حضرت عبداللہ بن محمد بن عقیل تابعی کے پاس ایک انگوٹھی تھی ، جس پر ایک شیر کی تصویر تھی۔ عبداللہ کا یہ گمان تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ انگوٹھی پہنی تھی ۔۱۶؂

تجزیہ

صحابۂ کرام کے عمل کے بعد عبداللہ بن محمد بن عقیل تابعی کے اس عمل کو بھی دیکھ لیجیے۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام کی طرح تابعین کے ہاں بھی یہ بات نہیں پائی جاتی تھی کہ جان دار کی تصویر حرام اور بے جان کی حلال ہے۔ 

نتیجہ

تابعین کا عمل بتاتا ہے کہ ان کے نزدیک بھی وہی تصاویر ممنوع تھیں جو مظہر شرک ہوتی تھیں۔

 

قدیم شرائع میں تصویر 

حرمت تصاویر کی علت اگر ان کا مظہر شرک ہونا ہے تو ظاہر ہے کہ شرک تو سب امتوں میں حرام رہا ہے، لہٰذا ضروری ہے کہ (مشرکانہ) تصاویر بھی سبھی امتوں میں اسی طرح حرام رہی ہوں، جیسے ہماری امت میں حرام ہیں۔ چنانچہ دیکھیے کہ تورات میں باقاعدہ سختی کے ساتھ یہ حکم دیا گیا:

’’ میں خداوند تیرا خدا ہوں، جو تجھ کو ملک مصر یعنی جاے غلامی سے نکال لایا۔ تیرے لیے میرے حضور کوئی دوسرا معبود نہ ہو۔ تو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی چیز یا کسی چیز کی صورت ، جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین میں یا زمین کے نیچے کے پانی میں ہے ، مت بنانا۔ تو ان کو سجدہ نہ کرنا اور نہ ان کی خدمت کرنا، کیونکہ میں خداوند تیرا خدا ، خداے غیور ہوں۔‘‘ (خروج ۲۰:۲ ۔۶)

’’تم اپنے لیے بت یا گھڑی ہوئی مورتیں نہ بناؤ، نہ اپنے لیے ستون کھڑے کرو ،اور نہ اپنی زمین میں کوئی نقش دار پتھر رکھو، جس کے سامنے تم سجدہ کرو۔کیونکہ میں خداوند تمھارا خدا ہوں۔‘‘ (ا حبار ۲۶:۱۔ ۲) 

’’ایسا نہ ہو کہ تم بگڑ جاؤ، اور اپنے لیے کوئی گھڑی ہوئی مورت، کسی صورت کے مشابہ ، مرد یا عورت کی بناؤ۔ یا کسی ایسے حیوان کی شکل، ۱۷؂ جو زمین پر ہے، یا ایسے پر دار جانور کی شکل جو آسمان میں اڑتا ہے، یا کسی چیز کی شکل جو زمین پر رینگتی ہے یا کسی ایسی مچھلی کی جو زمین کے نیچے پانی میں ہے ، ایسا نہ ہو کہ تو اپنی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھائے اور سورج اور چاند اور ستاروں کو یعنی سب آسمانی لشکر کو دیکھ کر ،جن کو خداوند تیرے خدا نے آسمان کے نیچے کی سب قوموں کی خدمت کے لیے بنایا ، تو دھوکا کھائے اور ان کو سجدہ کرے ا ور ان کی خدمت کرے... پس اپنے آپ میں خبردار رہو کہ تم خداوند اپنے خدا کا عہد جو اس نے تمھارے ساتھ کیا بھول نہ جاؤ۔ اور اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مورت اس چیز کی نہ بناؤ ، جس سے خداوند تیرے خدا نے تجھے منع کیا ہے، کیونکہ خداوند تیرا خدا بھسم کرنے والی آگ ہے، وہ غیور خدا ہے۔‘‘ (تثنیہ شرع ۴:۱۶ ۔۱۹ ،۲۳۔ ۲۴) 

یہ تورات ہے۔ ہم اس میں دیکھتے ہیں کہ بہت وضاحت اور بڑی صراحت کے ساتھ مشرکانہ تصاویر ہی کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ظاہر ہے کہ تصاویر کے حوالے سے اس میں یہی بات موجود ہونی چاہیے تھی، کیونکہ شرک تو ہر امت میں ممنوع رہا ہے۔

 

خلاصہ 

اس ساری تفصیل سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ تصویر کے بارے میں یہ نقطۂ نظر درست نہیں ہے کہ جان دار کی تصویر ناجائز اور بے جان کی جائز ہے۔

چنانچہ صحیح نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہر وہ تصویر ناجائز ہے ، جو کسی بھی درجے میں مظہر شرک ہے۔ یہی بات قرآن مجید کی واضح رہنمائی سے ہمارے سامنے آتی اور یہی احادیث صحیحہ سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوتی ہے۔ صحابہ اور تابعین کا فہم بھی یہی حکم لگاتا اور ان کا عمل بھی اسی کے مطابق دکھائی دیتا ہے ۔ یہی بات قدیم آسمانی مذاہب میں پائی جاتی ہے۔ قرآن و حدیث میں تصاویر پر جتنی تنقید بھی کی گئی ہے، وہ سب مشرکانہ تصاویر کے حوالے سے ہے۔ عام نوعیت کی تصاویر کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔البتہ یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ وہ تصاویر جن میں شرک کے علاوہ کوئی اور دینی یا اخلاقی خرابی پائی جاتی ہے،وہ بھی دینی طور پر بالکل ممنوع ہیں، لیکن تصویر پر بحیثیت تصویر،خواہ وہ جان دار کی ہو یا بے جان کی، دین کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ خدا کا دین تصویر بنانے کو صرف اور صرف اس وقت ممنوع قرار دیتا ہے، جب اس میں کوئی دینی یا اخلاقی خرابی پائی جاتی ہو۔

تصویر کے بارے میں ہمارے ہاں جو موقف پایا جاتا ہے، اس میں کیا غلطی اور کیا تضاد ہے، وہ کس طرح قرآن مجید کی رہنمائی اور احادیث رسول کی ہدایت سے ہٹا ہوا ہے اور پھر اس سلسلے میں قرآن وحدیث کی ہدایت اور رہنمائی اصل میں کیا ہے، صحابہ نے اسے کیا سمجھا اور اس پر کیا عمل کیا، یہ سب کچھ واضح کرنے کے بعد اب ہم یہ چاہتے ہیں کہ تصویر ہی کے حوالے سے بعض اہم سوالات زیر بحث لائے جائیں۔

 


 

المصنف عبدالرزاق، رقم ۱۹۴۶۹۔

جیسے نوح علیہ السلام کی قوم میں ود دیوتا کو مرد کی صورت پر، سواع کو عورت کی صورت پر، یغوث کو شیر کی صورت پر، یعوق کو گھوڑے کی صورت پر اور نسر کو گدھ کی صورت پر بنایا گیا تھا۔