دور زوال کتنا ہی طویل ہو ، مگر آخر کارتباہی پر منتج ہوتا ہے۔لیکن یہ خاتمہ اور تباہی کب ہوگی ؟ اس کا انحصار مختلف عوامل پر ہوتا ہے۔بعض اوقات کوئی قوم مذکورہ بالا طریقے کو استعمال کرکے، یعنی خارجی مدد اور نئے خون کے ذریعے سے قومی جسد کو مصنوعی تنفس فراہم کرتی ہے جس سے اس کی عمر کچھ طویل ہوجاتی ہے۔ بعض اوقات حکمران حکمت عملی سے کام لیتے ہیں اور ممکنہ حد تک تباہی کو ٹال دیتے ہیں۔ اس کی سب سے نمایاں مثال غرناطہ کے حکمرانوں کا طرز عمل تھا ۔ انھوں نے چاروں طرف سے عیسائیوں میں گھرے ہونے کے باوجود حکمت عملی کے ساتھ ٹکراؤ سے پرہیز کیا اور ڈھائی سو سال تک غرناطہ اندلس کے مسلمانوں کی آخری جاے پناہ بنا رہا۔ بعض اوقات ایک قوم کا زوال توشروع ہوجا تا ہے ، مگر اسے چیلنج کرنے والی کوئی دوسری قوم سامنے نہیں آتی ، اس لیے ایک طویل عرصے تک وہ قوم دور زوال میں جی لیتی ہے۔ مثلاً خلافت عثمانیہ کا خاتمہ تو بہت پہلے مقدر ہوگیا تھا ، مگر ابھی یورپی اقوام اتنی مستحکم نہیں ہوئی تھیں کہ اس کی جگہ لے سکیں۔ اس لیے اسے کافی مہلت عمر مل گئی۔ ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ کچھ ایسے تصورات اقتدار کے ساتھ وابستہ ہوجاتے ہیں جو اسے مقدس بنادیتے ہیں۔ جن کی بنا پر کوئی دوسری قوم اس کو ختم کرنے کی ہمت نہیں کرپاتی۔ اس کی سب سے نمایاں مثال خلافت عباسیہ ہے جو دو صدیوں میں ہی اپنی طبعی عمر کو پہنچ گئی تھی، مگر خلافت کا تقدس اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کا ایسا تصور لوگوں کے ذہن میں راسخ تھا کہ اگلی تین صدیوں تک کسی کو ہمت نہ ہوئی کہ اس کے خاتمہ کا سوچ سکے۔ یہ الگ بات ہے کہ مریض زبان حال سے کہہ رہا تھا:

دل کا جانا ٹھہر گیا اب صبح گیا کہ شام گیا 


آخر کار اس لب گور مریض کو داخل گور کرنے کا فریضہ ہلاکو خان نے سر انجام دیا۔یہ الگ بات ہے کہ خود ہلاکو خان خلیفہ کے قتل میں متردد تھا کہ کہیں کوئی آفت اس قتل کی بنا پر نہ ٹوٹ پڑے، مگر ابن علقمی کی حوصلہ افزائی پر وہ اس قتل پر آمادہ ہوا۔تاہم اسے ہاتھوں سے قتل کرنے کے بجاے گھوڑوں کے ٹاپوں تلے روندھا گیا۔
اسی طرح خاتمہ میں تاخیر کا ایک سبب جغرافیائی حالات بھی ہوتے ہیں۔مسلمانوں نے خلافت راشدہ کے دور میں ہی کسریٰ کی ایرانی حکومت کے پرخچے اڑادیے تھے۔ اسی زمانے میں انھوں نے رومیوں کو ان کے اکثر یا تمام ایشیائی اور افریقی مقبوضات سے بے دخل کردیا تھا۔تاہم ان کا مرکز قسطنطنیہ صدیوں تک اپنے انتہائی محفوظ جاے وقوع کی بنا پر مسلمانوں کی یلغار سے محفوظ رہا۔ آخر کارپندرھویں صدی میں سلطان محمد فاتح نے غیر معمولی جنگی حکمت عملی اور جدید ترین جنگی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے اس ناقابل تسخیر مہم کو سر کیااوریوں رومی اقتدار کے بجھتے دیے کو ہمیشہ کے لیے گل کردیا۔
اس بحث کے اختتام پر ہم قارئین کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرانا ضروری سمجھتے ہیں کہ اوپر ہم نے قوموں کی زندگی میں آنے والے مراحل حیات کی شرح ووضاحت کے لیے ایک سپر پاور کی زندگی کے مراحل کو بیان کیا ہے، کیونکہ اس کی زندگی میں مندرجہ بالا سارے مراحل لازماً آتے ہیں۔ تاہم ضروری نہیں کہ ہر قوم ان تمام مراحل سے گزرے۔ 
دوسری بات یہ ہے کہ قومی زندگی کے بعض مراحل ظاہری حالات کے اعتبار سے بالکل مشابہ ہوتے ہیں۔ مثلاً دور تعمیر کی ہلچل اور دورزوال کا ہنگامہ بعض اوقات بالکل یکساں ہوتے ہیں ۔ اسی طرح انحطاط اور استحکام کے ادوار کی یکسانی بعض اوقات اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ کوئی ہم عصر یہ فیصلہ نہیں کر پاتا کہ یہ قوم اس وقت کہاں کھڑی ہے۔ یہی ایک مورخ اور قائد کا فرق ہوتا ہے کہ مورخ ماضی میں جھانک کر کسی قوم کی گذشتہ تاریخ لکھتا ہے، جبکہ ایک حقیقی قائد مستقبل میں جھانک کر قوم کی ایک نئی تاریخ رقم کرتا ہے۔

____________