سبحان الذی أنطق کل شیٔبأنه صنع يده، وغذی رفدہ، تسبح الشمس لکبريائه ومجدہ، ويسجد له القمر بجبينه  وخدّہ، يتنهد له  البربغورہونجدہ،ويحفد إليه البحر بجزرہومدہکما قال تعالیٰ فی کتابه: تسبح له السمٰوٰت السبع والأرض ومن فيهنّ وإن من شی اِلّا يسبح بحمدہونصلي علیٰ محمد رسولهالمختار وعبدہوعلٰی آله وصحبه المعتصمين بحبله وعهده والتابعين لهم علی سواء السبيل وقصدہ۔

یہ کتاب ان قسموں کے بیان میں ہے جو قرآن مجید میں وارد ہیں۔ ہماری کتاب’’تفسیر نظام القرآن وتاویل الفرقان بالفرقان‘‘ میں جن اصولی چیزوں سے تعرض کیا گیا ہے ان کے لیے ہم نے ایک علیحدہ مقدمہ  لکھا ہے تاکہ کتاب کے پڑھنے والوں پر ان کا بار بار ذکر بار نہ ہو۔ اس رسالے کو اسی مقدمے کا جزو سمجھنا چاہیے۔ اس میں قرآن مجید کی قسموں کے متعلق تمام اصولی مباحث کی تفصیل کی گئی ہے۔ تفسیر میں جہاں جہاں ضرورت ہوگی اب مباحث کا حوالہ دے دیا جائے گا۔ قرآن مجید میں قسمیں بہت آئی ہیں اور لوگوں کو ان کے مفہوم اور مقصد کے متعلق طرح طرح کے شکوک ہیں۔ تفسیر میں، جس میں ہم نے ایحازواختصار کی راہ اختیار کی ہے،جگہ جگہ ان قسموں سے تعرض کرنا موجب طوالت اور کتاب کے لیے قراردادہ مسلک کے بالکل خلاف ہوتا، اس وجہ سے میں نے بہتر سمجھا کہ ایک مختصر رسالے میں اس مسئلے پر ایک اصولی بحث کردی جائے۔ جزئی تفصیلات اپنے اپنے مواقع میں آتی رہیں گی۔

اس عنوان پر اگلوں میں سے صرف علامہ ابن قیمؒ کی (التبیان) کی مجھے خبر ہے ۔ کہیں کہیں امام رازیؒ نے بھی اپنی تفسیر میں اس سے تعرض کیا  ہے۔ مناسب مواقع پر ان دونوں کتابوں کے ضروری مباحث کے حوالے اس کتاب میں ملیں گے۔ واللہ الہادی إلی سبیل السلام۔