تیسری بحث


خارجی قوت کا زوال

تعمیر کا آغاز تخریب سے ہوتا ہے۔یورپ کا دور تعمیر بھی اس وقت شروع ہوا،جب صلیبی جنگوں میں انھیں مسلمانوں کے ہاتھوں بد ترین شکستیں ہوئیں۔یہی ہندوستانی مسلمانوں کے ساتھ ہوا۔ ان کے نئے دور کے آغاز کے لیے ضروری تھا کہ پرانی شکستہ عمارت گرجائے۔ چنانچہ۱۷۰۷ء سے ۱۸۵۷ء تک انہدام کا یہ عمل پورا ہوا۔اس دوران میں نئی عمارت کی تعمیر کا آغاز اس امت کے ایک بطل جلیل نے کردیا تھا ۔ اس کی تفصیل ہم آگے بیان کریں گے۔
ہندوستان پر مسلمانوں کا اقتدار کم و بیش ہزار سال تک رہا،مگر اس اقتدار کا سرچشمہ خارجی تھا، یعنی سارے حکمران باہر سے آئے تھے۔ اورنگ زیب کے بعد اس خارجی قوت کو زوال آنا شروع ہوا۔ یہ دراصل مسلمانوں کے اس بین الاقوامی علمی زوال کا نتیجہ تھا جو بغداد کی تباہی کے بعد شروع ہوا تھا۔ اس کا اثر ہندوستانی مسلمانوں پر بھی پڑا اور وہ بھی شاہ راہ زوال پر گامزن ہوگئے۔اس زوال کا ایک اہم محرک جہانگیر اور شاہ جہاں کے دورمیں پھیلنے والی عیش و عشرت کی فضا بھی تھی جس نے مسلمانوں کے قویٰ کو بالکل ضعیف کردیا۔ آخر سوچنے کی بات ہے کہ مرہٹوں کی جس قوت کو ابدالی نے ایک ضرب لگاکر توڑ ڈالا، اورنگزیب جیسا بہادرحکمران ربع صدی میں اسے کیوں نہ ختم کرسکا؟ بہرحال مسلمانوں کی دنیا پرستی رنگ لائی اور کابل سے برما تک پھیلی مسلم حکومت تھوڑے دنوں میں ہی دارالسلطنت دہلی کے اطراف تک محدود ہوگئی۔ اس دور کا ایک جملہ جو زبان زد خاص و عام ہوگیا تھا، صورت حال کی بہت اچھی منظر کشی کرتا ہے، یعنی سلطنت شاہ عالم از دہلی تا پالم۔

____________