۲۱۔طلاق اور طلاق دینے کا طریقہ ۳۳؂

ہمارے ہاں اکثر لوگ طلاق دینے کے طریقے سے نا واقف ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر شوہر تین دفعہ طلاق کہہ دے تب ہی بیوی کی اس سے علیحدگی ہوگی۔ یہ نقطۂ نظر اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن مجید کے خلاف ہے۔ قرآن مجید کے مطابق شوہر کے صرف ایک دفعہ ہی طلاق کہنے سے بیوی کو طلاق ہوجاتی ہے۔
نیز طلاق کے بارے میں اور بھی بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں جن سے مندرجہ ذیل سوال پیدا ہوتے ہیں:

ا ۔ کیا خواتین کو طلاق دینے کا حق ہے؟
ب۔ کیا بیوی طلاق لینے کے لیے کو شوہر کو مال و دولت دینا چاہیے؟
ج۔ طلاق دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے ؟
د۔ غلط طریقے سے دی گئی طلاقوں سے کیسے نبرد آزما ہوا جائے؟
ہ۔ طلاق کے بعد اولاد کس کی سرپرستی میں دی جائے گی؟
اب ہم ان سوالوں کے جواب الگ الگ دیتے ہیں:

ا ۔ طلاق دینے کا حق

جب ایک مرد اور ایک عورت ایک دوسرے سے شادی کے بندھن میں بندھتے ہیں تو ان کی فطری خواہش ہوتی ہے کہ وہ اس بندھن میں ہمیشہ بندھے رہیں۔ وہ اس بات کے خواہش مند ہوتے ہیں کہ حالات کی تبدیلی ان کے اس عہد کو تبدیل نہ کرسکے اور صرف موت ہی انھیں اس دنیا میں ایک دوسرے سے جدا کرے۔ لیکن بعض اوقات صورت حال ایسی ہوجاتی ہے کہ ان دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات اتنے بڑھ جاتے ہیں کہ یہ رشتہ توڑنا ضروری ہوجاتا ہے۔ جب اس طرح کی صورت حال پیدا ہوجائے کہ وہ اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیں گے تو میاں اور بیوی کو ایک دوسرے سے جدا ہوجانا چاہیے۔اسلام میاں بیوی کے ایک دوسرے سے جدا ہونے کا ایک مخصوص طریقہ تجویز کرتا ہے۔
قرآن کی اصطلاح میں شادی کے منسوخ ہونے کو طلاق کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید کے نزدیک مرد اور عورت، دونوں کو طلاق کا یکساں حق حاصل ہے، فرق صرف یہ کہ آدمی طلاق دیتا ہے اور عورت شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے۔ مندرجہ ذیل آیت سے واضح ہے کہ طلاق دینے کا حق مرد کو حاصل ہے:

بِیَدِہٖ عُقْدَۃُ النِّکَاحِ. (البقرہ ۲: ۲۳۷)
’’اس (شوہر)کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے۔ ‘‘

خواتین اگر چاہیں تو شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرسکتی ہیں۔ اگر شوہر بیوی کے مطالبے پر بھی طلاق دینے سے انکار کردے تو بیوی اس بات کا حق رکھتی ہے کہ معاملے کو عدالت میں لے جائے۔ تب طلاق کا فیصلہ عدالت کے حکم پر ہوگا۔
عقل و منطق کا تقاضا ہے کہ طلاق دینے کا حق گھر کے سربراہ کے پاس ہونا چاہیے۔ قرآن کے مطابق چونکہ شوہر خاندان کا سربراہ ہے، اس لیے یہ حق اسے دیا گیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ حق کسی کو مرد یا عورت ہونے کی بنا پر نہیں دیا گیا، بلکہ گھر کا سربراہ ہونے کی بنا پر دیا گیا ہے۔ چنانچہ جو بھی سربراہ ہو، اسے ہی یہ اختیار ملنا چاہیے۔ اگر خواتین سربراہ ہونے کے لیے موزوں ہوتیں تو یقیناًیہ حق انھیں دیا جاتا۔

ب۔ کیا بیوی کو طلاق لینے کے لیے شوہر کو مال و دولت دینا چاہیے؟

ایک عام غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ جب بیوی شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرتی ہے تو اسے علیحدگی کے موقع پر لازماً اپنے شوہر کو کچھ مال دینا چاہیے۔ قرآن مجید میں اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اس کے برعکس قرآن مجید کہتا ہے کہ شوہر کے لیے بالکل بھی جائز نہیں کہ وہ اس موقع پر اپنی بیوی سے کوئی تقاضا کرے۔ البتہ اس معاملے میں دو صورتیں مستثنیٰ ہوں گی:

۱۔اگر شوہر نے اپنی بیوی کو ڈھیروں دولت اور جایداد دے رکھی ہو اور اسے اس بات کا اندیشہ ہو کہ بیوی کو طلاق دینے کے بعد اس کی ساری دولت بھی اس سے چھن جائے گی تواس ضمن میں قرآن مجید کہتا ہے کہ معاملے کو ختم کرنے سے پہلے بیوی شوہر کی کچھ یا ساری دولت لوٹا کر اپنی جان چھڑا سکتی ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ یہ ایک استثنا ہے، کوئی اصول نہیں جیسا کہ عام طور پر اسے اصول سمجھا جاتا ہے ۔چنانچہ یہ صرف اس صورت میں جائز ہوگا جب شوہر بیوی کو اس اندیشے سے طلاق نہ دے رہا ہو کہ وہ نہیں چاہتاکہ اس کی دولت اور جایداد طلاق کی وجہ سے اس کی بیوی لے جائے۔ قرآن مجید میں ہے:

وَلَا یَحِلُّ لَکُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّا اٰتَیْتُمُوْہُنَّ شَیْءًا اِلَّآ اَنْ یَّخَافَآ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلاَّ یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰہِ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِہٖ تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ فَلَا تَعْتَدُوْہَا وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوْنَ.(البقرہ ۲: ۲۲۹)
’’اور تمھارے لیے جائز نہیں ہے کہ تم نے جو کچھ اِن عورتوں کو دیا ہے، اس میں سے کچھ بھی (اس موقع پر) واپس لو۔یہ صورت، البتہ مستثنیٰ ہے کہ دونوں کو حدودالٰہی پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ۔ پھر اگر تمھیں بھی اندیشہ ہو کہ وہ حدود الٰہی پر قائم نہیں رہ سکتے تو (شوہر کی دی ہوئی)ان چیزوں کے معاملے میں اُن دونوں پر کوئی گناہ نہیں ہے جو عورت فدیے میں دے کر طلاق حاصل کر لے ۔ یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں۔ سو ان سے آگے نہ بڑھو ۔ اور (جان لو کہ) جو اللہ کے حدود سے آگے بڑھتے ہیں، وہی ظالم ہیں۔ ‘‘

۲۔ اگر بیوی نے کسی بد کاری کا ارتکاب کیا ہو۔ چونکہ اس نے اپنے اس فعل سے شادی کی بنیادوں کو منہدم کردیا ہے۔ لہٰذاشوہر کو اجازت دی گئی ہے کہ اگر اس نے کوئی تحفہ یا دولت بیوی کو دی تھی تو وہ اس کی بے وفائی کرنے کی وجہ سے واپس لے سکتا ہے۔اس سلسلے میں قرآن مجید میں ہے:

وَلَا تَعْضُلُوْہُنَّ لِتَذْہَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَیْتُمُوْہُنَّ اِلَّآ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ... وَاِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّکَانَ زَوْجٍ وَّاٰتَیْتُمْ اِحْدٰہُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْہُ شَیْءًا اَتَاْخُذُوْنَہٗ بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا وَکَیْفَ تَاْخُذُوْنَہٗ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ وَّاَخَذْنَ مِنْکُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا.(النساء ۴: ۱۹۔۲۱)
’’اور نہ یہ جائز ہے کہ جو کچھ انھیں دے چکے ہو، اس کا کچھ حصہ اڑا لینے کے لیے انھیں تنگ کرو، ہاں اس صورت میں کہ وہ کھلی ہوئی بدچلنی کی مرتکب ہوں...اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانا چاہو تو خواہ تم نے اسے ڈھیروں مال دیا ہو، اُس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔ کیا تم بہتان لگا کر اور صریح حق تلفی کر کے اسے واپس لوگے ؟ اور آخر کس طرح لو گے ، جبکہ تم ایک دوسرے کے لیے بے حجاب ہو چکے ہو اور (نکاح کے موقع پر)وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں ۔‘‘

ج۔ طلاق دینے کا صحیح طریقہ

اگر شوہر نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو اسے عورت کے حیض کے ختم ہونے کا انتظار کرنا ہوگا۔ پھر جنسی تعلق قائم کیے بغیر اسے ایک دفعہ طلاق دینی ہوگی۔ اس طرح طلاق ملنے کے بعد بیوی کو تین حیض تک شوہر کے گھر رہنا ہوگا۔ اس مدت کو عدت کہتے ہیں۔ اگر کسی خاتون کی حیض کی عمر گزر چکی ہو یا اسے کوئی ایسی بیماری ہو جس میں حیض کی عمر تک پہنچنے کے باوجود حیض نہ آتا ہو اورپھر بھی اس کے حاملہ ہونے کا امکان ہو تو اسے تین مہینے انتظار کرنا ہوگا۔ حاملہ عورت کی عدت کی مدت وضع حمل، یعنی بچے کی پیدایش تک ہوگی ۔
اگر کسی نئے شادی شدہ جوڑے کی جنسی تعلق قائم ہونے سے پہلے طلاق ہوجائے تو بیوی کو کسی عدت کی ضرورت نہیں۔ قرآن مجید کے مطابق عدت گزارنے کی ایک ہی بنیادی وجہ ہے:مطلقہ کے بارے میں یہ یقین کے ساتھ تعین ہوجائے کہ وہ حاملہ ہے یا نہیں تاکہ بچے کے نسب کے بارے میں کوئی شک وشبہ نہ رہے۔عدت کا ایک ضمنی فائدہ یہ بھی ہے کہ اس دوران شوہر اور خاندان کے دوسرے افراد کو اس ناچاکی کا ازالہ کرنے کا موقع مل سکے۔ یہ اس لیے ہے کہ جب جذبات مشتعل ہوتے ہیں تو ان کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بعض اوقات وقت درکار ہوتا ہے۔
عدت کے دوران مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے:

۱۔شوہر بیوی کو گھر سے باہر نہیں نکال سکتا، سوائے اس کے کہ بیوی نے زنا کا ارتکاب کیا ہو، اور نہ ہی بیوی کو خود گھر چھوڑ کر جانا چاہیے۔
۲۔ اگر عورت حمل سے ہے تو اسے اپنے حمل کو چھپانا نہیں چاہیے۔
۳۔شوہر کو عدت کے دوران بیوی کو نان ونفقہ مہیا کرتے رہنا چاہیے۔
۴۔شوہرکی سوچ میں اگر تبدیلی واقع ہوتی ہے تو وہ اپنا ارادہ منسوخ کرسکتا ہے۔ قرآن کی رو سے اس کے لیے صرف ایک چیز کی ضرورت ہوگی اور وہ یہ ہے کہ وہ دوثقہ آدمیوں کو اپنے فیصلے پر گواہ بنائے۔
اگر عدت کی مدت پوری ہونے کے بعد شوہر اپنے ارادے پر قائم رہتا ہے تو اس کی بیوی ہمیشہ کے لیے علیحدہ ہوجائے گی۔ وہ اب ایک آزاد عورت ہے اور اگر وہ چاہے تو کسی دوسرے مرد سے شادی کرنے کا پورا حق رکھتی ہے اور کسی صورت میں بھی سابقہ شوہر کو اس کی شادی میں مزاحم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر حالات بدل جاتے ہیں اور دونوں رضامند ہوجاتے ہیں تو دونوں دوبارہ آپس میں شادی کرسکتے ہیں۔مزید برآں قرآن مجید اس بات پر بہت زیادہ زور دیتا ہے کہ علیحدگی کے وقت شوہر کے لیے مناسب نہیں کہ اس نے بیوی کو جو جایداد یا تحفے دیے ہیں، وہ اس سے واپس لے۔ ۳۴؂
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ صرف مہر واپس نہ لینے کا ذکر نہیں ہے، بلکہ ہر قسم کی چیز یا تحفہ، جو وہ اپنی بیوی کو دے چکا ہے، وہ اسے واپس نہیں لینی چاہیے۔ بلکہ یہ اس کی مردانگی کا تقاضا ہے کہ اسے علیحدگی کے وقت بیوی کو کچھ دے دلا کر رخصت کرے، یہاں تک کہ اگر مہر کی رقم مقرر نہ کی گئی ہو تب بھی وہ اسے کچھ دے دلا کر رخصت کرے اور اگر مہر کی رقم تو مقرر ہوچکی ہو، لیکن ان کے درمیان تعلق پیدا ہونے سے پہلے طلاق کی نوبت آجائے تو شوہر کو مہر کی آدھی رقم ادا کرنی چاہیے۔ البتہ اگر بیوی خود مہر معاف کردے تو پھر شوہر مہر کی ادائیگی کا پابند نہیں ہے، لیکن اس کی طرف سے پسندیدہ بات یہی ہے کہ وہ اسے مہر کی پوری رقم ادا کرے۔
تاہم شوہرعدت کے دوران اگر چاہے تو طلاق کا اپنا فیصلہ واپس لے سکتا ہے۔ عدت کے دوران رجوع کرنے پرانھیں دوبارہ شادی کرنے کی ضرورت نہیں، دونوں میاں بیوی ہی تصور کیے جائیں گے۔اگر کسی وجہ سے طلاق منسوخ ہوجائے اور زندگی میں آیندہ کسی وقت شوہر اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ کرے تو قرآن مجید کے نزدیک شوہر طلاق دینے کا حق دوسری مرتبہ بھی استعمال کرسکتا ہے۔ دوسری مرتبہ بھی اسے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لیے صرف ایک دفعہ ہی طلاق کا لفظ استعمال کرنا چاہیے۔
دوسری دفعہ طلاق ملنے پر بھی عورت کو عدت کے اسی مرحلے سے گزرنا ہوگا جو اوپر بیان کیا جاچکا ہے۔ ایک دفعہ پھر شوہر کے پاس موقع ہے کہ وہ عدت کے دوران اپنے فیصلے کو واپس لے لے۔ اس صورت میں طلاق منسوخ ہوجائے گی اوران دونوں کو پھر سے میاں بیوی تصور کیا جائے گا۔ اگر بدقسمتی سے تیسری مرتبہ پھر یہی صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ طلاق تک نوبت پہنچ جائے توشوہر اس حق کو تیسری دفعہ بھی استعمال کرسکتا ہے اور طلاق کا لفظ ایک ہی مرتبہ کہے۔
تیسری طلاق کے بعد بیوی اس سے ہمیشہ کے لیے علیحدہ ہوجائے گی۔ اس عدت کے دوران شوہر کو اپنی بیوی کو گھر اورنان ونفقہ دینا ہوگا، اگرچہ اس میں ان دونوں کا اکٹھے رہنا ضروری نہیں۔ اب تیسری طلاق کے بعد وہ اس سے شادی نہیں کرسکتا، جب تک کہ وہ خاتون کسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرے اور اس شخص سے بھی کسی وجہ سے اگر اسے طلاق ہوجائے اور یہ طلاق کسی منصوبہ بندی کے تحت نہیں دی جانی چاہیے، بلکہ فطری طور پر حالات ایسے پیدا ہوجائیں کہ ان دونوں کو جدا ہونا پڑے۔ اس آخری طریقۂ کار کا مقصد یہ ہے کہ شادی بچوں کا کھیل نہ بن جائے اور مرد کو تنبیہ ہو کہ وہ اپنے حق کا غلط استعمال نہ کرے۔ قرآن مجید کے الفاظ ہیں:

اَلطَّلَاقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌم بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِیْحٌم بِاِحْسَانٍ. (البقرہ ۲: ۲۲۹)
’’وہ طلاق (جس میں مرد طلاق دے کر عدت کے دوران بیوی کو واپس لوٹا سکتا ہے)یہ حق اسے دو دفعہ حاصل ہے اور اس کے بعداس کو یا بھلے طریقے سے روک لو یا پھر بھلے طریقے سے جانے دو۔‘‘

ان تفصیلات سے یہ بات واضح ہے کہ قرآن مجید ایک دفعہ طلاق کہنے کو کافی سمجھتا ہے اوریہ بات واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ ایک شادی کے بندھن میں شوہر تین دفعہ بیوی کو طلاق دے سکتا ہے۔ یہ قرآن میں کہیں سے بھی ثابت نہیں ہوتا کہ تینوں طلاقیں ایک ہی دفعہ دی جائیں۔ لہٰذا ان تفصیلات سے واضح ہے کہ ایک ہی وقت میں تین طلاقیں دینا قرآن کی رو سے درست نہیں ہے۔
ایک موقع پر جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ کسی آدمی نے اپنی بیوی کو یکے بعد دیگرے تینوں اکٹھی طلاقیں دے دی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’أَیُلْعَبُ بِکِتَابِ اللّٰہِ وَأَنَا بَیْنَ أَظْہُرِکُمْ‘ (کیا اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ کھیلا جارہا ہے جبکہ میں تمھارے درمیان موجود ہوں)۔ ۳۵؂

د۔ غلط طریقے سے دی گئی طلاق سے کیسے نبرد آزما ہوا جائے؟

قرآن مجید کے نزدیک طلاق دینے کا یہی صحیح طریقہ ہے جو اوپر بیان کیاگیا ہے۔ بعض اوقات صورت حال ایسی ہوجاتی ہے کہ شوہر غلط طریقے سے طلاق دے دیتا ہے اور پھر صحیح طریقے کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے اسے پچھتانا پڑتا ہے۔ انسان کی فطرت ایسی ہے کہ بعض اوقات وہ جذبات کی شدت میں بہ کر اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے کی خلاف ورزی کر بیٹھتا ہے۔ یہ خلاف ورزی بالکل واضح ہے کہ شریعت کا حصہ نہیں ہوتی۔ یہ قانون کی خلاف ورزی کرنے کے مترادف ہے۔ اب یہ ملک کے قانون ساز اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس طرح کے معاملات میں قانون سازی کریں۔ بعض اوقات اس طرح کے معاملات کو جج کی صواب دید پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور بعض اوقات جج اس معاملے میں خود پارلیمان کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرنے کا پابند ہوتا ہے۔
طلاق دینے کی مختلف صورتوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس ضمن میں بالعموم دو قسم کی خلاف ورزیاں اور انحرافات سامنے آتے ہیں:
۱۔ کوئی شوہر حیض کے دوران اپنی بیوی کو طلاق دے دے یا پھر طہر کے ان دنوں میں اسے طلاق دے جن میں اس نے اپنی بیوی سے صنفی تعلق قائم کیا ہو۔
۲۔ شوہر بیوی کو اکٹھی تین طلاقیں دے دیتا ہے۔
جہاں تک پہلی قسم کی خلاف ورزی کا تعلق ہے تو ایک اسلامی حکومت شوہر سے کہہ سکتی ہے کہ وہ اپنا فیصلہ واپس لے اوراس معاملے کو صحیح وقت پر صحیح طریقے سے آگے بڑھائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی غلط طریقے سے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا کہ عبدااللہ بن عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حیض کے دوران اپنی بیوی کو طلاق دی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت ناراض ہوئے اور فرمایا:

مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْہَا ثُمَّ لِیُمْسِکْہَا حَتّٰی تَطْہُرَ، ثُمَّ تَحِیْضَ، ثُمَّ تَطْہُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَکَ بَعْدُ وَإِنْ شَاءََ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ یَّمَسَّ فَتِلْکَ الْعِدَّۃُ الَّتِیْ أَمَرَ اللّٰہْ أَنْ تُطَلَّقَ لَہَا النِّسَاءُ. (بخاری، رقم۴۹۵۳)
’’اس سے کہو، اسے واپس اپنی طرف لوٹائے، یہاں تک کہ پاک ہو، پھر اسے حیض ہو، پھر پاک ہو، پھر تم اس کے بعد چاہو تو اسے روک لو اور چاہے تو چھونے سے پہلے طلاق دے دو۔ یہ وہ طریقہ ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس طرح اپنی بیویوں کو طلاق دو۔‘‘

جہاں تک دوسری قسم کی خلاف ورزی کا تعلق ہے (یعنی اکٹھے تین طلاقیں دینا)، تو عربی زبان کی رو سے اس مسئلے کے تین ممکنہ حل ہیں:

ا۔ شوہر عدالت سے رجوع کرے اور عدالت اس طریقے سے دی گئی طلاق کی قانونی حیثیت اس سے دریافت کرے ۔ اگر شوہر یہ حلفاًگواہی دیتا ہے کہ اس نے تین دفعہ طلاق صرف غصہ کے عالم میں دی تھیں اور طلاق دینے کا اس کا اصلًاکوئی ارادہ نہیں تھا یا اسے یہ معلوم تھا کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ ہی یہی ہے کہ تین مرتبہ اکٹھی طلاق دی جائے تو پھر عدالت اگر اس کے بیان سے مطمئن ہوجائے تو وہ میاں بیوی کودوبارہ اکٹھے رہنے کا حکم دے سکتی ہے۔ دوسری صورت میں اگر شوہر یہ گواہی دیتا ہے کہ میں نے شعوری طور پر ایک ہی دفعہ تین طلاقیں دی ہیں اور اپنا تین دفعہ طلاق دینے کا حق ایک ہی دفعہ استعمال کردیاہے توپھر بیوی اس سے ہمیشہ کے لیے علیحدہ ہوجائے گی۔ رکانہ ابن عبد یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے معاملے کا فیصلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا تھا اور ان کی نیت کو ملحوظ رکھ کے فیصلہ کیا، نہ کہ ان کے الفاظ کو۔۳۶؂
۲۔اس معاملے میں دوسرا حل یہ ہے کہ ریاست جب دیکھے کہ لوگوں نے اس معاملے میں لاپروائی کا رویہ اختیار کیا ہوا ہے تو وہ قانون بنا سکتی ہے کہ تین دفعہ طلاق کہنے کو تین دفعہ طلاق ہی سمجھا جائے گا، چاہے یہ شوہر نے غصے میں آکر بلا ارادہ ہی کیوں نہ طلاق دی ہو۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایسا ہی کیا گیا تھا۔ انھوں نے جب یہ دیکھا کہ لوگ طلاق دینے کے معاملے میں لاپروائی کا رویہ اختیار کررہے ہیں تو انھوں نے ریاست کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے یہ قانون بنا دیا کہ سزا کے طور پر ایک ہی دفعہ تین مرتبہ دی گئی طلاق کو حتمی طلاق سمجھا جائے گا۔ ۳۷؂
۳۔ اس مسئلے کا تیسرا حل یہ ہے کہ ریاست جب اس حقیقت کا مشاہدہ کرے کہ لوگ طلاق دینے کے صحیح طریقے سے روگردانی کررہے ہیں اور انھیں یہ غلط فہمی ہے کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ یہی ہے کہ تین دفعہ اکٹھے طلاق کا لفظ بولا جائے تو وہ یہ قانون سازی کرسکتی ہے کہ تین دفعہ دی گئی طلاق کو ایک ہی سمجھا جائے۔
مسلمانوں کی مصلحت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان تینوں میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے۔ تاہم دوسرا اور تیسرا طریقہ اختیارکرنے کی صورت میں ضروری ہے کہ اس کے حق میں باقاعدہ قانون سازی کی جائے، لیکن جہاں تک پہلے طریقے کا تعلق ہے تو اس کے لیے کسی قانون سازی کی ضرورت نہیں اور معاملہ عدالت کی صواب دید پر چھوڑا جاسکتا ہے۔

ہ۔ طلاق کے بعد اولاد کی تحویل

طلاق کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اولاد ماں باپ میں سے کس کی تحویل میں جائے گی؟ شریعت اس بارے میں خاموش ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ بات بچوں کی مصلحت اور بہتری سے متعلق ہے۔ کسی نزاع کی صورت میں عدالت کودرج بالا اصول کو سامنے رکھ کر بچوں کی تحویل کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ شریعت نے اس معاملے میں کوئی متعین حکم نہیں دیا، کیونکہ مختلف مقدموں میں مختلف حالات ہوسکتے ہیں۔عدالت کو صورت حال کے مطابق بچوں کی بہتری کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا چاہیے کہ بچے کس کے پاس رہیں گے۔

_____
۳۳؂ طلاق کے معاملے میں یہاں جو وضاحتیں پیش کی گئی ہیں، ان میں’’میزان‘‘ سے استفادہ کیاگیا ہے۔ دیکھیے: میزان ، جاوید احمد غامدی ۴۳۶۔۴۵۸۔
۳۴؂ اس عمومی حکم سے مستثنیٰ دو صورتیں ہیں جو پچھلے صفحات میں زیر بحث آ چکی ہیں۔
۳۵؂ نسائی، رقم۳۴۰۱۔
۳۶؂ ابو داؤد، رقم ۲۲۰۶۔ استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی لکھتے ہیں:

’’...روایتوں کو جمع کرنے سے وا قعے کی جو صورت سامنے آتی ہے ، وہ یہ ہے کہ اُنھوں نے اپنی بیوی کو تین اکٹھی تین طلاقیں دے دیں۔ پھر نادم ہوئے اور اپنا معاملہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔آپ نے پوچھا:طلاق کس طرح دی ہے ؟ اُنھوں نے عرض کیا: ایک ہی وقت میں بیوی کو تین طلاق دے بیٹھا ہوں۔ آپ نے فرمایا: ارادہ کیا تھا؟ اُنھوں نے عرض کیا کہ ارادہ تو ایک ہی طلاق دینے کا تھا۔ آپ نے قسم دے کر پوچھا تو اُنھوں نے قسم کھالی تو آپ نے فرمایا:یہ بات ہے تو رجوع کرلو۔ یہ ایک ہی طلاق ہوئی ہے۔ اُنھوں نے عرض کیا:میں نے تو، یارسول اللہ، تین طلاق کہا تھا۔ آپ نے فرمایا:میں جانتا ہوں،تم رجوع کرلو،یہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ عورتوں کو طلاق دو تو اُن کی عدت کے لحاظ سے طلاق دو۔‘‘ ( میزان ۴۵۱)

۳۷؂ مسلم، رقم ۱۴۷۲۔

____________