تصاویر کے بارے میں صحابہ رضی اللہ عنہم کے عملی رویے کو جاننے کے لیے جب ہم روایات کے ذخیرے کو دیکھتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بعض نوعیت کی تصاویر سے بہت گریز کیا کرتے تھے۔ اس سے متعلق روایات درج ذیل ہیں:

 

صحابۂ کرام کا تصاویر سے گریز

عن ابی الھیاج الاسدی ؛ قال لی علی الا ابعثک علی ما بعثنی علیہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان لا تدع تمثالاً الا طمستہ ولا قبراً مشرفاً الا سویتہ ولا صورۃ الا طمستھا. (مسلم ، رقم ۹۶۹) 

’’ابو الہیاج الاسدی کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا :کیا میں تم کو ویسی ہی مہم پر نہ بھیجوں جیسی مہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا کہ تم ہر مجسمے کو توڑ دو ، ہر اونچی قبر کو برابر کر دو اور ہر تصویر کو مٹا دو۔‘‘

عن حنش الکنانی عن علی انہ بعث عامل شرطتہ فقال لہ اتدری علی ما ابعثک؟ علی ما بعثنی علیہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ان انحت کل یعنی صورۃ و ان اسوی کل قبر. (مسند احمد، رقم ۱۲۸۶) 

’’حنش الکنانی کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی پولیس کے کوتوال سے کہا کہ تم جانتے ہو میں کس مہم پر تمھیں بھیج رہا ہوں، اُسی مہم پر جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بھیجا تھا کہ میں ہر تصویر کو مٹا دوں اور ہر قبر کو زمین کے برابر کر دوں۔‘‘

قال عمر رضی اللّٰہ عنہ انا لا ندخل کنائسکم من اجل التماثیل التی فیھا الصور. (بخاری: باب الصلوٰۃ فی البیعہ) 

’’عمر رضی اللہ عنہ نے عیسائیوں سے کہا کہ ہم تمھارے کنیسوں میں اُن تماثیل (پوجی جانے والی چیزوں) کی وجہ سے داخل نہیں ہوتے، جن پر (تمھارے معبودوں کی) تصاویر بنی ہوتی ہیں۔‘‘

کان ابن عباس یصلی فی بیعۃ الا بیعۃ فیھا التماثیل.(بخاری:باب الصلوٰۃ فی البیعہ) 

’’ابن عباس رضی اللہ عنہ گرجا میں نماز پڑھ لیا کرتے تھے ، مگر اس گرجا میں نہیں پڑھتے تھے، جس میں تماثیل ہوتی تھیں۔‘‘

تجزیہ 

تصاویر کے حوالے سے صحابہ رضی اللہ عنہم کا یہ وہ عملی رویہ ہے جو ہمیں احادیث کی مستند کتابوں میں ملتا ہے۔ 

ان روایات میں ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ مشرکانہ تصویروں کو مٹانے کا حکم دیتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ ان تصاویر کو مٹانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مشن تھا ، میں بھی اسی راستے پر گام زن ہوں۔ حضرت عمر اور حضرت ابن عباس عیسائیوں کے گرجوں میں نماز پڑھنا بالکل درست سمجھتے ہیں ، لیکن اگر ان میں عیسائیوں کے شرکیہ عقائد کی نمائندہ (مشرکانہ) تصاویر ہوں تو پھر یہ کسی صورت بھی ان میں نماز پڑھنے کو تیار نہیں ہوتے ۔

نتیجہ 

صحابۂ کرام عملاً جن تصاویر سے پرہیز کرتے تھے، وہ سب کی سب مشرکانہ تصاویر ہی تھیں۔ لہٰذا صحابہ کا عمل بھی ہمیں یہی بات بتاتا ہے کہ وہ سب تصاویر ممنوع ہیں جو مظہر شرک ہیں۔ 

 

صحابہ کے ہاں تصاویر کا استعمال 

تصویر کے بارے میں صحابہ کا عمل تو ہمیں احادیث کی بنیادی کتابوں (بخاری و مسلم) میں ملتا ہے، ان کے علاوہ کتب تاریخ اور احادیث کی بعض دوسری کتب کو دیکھیں تو ان کتابوں سے ہمیں تصویر کے بارے میں صحابہ کے عملی رویے سے متعلق کئی باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ وہ باتیں درج ذیل ہیں:

  • ۱۔حضرت عروہ کے بٹن میں آدمیوں کے چہروں کی تصویریں تھیں۔۷؂
  • ۲۔حضرت انس بن مالک کی انگوٹھی کے نگینہ پر ایک شیر غراں کی تصویر بنی ہوئی تھی۔۸؂
  • ۳۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی انگوٹھی کے نگینے میں دو آدمی بنے ہوئے تھے ، جن کے درمیان میں ایک شیر تھا۔۹؂
  • ۴۔ حضرت حذیفہ کی انگوٹھی میں دو سارس آمنے سامنے بنے ہوئے تھے اور ان کے درمیان ’الحمد للّٰہ ‘ لکھا ہوا تھا۔۱۰؂
  • ۵۔ قتادہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حضرت انس کی انگوٹھی میں ایک سارس بنا ہوا تھا ، جس کے دو سر تھے۔۱۱؂
  • ۶۔حضرت عمرا ن بن حصین کی انگوٹھی میں ایک آدمی کی تصویر تھی جو گلے میں تلوار لٹکائے ہوئے تھا۔۱۲؂
  • ۷۔حضرت عمرکے زمانے میں جب شہر سوس فتح ہوا تو وہاں ایک انگوٹھی دستیاب ہوئی جس کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ یہ حضرت دانیال نبی علیہ السلام کی انگوٹھی ہے، اس انگوٹھی کے نگینے میں دو شیر اور ان کے مابین ایک آدمی کی تصویربنی ہوئی تھی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ انگوٹھی ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو عنایت فرمائی اور کہا کہ تم اس سے مہر لگایا کرو۔۱۳؂
  • ۸۔حضرت عمررضی اللہ عنہ ہی کے دور میں جب سلطنت ایران کا پایۂ تخت مدائن فتح ہوا تو فاتح ایران حضرت سعد بن ابی وقا ص نے جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لیے ایوان کسریٰ میں منبر نصب کیا اور جمعہ کی نماز ادا کی، حالانکہ اس میں تماثیل ۱۴؂ موجود تھیں۔۱۵؂
نتیجہ

ان تاریخی حوالوں کو بھی دیکھ لیجیے ، صاف محسوس ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام کے نزدیک یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا کہ جان دار کی تصویر حرام اور بے جان کی حلال ہے۔ہمارے علما ے کرام نے تصویر کے بارے میں صحابۂ کرام کے اس رویے کو ’’تصویر میں استثنا ‘‘سے متعلق قرار دیا ہے،لیکن یہ محض ایک تکلف ہے۔ بٹن اور انگوٹھیوں پر بنائی جانے والی تصاویر بس زیب و زینت کے لیے ہوا کرتی ہیں اور اس بات کا کیا سوال کہ صحابہ محض زیب و زینت کی خاطر ممنوع تصاویر ( خدا کی تخلیق کی نقل) کو گوارا کرتے ہوں گے اور ان تصاویر کے معاملے میں وہ رخصت کی جگہ پر کھڑے ہوں گے۔ سیدھی اور صاف بات یہ ہے کہ یہ تصاویر ممنوع ہی نہیں تھیں، جیسا کہ ہم نے پچھلے صفحات میں اس پر تفصیلاً بحث کی ہے۔

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ تصویر کے معاملے میں تابعین کا کیا نقطۂ نظر اور کیا عمل رہا ہے۔

 

تصویر کے بارے میں فہم تابعین

تصویر کے بارے میں فہم تابعین کے حوالے سے جب ہم روایات کو دیکھتے ہیں، تو درج ذیل روایات ہمارے سامنے آتی ہیں :

پہلی روایت 

حدثنا لیث قال دخلت علی سالم بن عبد اللّٰہ وھو متکئٌ علی وسادۃ فیھا تماثیل طیر ووحش فقلت الیس یکرہ ھذا قال الا انما یکرہ ما نصب نصبا. (مسند احمد ، رقم ۶۲۹۰) 

’’لیث رحمہ اللہ نے ہم سے بیان کیا کہ وہ سالم بن عبداللہ کے پاس گئے جبکہ وہ (سالم) ایک ایسے تکیے سے ٹیک لگائے ہوئے تھے، جس پر پرندوں اور وحشی جانوروں کی تصویریں بنی ہوئی تھیں۔ وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ کیا (تکیے وغیرہ پر) ایسی تصاویرمکروہ نہیں؟ انھوں نے کہا :نہیں، مکروہ تو بس وہ تصاویر ہیں ، جو استھانوں پر نصب کی جاتی ہیں۔‘‘

تجزیہ

حضرت سالم بن عبداللہ تابعی کے عمل کو دیکھیے، وہ وحشی جانوروں اور پرندوں کی تصاویر والے ایک تکیے پر اطمینان سے ٹیک لگائے بیٹھے ہیں ، لیث رحمہ اللہ آتے اور پوچھتے ہیں، تصاویر والے تکیے کا یہ استعمال کیا مکروہ نہیں ہے، وہ بتاتے ہیں کہ یہ تصویریں ممنوع نہیں ہیں، البتہ وہ ممنوع ہیں جو استھانوں پر گاڑی جاتی ہیں۔

نتیجہ

تابعین کے نزدیک بھی وہی تصاویر ممنوع تھیں جو مظہر شرک ہوتی ہیں۔

دوسری روایت 

عن ابراہیم قال لا باس بالتمثال فی حلیۃ السیف؛ ولا باس بھا فی سماء البیت: انما یکرہ منھا ما ینصب نصباً؛ یعنی الصورۃ. (مصنف ابن ابی شیبہ، رقم ۲۵۲۰۷) 

’’ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ تلوار پر بنائے جانے والے نقش و نگار میں تماثیل یعنی تصاویر بنانے میں کوئی حرج نہیں اور نہ (کمرے کی) چھت میں تصاویر بنانے میں کوئی حرج ہے۔ ناپسندیدہ تصاویر تو وہ ہیں جو استھانوں پر گاڑی جاتی ہیں، یعنی (عام نہیں، بلکہ) خاص تصاویر۔‘‘

نتیجہ 

یہ ابراہیم بن یزید بن قیس النخعی مشہور تابعی کا تصویر کے بارے میں فہم ہے۔ ان کے اس قول سے بھی یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ صرف وہی تصاویر ممنوع ہیں جو مظہر شرک ہیں۔

 


۷؂ طبقات ابن سعد، جز تابعین ۱۳۶۔

۸؂ اسد الغابہ ۱/ ۱۲۸۔

۹؂ مصنف ابن ابی شیبہ، ۶، کتاب اللباس والزینہ، نقش الخاتم و ماجاء فیہ۔

۱۰؂ مصنف ابن ابی شیبہ، ۶، کتاب اللباس والزینہ، نقش الخاتم و ماجاء فیہ۔

۱۱؂ المصنف، عبدالرزاق، ۱۰، باب الخاتم۔

۱۲؂ مصنف ابن ابی شیبہ، ۶، کتاب اللباس والزینہ، نقش الخاتم و ماجاء فیہ۔

۱۳؂ تاریخ الامم والملوک ۴/ ۲۲۱۔

۱۴؂ تاریخ الامم والملوک ۴/ ۱۷۷۔

۱۵؂ یہ تماثیل کیسی تھیں؟ ظاہر ہے کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ یہ تماثیل دین میں ممنوع بھی ہوں اور صحابہ نے انھیں گوارا بھی کر لیا ہو۔ مشرکانہ تماثیل جبکہ وہ اہانت کی جگہ پر نہ ہوں، سب علما و فقہا کے نزدیک ممنوع ہیں، اس میں کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ چنانچہ یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ یہ تماثیل تزیین و آرایش ہی کے لیے تھی، جیسا کہ بادشاہوں کے درباروں میں اکثر ہوتا ہے، اور اگر ان میں شرک کا کوئی پہلو کسی درجے میں تھا بھی تو موحدین کی غالب تلوار نے انھیں محل اہانت میں لا کھڑا کیا تھا، ورنہ صحابہ انھیں گوارا کرنے والے نہ تھے، جیسا کہ اوپر ہم دیکھ چکے ہیں کہ صحابہ تماثیل والے کلیساؤں میں داخل نہ ہوا کرتے تھے۔

مولانا شبلی نعمانی ’’الفاروق‘‘ میں ’’قادسیہ کی جنگ اور فتح‘‘ کے تحت انھی تماثیل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ہمارے فقہا کو تعجب ہو گا کہ حضرت سعد نے باوجود کہ اکابر صحابہ میں سے تھے اور برسوں رسالت مآب کی صحبت میں رہے تھے، عالم گیر و محمود کی تقلید نہیں کی، بلکہ ایوان میں جس قدر مجسم تصویریں تھیں، سب برقرار رہنے دیں۔

مولانا شبلی نے انھیں ممنوع تماثیل سمجھ کر، صحابہ کے بارے میں جس خیال کا اظہار کیا ہے، ہمیں اس سے اتفاق نہیں ہے۔