چوتھی بحث


قومی تنزل اور اس کے اسباب

قیام پاکستان کے سا تھ اس خطے کی مسلم قومیت کو ایک الگ وطن اور علیحدہ شناخت مل گئی۔ ایک عظیم تہذیب ، ایک سپر پاور کے ظہورکے تمام امکانات جمع ہوچکے تھے۔یہ اتنی بڑی کامیابی تھی کہ جب اسے سنبھالا نہ گیاتو اس کا ردعمل شروع ہوا اور آخر کار قوم کو ایک دوسری انتہا تک لے گیا۔ بدقسمتی سے ہم اس بلند چوٹی کو عبور کرنے کے بعد اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکے۔ ہم لڑکھڑاکر گرے اور دور تک لڑھکتے چلے گئے۔ہمارے قومی خمیر میں بتدریج کچھ ایسے منفی عناصر جمع ہوگئے جو نتائج کے اعتبار سے تباہ کن ثابت ہوئے اور ہورہے ہیں۔ان میں قومی حوالے سے سب سے نمایاں چیز قومی عصبیت کی جگہ علاقائی عصبیت کا فروغ تھا۔جس کے نتیجے میں صرف ربع صد ی میں بنگلہ قومیت کی بنیاد پر ہمارا ایک حصہ ٹوٹ کر علیحدہ ہوگیا۔
تحریک پاکستان کو اگرایک جملے میں بیان کیا جائے تو یہ ملی بنیادوں پر ایک قوم کی تشکیل اور اس کے لیے جغرافیہ کے حصول کا عمل تھا۔اس عمل کے بنیادی محرکات دو تھے: ایک اسلام سے وابستگی اوردوسرے ہندو اکثریت کا خوف۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی دوسرا محرک جو زیادہ قوی تھا، ختم ہوگیا،جبکہ پہلے محرک کا شعور ابھی اتنا مضبوط نہ ہوا تھا کہ تنہا ایک نئی قوم کی تعمیر کرسکتا۔ اسلام کی واحد مشترکہ اساس جس پر پاکستانی قوم کی تعمیر و تشکیل کی جانی تھی، اس کا گہرا شعور مسلم اکثریت کے ان علاقوں جن میں پاکستان قائم ہوا ، موجود نہ تھا،اور اس کا سبب یہ تھا کہ یہاں کے مسلمان تعمیر ملت کے اس پورے عمل میں شریک ہی نہیں تھے جس کی طرف ہم نے اوپر اشارہ کیا۔
مسلم سلطنت کے آغاز ہی سے مسلم اقتدار کا مرکز ان علاقوں میں رہا جہاں مسلمان اقلیت میں تھے۔ مسلمانوں نے وہیں عروج حاصل کیا، وہیں زوال آشنا ہوئے اور تعمیر ملت کا کام شروع ہوا تو اس کا مرکز بھی وہی علاقے رہے۔ مسلم اکثریت کے علاقے ہندوستان کے وہ سرحدی صوبے تھے جہاں ابتدائی دور میں اہل علم و فضل اور مہاجرین کی آمد کے نتیجے میں اسلام تیزی سے پھیل گیا،مگر بعد میں یہ علاقے، مسلم سلطنت کا مرکزی حصہ نہ ہونے کی بنا پر، اہل علم و فضل کا مرکز نہ رہے اور نہ یہاں کے لوگوں کی تربیت ہوسکی ۔ خصوصاً بعد کے ادوار میں جب مجدد الف ثانی کے بعد سے ملی تشخص اور اسلامی حمیت کاایک گہرا احساس نمایاں ہوکر سامنے آنے لگا تھا۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ سید احمد شہید کے ساتھ جو کچھ ہوا، ایک مسلم اکثریتی علاقے میں ہی ہوا۔
مزید براں یہ کہ ان علاقوں میں جاگیرداری اور قبائلی طرز زندگی کی گرفت بہت مضبوط رہی ہے۔ جاگیردار اور قبائلی سرداروں کو یہ گوارا نہیں کہ ان کے زیردست علاقوں میں کسی قسم کا بھی شعور عام ہو، خواہ وہ اسلامی شعور ہی کیوں نہ ہو۔عوام کے بے شعور رہنے میں ہی ان کا مفاد وابستہ ہے۔ بدقسمتی سے شہری علاقوں کے مقابلے میں ان کی اکثریت ہے ، اس لیے قیام پاکستان سے لے کر آج تک یہ لوگ ملک کے سیاسی منظر نامے پر چھائے ہوئے ہیں۔
ان حالات میں قوم کی تعمیروتشکیل کے لیے دو چیزوں کی موجودگی لازمی تھی:ایک یہ کہ سیاسی قیادت کے پاس قومی تعمیر کا واضح نقشہ موجود ہو،مگر معاملہ یہ تھا کہ پاکستان اتنی جلدی میں بنا کہ تعمیر قوم کا کوئی نقشہ سامنے تھا نہ اسے بنانے کا وقت کسی کے پاس تھا۔تحریک پاکستان کی بنیاد جذبات پر رکھی گئی تھی۔مثلاً اسلام کے نفاذ کا جذبہ ، ہندوؤں اور انگریزوں سے نجات کا جذبہ، تاہم قوم کی تعمیر جذباتیت پر نہیں ، ٹھوس منصوبہ بندی کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ بالخصوص قوم کے مختلف گروہوں کے حقوق و فرائض کا مسئلہ بڑا اہم ہوتا ہے، مگر پاکستان حاصل کرنے والی قیادت کے پاس اتنا وقت نہیں تھا اور قیام پاکستان کے ساتھ ہی وہ فطری یا غیر فطری موت کے بعد ایسی قیادت کے لیے جگہ خالی کرگئی جو انتہائی نااہل ، کم حوصلہ اور مفاد پرست لوگوں پر مشتمل تھی۔ وہ لوگ قومی تعمیر کا صبر آزما کام کیا کرتے جو ایک فالج زدہ گورنر جنرل کو سیاسی عمل میں بے جا مداخلت سے نہ روک سکے۔
دوسری چیز جس کی عد م موجودگی صورت حال کو سنگین کرنے کا سبب بنی، وہ اسلامی بنیادوں پر قومی شعور اور ثقافت کی تشکیل تھی۔جس طرح ہماری سیاسی قیادت قومی تعمیر کے معاملے میں ناکارہ ثابت ہوئی ، اسی طرح ہماری مذہبی اور فکری قیادت اس میدان میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی، بلکہ یہ لوگ تو اس کام کی اہمیت کا ادراک بھی نہ کرسکے۔ بدقسمتی سے ان لوگوں نے قوم کے بجاے آئین کو اور اصلاح کے بجاے اقتدار کو اپنی منزل بنالیا۔یہ لوگ اگر مثبت بنیادوں پر قوم کی تربیت شروع کردیتے تو قیام پاکستان کے ربع صدی بعد ہماری تاریخ میں ۱۹۷۱ء نہیں آتا ، بلکہ قوم کی تعمیر و شناخت کا مرحلہ بہت جلد دور ترقی واستحکام میں تبدیل ہوجاتا، مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا۔ملی احساس کو جب شعوری بنیادیں میسر نہ ہوئیں تو قومی یکجہتی مدھم پڑنے لگی۔سونے پہ سہاگہ یہ ہوا کہ مغربی پاکستان کی کوتاہ بین سیاسی قیادت نے بنگالی اکثریت میں شدید احساس محرومی پیدا کردیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قوم اور جغرافیہ ، دونوں تقسیم ہوگئے۔سقوط ڈھاکہ کے نتیجے میں ہماری قومی عصبیت کے پرخچے اڑ گئے۔ وہ عصبیت جس کے بغیر کوئی قوم دنیا میں سرفرازی حاصل نہیں کرسکتی۔ بدقسمتی سے سیاسی ، مذہبی اور فکری طبقات اپنی پرانی روش پر ابھی تک گامزن ہیں، اس لیے بچے کھچے پاکستان میں بھی قومی عصبیت کے بجاے صوبائی اور لسانی عصبیت غالب ہے اور یہ رجحان وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جارہا ہے۔

____________