یہودیوں اور عیسائیوں کے مطابق وہ ’اکلوتے فرزند‘ جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہ حکم دیا تھا کہ انھیں قربانی کے لیے پیش کیا جائے، حضرت اسحاق علیہ السلام تھے نہ کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام۔ بائبل نے اس واقعہ کو قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ بائبل کے پورے بیان میں ’اکلوتے بیٹے‘ کا نام ’اسحاق‘ علیہ السلام صرف ایک مرتبہ استعمال ہوا ہے جوغیر موزوں بھی ہے اور حقائق کے خلاف بھی۔۱؂ اس بیان میں ایسے صریح تضادات موجود ہیں جن کی بنا پر اس کے بارے میں یہود و نصاریٰ کا موقف بالکل ناقابل اعتبار قرار پاتا ہے۔ دوسری طرف مسلم علما کی اکثریت کا خیال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے جس فرزند کی قربانی پیش کرنے کا حکم دیا تھا، وہ حضرت اسماعیل علیہ السلام تھے نہ کہ حضرت اسحاق علیہ السلام، لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے مسلم علما حضرت اسحاق علیہ السلام پر حضرت اسماعیل علیہ السلام کی برتری کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک تمام پیغمبر اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کی حیثیت سے رتبے میں برابر ہیں۔
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری محسوس ہوتی ہے کہ بعض مقامات پر مصنف نے مجبوراً اور ضرورتاً بائبل سے بعض حوالے نقل کیے ہیں، جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بائبل کے مصنفین نے پیغمبروں کے درمیان موازنے کی روش اختیار کی ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام اور حضرت اسحاق علیہ السلام کی شخصیت اور کردار کے متعلق بائبل میں موجود واقعات کی تشریح کرتے ہوئے علماے بائبل نے بے باکی، بلکہ قدرے گستاخی کا رویہ اختیار کیا ہے۔اسی طرح حضرت سارہ پر الزامات لگائے گئے ہیں کہ وہ حضرت ہاجرہ اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ اپنے سلوک میں بہت ظالمانہ، حاسدانہ اور انتقامی جذبات رکھتی تھیں۔ یہ صرف علماے بائبل ہی کا موقف ہے۔ کتاب ہذا کا مصنف ان تمام عظیم شخصیات کو عزت اور احترام کی نظر سے دیکھتا اور انھیں یکساں طور پر معصوم اور قابل احترام تصور کرتا ہے۔
کتاب کے موضوعات کی تحقیق کے لیے موضوعی اور غیر جانبدار مطالعہ کی روش اختیار کی گئی ہے ۔ یہ بات ابتدا ہی میں ذہن نشین کر لی جانی چاہیے کہ جب قربانی کا یہ واقعہ بائبل میں تحریرکیا گیا تھا ، اس وقت تک اسے رونما ہوئے قریباً ایک ہزار سال سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا تھا۔ یہ بات بالکل نا معلوم ہے کہ اس کتاب کا مصنف کون تھا اور اس کی ثقاہت کس حیثیت کی تھی،لیکن یہ بات بالکل یقینی ہے کہ وہ اس واقعہ کا چشم دید گواہ ہر گز نہیں تھا۔ جب خود مصنف ہی گمنام ہے تو اس بات کا تعین کیسے کیا جا سکتا ہے کہ اس نے یہ مواد کہاں سے حاصل کیا تھا، اور جس سے حاصل کیا تھا، اس کے ثقہ ہونے کا کہاں تک اِمکان ہے۔ اس سے یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ صدیوں تک اس واقعے کی زبانی روایت کے دوران میں عہد بہ عہد راویوں نے اس کے بیان میں کیسی کیسی ’اصلاحات‘ اورکتنا ’رد و بدل ‘کر کے اس کا کیا کیا حلیہ بگاڑا ہو گا، جبکہ اس کام کو سرانجام دینے والے لوگ خود کو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد کے حریف سمجھتے تھے اور اپنے حق میں یہ دعویٰ کرتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی منتخب قوم اور اس کے لاڈلے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بیان کا گہری نظر اور تنقیدی شعور کے ساتھ سوچ سمجھ کر تجزیہ کیا جائے اور اس کی کسی بھی بات کو قبول کرنے سے پہلے اس کے تمام پہلوؤں کے متعلق بے لاگ تحقیق کر لی جائے۔
یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ بائبل میں حضرت ابراہیم کو ’آزمانے‘ کا جو ذکر ہے، اس کے لیے قرآنِ کریم میں ’ابتلا‘ کا لفظ آیا ہے۔ ’ابتلا‘ کے لفظ سے یہ مراد نہیں کہ اکلوتے بیٹے کو لازماً ذبح ہونا ہے۔ مقصود صرف یہ ہے کہ یہ بات بغیر کسی شک و شبہ کے نکھر کر سامنے آجائے کہ حضرت ابراہیم ؑ بلا تامل فرمانِ الٰہی کے آگے سرِ تسلیم خم کرکے بیٹے کی قربانی کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ اسی طرح سورۂ صافات (۳۷: ۱۰۲) میں قرآن کے الفاظ ’میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تمھیں ذبح کرتا ہوں‘ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ محض ایک خواب تھا، نہ کہ ایک واقعی حقیقت۔ قابل غور بات یہ ہے کہ وہ یہ الفاظ استعمال نہیں کرتے کہ ’میں نے تمھیں ذبح کر دیا ہے‘ یا ’میں نے تمھیں ذبح کیا ہے‘۔ اس کے بجاے وہ کہتے ہیں: ’میں تمھیں ذبح (کرنے کا ارادہ) کرتا ہوں‘۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمل ذبح کی تکمیل مقصودِ الٰہی نہ تھی۔

________

 


حواشئ تعارف

۱؂۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ جس بیٹے کی قربانی پیش کی جانی تھی، اُس کا نام اس عبارت میں پانچ جگہ بیان ہوا ہے، لیکن پوری عبارت میں صرف ایک مقام ایسا ہے جہاں یہ اللہ تعالیٰ سے منسوب کیا گیا ہے ۔ باقی چار مقامات (آیات ۳، ۶، ۷، ۹) پر یہ نام کتاب کے مرتب کی طرف سے لیا گیا ہے، اس بیٹے کا ذکر تین مرتبہ (آیات ۵، ۷، ۹) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا ہے، لیکن ان تینوں مقامات پرکسی جگہ بھی انھوں نے اس بیٹے کا ذکر (اسحاق) کے نام سے نہیں کیا۔ آیت ۵ میں انھوں نے اپنے اس بیٹے کے لیے ’میں اور لڑکا‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں اور آیات ۷ اور۸ میں انھوں نے اُس کے لیے ’میرا بیٹا‘ کے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ خدا وند کے فرشتے نے بھی اس بیٹے کا ذکر کسی جگہ ’اسحاق‘ کے نام سے نہیں کیا۔

____________