تصویر کے حوالے سے چند اہم سوالات

۱۔ فطرت انسانی میں فنون لطیفہ کی کیا بنیاد ہے؟

۲۔ فنون لطیفہ کیسے وجود میں آئے اور ان کا ظہور کن شکلوں میں ہوا؟

۳۔ فنون لطیفہ کے بارے میں اسلام کا رویہ کیا ہے؟ کیا وہ ان کو بس گناہ اور شر ہی قرار دیتا ہے؟ 

۴۔ انسان کے کن فطری جذبوں نے فن مصوری کو وجود بخشا ہے؟

۵۔ تاریخ کے آئینے میں ہم فن مصوری کا کیا استعمال دیکھتے ہیں؟

۶۔ دنیا میں مذہب کے حوالے سے ہم فن مصوری کا کیا استعمال دیکھتے ہیں؟

۷۔ مشرک قوموں میں فن مصوری سے دل چسپی کی کیا نوعیت رہی ہے ؟ 

۸۔ اسلام کے سوا دوسرے مذاہب میں فن مصوری کے ترقی پانے کی کیا وجہ ہے؟

۹۔ احادیث میں تصویر کے بارے میں یکسر منفی رویے کی کیا وجہ ہے؟

۱۰۔ دور جدید میں تصویر کا غالب استعمال کیا ہے؟

۱۱۔ تصویر کے حوالے سے دین اسلام کا موقف کیا ہے؟

۱۲۔ کیا مقدس افراد یا اشیا کی تصاویر بنانا جائز ہے ؟

۱۳۔ کیا کوئی مسلمان فن مصوری کو اختیار کر سکتا ہے؟

ان سوالات پر اب ہم ترتیب کے ساتھ بحث کرتے ہیں ۔

فطرت انسانی میں فنون لطیفہ کی کیا بنیاد ہے، اس سوال کا تفصیلی جواب جاننے کے لیے یہ ضروری ہے کہ پہلے خاص اسی حوالے سے ہم انسان کی فطرت، اس کے وجود کی ساخت اور اس کے تقاضوں کو سمجھیں۔

انسان کی فطرت 

انسان اپنی فطرت میں ایک معاشرتی وجود ہے۔ خدا نے اسے اس دنیا میں پیدا ہی اس طرح سے کیا ہے کہ وہ لازماً، ایک معاشرت وجود میں لائے۔ انسانی معاشرت دراصل، انسان کے اپنے وجود کے تقاضوں کی نمود ہے۔

انسان کے وجود کی ساخت 

انسان اپنے ظاہری وجود کے ساتھ ساتھ ایک باطنی وجود بھی رکھتا ہے۔ اس کا وہ جسمانی وجود جسے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں، وہ اس کا ظاہری وجود ہے۔ اس وجود کے اندر ایک شخصیت یا ایک ذات پائی جاتی ہے، جس کا مشاہدہ ہم آنکھوں سے تو نہیں کر سکتے، لیکن ہم وجدان کی یقینی شہادت سے اسے جانتے اور مانتے ہیں۔ یہ اس کا باطنی وجود ہے۔ قرآن مجید انسان کے اس باطنی وجود کے لیے نفس کا لفظ استعمال کرتا ہے۔ چنانچہ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انسان کا ایک جسمانی وجود ہے اور ایک اس کا نفسی وجود۔

انسان کے وجود کے تقاضے

انسان کا جسمانی اور نفسی، دونوں وجود اپنے اپنے تقاضے رکھتے ہیں۔ مثلاً ہوا، پانی ، غذا اور آرام انسان کے جسمانی وجود کے تقاضے ہیں، اسی طرح درجۂ حرارت اورروشنی کے حوالے سے ایک مناسب ماحول بھی اس کے جسمانی وجود ہی کا تقاضا ہے۔ یہ تقاضے اگر پورے نہ ہوں تو انسان کے جسمانی وجود کی بقا ممکن نہیں رہتی۔ انسان کے باطنی یعنی اس کے نفسی وجود کو دیکھیے، یہ اس کے جسمانی وجود کی نسبت نہ صرف یہ کہ زیادہ لطیف ہے، بلکہ یہ اپنے کئی مختلف پہلو رکھتا ہے۔ اس نفسی وجود ہی کا ایک پہلو وہ ہے، جسے انسان کا روحانی وجود کہا جاتا ہے، ۱۸؂ اسی کا ایک اور پہلو وہ ہے، جسے انسان کا اخلاقی وجود کہا جاتا ہے، اس اخلاقی وجود ہی کو ہم ضمیر کہتے ہیں اور اس کا ایک پہلو وہ بھی ہے ، جسے ہم انسان کا ذہنی وجود کہتے ہیں۔ یہ روحانی، اخلاقی اور ذہنی وجود ، دراصل اس کے نفسی وجود ہی کے مختلف پہلو ہیں، یہ اس سے الگ کوئی چیز نہیں ہیں۔

نفسی وجود کے یہ سب پہلو اپنے اپنے تقاضے رکھتے ہیں۔ مثلاً انسان کے نفسی وجود کا وہ پہلو جسے روحانی وجود سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس کا تقاضا خدا کی عبادت اور اس کی یاد ہے ۱۹؂ اور اس کے نفسی وجود کا وہ پہلو جسے اس کا اخلاقی وجود یا ضمیر کہا جاتا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اخلاقی زندگی گزارے،۲۰؂ یعنی اپنی زندگی میں وہ اخلاقی اصولوں کی پاس داری کرے، اسی طرح اس کے نفسی وجود کا وہ پہلو جسے ہم نے اس کا ذہنی وجود قرار دیا ہے، اس کا ایک اہم تقاضا طبعی اور فطری ذوق کی تسکین ہے۔ انسان کی طبیعت اور اس کی فطرت کوئی بسیط چیز نہیں۔ یہ اپنی جگہ پر کئی پہلو رکھتی ہے۔ چنانچہ ان سب پہلووں میں انسان اپنے ذوق کی تسکین چاہتا ہے۔ انسان کے جسم کا ایک تقاضا یہ ہے کہ اسے پانی اور خوراک چاہیے، لیکن اس کا یہ طبعی ذوق اس سے یہ کہتا ہے کہ پانی خوش گوار اور خوراک خوش ذائقہ ہونی چاہیے۔ چنانچہ یہ اس کا طبعی ذوق ہی ہے، جس کی وجہ سے وہ پھول میں رنگ اور خوشبو چاہتا، نظارے میں حسن و جمال کا طلب گار ہوتا اور آواز میں سر اور لَے کی خواہش رکھتا ہے اور اپنے اسی ذوق کی وجہ سے وہ کلام میں حکمت و دانائی کو پسند کرتا ہے۔ اس کا یہ ذوق کوئی معمولی چیز نہیں، یہ خدا کا تخلیق کردہ ہے اور دیکھیے، خدا اپنی تخلیق کا کتنا خیال رکھتا ہے۔ اس نے انسان کو بسانے کے لیے جو دنیا بنائی ہے، کیسی خوب صورت بنائی ہے۔ طبیعت کے اسی ذوق کی خاطر یہاں رنگ اور خوشبو بھی ہے، شفق اور آب جو بھی ،چاند اور تارے بھی ، پھول اور شبنم بھی، نغمہ اور صبا بھی، دھنک اور گھٹا بھی۔ خدا اگر چاہتا تو ان میں سے کچھ بھی نہ بناتا، لیکن اس نے یہ سب کچھ بنایا ہے۔ آگے بڑھیے، اس نے انسان کے جسم کا تقاضا پورا کرنے کے لیے صرف وہ غذا ہی پیدا نہیں کی، جس میں حیات بخش جوہر موجود ہوں، بلکہ دنیا میں طرح طرح کی خوش ذائقہ غذاؤں کے انبار لگا دیے۔ جسم کی زندگی کے لیے ہوا ضروری تھی، لیکن اس نے صرف ہوا ہی پیدا نہیں کی، صبا اور باد چمن کو بھی وجود بخشا ۔ دوسرے کی بات سننے کے لیے قوت سماعت دی اور سننے کے لیے کیا کچھ پیدا کر دیا۔ بلبل کا نغمہ، کوئل کی کوک، آبشاروں کا جل ترنگ اور بیابان کی خاموشی۔ کس لیے ؟ اسی طبعی ذوق کی تسکین کے لیے۔ خدا نے آواز کو سر اور لے کیوں عطا کی، پھول کو رنگ اور خوشبو کس لیے دی؟ ابلتے چشموں اور آب رواں کو منظر کیوں ٹھہرایا، چمن، گھٹا اور برستے پانیوں کو نظارہ کیوں بنایا، اسی ذوق کی تسکین کے لیے۔ علم انسان کی ایک اہم ضرورت ہے، لیکن یہ ایک خشک چیز ہے، اس کے لیے اسلوب بیان کی چاشنی پیدا کی۔ تعمیل حکم نفس پر گراں تھی، اسے حکمت کی روح سے مرغوب بنایا۔ دنیا میں یہ سب کس لیے کیا گیا ، اسی طبعی ذوق کی تسکین کے لیے ، جو ہمارے نفسی وجود کے ذہنی پہلو کا ایک اہم تقاضا ہے۔ خدا ہم سے جس جنت کا وعدہ کرتا ہے، اس کی بات جب وہ کرتا ہے، انسان کے اسی ذوق کو انگیخت کرتا اور اس کے رخش نفس کو یہیں سے مہمیز کرتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

’’متقیوں سے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس کے اوصاف یہ ہیں، اس کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اس کے باغوں کے پھل کبھی ختم نہ ہوں گے، اس کے درختوں کے سایے ہمیشہ رہیں گے... اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جس میں بو نہ ہو گی، ایسے دودھ کی نہریں ہیں، جس کا مزہ نہیں بدلے گا، اس میں ایسی شراب کی نہریں ہیں ،جو پینے والوں کے لیے سراسر لذت ہے، اس میں ایسے شہد کی نہریں ہیں، جو حلاوت ہی حلاوت ہے، اور ان کے لیے وہاں سبھی پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت ہوگی۔‘‘ (الرعد۱۳: ۳۵۔ محمد۴۷: ۱۵)

ان آیات میں انسان کے کس ذوق کی تسکین پیش نظر ہے، اسی طبعی ذوق کی تسکین جو ہمارے نفس کے ذہنی پہلو کا تقاضا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ہمیں یہ بتایا کہ عورت اور خوشبو، میرے نزدیک دنیا کی پسندیدہ چیزوں میں سے ہیں تو آپ نے انھیں انسان کے کس ذوق کی تسکین کا سامان قرار دیا۔ اسی طبعی ذوق کی تسکین کا۔

خدا نے سورج اور چاند بنائے،انسان نے چراغ اور آئینہ بنایا۔ خدا نے سبزہ اور درخت بنائے، انسان نے کھیت اور باغ بنائے ،خدا نے پہاڑ اور وادیاں بنائیں، انسان نے عمارتیں اور بستیاں بسائیں، خدا نے کوئل اور عندلیب پیدا کیں، انسان نے سارنگی اور نَے بنائیں ، خدا نے شے اور منظر بنایا، انسان نے تمثال اور تصویر بنائی۔ خدا نے اپنی کائنات میں انسان کے جس ذوق کو انگیخت کیا ، انسان نے اس کی تسکین کے لیے، جو فنون ایجاد کیے، دنیا انھیں فنون لطیفہ کے نام سے جانتی ہے۔ فن مصوری انھی میں سے ایک ہے۔ گویا یہ فن بھی انسان کے خداداد طبعی ذوق ہی سے وجود پذیر ہوا ہے۔ 

اب ہم اس سوال پر غور کرتے ہیں کہ فنون لطیفہ کیسے وجود میں آئے اور ان کا ظہور کن شکلوں میں ہوا؟

 

فنون لطیفہ   –انسان کے طبعی ذوق کا ظہور 

انسان کی طبیعت میں شروع ہی سے حسن کی طلب اور تخلیق کی امنگ پائی جاتی تھی۔ چنانچہ اس نے اپنی ضرورت کے لیے جو کچھ بھی بنایا خوب صورت اور موزوں بنایا اور پھر یہی نہیں، بلکہ اسے نقش و نگار سے آراستہ بھی کیا۔ انسان کا یہ طبعی ذوق آہستہ آہستہ آگے بڑھا اور باقاعدہ کچھ فنون کو جنم دینے کا باعث بن گیا۔

ایک دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو یہ فنون لطیفہ دراصل، صنعتوں کی وہ اعلیٰ شکلیں ہیں، جنھیں انسان کے ذوق، محنت اور اولوالعزمی نے صنعتوں سے الگ اور ان سے برتر مرتبہ دے دیا ہے۔ صنعتوں کے وجود میں آنے کا مقصد تو انسان کی مادی ضروریات پوری کرنا اور اسے سہولت فراہم کرنا تھا جبکہ فنون لطیفہ کے وجود میں آنے کا مقصد انسان کے طبعی ذوق کی تسکین تھی۔ یہ فنون انسان کے جذبات، احساسات اور اس کی واردات قلبی کو ایسی زبان اور ایسے رنگ میں بیان کرنے کا ذریعہ تھے، جو اس کے اس طبعی ذوق کی تسکین کا باعث تھا۔ شاعر نے موزوں الفاظ کے ذریعے سے اپنی کیفیت بیان کی، موسیقار نے دل کی بات ساز اور آواز کے ذریعے سے کہی، مصور نے رنگ اور برش کی زبان میں بات کی۔ سنگ تراش نے پتھر کو قوسیں، نوک اور زاویے دے کر اپنا ما فی الضمیر بیان کیا۔ بیان اور اظہار کا یہ اسلوب انسان کو بہت بھایا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ فن انسان کے ہاں بہت مقبولیت حاصل کر گئے۔ 

فنون لطیفہ کا ذوق اور صلاحیت انسان میں کسی تہذیب کی پیدا کردہ نہیں تھی،بلکہ یہ اسے قدرت کی جانب سے ملی تھی اور اس کی سرشت میں موجود تھی ۔ چنانچہ وہ جب اسے بروے کار لایا، تو اس نے اپنے اس طبعی ذوق کی تسکین کے لیے حسن کا جو معیار قائم کیا ،وہ بھی اپنی طرف سے نہیں تھا، بلکہ قدرت ہی کا طے کردہ معیار حسن تھا۔ اس حسن کا مشاہدہ اس نے قدرت کے نمونوں میں کیا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس نے عظمت کے لیے پہاڑوں کو معیار بنایا، وسعت کے لیے میدانوں کو، سجاوٹ کے لیے پھول اور پتیوں کو۔ کیوں؟ اس لیے کہ ان پہاڑوں ، میدانوں، پھولوں اور پتیوں نے ہی اس کے طبعی ذوق کے شعلے کو پہلے پہل بھڑکایا تھا۔ چنانچہ یہی اس کے لیے معیار حسن بھی ٹھیرے۔یہ ان فنون کی ابتدا تھی، اس کے بعد انسان کی محنت، لگن اور اولوالعزمی نے اسے ان فنون میں کمال پر پہنچا دیا۔ ۲۱؂

ان فنون لطیفہ میں شاعری، موسیقی، مصوری، سنگ تراشی اور فن تعمیرات کو شامل کیا جاتا ہے۔ سادہ تر صورت میں دیکھیں تو یہ سب فنون محض انسان کے فطری ذوق کا اظہار اور اس کی تسکین تھے۔

اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ فنون لطیفہ کے بارے میں اسلام کا کیا رویہ ہے؟ کیا وہ ان کو فی نفسہٖ گناہ اور شر قرار دیتا ہے؟ 

 

فنون لطیفہ کے بارے میں اسلام کا رویہ 

قرآن مجید اور احادیث کے پورے ذخیرے میں ایسی کوئی بات بھی ہمیں نہیں ملتی، جس سے یہ معلوم ہوکہ خدا اور اس کے رسول نے اس طبعی ذوق کے اظہار اور اس کی تسکین سے انسان کو روکا ہے۔ مذہب انسان کو نہ بلبل کا نغمہ سننے سے روکتا ہے، نہ کوئل کی کوک اس کے لیے حرام ٹھیراتا ہے، نہ دف بجانے کو ممنوع قرار دیتا ہے، نہ انسانی کلام میں قافیے، ردیف اور اوزان کی پابندی کرنے پر اسے کوئی اعتراض ہے ، نہ اسے اس پر کچھ کہنا ہے کہ انسان اپنے ہاتھ میں رنگ اور برش کیوں پکڑتا ہے ، کسی دیوار پر کوئی خط کیوں کھینچتا ہے اورکسی خیال یا شے کو تصویری وجود کیوں دیتا ہے یا کسی پتھر کو وہ تیشے سے کیوں تراشتا ہے۔ ان میں سے کوئی مسئلہ بھی مذہب کا مسئلہ نہیں ہے۔اگر یہ مذہب کے مسائل ہوتے اور یہ سب کچھ غلط ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نہ دف بجانے کی اجازت دیتے، نہ آپ کے حضور میں شعر پڑھے جاتے، نہ داؤد علیہ السلام پہاڑوں کے دامن میں خدا کے لیے نغمہ زن ہوتے، نہ سلیمان علیہ السلام جنات سے محاریب و تماثیل بنواتے اور نہ وہ شان دار ہیکل ہی تعمیر کراتے، جسے دیکھ کر ملکۂ بلقیس دنگ رہ گئیں اور جس پر خدا نے انھیں اپنا شکر ادا کرنے کو کہا۔

مذہب خداے حکیم و جمیل کی بات ہے۔ اسے نہ حسین پھول سے نفرت ہو سکتی ہے، نہ خوب صورت شاعری سے، نہ دل کش تمثال سے، نہ آواز دف سے، نہ صداے نےَ سے۔

فنون لطیفہ کے حوالے سے جب ہم مذہب کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ مذہب فنون لطیفہ کو فنون قرار دیتے ہوئے ، ان کے بارے میں ، بس ان کے استعمال ہی کے حوالے سے حکم لگاتا ہے۔

فنون لطیفہ کے استعمال کی تین صورتیں ہو سکتی ہیں۔

پہلی یہ کہ انسان ان فنون کوخدا کے لیے خاص کر دے، اس صورت میں یہ عبادت بن جاتے ہیں ۔ آپ دیکھیے داؤد علیہ السلام جب دامن کوہ میں بیٹھے خدا کے نغمے الاپتے تھے تو انسان کا وہی طبعی ذوق، جو ان فنون لطیفہ کی شکل میں اپنا ظہور کرتا ہے، وہ خدا کی عبادت میں محو ہوتا تھا۔ چنانچہ خدا نے پہاڑوں اور پرندوں کو کہہ دیا تھا کہ میرے اس بندے کی لَے میں لَے ملاؤ۔ نغمات داؤدکیا تھے،یہ خدا کی حمد اور اس سے کی گئی مناجات پر مشتمل گیت تھے۔ ان گیتوں میں حمد اور مناجات ہونے کے ساتھ اہم خصوصیت جو پائی جاتی تھی،وہ لَے اورلحن ہی کی خصوصیت تھی اور اسی کی بنا پراللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو یہ حکم دیا تھا: ’یا جبال اوبی معہ والطیر‘(سبا ۳۴:۱۰) (اے پہاڑو اور اے پرندو ،تم بھی داؤد کے ساتھ (لَے میں لَے ملاتے ہوئے ) تسبیح کرو)۔ داؤد علیہ السلام کا کمال اور ان کی خوبی یہ تھی کہ انھوں نے خدا کی اس خاص عطا کو خدا ہی کے لیے خاص کر رکھا تھا۔

تصاویر و تماثیل کے حوالے سے آپ ہیکل سلیمانی میں موجود تماثیل کو دیکھیے۔ قرآن مجید میں ان تماثیل کا ذکر بہت مثبت انداز میں کیا گیا ہے ۔ وہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ یہ تماثیل اللہ کے نبی سلیمان علیہ السلام کے حکم سے بنائی گئی تھیں۔ خوب صورت، حیران کن اور پرشکوہ عمارات کے حوالے سے آپ اسی ہیکل سلیمانی کو دیکھیے ، جس کے ایک حصے میں پانی کے اوپر شیشے کا فرش بچھایا گیا تھا۔ یہ سب کام خدا کے نبی نے کرائے تھے۔ قرآن مجید میں جہاں انھیں بیان کیا گیا ہے، وہاں اس کے ساتھ یہ حکم بھی موجود ہے کہ ’اعملوا اٰل داؤد شکراً، وقلیل من عبادی الشکور‘ (سبا ۳۴: ۱۳) ( اے آل داؤد، شکر گزاری کے ساتھ عمل کرو ، میرے بندوں میں سے کم ہی شکر گزار ہیں) ۔ یہ الفاظ اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ آل داؤد کا یہ سب کچھ بنوانا، خدا کے فضل سے تھا ، چنانچہ اس پر اللہ نے انھیں اپنا شکر بجا لانے کا حکم دیا ۔

عبادت کے حوالے سے فنون لطیفہ کے ایک اور استعمال کو دیکھیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’زینوا القرآن باصواتکم‘ ( بخاری، کتاب التوحید ، باب قول النبی الماہر بالقرآن)، (قرآن کو اپنی آوازوں (کی خوب صورتی)کے ساتھ مزین کرو)،یعنی خدا کے کلام کو خدا ہی کی دی ہوئی خوب صورت آوازوں سے آراستہ کرو اور کانوں کے لیے پرکشش بناؤ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات یقیناًاسی لیے کہی ہے کہ انھیں اور ان کے رب کو خوب صورت آواز اچھی لگتی ہے۔

فنون لطیفہ کے استعمال کی دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ انسان ان کو محض حظ اٹھانے کے لیے استعمال کرے۔ دین میں فنون لطیفہ کے استعمال کی یہ صورت مباح ہے، جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ عید وغیرہ کے مواقع پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے گھر میں دف بجائی گئی تو آپ نے نہ صرف یہ کہ اس سے منع نہیں کیا، بلکہ جب ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان دف بجانے والی بچیوں کو منع کرنا چاہا تو آپ نے انھیں منع کرنے سے روک دیا۔ 

فنون لطیفہ کے استعمال کی تیسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ انسان انھیں کسی جرم اور شر کے لیے استعمال کرے یا ان سے شیطان کی اطاعت اور اس کی خدمت پیش نظر ہو۔ ظاہر ہے، دین فنون لطیفہ کے اس استعمال کو بالکل گوارا نہیں کر سکتا۔

چنانچہ جب تصاویر و تماثیل ایمان اور اخلاق کی بربادی کا ذریعہ بن جائیں، آلات موسیقی شیطان کی خدمت کا وسیلہ قرار پائیں، عمارات کی شان و شوکت طبیعت کی سرکشی کا باعث بنے،شعر و شاعری حق اور باطل کی تمیز کیے بغیر ہر وادی میں سرگردانی کی راہ بن جائے تو مذہب ان پر قدغن لگاتا ہے، پھر کسی کو وہ مکروہ اور کسی کو حرام قرار دیتا ہے، چنانچہ اس صورت میں یہ فنون جہنم کے لیے زاد راہ بن جاتے ہیں۔

مذہب فنون لطیفہ کو فی نفسہٖ پسند کرتا ہے، جب تک کہ یہ خود اس کی بربادی پر آمادہ نہ ہوں۔ لیکن جب یہ اس کی جڑیں کھودنا اور اسے برباد کرنا چاہیں تو پھر وہ ان پر سخت گرفت کرتا ہے۔

فنون لطیفہ کے بارے میں اس اصولی بحث کے بعد اب ہم زیر بحث اصل موضوع کی طرف پلٹتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ انسان کے کن فطری جذبوں نے فن مصوری کو وجود بخشا ہے۔

 

فن مصوری کے فطری محرک جذبے

مصوری بنیادی طور پر انسان کے تین فطری جذبوں کی تحریک سے وجود میں آئی ہے۔ ان میں سے پہلا انسان کے اندر پایا جانے والا محاکات کا فطری جذبہ ہے۔ انسان جب کسی چیز کو دیکھتا ہے تو طبعی طور پر اس کی نقل کا ایک جذبہ اس میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کی عام مثال یہ ہے کہ ہم بعض لوگوں کو دوسرے آدمی کی آواز یا اس کے اسلوب کی نقل اتارتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ اسی طرح بعض لوگ پرندوں کی بولی کی نقل اتارتے ہیں۔ اس سے ان کے پیش نظر کوئی بڑا مقصد نہیں ہوتا، وہ اس سے محض حظ اٹھاتے ہیں، لیکن یہی جذبہ انسان کی کئی اہم ضرورتوں کو پورا کرنے کا ذریعہ بھی ہے، مثلاً سیکھنے سکھانے کا عمل اسی کا مرہون منت ہے، ذرا دقت نظر سے دیکھیں تو اسی جذبے کے استعمال میں انسان کے تمدن اور اس کی ترقی کا راز پنہاں ہے۔ 

انسان نے درندوں کو بھٹ اور پرندوں کو گھونسلے بناتے دیکھا تو اس کے ذہن میں ان کی نقل کرتے ہوئے اپنے لیے گھر بنانے کا خیال آیا۔ اس نے پہلے پہل اپنے لیے ایک کٹیا بنائی، لیکن پھر وقت کے ساتھ وہ ایسی ایسی عظیم الشان عمارتیں تعمیر کرنے لگا کہ آج وہ خود انھیں دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔اس نے پرندوں کو ہوا میں اڑتے ہوئے دیکھاتو دل میں اڑنے کی خواہش پیدا ہوئی، پھر پرندوں کی نقل کی اس خواہش کو پورا کرنے کے لیے ہوائی جہاز، طیارے اور راکٹ وجود میں آ گئے ۔ انسان اسی جذبے کے تحت دوسری تہذیب و تمدن سے چیزیں اخذ کرتا اور ان سے اپنی تہذیب اور اپنے تمدن کو ترقی دیتا ہے۔ نقل کا یہ جذبہ انسان کے بہت قیمتی جذبوں میں سے ہے۔ انسان زندگی کی راہ میں جب اپنی منزلوں کی طرف بڑھتا ہے تو یہ ضرور دیکھتا ہے کہ اس کے پیش رووں نے یہ سفر کیسے طے کیا تھا تاکہ ان کی نقل کرتے ہوئے وہ بھی اپنے سفر کو آسان بنائے۔

انسان کے اندر پائے جانے والے محاکات کے اسی جذبے نے فن مصوری کے لیے ایک فطری محرک کے طور پر کام کیا ہے۔

فن مصوری کے لیے دوسرا محرک بقا کا وہ جذبہ ہے جو انسان کے اندر اپنی ذات اور اپنے ماحول کے لیے پایا جاتاہے۔ یہ جذبہ دراصل، جنت کی طلب کے لیے ہے۔ انسان ابدی جنت کی تمنا اپنے اسی فطری جذبے کی بنا پر کرتا ہے۔ اگر یہ جذبہ موجود نہ ہو تو انسان ابدی دنیا کی آرزو کر ہی نہیں سکتا۔ 

دنیا میں اسی جذبے کی وجہ سے انسان اپنی تاریخ کو محفوظ رکھنے کی سعی کرتا ہے۔ وہ ایک ایک واقعے اور ایک ایک داستان کو محفوظ کر لینا چاہتا ہے تا کہ اس کا ماضی دنیا میں موجود اور باقی رہے۔ کسی واقعے کے لیے یادگار کے طور پر عمارت بنانے میں بھی یہی جذبہ کارفرما ہے۔ اہم شخصیات کی موت کے بعد ان کی یادکو باقی رکھنے کے لیے انسان اسی جذبے کی وجہ سے ان کی تصاویر بناتا، ان کے مجسمے تراشتا اور ان کی زندگی کے ایک ایک واقعے کو قلم بند کرتا ہے۔

فن مصوری کے لیے تیسرا محرک جذبہ یہ ہے کہ انسان ایک جگہ کے انس کو دوسری جگہ منتقل کرنا چاہتا ہے۔ خدا نے انسان کی مرغوب اشیا اور اس کے پسندیدہ ماحول کو پوری دنیا میں بکھیر دیاہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان اپنے گھر سے باہر پائی جانے والی ان سینکڑوں اشیا کو، جن کے ساتھ وہ طبعی انس محسوس کرتا ہے، اپنے گھر میں سمیٹ لانا چاہتا ہے۔ جب وہ یہ دیکھتا ہے کہ خدا نے حسن فطرت کو پوری دنیا میں پھیلا رکھا ہے، کہیں میدانوں کی سرسبزی، کہیں دشت کی وسعت، کہیں پہاڑوں کی بلندی، کہیں گھٹاؤں کا سماں اور کہیں سمندروں کا جلال ہے تو وہ چاہتا ہے کہ اس سارے ماحول کو اپنی محدود دنیا میں اکٹھا کر لے۔

ایک جگہ کے انس کو دوسری جگہ منتقل کرنے کا یہ فطری جذبہ وہ تیسرا محرک ہے ، جس نے انسان کو فن مصوری کی طرف دھکیلا ہے۔

مصوری بنیادی طور پر انسان کے ان تین فطری جذبوں کی تحریک سے وجود میں آئی ہے۔ اشیا اور ماحول کے ساتھ اس کے انس نے انھیں سمیٹنے کی خواہش پیدا کی، بقا کے جذبے نے انھیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کر لینا چاہا، چنانچہ محاکات کے جذبے نے ان مرغوب اشیا یا اس مانوس ماحول کو برش اور رنگ کی مدد سے کینوس پر ظاہر کر دیا ۔

اب ہم اس فن مصوری کے استعمال کو تاریخ کے آئینے میں دیکھتے ہیں تا کہ ہم یہ جان سکیں کہ انسان نے ماضی میں اس فن سے کیا خدمت لی ہے؟ 

 

فن مصوری  - تاریخ کے آئینے میں

تاریخی حوالے سے جب ہم مصوری کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ حیران کن حقیقت ہمارے سامنے آتی ہے کہ دنیا کا سارا تصویری آرٹ، دراصل، مذہبی آرٹ ہے۔ قدیم تہذیبوں کے کھنڈرات سے جتنا تصویری آرٹ بھی انسان کے سامنے آیا ہے، وہ سارے کا سارا مذہبی آرٹ ہے۔ کلدانیہ، بابل، مصر، یونان، چین، میکسیکو، پیرو، غرض ہر جگہ آرٹ مذہب ہی سے وابستہ رہا ہے۔ 

تصویری آرٹ کے مذہبی ہونے سے ہماری مراد یہ ہے کہ انسان نے عموماً کسی مذہبی مقصد ہی کے پیش نظر تصاویر بنائی ہیں۔ یعنی تصویر سازی کا وہ فن جو کچھ فطری جذبوں کی بنا پر وجود میں آیا تھا، وہ عام طور پر مذہبی مقاصد ہی کے لیے مختص ہو گیا۔

یہ مذہبی مقاصد کیا تھے؟ یہ ایک اہم سوال ہے، جو ازمنہ قدیم میں تصویر اور تمثال کے اصل استعمال کو واضح کرتا ہے۔ چنانچہ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمیں مذہب کے حوالے سے دنیا میں فن مصوری کا کیا استعمال نظر آتا ہے؟

(جاری ہے۔۔۔)