تصاویر بنانا،مثلاً کسی آرکیٹیکٹ کا تعمیر کی خاطر بیت اللہ کا نقشہ بنانا، بالکل درست عمل ہو گا۔

اب ہم اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ کیا کوئی مسلمان فن مصوری کو اختیار کر سکتا ہے؟

 

مسلمان کے لیے فن مصوری 

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ کوئی مسلمان مصور ی کا پیشہ اختیار کر سکتا ہے یا نہیں؟ تو اس سوال کا جواب بالکل سادہ ہے، یعنی یہ کہ وہ فن جس پر شرعاً کوئی اعتراض نہیں ، جس سے سلیمان علیہ السلام نے فائدہ اٹھایا اور جس کا ذکر کرتے ہوئے خدا کی آخری کتاب قرآن مجید نہ صرف یہ کہ کوئی تنقید نہیں کرتی، بلکہ سلیمان علیہ السلام کے اس فن سے فائدہ اٹھانے کو اللہ کا فضل کہتی اور اس پر انھیں خدا کا شکر بجا لانے کا حکم دیتی ہے، وہ فن ناجائز کیسے ہو سکتا ہے۔ بے شک ایسا فن اپنے اندر وہ شرافت رکھتا ہے کہ اسے کوئی بھی مسلمان اختیار کر سکتا ہے۔ البتہ اس سے وہ کیا کام لیتا ہے، یہ وہ چیز ہے جو اس کی آخرت پر اثر انداز ہو گی۔ اس سے اگر وہ شیطان کے مقاصد پورے کرنے کا کام لیتا ہے تو یہ عمل اسے شیطان کے ساتھیوں میں شامل کرنے کا باعث ہو گا اور شیطان کے ساتھ اس کے حشر کا ذریعہ بنے گا اور اگر وہ اس سے خیر کے کام لیتا ہے تو یہ چیز اس کے لیے اخروی اجر کا باعث ہو گی۔ . ھذا ما عندی والعلم عند اللّٰہ۔


 

۱۶؂ المصنف عبدالرزاق، رقم ۱۹۴۶۹۔

۱۷؂ جیسے نوح علیہ السلام کی قوم میں ود دیوتا کو مرد کی صورت پر، سواع کو عورت کی صورت پر، یغوث کو شیر کی صورت پر، یعوق کو گھوڑے کی صورت پر اور نسر کو گدھ کی صورت پر بنایا گیا تھا۔

۱۸؂ اس کا یہی پہلو اس کا اصلی اور بنیادی پہلو ہے۔

۱۹؂ ’الا بذکر اللّٰہ تطمئن القلوب‘ (آگاہ رہو، دل اللہ کی یاد ہی سے اطمینان پاتے ہیں)۔ (الرعد۱۳: ۲۸)

۲۰؂ ’ونفس و ما سوٰھا، فالھمھا فجورھا و تقوٰھا، قد افلح من زکّٰھا، وقد خاب من دسّٰہا‘ (اور گواہی دیتا ہے نفس، اور جیسا اسے سنوارا۔ پھر اس کی نیکی اور بدی اسے سجھا دی کہ مراد کو پہنچ گیا وہ، جس نے اس کو پاک کیا، اور نامراد ہوا وہ، جس نے اسے آلودہ کیا)۔ (الشمس۹۱: ۷۔ ۱۰)

۲۱؂ تاریخ تمدن ہند سے ماخوذ۔

۲۲؂ یعنی خدا کے سچے رسول اور ان کے ساتھی۔

۲۳؂ تاریخ تمدن ہند سے ماخوذ۔

۲۴؂ سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ اور ام سلمہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک کنیسہ کا ذکر کیا، جسے انھوں نے حبشہ میں دیکھا تھا، اس میں تصاویر تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان (عیسائیوں) میں سے جب کوئی نیک آدمی مر جاتا تو یہ اس کی قبر پر مسجد بناتے اور اس میں یہ تصاویر بنا دیتے تھے۔

(مسلم، رقم ۵۲۸)

۲۵؂ نبی صلی اللہ علیہ وسلم (فتح مکہ کے روز) بیت اللہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اس میں ابراہیم علیہ السلام، اسمٰعیل علیہ السلام اور مریم علیہا السلام کے مجسمے دیکھے۔ (بخاری، رقم ۳۳۵۱)