کسی قوم کا دور تشکیل صدیوں پر بھی محیط ہوسکتا ہے۔ تاہم جب ایک قوم اس مرحلے سے گزر جاتی ہے تو وہ اپنی ایک انفرادی شناخت بنالیتی ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب قوم کے مختلف گروہ اپنی الگ الگ خصوصیات کو بتدریج ایک قومی حوالے میں ضم کردیتے ہیں۔ یہ قومی حوالہ اس قوم کا اجتماعی قومی مزاج ہوتا ہے جس کے زیر اثر قوم کے افراد میں وہ منفرد خصوصیات پیدا ہونے لگتی ہیں جو انھیں دوسری اقوام سے ممتازکرتی ہیں۔ وہ عصبیت جسے ابن خلدون غیر معمولی اہمیت دیتا ہے، اب واضح طور پر قومی جذبات میں نظر آنا شروع ہوجاتی ہے۔اس مرحلے کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ اس کے اندر سے ایسے زندہ افراد پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں جو اپنی قوم کو سر بلندی اور عظمت کے مقام پر پہنچا ناچاہتے ہیں۔ وہ اسے اقوام عالم میں ممتاز دیکھنا چاہتے ہیں۔ دوسری اقوام کے مقابلے میں اس کی برتری کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اس دور میں مختلف شعبہ ہاے حیات میں قوم کے افراد نمایاں کارنامے سر انجام دینے لگتے ہیں۔
اس مرحلے پر قوم واضح طور پر اپنے لیے ایک راہ عمل کا تعین کرتی ہے۔ اس سے قبل زمانہ اس کا فاعل تھا ، مگر اب وہ اپنی راہ خود تلاش کرتی ہے۔ دور تشکیل میں چونکہ قوم حالات کے رحم و کرم پر ہوتی ہے ، اس لیے اچھی یا بری ، دونوں خصوصیات اور رویے قوم میں پیدا ہوجاتے ہیں۔ لیکن تعمیر کا مرحلہ آنے پر ایسے مصلحین اٹھتے ہیں جو قوم کی رہنمائی کرکے اسے یہ بتاتے ہیں کہ کون سی خوبیاں ایسی ہیں جو انھیں اپنے اندر برقرار رکھنی چاہییں اور وہ کون سی خصوصیات ہیں جن سے اسے چھٹکارا حاصل کرنا چاہیے۔ اس طرح وہ اس کے قومی مزاج کی تشکیل نو کرتے ہیں۔
ایسا نہیں ہوتا کہ اس دوران میں تاریخ اور فطرت اپنا عمل چھوڑدیتے ہیں۔مسائل اب بھی سر اٹھاتے ہیں، حادثات اب بھی جنم لیتے ہیں ۔ ہر آن قوم کو نت نئے چیلنجز درپیش رہتے ہیں ، مگر اب قوم میں وہ میکنزم جنم لے لیتا ہے جو ہر مشکل موقع پر قوم کے رد عمل کا مظاہرہ کرتا ہے۔ہم یہ دعویٰ نہیں کررہے کہ لازماً قوم ان تمام چیلنجز سے کامیابی سے عہدہ برآ ہوجاتی ہے جو اس کے قومی وجود کو درپیش ہوتے ہیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ اب قوم میں حالات کا جواب دینے کی اور اپنے تحفظ و بقا کی جنگ لڑنے کی صلاحیت پیدا ہوجاتی ہے۔
اس دور میں کسی قوم کو دھچکے بھی لگتے ہیں، ترقی معکوس کی سی کیفیت بھی بعض اوقات پیش آجاتی ہے ، لیکن اگر قوم میں جان ہے اورحالات کا جبر اس کی استعداد سے باہر نہیں تو آخر کار وہ بحران کی کیفیت سے باہر نکل آتی ہے۔بحران کی یہ کیفیت اندرونی حالات کے تحت بھی پیش آتی ہے اور کسی خارجی چیلنج کی بنا پر بھی ۔یہ مرحلہ تشکیل کے دور کی طرح طویل تو نہیں ہوتا ، مگر بے حد ہنگامہ خیز ہوتا ہے جس میں قومی زندگی مسلسل ایک تلاطم سے دوچار رہتی ہے۔ دراصل یہی ہنگامہ خیزی اور حالات کا دباؤ ہوتا ہے جو اس قوم کے اندر وہ امکانات پیدا کردیتا ہے جو مستقبل میں اس کے عروج کا سبب بنتے ہیں۔ اگر قوم اس دباؤ کا سامنا کامیابی سے کرلیتی ہے تو اس کے بعد اس کے لیے ترقی و استحکام کی راہیں کھلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ اور اگر وہ ایسا نہیں کرپاتی تو یا صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہے یا پھر ایک طویل عرصے کے لیے کاروبار عالم سے بے نیاز ہوکر ایک معذور کی طرح دوسروں کی دی ہوئی زندگی کی بھیک پر جیتی ہے۔مختصر یہ کہ اس دور میں قوم میں زندہ افراد پیدا ہوتے ہیں جو ایک طرف قوم کی ذہنی اور عملی تعمیر کرتے ہیں اور دوسری طرف ان چیلنجز سے نبرد آزما ہوتے ہیں جو قومی وجود کی بقا کو خطرے میں ڈال دیتے ہیں۔
اس دور کی ایک نمایاں مثال مسلمانوں کی تاریخ میں اس دور سے ملتی ہے جو حضرت عثمان کی شہادت سے شروع ہوتا ہے اور عبد الملک بن مروان کے دور تک چلا جاتا ہے۔یہ چالیس سالہ دور انتہائی ہنگامہ خیز ہے جس میں خلافت راشدہ کے خاتمہ اور نواسۂ رسول کی مظلومانہ شہادت کے واقعات بھی ہوتے ہیں ، مگر اس کے باوجود بنو امیہ کی بیدار مغز قیادت تمام مسائل پر قابو پاکر امت مسلمہ کو ترقی و عظمت کی راہوں پر ڈال دیتی ہے ۔ 
اس دور کی ایک اور نمایاں مثال یورپ کے عروج کے عمل میں ہمیں نشاۃ ثانیہ (Renaissance) اور مذہبی اصلاح (Reformation) کے دور میں نظر آتی ہے۔عین اس وقت جب یورپی اقوام بادشاہ ، پوپ اور جاگیرداروں کے شکنجہ میں آخری حد تک جکڑ گئی تھیں ، وہاں مسلمانوں کے اثر سے قومی تعمیر کا عمل شروع ہوگیا۔ ان میں مسلسل ایسے بڑے بڑے لوگ پیدا ہوتے گئے جنھوں نے یورپ کو ایک نئی شناخت اور نئی زندگی دی اوریوں یورپی اقوام کے عروج کی بنیاد رکھ دی۔

____________