چودہواں باب 

تشدد نام ہے اس بات کا کہ اپنے نقطہ نظر کو طاقت کے ذریعے دوسروں پر مسلط کیا جائے اور کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کوئی ایسا اقدام کیا جائے جس سے انفرادی یا اجتماعی طور پر کسی کی جان مال اور آبرو کو نقصان پہنچے۔ اس کے بالکل برعکس عدمِ تشدد کا مطلب یہ ہے کہ اپنے نقطہ نظر کو دلیل کے ساتھ پیش کیا جائے اور اپنے کسی مقصد کو حاصل کرنے کے لیے خالصتاً پرامن ذرائع استعمال کئے جائیں۔ 
انسانی تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ دنیا میں اصل کامیابی عدمِ تشدد کو ہی حاصل ہوتی ہے۔ جب کہ تشدد کے ذریعے آنے والی تبدیلی کبھی دیرپا ثابت نہیں ہوتی۔ عدمِ تشدد کا اصول انسانی ضمیر کے عین مطابق ہے۔ اگر اس کے ذریعے سے کوئی مقصد حاصل نہ ہو، تب بھی اس سے کم ازکم اتنا تو ہوتا ہے کہ خدا کی زمین میں فساد اور بدامنی نہیں پھیلتی۔ ہمارے دین کی تعلیم بھی یہی ہے کہ عدمِ تشدد کے ذریعے لوگوں کو اپنی بات پر قائل کیا جائے اور قانونی اختیار ملنے سے پہلے کبھی کوئی اقدام نہ کیا جائے۔ قرآن مجید نے کئی مقامات پر اس بات کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضورؐ اور صحابہ کرامؓ پر مکی دور میں بے انتہا مظالم ہوئے، مگر اہلِ ایمان کی طرف سے کبھی بھی اس کے مقابلے میں کوئی اقدام نہیں کیا گیا۔ ماضیِ قریب کی تاریخ میں ہمیں بے شمار ایسے رہنما ملتے ہیں جنہوں نے عدمِ تشدد کے ذریعے بہت بڑی تبدیلیوں کو ممکن بنایا۔ قائداعظم، مہاتماگاندھی،ماوزے تنگ، سویکارنو، امام خمینی، نیلسن منڈیلا اور عالی جاہ عزت بیگ کی مثالیں ہماری قریبی تاریخ کا حصہ ہیں۔ عدمِ تشدد کا مطلب یہ قطعاً نہیں کہ غلط قانون کو نہ توڑا جائے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ غلط قانون کو پُرامن طریقے سے اس طرح چیلنج کیا جائے کہ اس غلط قانون پر حکومت وریاست کی جانب سے عمل درآمد نہ ہوسکے۔ برصغیر کی تحریکِ آزادی میں مہاتما گاندھی کی طرف سے شراب خانوں اور دوسری غلط کاریوں کے سامنے پکیٹنگ(Picketing)اس کی ایک مثال ہے۔ مظاہرین کسی شراب خانے کے باہر جاکر بس پُرامن طور پر بیٹھ جاتے تھے اور اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کرتے تھے۔ 
عدم تشدد کے علمبرداروں اور کارکنوں پر جب مظالم ڈھائے جاتے ہیں اور ان کو مظلومانہ طریقے سے قتل کیا جاتا ہے تو وہ اس کے جواب میں ہاتھ نہیں اٹھاتے۔ اس کے نتیجے میں عوام کے اندر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان لوگوں پر ظلم کیوں کیا جارہا ہے۔ اس سوال کے جواب میں لوگوں کے دلوں میں ایک احساس ابھرتا ہے۔ پھر یہ احساس شعوروآگہی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ پھر جب یہ شعور پختہ ہوجاتا ہے تو قدرت کی مدد سے تبدیلی کے لیے راستہ ہموار ہوجاتا ہے۔ 
تشدد کے ذریعے آنے والی تبدیلی کبھی دیرپا نہیں ہوتی۔ خوف اور دہشت کے ذریعے لوگوں کے جسموں کو تو غلام تو بنایا جاسکتا ہے لیکن ان کے دل ودماغ کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ تشدد کے ذریعے عموماً کوئی اچھا مقصد بھی پوری طرح حاصل نہیں ہوتا۔ یہ عین ممکن ہے کہ تبدیلی کی طرف دوچار قدم کامیابی کے ساتھ اٹھ جائیں، لیکن تشدد کے نتیجے میں بدامنی اور کشت وخون کا کلچر اتنا عام ہوجاتا ہے کہ پھر حالات سنبھالے نہیں سنبھلتے۔ پھر ہر آدمی یہی سوچتا ہے کہ بندوق ہی قانون ہے۔ تشدد کے ذریعے قومیں اور معاشرے یا تو تباہ ہوجاتے ہیں اور یا پھر ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس یہ بھی عین ممکن ہے کہ عدم تشدد کے ذریعے فوری طور پر کوئی اچھی تبدیلی عمل میں نہ آسکے، لیکن اس سے کم ازکم یہ تو ہوتا ہے کہ مظلوم قوم متحد رہتی ہے اور ترقی کے منازل طے کرتی جاتی ہے۔ اگر کوئی قوم اندرونی طور پر متحد رہے اور عدم تشدد کے ذریعے آزادی کے حصول کی جدوجہد کرے تو کسی مناسب موقعے پر قدرت کی مدد اُس کے شاملِ حال ہوجاتی ہے۔ یہی حال کسی بھی گروہ کی طرف سے کسی بھی اچھے مقصد کے لیے جدوجہد کا ہے۔ کیونکہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ صبرواستقامت سے کام لینے والوں کے ساتھ ہے۔ 
عدم تشدد کسی وقتی حکمتِ عملی کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مستقل اصول اور ذہنیت کا نام ہے۔ عدم تشدد کا اصول انسانیت کو اچھائی کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ اصول امن اور تعمیر کا علمبردار ہے، اور یہی ترقی کا پیش خیمہ ہے۔ 
عدم تشدد کا اصول انسان سے صبر کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے برعکس متشددانہ اقدام دراصل جلدبازی اور جذباتیت کا ظہور ہوتا ہے۔ انسان کے لیے اصل راستہ صبرواستقامت کا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں ایک سو تیس مقامات پر اس کی تلقین کی گئی ہے۔ صبر بھی دراصل ایک ذہنیت اور ذہنی روئے کا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب ایک فرد کے لیے حالات ناسازگار ہوں تو دل چھوٹا نہ کیا جائے، اس بات پر یقین رکھا جائے کہ پروردگار تمام حالات کو دیکھ رہا ہے اور وہ جب چاہے گا حالات بدل دے گا۔ چنانچہ ٹھنڈے دل ودماغ سے کام لیا جائے۔ مایوسی اور گھبراہٹ سے بچا جائے۔ حالات کا اچھی طرح جائزہ لے کر بہترین پرامن حکمت عملی بناکر اس پر عمل کیا جائے۔ اور اس عمل پر ثابت قدم رہا جائے۔ 
اسی طرح جب ایک مسلمان قوم وملک کے لیے حالات ناسازگار ہوں، مشکلات زیادہ ہوں اور ہر طرف سے خطرے اُنڈے چلے آرہے ہوں تو صبر کا تقاضا یہ ہے کہ ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ انتظار کیا جائے، مستقبل کے لیے منصوبہ بندی اور تیاری کی جائے، اشتعال، فوری ردِعمل اور جلد بازی پر مبنی اقدامات سے گریز کیا جائے۔پوری دنیوی تدبیر کی جائے۔ یہ طرز عمل اختیار کیا جائے کہ ہمیں بہترین دنیوی حکمتِ عملی کے مطابق کام کرنا ہے۔ اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور جب وہ ہمیں اس قابل سمجھے گا تو حالات کی تبدیلی کے لیے حکم دے دے گا۔ تیاری کے اس مرحلے میں ثابت قدمی ہی صبر ہے۔ 
اس کے برعکس ایک فرد یا ایک قوم کی طرف سے فوری ردِعمل، جلد بازی، معروضی تجزئے کے فقدان، تیاری کے بغیر اقدام اور حکمتِ عملی میں عدم استقلال کو بے صبری کہا جائے گا۔ 
اس عاجز کی نظر میں پچھلے دوسوبرس کے دوران میں مسلمان قوم کی ایک بڑی کمزوری اور خامی بے صبری اور جذباتیت ہی رہی ہے۔ آج بھی اس امت کے رہنما عوام کو بے صبری اور جذباتیت ہی کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ حالانکہ اس امت کے لیے اصل سبق صبر اور ٹھنڈے دل ودماغ کے ساتھ معروضی تجزئے کا ہے۔ 
عدم تشدد اور صبر ہی وہ ہتھیار ہیں جن کے ذریعے ہم آج کی لڑائی جیت سکتے ہیں اورنتائج کو اپنے حق میں کرسکتے ہیں۔