تصویر کے بارے میں فہم صحابہ کے حوالے سے جب ہم ذخیرۂ احادیث کو دیکھتے ہیں تودو بنیادی اور اہم روایتیں ہمارے سامنے آتی ہیں۔ علما نے تصویر کے بارے میں عموماً جو موقف اختیار کیا ہے، وہ درحقیقت انھی دو میں سے ایک روایت پر مبنی ہے۔

یہ دونوں روایتیں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔’’ صحیح بخاری‘‘ میں موجود ہیں اور فنی اعتبار سے صحیح شمار ہوتی ہیں۔ البتہ ان میں سے ایک کی سند دوسری کی نسبت زیادہ قوی ہے، لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ایک ہی صحابی سے مروی ہونے کے باوجود یہ دونوں روایتیں باہم متضاد محسوس ہوتی ہیں۔ 

ابن عباس رضی اللہ عنہ کی وہ روایت جو سنداً کچھ زیادہ قوی ہے، پہلے ہم اس کا مطالعہ کریں گے اور پھر اس کے بعد ہم دوسری روایت کو دیکھیں گے اور یہ سمجھنے کی کوشش کریں گے کہ آیا ان دونوں میں واقعی کوئی تضاد پایا جاتا ہے ۔

 

پہلی روایت 

قال ابن عباس اخبرنی ابوطلحۃ رضی اللّٰہ عنہ... صاحب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وکان قد شھد بدراً مع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم...: انہ قال لا تدخل الملائکۃ بیتا فیہ کلب ، ولا صورۃ، یرید: التماثیل التی فیھا الارواح.(بخاری ، رقم ۴۰۰۲) 

’’ابن عباس کہتے ہیں کہ مجھے ابو طلحہ رضی اللہ عنہ صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو جنگ بدر میں بھی موجود تھے، انھوں نے بتایا تھا کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جس گھر میں کتا یا تصویر ہو، اس گھر میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) یہاں تصویر سے آپ کی مراد وہ تماثیل تھیں، جن میں ارواح ہوتی ہیں۔‘‘

اس روایت میں گو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ الفاظ بھی موجود ہیں، جن کا ہم مطالعہ کر چکے ہیں، لیکن اس میں خاص بات یہ ہے کہ یہ روایت ہمیں ممنوع تصاویر کے بارے میں فہم صحابہ کا پتا دیتی ہے۔ چنانچہ ہم اسی حوالے سے اس کا مطالعہ کریں گے۔

 

تجزیہ

اس حدیث سے ہمیں درج ذیل بات معلوم ہوتی ہے: 

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول ’لا تدخل الملائکۃ بیتاً فیہ کلب ولا صورۃ‘ کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہ ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اس میں ’صورۃ‘ کے لفظ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وہ تماثیل مراد لیتے تھے، جن میں ارواح موجود ہوتی ہیں۔ یعنی آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ تماثیل جو کسی جان دار کی ہوتی ہیں، بلکہ آپ نے یہ فرمایا ہے کہ وہ تماثیل (تصاویر و مجسمے) جن میں ارواح موجود ہوتی ہیں۔یعنی جو بجائے خود زندہ خیال کی جاتی ہیں، جیسے کہ مشرکین مکہ لات، عزیٰ ، منات اور دوسرے دیوی دیوتاؤں کی تماثیل کو زندہ خیال کرتے تھے۔ ظاہر ہے، جبھی تو وہ ان کو حاجت روا سمجھتے ، ان سے دعائیں مانگا کرتے اور آخرت میں ان کی شفاعت کی توقع رکھتے تھے۔

 

نتیجہ 

اس حدیث سے فہم صحابہ کے حوالے سے ہمیں یہ معلوم ہوا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے نزدیک جن تماثیل (تصاویر اور مجسموں) کی موجودگی میں فرشتے گھر میں داخل نہیں ہوتے، وہ عام تماثیل نہیں تھیں، بلکہ وہ ایسی تماثیل ہیں جن (تماثیل) میں مشرکانہ تصور کے مطابق ارواح موجود ہوتی ہیں۔

 

دوسری حدیث

اب ہم دوسری روایت کی طرف آتے ہیں، جس کا مفہوم درج بالا روایت سے مختلف محسوس ہوتا ہے۔ یہ روایت بھی ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے اور یہ پہلی روایت کی نسبت صحت میں کچھ کم تر ہے، لیکن یہی وہ روایت ہے،جس کے الفاظ سے ہمارے ہاں بہت بڑے پیمانے پر یہ سمجھ لیا گیا کہ اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ہمیں تصویر کی حلت و حرمت کا اصول بتا دیا ہے، یعنی یہ کہ بے جان شے کی تصویر حلال اور جان دار کی حرام ہوتی ہے۔ چنانچہ تصویر کے بارے میں اصلاً، اسی روایت کی بنیاد پر وہ نقطۂ نظر وجود میں آیا ہے، جسے علما و فقہا کی اکثریت نے اپنا لیا ہے۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس روایت کا بہت دقت نظر کے ساتھ تجزیاتی مطالعہ کیا جائے۔ یہ روایت درج ذیل ہے:

عن سعید بن ابی الحسن قال کنت عند ابن عباس رضی اللّٰہ عنھما اذا اتاہ رجل فقال یا ابا عباس انی انسان انما معیشی من صنعۃ یدی وانی اصنع ھذہ التصاویر فقال ابن عباس لا احدثک الا ما سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یقول سمعتہ یقول من صور صورۃ فان اللّٰہ معذبہ حتی ینفخ فیھا الروح و لیس بنافخ فیھا ابداً فربا الرجل ربوۃ شدیدۃ واصفر وجھہ فقال ویحک ان ابیت الا ان تصنع فعلیک بھذا الشجرکل شیء لیس فیہ روح. (بخاری، رقم۲۲۲۵) 

’’سعید بن ابی الحسن سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ اچانک آپ کے پاس ایک آدمی آیا تو اس نے کہا: اے ابو عباس (رضی اللہ عنہ) میں ایک ایسا آدمی ہوں، جسے بس اپنے ہاتھ کے ہنر ہی سے روزی کمانی ہے۔ اور میں یہ (خاص) تصاویر بناتا ہوں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اِس ضمن میں تم سے وہی بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے۔ میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے: جس نے کوئی تصویر بنائی، اللہ تعالیٰ اُس کو لازماً عذاب دے گا۔ یہاں تک کہ (سزا کے طور پر) اُس سے کہا جائے گا کہ اِس تصویر میں روح پھونکو، (وہ اُس میں روح پھونکنے کی کوشش کرے گا)، لیکن وہ اس میں کبھی بھی روح نہ پھونک سکے گا۔ وہ شخص یہ سن کر دم بخود رہ گیا اور اُس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔ ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے (یہ دیکھ کر) کہا: تیرا ناس ہو، اگر تجھے ضرور تصویر بنانی ہے تو تو اِس درخت کی بنا لے، تصویر بس اُسی چیز کی بنایا کر، جس میں کوئی روح نہیں ہوتی۔‘‘

 

تجزیہ 

اس روایت میں بیان کردہ اہم نکات یہ ہیں:

  • ۱۔ سائل کا پیشہ کوئی خاص نوعیت کی تصاویر بنانا تھا، جسے اس نے ’انی اصنع ھذہ التصاویر‘ (میں یہ خاص تصاویر بناتا ہوں)کے الفاظ سے بیان کیا۔
  • ۲۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سائل کے جواب میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ جس نے کوئی تصویر بنائی، اللہ تعالیٰ اس کو لازماً عذاب دے گا، یہاں تک کہ (سزا کے طور پر)اس سے کہا جائے گا کہ اس تصویر میں روح پھونکو، (وہ اس میں روح پھونکنے کی کوشش کرے گا) لیکن وہ اس میں کبھی بھی روح نہ پھونک سکے گا۔ 
  • ۳۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سائل کو یہ مشورہ دیا کہ اگر تو تصاویر بنا کر ہی روزی کمانے پر مجبور ہے تو تو بس اسی چیز کی تصویر بنایا کر جس میں روح نہیں ہوتی، مثلاً اس درخت کی تصویر بنا لو۔
  • اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس روایت سے وہ استدلال کیسے کیا گیا، جس کی بنا پر ہمارے ہاں بہت بڑے پیمانے پر یہ مسلک رائج ہو گیا کہ جان دار کی تصویر بنانا حرام اور بے جان کی تصویر بنانا حلال ہے۔

 

روایت کا رائج مفہوم

اس نقطۂ نظر کے حاملین اس حدیث کو اس طرح سے واضح کرتے ہیں کہ اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سائل کو یہ اصولی بات بتائی ہے کہ قیامت کے دن مصورین کو تصویر میں روح پھونکنے کی سزا دینے کی اصل وجہ یہ ہو گی کہ انھوں نے دنیا میں روح والی یعنی جان دار اشیا کی تصاویر بنائی ہوں گی۔ اگر وہ جان دار اشیا کی یہ تصاویرنہ بناتے تو پھر انھیں اپنی بنائی ہوئی تصاویر میں روح پھونکنے کا عذاب ہرگز نہ دیا جاتا۔ چنانچہ ان کے خیال میں یہی وہ وجہ ہے جس کی بنا پر ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سائل کو یہ مشورہ دیا تھا کہ اگر تجھے تصاویر ضرور ہی بنانی ہیں تو پھر بے جان اشیا کی تصاویر بنایا کرو، کیونکہ اس صورت میں تم عذاب سے بچ جاؤ گے۔ 

رہا یہ مسئلہ کہ جان دار اشیا کی تصاویر کیوں ممنوع ہیں تو اس کے لیے وہ وہی روایت پیش کرتے ہیں، جس میں اللہ تعالیٰ نے تصویر بنانے والے کا جرم ’یخلق خلقاً کخلقی‘ (میرے تخلیق کرنے کی طرح تخلیق کرنا) قرار دیا ہے، کیونکہ ان کے خیال میں جان دار شے کی تصویر بنانا ، خدا کی تخلیق ہی کی مثل تخلیق کرنا ہے اور بے جان شے کی تصویر بنانا، خدا کی تخلیق کی مثل تخلیق کرنا نہیں ہے۔

اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ کیا اس استدلال میں کوئی غلطی پائی جاتی ہے۔ 

 

روایت کے رائج مفہوم پر تنقید

اس مضمون کے ابتدائی حصے میں رائج نقطۂ نظر پر تنقید کرتے ہوئے اس درج بالا استدلال پر ہم مفصل بحث کر چکے ہیں۔ یہاں ہم اس روایت پر ایک دوسرے پہلو سے غور کرتے ہیں۔ 

اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ تصویر کی حلت و حرمت کے حوالے سے کوئی اصول بیان نہیں کر رہے کہ اسلام میں جان دار کی تصویر بنانا حرام اور بے جان کی تصویر بنانا جائز ہے، بلکہ آپ ایک سائل کو اس کے خاص معاملے میں فتویٰ دے رہے ہیں اور اسے اس کی مجبوری کا حل بتا رہے ہیں۔ 

اور پھر مزید بات یہ ہے کہ اسلام میں تصویر کی حرمت کی اصل وجہ کیا ہے اور کیا نہیں ہے، اس سوال کا واضح جواب اس روایت سے سمجھنا اس لیے بھی غلط ہے کہ اس میں سائل کی فراہم کردہ وہ معلومات بیان ہی نہیں ہوئیں جو ابن عباس رضی اللہ عنہ کے سامنے بالکل عیاں تھیں۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ اس روایت میں سائل نے ’ہذہ التصاویر‘ (یہ تصاویر) کے اہم الفاظ بولے ہیں۔ یہ الفاظ سامنے کے اس مخاطب (ابن عباس رضی اللہ عنہ ) کے لیے بالکل واضح ہیں، کیونکہ وہ اسم اشارہ ’ہذہ‘ کے مشارالیہ ’التصاویر‘ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، لیکن کسی بھی غائب شخص  (Third Person) کے لیے یہ الفاظ سرتاسر غیر واضح ہیں۔ ان الفاظ سے یہ بالکل معلوم نہیں ہوتا کہ وہ خاص تصاویر جو یہ سائل بنایا کرتا تھا، وہ کس نوعیت کی تھیں۔ جب تک یہ بنیادی بات ہم پر واضح نہ ہو، ہم اس حدیث کی بنیاد پر یہ قیاس نہیں کر سکتے کہ ابن عباس نے سائل کو فلاں علت کی بنا پر تصاویر بنانے سے منع کیا تھا۔

لہٰذا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس مشورے سے تصویر کی حرمت کی علت دریافت کرنا یا کوئی اصول اخذ کرنا کسی صورت میں بھی درست نہیں ہے، خصوصاً جبکہ انھوں نے اس میں نہ علت کی حیثیت سے کوئی بات صریح الفاظ میں بیان کی ہے اور نہ کسی اصول ہی کا ذکر کیا ہے۔

ایک اور نکتہ یہ بھی قابل غور ہے کہ اگر اس رائے کو مان لیا جائے کہ روح والی اشیا یعنی جان دار ہی کی تصویر حرام ہے تو پھرصلیب کی وہ تصاویر بالکل جائز قرار پاتی ہیں، جنھیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہرگز گوارا نہ کرتے تھے اور آپ اس شے ہی کو توڑ دیتے یا اس کپڑے ہی کو پھاڑ دیتے تھے جس پر صلیب کی وہ تصاویر بنی ہوتی تھیں۔ 

اس کے علاوہ ایک عجیب اور بالکل ناقابل فہم بات جو اس رائے کو اختیار کرتے ہوئے ماننی پڑتی ہے، وہ یہ ہے کہ روح والی شے کی تصویر بنانا تو خدا کی تخلیق کی نقالی کرنا ہے اور بے روح یعنی بے جان شے کی تصویر بنانا خدا کی تخلیق کی نقالی کرنا نہیں ہے، حالانکہ جان دار اور بے جان، دونوں طرح کی اشیا بہرحال، خدا ہی کی تخلیق ہیں۔ ان دونوں کی نقالی کی جاسکتی ہے اور وہ نقالی لازماً نقالی ہی کہلائے گی۔ چنانچہ کوئی وجہ نہیں ہے کہ خدا کی بنائی ایک شے کی نقالی کو ممنوع اور دوسری شے کی نقالی کو جائز قرار دیا جائے۔ دونوں میں یہ فرق کرنا بالکل ناقابل فہم بات ہو گی۔

 

روایت کا صحیح مفہوم 

عربوں کی تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جس ماحول میں تشریف لائے تھے ، اس میں چاروں طرف شرک کے گھٹا ٹوپ اندھیرے چھائے ہوئے تھے۔ ملائکہ کی پرستش کی جاتی ،جنات پوجے جاتے ،چاند ، سورج اور ستاروں کی عبادت کی جاتی، پتھروں اور چٹانوں کو سجدہ کیا جاتا تھا۔ غرض طرح طرح کا شرک ان میں رائج تھا۔ سابقہ صفحات میں کئی جگہ پر یہ بات بیان ہوئی ہے کہ عربوں کے ہاں پائی جانے والی تصاویر ان کے شرک کا خاص مظہر تھیں، چنانچہ اسی بنا پر ان پر تنقید کی گئی اور ان کے مصوروں کو شدید عذاب کی وعید سنائی گئی۔

ذیل میں ہم اسی سے متعلق عربوں کی تاریخ سے بعض ایسے تفصیلی شواہد پیش کرتے ہیں جو ہمیں بالکل اس دور اور اس ماحول میں لے جاتے ہیں، جس میں خدا کی شریعت نازل ہوئی، صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے سمجھا اور لوگوں سے بیان کیا تھا۔

معبودوں کے بارے میں عربوں کے تصورات بیان کرتے ہوئے ’’ المفصل فی تاریخ العرب قبل الاسلام‘‘ کے مصنف ڈاکٹر جواد علی لکھتے ہیں:

’’عربوں کے ہاں بت، Draw کی ہوئی تصویروں، کُھدی ہوئی مورتوں اور گھڑے ہوئے مجسموں کی شکل میں پائے جاتے تھے۔‘‘ (۶/ ۷۰)

’’عربوں کا اپنے معبود لات کے بارے میں یہ تصور تھا کہ یہ دراصل، ایک آدمی تھا جو ایک چٹان کے اندر سما گیا تھا ۔ چنانچہ وہ آدمی ان کے ہاں معبود قرار دے دیا گیا۔ اس چٹان پر انھوں نے ایک عمارت بنا دی۔ پھر وہ چٹان لات کہلانے لگ گئی اور اس کی پرستش شروع ہو گئی۔‘‘ (۶/ ۶۸۔ ۶۹) 

’’عربوں کا یہ عقیدہ تھا کہ بتوں کے اندر ارواح پنہاں ہوتی ہیں۔ یہ ارواح لوگوں سے باتیں بھی کرتی ہیں اور انھی ارواح نے لوگوں کو وہ قصہ بھی الہام کیا تھا جو انھوں نے اس وقت بیان کیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بتوں کو ڈھانے کا حکم دیا تھا کہ جونہی مسلمان ان بتوں کو ڈھائیں گے ان کے اندر سے جن نکلیں گے۔ ‘‘(۶/ ۶۹)

’’عربوں کے اسی عقیدے کی بنا پر کہ بتوں کے اندر ارواح اور جنات پائے جاتے ہیں اور اگران بتوں کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو وہ ارواح اور جنات باہر نکل کر توڑنے والے کو ہلاک کر دیں گے، بعض (کمزور ایمان والے) ایسے لوگ جو بت توڑنے والوں میں شامل تھے ،وہ ڈر گئے۔‘‘ (۶ /۶۹)

’’عربوں کے ہاں بتوں کو مافوق الفطرت قوتوں کا نمائندہ یا مظہر قرار دیا جاتا تھا اور یہ بھی گمان کیا جاتا تھا کہ یہ مافوق الفطرت قوتیں ان بتوں کے اندر پنہاں ہیں۔ یہ بت انسانوں، حیوانوں اور پتھروں کی شکل کے ہوا کرتے تھے۔ انھیں پوجنے والوں کے درمیان ان کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں مشہور تھیں۔ ‘‘(۶ /۶۹) 

’’عرب بت پرست جن کلمات سے اپنے بتوں کو مخاطب کرتے تھے ، ان سے پتا چلتا ہے کہ وہ بتوں میں ارواح کو موجود سمجھتے تھے، چنانچہ وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ بت سنتے اور جواب دیتے ہیں۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ روح پتھر میں حلول کر جاتی ہے ۔ مالک بن حارثہ روایت کرتے ہیں کہ ان کا باپ انھیں دودھ دیا کرتا اور انھیں کہتا کہ وہ یہ دودھ ’’ود‘‘ بت کے پاس لے جائیں اور اسے پلائیں۔ مالک وہ سارا دودھ خود پی جاتے اور بت کے سامنے ایک قطرہ بھی نہ رکھتے۔ ...غرض یہ کہ عرب بتوں میں عقل، سمجھ، سماعت اور بصارت کی صفات کو مانتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ یہ بت باوجود پتھر ہونے کے ذی روح ہیں۔‘‘ (۶/ ۱۴۱۔ ۱۴۲ )

’’عرب بتوں کے لیے جو معبد بناتے ، ان میں بتوں کے سامنے ایسی جگہیں بنی ہوتیں، جہاں زائرین اپنے نذرانے ڈالا کرتے تھے۔ ان نذرانوں میں عام طور پر زیور ، سونے چاندی کی بنی ہوئی اشیا اور دوسری قیمتی چیزیں ہوا کرتی تھیں۔ اسی طرح یہ لوگ بتوں کا تقرب حاصل کرنے اور اپنی نذریں پوری کرنے کے لیے ان کے گلے میں تلواریں لٹکا دیتے اور قیمتی کپڑے ان کے اوپر ڈال دیتے تھے۔ عرب یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ان بتوں میں روحیں موجود ہوتی ہیں، چنانچہ یہ بت ان نذرانوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔‘‘ (۶/ ۱۸۸۔ ۱۸۹)

’’عربوں کا یہ تصور تھا کہ ان کا معبود ان کی طرف سے بھرپور دفاع کرتے ہوئے لڑتا ہے اور اس وجہ سے مختلف قبائل اور لشکر اپنے ساتھ اپنے معبودوں کی تصاویر اور ان کے مجسمے یا کچھ مقدس دینی علامات رکھتے تھے۔ وہ ان سے برکت حاصل کرتے اور جنگ میں نصرت طلب کرتے۔‘‘ (۶/ ۶۱) 

’’جب کوئی قبیلہ جنگ ہار جاتا تو وہ یہی سمجھتا کہ اس جنگ میں دراصل اس کا معبود ہار گیا ہے۔‘‘ (۶ /۱۰) 

ظاہر ہے، اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس مصور کو جو مشورہ بھی دیا ہے، وہ یہ دیکھ کر ہی دیا ہے کہ یہ شخص کون ہے ، کس ماحول میں رہتا ہے ، کس خاص نوعیت کی تصاویر بناتا ہے اور عربوں کے اس ماحول میں تصاویر کے حوالے سے وہ کیا مسئلہ پایا جاتا جس کی بنا پر مصوروں کو جہنم کے شدید عذاب کی وعید سنائی گئی ہے۔ 

چنانچہ ہمارے نزدیک اس روایت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ ابن عباس نے اس مصور سے کہا ہے کہ اگر تجھے ضرور تصویر بنانی ہے تو (تم ایسی شے یا ایسے وجود کی تصویر نہ بنایا کرو جس شے میں روح کے پائے جانے کا مشرکانہ تصور موجود ہو، بلکہ) اس درخت کی تصویر بنا لو (جس میں روح کے پائے جانے کا کوئی مشرکانہ تصور موجود نہیں ہے) اور اسی طرح ہر اس چیز کی تصویر بنا لو ،جس میں روح (کے پائے جانے کا کوئی مشرکانہ تصور موجود )نہ ہو۔

ابن عباس ہی کی وہ روایت جسے ہم پہلے بیان کر آئے ہیں اور جو سنداً زیادہ قوی بھی ہے، اس میں خود’’حبرالامۃ‘ ‘ نے اپنی روح والی اسی بات کو واضح طور پر بیان کر دیا ہے، یعنی یہ کہ وہ تماثیل جن کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا ہے کہ ان کی موجودگی میں فرشتے گھر میں داخل نہیں ہوتے، ان تماثیل سے آپ کی مراد ایسی تماثیل تھیں، جن میں (مشرکانہ عقائد کے مطابق) ارواح ہوتی ہیں۔

مشرکین مکہ لات ،عزیٰ ، منات اور دوسرے دیوی دیوتاؤں کی تماثیل کے بارے میں یہی خیال کرتے تھے کہ ان میں ارواح ہیں، چنانچہ یہی وجہ ہے کہ وہ ان کو حاجت روا سمجھتے، ان سے دعائیں مانگا کرتے اور آخرت میں ان کی شفاعت کی توقع رکھتے تھے۔ لہٰذا ہمارے خیال میں ابن عباس رضی اللہ عنہ اس دوسری روایت میں بھی بالکل وہی بات کہہ رہے ہیں جو انھوں نے پہلی روایت میں فرمائی ہے۔ 

 

نتیجہ 

اس پوری بحث کے بعد ہم بہت اطمینان سے یہ کہہ سکتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم بھی انھی تماثیل (تصاویر و مجسموں) کو ممنوع سمجھتے تھے، جومظہر شرک ہوتی تھیں۔

یہ بحث تصویر کے بارے میں فہم صحابہ سے متعلق تھی۔ اس کے بعد اب ہم یہ دیکھیں گے کہ تصویر کے حوالے سے صحابہ کے ہاں کیا عملی رویہ پایا جاتا تھا ۔