وہ صحابی رسول جنھوں نے محمدؐ بن عبداللہ کو اس وقت اپنے حقیقی باپ کے مقابلے میں ترجیح دی جب وہ اللہ کے رسول نہیں بنائے گئے تھے۔جنھوں نے اپنی زندگی کا تمام شعوری حصہ حضوؐر کے سایہ تربیت میں گزارا۔ واحد صحابیؓ جنھیں یہ سعادت حاصل ہوئی کہ ان کا نام اللہ کی آخری کتاب کا حصہ بنا۔
مآخذ: الصور من سیرت الصحابی عبیدالرحمن راقث پاشا اور سیرت الصحابہ از معین الدین ندوی

وہ گھڑ سواروں کا پورا دستہ تھا، گھوڑے دوڑنے کے بجائے دُلکی چال چل رہے تھے۔ آپس میں باتیں بھی کر رہے تھے۔ان کی باتوں سے مایوسی ظاہر ہو رہی تھی، معلوم ہوتا تھا کہ وہ جس مہم پر نکلے ہیں، انھیں اس میں ابھی تک کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ وہ اب ایک بستی میں داخل ہو چکے تھے۔ انھوں نے اپنی رفتار مزید کم کر دی۔ اسی عالم میں ان کے ایک ساتھی نے گھوڑے کی باگیں کھینچیں اور اپنے دوسرے ساتھیوں کو رکنے کا اشارہ کیا۔
’’کیوں رک رہے ہو بھئی؟‘‘
’’دیکھو ۔۔۔ آج کا شکار سامنے ہے!‘‘
سب نے اس کے اشارے کا پیچھے کیا۔ چند گز کے فاصلے پر خیمہ بستی میں انھیں ایک خیمے کے باہر آٹھ نو برس کا ایک لڑکا کھڑا نظر آیا۔ یہ منظر دیکھ کر ایک خوشی سے بولا: ’’ ڈاکے سے ناکامی کے بعد یہ ایک اچھا شکار نظر آیا ہے، خالی ہاتھ گھر جانے سے کچھ تو ہاتھ آنا بہتر ہے!‘‘
ایک دوسرا سردار بولا: ’’بڑے بے رحم ہو گئے ہو ۔ ڈاکے سے ناکامی کے بعد اب اس بچے پر ہاتھ صاف کرنے کا ارادہ رکھتے ہو؟‘‘
اشارہ کرنے والا بے رحم بولا: ’’تمھارے سر کی قسم، یہ بڑا اچھا شکار ہے، ایک دو برس کے بعد اسے بیچو گے تو اچھی قیمت دے گا!‘‘
’’تمھاری ماں خوشی منائے، یہ بالکل ٹھیک کہتا ہے۔ یہ بچہ اچھا شکار ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے پہلے کہ اس کا کوئی وارث آجائے، چلو قابو کر لو اسے!‘‘ ایک اور بولا اور اپنے ساتھیوں کو اوٹ میں جانے کا کہہ کر وہ بچے کی طرف بڑھنے لگا۔ اس نے بڑی احتیاط سے آہستہ آہستہ گھوڑا خیمے کے قریب کیا۔ بچہ اسے حیرت سے اپنی طرف آتے دیکھ رہا تھا۔ اس نے گھوڑا قریب آ کر کھڑا کیا۔ گھوڑے سے اترا، بچے کو ایک مصنوعی مسکراہٹ سے دیکھا او ر اس کی طرف دبے قدموں سے بڑھنے لگا۔ اس کی مسکراہٹ بچے کو دھوکا دینے میں کامیاب رہی اور بچہ ڈرنے کے بجائے اسے دلچسپی سے اپنی طرف آتے دیکھنے لگا۔ قریب آکر ڈاکو نے کسی چیل کی طرح اسے جھپٹا مار کر قابو کیا۔ اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور اسے اپنے گھوڑے پر ڈال کر بڑی پھرتی سے باندھا اور پھر کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر بڑی مہارت سے چھلانگ لگا کرگھوڑے پر سوار ہوا اور اسے بگٹٹ چھوڑ دیا۔ اس کے ساتھی بھی ہائے ہو کا نعرے لگاتے اس کے پیچھے ہو لیے۔
معصوم بچے کی چیخ و پکار، گھوڑے کے ٹاپوں اور غارت گروں کے قہقہوں اور نعروں میں دب گئی۔
خیمے کے اندر موجود بچے کی ماں اور اس کی نانی ابھی تک باتوں میں محو تھیں۔ انھیں اس قیامت کا ذرہ بھر علم نہ ہو سکا جو ان پر گزر چکی تھی۔ جب گھوڑوں کے بھاگنے کی آوازیں ان کے کانوں میں پڑیں تو انھیں اپنے بچے کا خیال آیا کہ کہیں وہ کسی حادثے کا شکار ہی نہ ہو جائے۔ مگر وہ نہیں جانتی تھیں کہ انھیں اب بہت دیر ہو چکی ہے۔
وہ باہر دوڑیں تو بچہ نہ پا کر رونے چلانے لگیں۔ چند لوگوں نے بتایا کہ انھوں نے بچے کو گھوڑے پر بندھے دیکھا تھا۔
یہ واقعہ ایک انہونی نہ تھا، بلکہ اس طرح کے واقعات اس دور میں عام تھے۔ پیشہ ور ڈاکو اسی طرح آتے اور لوگوں کو اغوا کرکے لے جاتے اور پھر انھیں انسانوں کی منڈی میں فروخت کر ڈالتے۔
ماں پر غشی طاری ہو گئی۔ اغوا ہونے والا بچہ اس کا اکلوتا بیٹا تھا اور اپنے باپ کا بہت پیارا تھا۔ وہ بچے کے بغیر چین سے نہیں رہتا تھا۔ والد کو اپنے اس بیٹے کا اس قدر خیال تھا کہ جب اس کی بیوی نے اپنی ماں کے پاس جانے کی اجازت مانگی تو اس نے پہلے اس وجہ سے انکار کر دیا تھا کہ کہیں بیٹے کو کوئی حادثہ پیش نہ آجائے ،مگربیوی نے ضد کرکے خاوند کو راضی کر لیا اور بیٹے کی حفاظت کا بطور خاص وعدہ کیا تھا۔ اس کا میکہ یمن میں تھا۔ اسی لیے ماں ایک تو بیٹے کی جدائی کا صدمہ برداشت کر رہی تھی اور دوسرے اسے شوہر کے بے پناہ غصے اور ناراضی کا خوف تھا۔ اس کے آنسو تھے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔
آخر باپ کو اس اندوہناک حادثے کا علم ہوا۔ اس پر یہ خبر بجلی بن کر گری۔ وہ اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا۔ اس کے غم کا کسی کو اندازہ ہی نہ تھا۔ مرد ہو کر بھی وہ پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔
بیٹے کے باپ ابن شرجیل کو اچھی طرح علم تھا کہ اس طرح جب کوئی بچہ اغوا ہوتا ہے تو اسے دور دراز کے علاقے میں فروخت کر دیا جاتا ہے۔ وہ یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہا تھا کہ نازونعم میں پلا ہوا بچہ نہ جانے اب کہاں غلامی کی ذلت سہ رہا ہو گا۔
اس نے چاروں طرف گھڑ سوار دوڑا دیے ۔ قریب کے تمام علاقوں میں منادی کرائی۔ ماں نے مَنتیں مانیں کہ بیٹا مل جائے تو اتنی خیرات کروں گی اور دیوتاؤں کے لیے چڑھاوے چڑھاؤں گی۔ پورا خاندان اس تلاش میں جت گیا ،مگر کامیابی مقدر نہ بن سکی۔
ڈاکوؤں کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ انھوں نے کسی اچھے اور اونچے خاندان کا چشم و چراغ اڑایاہے۔ لڑکے کی باتوں سے وہ سب کچھ جان چکے تھے۔ انھوں نے لڑکے کو بہت ہی خفیہ جگہ رکھا۔ اس کی حفاظت اس طرح کرتے رہے جس طرح قصائی اپنے بکرے کی کرتا ہے۔ پھر انھوں نے بڑی دیکھ بھال کر اسے دور دراز کے علاقے میں بیچ دیا۔ ادھر شرجیل بھی مایوس نہ ہوا وہ مسلسل کسی نہ کسی طرح اپنے بیٹے کو تلاش کرتا رہا۔ اس کا دل گواہی دیتا تھا کہ اس کا بیٹا اسے ضرور ملے گا۔
اس حادثے کو کئی برس گزر گئے۔ شرجیل ایک دن اپنے گھر میں بیٹے کی یاد میں غمگین بیٹھا تھا کہ اس کے رشتہ داروں میں سے کچھ اس سے ملنے آئے۔ یہ لوگ حج کرکے لوٹے تھے۔ انھوں نے ابن شرجیل کو ایک زبردست خبر سنائی:
’’ابن شرجیل! خوش ہو جاؤ، ہم تمھارے بیٹے سے مل کر آئے ہیں!‘‘
’’کہاں ہے میرے دل کا ٹکڑا؟ مجھے پوری بات سناؤ۔‘‘ ابن شرجیل کو اندیشہ تھا کہ کہیں اس کے ساتھ شادی مرگ کا معاملہ نہ ہو جائے۔ رشتے داروں نے بتایا ۔۔۔ ’’اے ہمارے چچا کے بیٹے، ہم اس برس حج کرنے گئے تھے۔ وہاں ہم نے تیرہ چودہ برس کے ایک لڑکے کو دیکھا۔ اس کی شکل تمھارے بیٹے سے بہت ملتی جلتی تھی۔ ہمیں وہ تمھارا کھویا ہوا بیٹا ہی معلوم ہوا۔ ہم تجسس کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس کے پاس پہنچے اور پوچھا کہ اے شریف باپ کے بیٹے، تم کس قبیلے سے ہو؟ اس نے بتایا ’’بنی کلب قبیلے سے‘‘ ہم نے پوچھا کہ یہاں اکیلے کیوں ہو؟‘‘ کہنے لگا ’’کچھ برس پہلے مجھے ڈاکوؤں نے اٹھا لیا تھا۔ پھر مجھے مکہ میں لگنے والے ایک میلے میں بیچ دیا اور اب میں ایک شریف اور اونچے خاندان کا غلام ہوں۔‘‘
’’کیا تم نے اسے اس کے باپ کی حالت نہ بتائی؟ یہ نہ کہا کہ تمھارے غم میں تمھارے باپ نے آنسو بہا بہا کر اپنی آنکھوں کا پانی خشک کر لیا ہے؟‘‘
’’کیوں نہیں عزیز چچازاد، ہم نے تمھارا اورتمھاری بیوی دونوں کا حال اس تک پہنچایا۔‘‘
’’پھر اس نے کیا کہا؟‘‘ باپ نے گلوگیر آواز سے پوچھا۔
’’اس نے ہمیں عجیب بات کہی ۔۔۔ کہنے لگا کہ میرے والد کو تسلی دینا اور کہنا کہ حوصلہ رکھے، غم نہ کرے، میں یہاں بہت آرام اور سکون سے ہوں۔‘‘
’’ہائے میری قسمت، پتا نہیں بے چارہ کس حال میں ہو گا ؟ میرا دل بہلانے کو کہہ دیا ہو گا کہ اچھا ہوں۔‘‘ وہ کچھ لمحے خلا میں گھورتا رہا ۔۔۔ پھر بولا: ’’ارے دوستو! کیا تمھیں یقین ہے کہ وہ میرا ہی کھویا ہوا بیٹا ہے؟‘‘
’’ہاں، ہاں! اس معاملے میں تو ہمیں ذرہ بھر شبہ نہیں۔ اس نے اپنا اور تمھارا نام بالکل ٹھیک ٹھیک بتایا تھا اور اسے یہ بھی یاد تھا کہ اسے خیمے سے باہر کھڑے ڈاکوؤں نے اٹھایاتھا۔‘‘
شرجیل اپنے بھائی کعب سے کہنے لگا ۔۔۔ ’’اے میرے ماں جائے، چلو ابھی او ر اسی وقت چلو ۔۔۔ مجھے تو بیٹے کو دیکھے بغیر پل بھر چین نہیں۔ ہم ابھی مکہ کی طرف چلتے ہیں۔‘‘
اور پھر ایک چھوٹا سا قافلہ اسی وقت مکہ روانہ ہو گیا۔ جس قدر جلدی ہو سکتی تھی ، یہ قافلہ اتنی ہی جلدی مکہ جا پہنچا۔ بیٹے کے متعلق ابن شرجیل کو یہ بتایا جا چکا تھا کہ اسے عکاظ نامی میلے میں فروخت کیا گیا تھا اور اس کے خریدار کا نام ’’حکیم بن حزیم‘‘ تھا۔ یہ قافلہ مکہ آ کر سیدھا حکیم کے گھر پہنچا۔
حکیم ایک معزز قبیلے ’’بنی سعد‘‘ کا فرد تھا۔ اس نے مہمان نوازی کی روایت کو نبھایا اور ابن شرجیل کو بتایا کہ اسی نے زید نامی لڑکے کو خریدا تھا ،مگر اب وہ اس کی ملکیت نہیں۔ اس نے اسے اپنی ہمیشرہ کو تحفے میں دے دیا ہے۔ ابن شرجیل فوراً اس کی بہن کے گھر کی طرف روانہ ہوئے۔
وہاں پہنچ کر ان کی ملاقات ایک ایسے شخص کے ساتھ ہوئی جس کی شخصیت بہت ہی پر وقار تھی۔ اس طرح کا متاثر کن چہرہ ابن شرجیل اور اس کے ساتھیوں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا تھا۔ ابن شرجیل کو یہ چہرہ دیکھتے ہی یقین ہو گیا کہ اس کے بیٹے کو اس گھر سے کوئی خطرہ نہیں ہو سکتا۔اس نے میزبان سے اپنے آنے کا مطلب بیان کیا اور کہا :
’’اے معزز سردار عبداللہ کے بیٹے، آپ اور آپ کا خاندان اللہ کے گھر کا نگہبان اور متولی ہے۔ آپ مصیبت زدوں کی مدد اور قیدیوں کو کھانا کھلانے کی شہرت رکھتے ہیں۔ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ میرا بیٹا آپ کی ملکیت میں ہے۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ جس قدر رقم چاہیں لے لیں ،مگر میرے بیٹے کو آزاد کر دیں۔ میری آنکھیں اس کا پیارا چہرہ دیکھنے کو ترس رہی ہیں۔‘‘
’’معزز مہمان!آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟‘‘ میزبان نے انتہائی میٹھے لہجے میں پوچھا:
’’میں حارثہ کے بیٹے زید کی بات کر رہا ہوں۔‘‘
’’اچھا!‘‘ انھوں نے کہا اور کچھ سوچ میں پڑ گئے۔
حارثہ نے میزبان کے چہرے پر تردد کے آثار دیکھے تھے۔ وہ منزل کے اس قدر آ کر ایک عجیب کیفیت محسوس کر رہا تھا۔
پھر اس کے کانوں میں میزبان کی آواز آئی ۔۔۔ ’’کیا اس کے علاوہ آپ کے یہاں آنے کا کوئی مقصد نہیں؟‘‘
’’نہیں مہربان سردار! ہم تو بیٹے کو منہ مانگی قیمت پر لینے آئے ہیں۔‘‘
’’تو پھر سنیے، میرے پاس آپ کی تجویز سے ایک بہتر تجویز ہے۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘
’’وہ یہ کہ زید کو بلائے لیتے ہیں۔ اگر وہ آپ کو پہچان لے اور آپ کے ساتھ جانے پر راضی ہو جائے تو اسے بخوشی لے جائیے۔ میں اس کے عوض ایک پائی بھی نہیں لوں گا، لیکن اگر وہ آپ کے ساتھ جانے پر رضا مند نہ ہوا تو مجھے پسند نہیں ہو گا کہ آپ لڑکے کے ساتھ زبردستی کریں۔‘‘
حارثہ اور اس کے بھائی کعب ایک ساتھ بولے ۔۔۔’’اے شریف زادے! اس سے بڑھ کراور اچھی بات کیا ہو سکتی ہے؟ آپ نے تو حق اور انصاف سے بڑھ کر بات کی ہے۔‘‘
یوں بات طے ہو گئی اور زید کو بلا بھیجا گیا۔ جیسے ہی وہ سامنے آئے پوچھا گیا: ’’کیا آپ ان بزرگوں کو پہچانتے ہیں؟‘‘
’’کیوں نہیں آقا، یہ میرے والد ہیں اور یہ محترم چچا!‘‘
’’تو زید تم مجھے بھی پہچانتے ہو، میرا خاندان بھی تمھیں معلوم ہے۔ میں نے جو معاملہ تم سے رکھا ہے، اس سے بھی تم بخوبی واقف ہو۔ فیصلہ تمھارے اختیار میں ہے، تم پر کوئی زبردستی نہیں۔ تم چاہو تو خوشی کے ساتھ اپنے باپ کے ساتھ جا سکتے ہو۔ چاہو تو یہاں بھی ٹھہر سکتے ہو، تم پر زور نہیں!‘‘
زید کی آنکھوں میں عجیب سی چمک آگئی ۔ بولے : ’’آپ محمد بن عبداللہ ہیں، قریش کے معزز سردار ہیں۔ بھلا میرے لیے آپ سے بڑھ کر اہم کون ہو سکتا ہے؟ خدا کی قسم آپ ہی میرے ماں باپ ہو سکتے ہیں اور میں ہرگز آپ کو چھوڑ کر نہیں جا سکتا۔‘‘
زیدکی بات جذب و مستی کی تھی۔ محبت کا ایک سمندر تھا جو ان کے جملوں سے امڈ رہا تھا۔باپ اور چچا کے لیے یہ سب کچھ ناقابل تصور اور ناقابل یقین تھا۔باپ نہ جانے کب سے بیٹے کی محبت کا چراغ سینے میں جلائے، اسے وادی وادی تلاش کر رہا تھا، لیکن بیٹے کا جواب سن کر حیرت اور دکھ سے بولا:
’’اے زید تم پر افسوس! تم غلامی پر آزادی کو قربان کر رہے ہو؟ خدا کی قسم، تمھاری تلاش میں کون سا ایسا پتھر ہو گا جو میں نے نہ الٹا ہو گا اور اب تم یہ کہہ رہے ہو کہ تم ان صاحب کو نہیں چھوڑ سکتے، اپنے باپ کے ساتھ نہیں جا نا چاہتے!‘‘
’’اے والد محترم، آپ نے درست فرمایا ، لیکن میں نے ان صاحب کی ذات میں جو کچھ دیکھا ہے، ان کو جس طرح کا خوب پایا ہے، اس کے بعد یہ میرے بس سے باہر ہے کہ میں انھیں چھوڑ دوں۔‘‘ زید کا فیصلہ اٹل تھا۔
باپ اور چچا حیرت سے بیٹے کا فیصلہ سن رہے تھے۔ محمد بن عبداللہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ انھوں نے زید کا ہاتھ پکڑا اور اس کے چچا اور والد کو بھی ساتھ آنے کے لیے کہا۔ وہ دونوں حیران تھے کہ اب کیا معاملہ ہونے والا ہے۔ محمد بن عبداللہ کی شخصیت کا رعب ہی ایسا تھا کہ وہ پوچھ نہ سکے کہ وہ کیا ارادہ فرما چکے ہیں۔ چپ چاپ ساتھ چل پڑے۔
آپ وہاں سے سیدھے خانہ کعبہ پہنچے۔ اللہ کے گھر ، لوگ وہاں معمول کے مطابق موجود تھے۔ آپ نے وہاں اونچی آواز میں ایک اعلان کیا ۔۔۔ بڑا ہی اہم اعلان ۔۔۔ لوگ آپ کی آواز سن کر اکٹھا ہوگئے ۔ پھر آپ کی آواز گونجی:
’’میں تم سب لوگوں کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ آج سے زید میرا بیٹا ہے۔ یہ میرا وارث ہے اور میں اس کا وارث!‘‘
اس اعلان نے زید کے باپ اور چچا دونوں کے تنگ سینے کو کھول دیا۔ ان کے اترے ہوئے چہروں اور مایوس آنکھوں میں ایک دم سے نئی زندگی اور نئی چمک پیدا ہو گئی۔
حارثہ سوچ رہے تھے کہ مجھے تو بیٹے کی عزت اور بہتری سے غرض ہے۔ اس کی خوشی عزیز ہے۔ اگر وہ یہاں خوش ہے تو میری خوشی بیٹے کی خوشی کے ساتھ ہے۔ انھوں نے بھی اس فیصلے کو وہیں کھڑے ہو کر قبول کرنے کا اعلان کر دیا۔
محمدبن عبداللہ نے انھیں اجازت دی کہ جب چاہیں یہاں آ کر اپنے بیٹے سے مل سکتے ہیں اور انھوں نے زیدکو بھی نصیحت کی کہ وہ اپنے والدین کی آنکھیں ٹھنڈی کرنے ان کے ہاں جایا کریں۔
یہ اس دور کا واقعہ ہے جب آپ اللہ کے پیغمبر نہیں بنائے گئے تھے۔ اس دن کے بعد لوگ زید کو زید بن محمد کہنے لگے۔ زید کو یہ علم نہ تھا کہ جس ہستی کو وہ اپنے والدین پر ترجیح دے رہے ہیں، ایک دن ان کے سر پر نبوت کا تاج ہو گا۔

***

زید اگرچہ لڑکپن کی عمر میں تھے ، لیکن گھر میں معمول سے ہٹ کر سرگرمی دیکھ کر سوچنے پر مجبور تھے۔ جلد ہی انھیں معلوم ہوگیا کہ ان کا گھر ایک نئے دین کا منبع بن گیا ہے اور گھر میں ہونے والی دعوتیں اور گفتگوئیں اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔ اسی دوران میں حضورؐ نے زید کوبھی اس سے آگاہ کیا اور کہا کہ وہ بھی اللہ کی توحید کو قبول کرتے ہوئے آپؐ کو پیغمبر مانیں۔ بھلا زیدؓ کو اس سے کیا انکار ہو سکتا تھا۔ فوراً کلمہ شہادت پڑھا اور اسلام کے اولین لوگوں میں اپنا شمار کرالیا۔
زیدؓ زندگی کی ساری سختیوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہے اور حضوؐر اور ان کے خاندان کے ہمراہ بھوک پیاس کی اذیتیں برداشت کیں۔
حمزہؓ جب اسلام لائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے زیدؓکا بھائی چارہ کر دیا۔ دونوں میں بہت جلد قریبی تعلقات استوار ہو گئے اور وہ ایک دوسرے کا دم بھرنے لگے۔
یہ مکی زندگی ہی کا واقعہ ہے کہ ایک دن اللہ کے رسولؐ نے اپنی خادمہ ام ایمنؓ کے متعلق فرمایا:’’اگر کوئی شخص کسی جنتی عورت سے شادی کرنا چاہے تو وہ ام ایمن سے شادی کرے۔‘‘
یہ جملہ آپؐ نے زیدؓ کی موجودگی میں کہا تھا۔ عرب کے اس معاشرے میں شادی بیاہ میں عمر کی کوئی خاص اہمیت نہیں تھی۔ زیدؓ کے ذہن میں اللہ کے رسولؐ کی بات آ چکی تھی۔ انھوں نے فوراً ان سے شادی کا فیصلہ کر لیا اور اپنی خواہش کا اظہار رسول ؐ اللہ سے کر دیا۔ آپؐ نے اس نیک کام میں دیر نہ کی اور یہ شادی بخیر و خوبی انجام پائی۔
زیدؓ کی پہلی اولاد انھی سے ہوئی اور پہلے بیٹے کا نام اسامہ رکھا گیا۔اس پیدایش پر مسلمانوں نے بڑی خوشی منائی تھی۔
ہجرت کا موقع آیا تو زیدؓ کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی مدینہ بھیج دیا اور وہ اسیدؓ بن حضیر انصاری کے ہاں ٹھہرے۔ یہ قبیلہ عبدالا شہل کے سردار تھے ۔ کچھ دنوں کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے۔
اس سے قبل زیدؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان ہی کے ساتھ رہتے تھے۔ یہاں آ کر حضورؐ نے انھیں علیحدہ مکان میں ٹھہرایا اور اسیدؓ بن حضیر کو ان کا اسلامی بھائی بنا دیا۔
زیدؓ کو علیحدہ کرنے میںیہ حکمت تھی کہ لوگ انھیں ایک آزاد اور خودمختار شخص کی حیثیت سے پہچانیں۔ ان کی اسی حیثیت کو مزید موکد کرنے کے لیے حضورؐ نے ایک اور اہم اقدام کیا۔ یہ اقدام زیدؓ کے عزت و شرف کو بڑھانے کے لیے اہم سنگ میل رکھتا تھا۔ حضورؐ نے اپنی پھوپھی زاد سیدہ زینبؓ بن جحش سے ان کا نکاح کرادیا۔
یہ نکاح اس معاشرے کو اسلامی اقدار سکھلانے کی ایک اہم کڑی تھی ۔ لوگ حیرت سے اس پر گفتگو کرتے۔
’’ایک قریشی خاندان کی عورت کو ایک آزاد کردہ غلام کے ساتھ بیاہ دیا!‘‘
صحابہؓ اس کا جواب دیتے۔ ’’اسلام نے غلامی کو ختم کرنے کا حکم دیا ہے اور اس کے لیے اصلاحات اور تدریج کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ واقعہ اسی ضمن میں رونما ہوا ہے۔‘‘
مدینہ کی بستی میں اس واقعے کی بازگشت ایک عرصہ تک سنائی جاتی رہی ،مگر پھر اللہ کی حکمت بالغہ نے اسی رشتے کواسلامی معاشرے کی تربیت کے لیے ایک اور رخ دیا۔
اس شادی کے لیے آپؐ نے سیدہ زینبؓ بنت جحش کو بطور خاص آمادہ کیا تھا۔ ان کے ذہن میں یہ بات بہرکیف تھی کہ ان کی شادی ایک آزاد کردہ غلام سے ہو رہی ہے۔ ایک تو خاندانی شرف کا تفاوت بہت تھا اور دوسرا دونوں میاں بیوی میں مزاج کا بہت فرق نکلا۔ زینبؓ بنت جحش ایک اونچے خاندان کی باوقار خاتون تھیں۔ وہ حساس بھی تھیں اور رکھ رکھاؤ والی بھی۔
دوسری طرف زیدؓ ایک حساس، خوددار اور منکسر المزاج انسان تھے۔ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دلداریوں کے باوجود اپنے دور غلامی کو نہیں بھولے تھے۔ انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ اللہ کے رسولؐ نے زینبؓ کو اصرار کرکے شادی پر آمادہ کیا ہے۔ اس پس منظر میں زینبؓ اگر اپنے فطری مزاج کے مطابق کبھی ذرا سپاٹ رویہ دکھاتیں تو زیدؓ اسے انھی معنوں میں لیتے کہ میری اہلیہ مجھ پر اپنی خاندانی برتری جتانا چاہتی ہیں۔ چنانچہ وہ اکثر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور کہتے کہ زینبؓ اس تعلق سے خوش نہیں ہیں۔ وہ اس کا اظہار تند و تیز لہجے میں کرتی ہیں۔ حضورؐ نے پہلے تو انھیں سمجھایا، کبھی نرم لہجے میں کبھی سخت لہجے میں۔ مگر دل کے آئینے میں آیا بال دور نہ ہوا اور وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا گیا ۔۔۔ اللہ اس واقعے سے جو کام لینا چاہتا تھا وہ کا م ہو کر رہنا تھا۔
ایک دن وہ کچھ طے کرکے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور اپنا فیصلہ سنادیا ۔۔۔ ’’میں زینبؓ کو طلاق دینا چاہتا ہوں!‘‘ حضورؐ نے زیدؓ کو روکا اور کہا کہ طلاق کے لیے ان کی بتائی ہوئی وجہ کافی نہیں۔ آپ کی یہ بات سن کر زیدؓ نے آپؐ سے کہا :
’’اے اللہ کے رسولؐ اگر تو آپ ؐ مجھے اللہ کا حکم پہنچا رہے ہیں کہ میں طلاق نہ دوں تو میں سر تسلیم خم کر دیتا ہوں ، لیکن اگر آپؐ یہ بات ایک مشفق بزرگ کی حیثیت سے کر رہے ہیں تو میری گزارش یہی ہے کہ معاملہ میرے بس سے باہر ہو گیا، میں مزید صبر نہیں کر سکتا۔‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ سلم نے زیدؓ کو بتایا کہ وہ یہ بات اللہ کے رسولؐ کی حیثیت سے نہیں ،بلکہ بطور عام انسان کر رہے ہیں۔ تب زیدؓ دوبارہ گویا ہوئے:
’’تو پھر آپؐ سے گزارش ہے کہ اگر مجھے آپؐ نے غلام نہیں بنایا تھا، آزاد کیا تھا اور اپنا منہ بولا بیٹا قرار دیا تھا تو مجھے میرے فیصلوں اور ارادوں میں آزاد رہنے دیں۔ میں زینبؓ کے ساتھ نباہ نہیں کر سکتا۔‘‘
یہ اس معاملے کا حرف آخر تھا۔ اس کے بعد اللہ کے رسول ﷺ زور دیتے تو جبر اور زبردستی کی حد شروع ہو جاتی۔ آپؐ خاموش ہو گئے ۔۔۔ اور طلاق ہو گئی۔
زیدؓ کا یہ اقدام کئی وجوہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پریشانی کا باعث ہوا۔ ایک اس وجہ سے کہ آپؐ نے جس اعلیٰ مقصد کے لیے یہ رشتہ کرایا تھا ، وہ مقصد اس طلاق سے مجروح ہوا تھا۔ دوسری وجہ یہ کہ زینبؓ، جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصرار پر رشتے کو قبول کیا تھا، ان کی حیثیت عرفی کو بڑا نقصان پہنچا۔ ان کا غم دہرا ہوگیا۔ پہلے انھوں نے منافقین کے یہ طعنے سنے وہ ایک آزاد کردہ غلام کی بیوی ہیں اور اب ان کو یہ سننا پڑا کہ وہ ایک آزاد کردہ غلام کی مطلقہ ہیں۔
اس سب معاملے میں آپؐ زیدؓ کو بہت حد تک بری الذمہ سمجھتے تھے۔ انھوں نے جو کچھ کیا، ایک حساس اور خوددار انسان ہونے کے ناتے کیا۔ یہ اقدام یہ تسلی کر لینے کے بعد کیا کہ اس کے ذریعے سے کسی حکم الٰہی سے بغاوت نہیں کر رہے ۔ یہی وجہ تھی کہ اس سب کے باوجود حضورؐ نے زیدؓ سے کوئی شکایت نہ کی۔
مگر معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا تھا ۔۔۔ اللہ کی حکمت ابھی پورا ہونا باقی تھی۔
آخر اس کا بھی وقت آ گیا اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضورؐ کو حکم دیا گیا جس پر عمل کرنا انھیں بہت مشکل محسوس ہوا۔ یہ حکم تھا کہ ’’اے میرے رسولؐآپ خود حضرت زینبؓ سے نکاح کر لیں۔ مگر ایسا کرنا ہرگز آسان نہیں تھا۔ اس میں بہت مسائل تھے۔ ایک یہ کہ زینبؓ اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ بولے بیٹے کی بیوی ہونے کے ناتے سے، عربوں کے خود ساختہ تصور کے مطابق، آپ کے لیے جائز نہیں تھیں۔ چنانچہ یہ خدشہ تھا کہ منافقین اس سے بہت فتنہ اٹھائیں گے۔ آپؐ کے ترددکی دوسری وجہ یہ تھی کہ مردوں کے لیے شادیوں کی زیادہ سے زیادہ حد چار متعین کر دی گئی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں پہلے ہی سے چار بیویاں موجود تھیں۔
اس طرح قانوناً ان سے نکاح کی کوئی صورت موجود نہ تھی ۔ مگر نکاح کے یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھے جس سے روگردانی کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ حضورؐ بھی سمجھ رہے تھے کہ اللہ کے حکم کی حکمت یہ ہے کہ آپؐ کے عمل سے عربوں کے، متبنٰی کی بیوہ یا مطلقہ سے نکاح حرام سمجھنے کے تصور کا خاتمہ ہو جائے اور لوگوں تک معاشرت کے وہ اصول اور قدریں پہنچیں جو فطرت کے مطابق ہیں۔ اس حوالے سے زیدؓ اسلامی شریعت کا اہم سبق کے دیے جانے کا باعث بنے اور آپؓ وہ واحد صحابی ہیں جن کا نام نامی اس ضمن میں قرآن میں آیا۔ سورۂ احزاب میں ہے:
’’پس جب زید نے اس سے اپنا رشتہ کاٹ لیا تو ہم نے اس کو آپؐ سے بیاہ دیا، تاکہ آپ مومنوں کے لیے ، ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں ، جبکہ وہ ان سے اپنا تعلق کاٹ لیں، کوئی تنگی باقی نہ رہے۔‘‘
اسی واقعے کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان بھی نازل ہوا ۔۔۔
’’لوگوں کو ان کے باپ کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ قرین قیاس ہے۔‘‘
اس حکم کے آجانے کے بعد حضرت زیدؓ کو زیدؓ بن محمدؐ کے بجائے زیدؓ بن حارثہ کہا جانے لگا اور اس ضمن میں وہ عظیم الشان آیت نازل ہوئی جس میں اللہ کے رسول ﷺکا آخری ہونا قطعی طور پر امت کو معلوم ہوا۔۔۔
’’اور محمدؐ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں بلکہ وہ اللہ کے رسولؐ ہیں اور انبیا کے لیے خاتم ہیں۔‘‘
اللہ کی طرف سے یہ حکم آجانے کے بعد بھی منافقین کی طرف سے پروپیگنڈے کا غلیظ طوفان برپا کر دیا گیا۔ اس طوفان کی زد میں اللہ کے رسولؐ، سیدہ زینبؓ اورسیدنازیدؓ تھے۔
زیدؓ کو اس مرحلے پر منافقین کی طرف سے خوب بھڑکایا گیا ،مگر ان سے زیادہ اصل حقیقت سے کون واقف تھا۔ ان سے اگر کوئی بات کرتا تو وہ اس کا دندان شکن جواب دیتے۔ مثلاً منافقین نے اعتراض کیا کہ مومنین کے لیے تو اللہ نے چار شادیوں کی حد مقرر کی ہے ، لیکن اللہ کے رسولؐ کے لیے کیا کوئی حد نہیں؟
زیدؓ اس کا جواب دیتے ۔۔۔ ’’بطور رسولؐ ان کے حقوق و فرائض ہم سے مختلف ہیں ۔۔۔ آپؐ پر چھ نمازیں فرض ہیں۔ یعنی پانچ کے علاوہ تہجد کی نماز بھی۔۔۔ اور وہ بھی کم از کم ایک تہائی رات کے قیام کے ساتھ ۔۔۔ پھر عام مسلمانوں کے لیے صدقہ حلال اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے افرادِ خانہ پر حرام ۔۔۔ آپؐ کی میراث، آپؐ کے ورثا میں تقسیم نہیں ہو سکتی تھی اور آپؐ کی بیویاں امت کی مائیں ہیں، ان کے ساتھ کوئی دوسرا شخص شادی نہیں کر سکتا۔‘‘
زیدؓ انھیں مزید بتاتے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر ہیں، اس لیے انھوں نے اپنی زندگی میں شریعت کی تعلیم مکمل کرنا ہے۔ اسی لیے انھوں نے عرب کی اس غیر فطری رسم کو ختم کرنے کے لیے زینبؓ سے اللہ کے حکم پر بادلِ نخواستہ شادی کی۔ اور اس حقیقت کو بھلا زینبؓ اور مجھ سے بہتر کون جانتا تھا کہ دونوں کی شادی پر سب سے زیادہ حضورؐ ہی خوش ہوئے تھے اور علیحدگی پر روئے زمین پر سب سے زیادہ خاموش اور غمگین بھی وہی ہوئے تھے۔
اس واقعے کے ضمن میں حضرت زیدؓ کے اسی کردار نے ا ن کی وقعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہوں میں بہت بڑھا دی تھی۔ (اس واقعے کی تفصیل ہماری کتب ’’قرآنی معجزے‘‘ میں ملاحظہ کریں)

***

حضرت زیدؓ عظیم سپاہی بھی تھے۔ان کے اندر سپہ سالارانہ خوبیاں تھیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب کوئی فوجی مہم بھیجی اور اس میں حضرت زیدؓ شامل تھے تو سرداری انھی کے سپرد کی۔ اللہ کے رسول ؐ نے انھیں 9 دفعہ مختلف مہمات کی طرف بھیجا۔
صلح حدیبیہ کے بعد حالات اس حوالے سے اسلام کے موافق ہو گئے تھے کہ پورے عرب میں اسلام کا پیغام بلا روک ٹوک پھیلنے لگا تھا۔ پھر فتح مکہ کے بعد جب پورا عرب گروہ درگروہ اسلام کے پرچم تلے جمع ہونے لگے تو آخری پیغمبرہونے کی وجہ سے آپؐ نے اللہ کی ابدی ہدایت کو باقی دنیا میں بھی روشناس کرانے کی ذمہ داری نبھانے کاقصد کیا۔8 ہجری میں بصریٰ کے فرماں روا کو بھیجی جانے والی سفارت اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حارثؓ بن عمیرکو اسلامی ریاست کا سفیر بناتے ہوئے شاہ بصریٰ کی طرف روانہ کیا۔
حارثؓ اردن کے مشرقی جانب سے ہوتے ہوئے جب ’’موتہ‘‘ کے شہر سے گزرنے لگے تو انھیں روکا گیا۔ دراصل اس شہر کا والی غسانی قبیلے سے تعلق رکھتا تھا اور مذہباً نصرانی تھا۔ اس نے حارثؓ سے خط برآمد کر لیا اور اسے پڑھا۔ خط میں شاہِ بصریٰ کو اسلام کی دعوت دی گئی تھی ۔ وہ اس بات پر سیخ پا ہو گیا اور بولا :
’’تمھیں اور تمھارے آقا کو یہ جرأت کیسے ہوئی کہ ہمارے ملک کے فرماں روا کو اپنا دین بدلنے کی طرف راغب کرو۔‘‘
اس بدبخت سردار کا نام شرح بیل بن عمرو تھا اور وہ شا ہ بصریٰ کی مملکت کے زیر تحت تھا۔ اس نے فرماں برداری کا ثبوت مہیا کرنے کی خاطر اسی وقت حارثؓ کو شہید کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت حارثؓ کی شہادت کی خبر بذریعہ وحی دی گئی۔ آپؐ نے صحابہؓ کویہ اندوہناک خبر سنائی ۔
کسی سفیر کا یوں قتل کر دیا جانا ایک بہت بڑی بات تھی۔ یہ ایک طرح سے کھلی جنگ کی دعوت تھی ۔ اگر آپ ؐ اس واقعے سے درگزر سے کام لیتے تو یہ تاثر ملتا کہ مدینہ کی اسلامی ریاست اس قدر کمزور اور بزدل ہے کہ وہ اپنے معزز سفیروں کے قتل پر بھی خاموش رہتی ہے۔ اس پس منظر میںآپؐ نے شرح بیل کو سزا دینے کا اعلان کیا اور مسلمانوں کو جہاد کے لیے تیاری کرنے کا حکم دیا۔
تین ہزار صحابہؓ کی ایک فوج تیار ہوئی آپ نے سیدنا زیدؓ بن حارثہ کو اس کا سپہ سالار بنایا اور دوسری بہت ساری ہدایات کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اگر زیدؓ شہید ہو جائیں تو جعفر طیارؓ بن ابی طالب (حضرت علیؓ کے بھائی اور آپؐ کے چچا زاد) سپہ سالار ہوں گے اور اگر یہ بھی شہید کر دیے جائیں تو عبداللہؓ بن رواحہ قائد لشکر ہوں گے اور اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو مسلمان جسے مناسب سمجھیں اپنا سالار بنا لیں۔
تین ہزار کا یہ لشکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خصوصی نگرانی میں روانہ کیا۔
ادھر شرح بیل نے حارثؓ کو شہید کرنے کی خبر بصریٰ کے فرماں روا کو پہنچا دی تھی اور بصریٰ کے فرماں روا کو اچھی طرح معلوم تھا کہ مدینہ کی اسلامی ریاست شرح بیل کی اس حرکت پر خاموشی سے نہیں بیٹھے گی۔ اس نے بھی جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں۔ اسی اثنا میں شرح بیل کے جاسوسوں نے اسے اطلاع دی کہ ایک اسلامی لشکر اسے سزا دینے کے لیے مدینہ سے چل پڑا ہے۔ شرح بیل نے فوراً شاہ بصریٰ اور شاہ بصریٰ نے قیصر روم کو خط لکھا کہ مسلمان ان پر حملہ کرنے آ رہے ہیں۔
قیصر روم کو پہلے ہی مسلمانوں کی فتوحات اور کامیابیوں کی اطلاع مل رہی تھی۔ اسی عالم میں اسے جب اسلامی لشکر کی اطلاع ملی تو وہ ایک لاکھ کی فوج لے کر بڑی شان و شوکت سے اپنے ملک سے روانہ ہوا۔ راستے میں اس نے عرب کے غیر مسلم اور مشرک قبائل کو بھی اپنے ساتھ ملایا اور دو لاکھ کا ٹڈی دل لشکر موتہ کے مقام پر خیمہ زن ہو گیا۔ ادھر مسلمان جب معان کے مقام پر پہنچے تو انھیں اطلاع ملی کہ ان کا مقابلہ نہ غسانیوں کے شرح بیل سے ہے اور نہ ہی شاہ بصریٰ سے ،بلکہ خود شہنشاہ روم دو لاکھ کے لشکر کے ساتھ ان کا انتظار کر رہا ہے ۔
یہ صورتِ حال قطعی طور پر اسلامی لشکر کے لیے غیر متوقع تھی۔ لشکر کے اہم سپہ سالاروں میں باقاعدہ ایک مجلس منعقد ہوئی تاکہ کسی حتمی فیصلے پر پہنچا جائے۔
زیدؓ بن حارثہ سمیت اکثر سرداروں کا خیال تھا کہ لشکر روانہ کرتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیش نظر اتنے بڑے لشکر کا مقابلہ ہرگز نہ تھا۔ اس لیے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کی جائے تب مقابلے کا فیصلہ کیا جائے۔
مگر عبداللہؓ بن رواحہ اس رائے کے سخت مخالف تھے۔ وہ دراصل انصار کے بڑے شاعر اور خطیب تھے۔ ان کی جوشیلی تقریر نے اسلامی لشکر کو جنگ پراس قدر ابھارا کہ ہر طرف نعرے بلند ہونے لگے۔ آخر کار یہی فیصلہ ہوا کہ دشمن اگر ان کے مقابلے میں دو لاکھ ہی ہے اور ان کی تعداد صرف تین ہزار ہے لیکن پھر بھی ہمیں ان سے ٹکرا جانا چاہیے۔
حضرت زیدؓ اگرچہ سپہ سالار تھے اور ان کی رائے میں یہ فیصلہ درست نہیں تھا ، مگر انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت یاد تھی کہ ساتھیوں کے مشورے کے ساتھ فیصلہ کرنا۔ اس لیے وہ بھی جنگ کے لیے تیار ہو گئے۔
معان میں اسلامی لشکر نے دو راتیں بسر کیں اور جب جنگ کے متعلق فیصلہ ہو گیا تو دشمن کی طرف پیش قدمی شروع ہو گئی۔ معان کے بعد اسلامی لشکر ’’مشارف‘‘ کی بستی پہنچا۔ یہاں سے قیصر روم ’’ہرقل‘‘ کی فوجیں صاف نظر آرہی تھیں۔
اسلامی لشکر نے یہاں بیٹھ کر مقابلہ کرنا مناسب خیال نہ کیا اور موتہ کے مقام پر آ کر خیمہ زن ہو گئے۔ یہ جگہ جنگ کے لیے مناسب محسوس کی گئی۔ یہاں پر لشکر ترتیب دیا گیا۔
میمنہ پر قطبہ اور میسرہ پر عبادہ بن مالک مقرر ہوئے۔
رومی لشکر کو جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ مسلمانوں کی تعداد صرف تین ہزار ہے لیکن کیا صرف تین ہزار کی تعداد دو لاکھ کے لشکر کا مقابلہ کرے گی؟ اس سوال کا جواب انھیں نہیں مل رہا تھا۔
رومی یہ سوچنے پر مجبور تھے کہ مسلمانوں نے اپنا باقی لشکر کہیں چھپا کر رکھا ہوا ہے اور جب لڑائی ہو گی تو یہ لشکر کہیں سے اچانک نمودار ہو گا اور انھیں تہس نہس کر دے گا، مگر یہ لشکر کہاں ہے؟ اس کے متعلق وہ نہیں جانتے تھے ۔ لیکن انھیں یقین تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔ رومیوں کے کچھ لوگ بے حد مغرور تھے ، وہ مسلمانوں کے لشکر کو دیکھ دیکھ کر ہنستے کہ یہ چند لوگ ہمارا مقابلہ کریں گے۔
اس پس منظر میں جب جنگ شروع ہوئی تو مسلمان صرف اور صرف شہادت کی خاطر لڑے۔ اپنے ایمان کی پختگی نے انھیں اس محیر العقول کارنامے پر ابھارا جبکہ رومی لشکر طرح طرح کے وسوسوں اور اندیشوں میں گھر ا ہوا تھا۔ زیدؓ لشکر کے قلب کے بجائے سب سے آگے تھے۔ لشکر کا ٹکراؤ ہوا تو رومیوں کو پہلی دفعہ اندازہ ہوا کہ ان کا مقابلہ دنیا کے سب سے بہادر لوگوں سے ہے۔
خود حضرت زیدؓ اپنی جان کی پروا نہ کرتے ہوئے لشکر کے اندر گھس گئے۔ انھوں نے اکیلے بیسیوں رومیوں کو قتل کیا ، مگر آخر کار دشمن کے ان گنت نیزے ان کے جسم میں پیوست ہو گئے۔
عَلم اب بھی حضرت زیدؓ کے ہاتھ میں تھا۔ حضرت جعفر طیارؓ انھیں گرتا ہوا دیکھ کر بجلی کی سی رفتار سے آگے بڑھے اور ان کے گرنے سے قبل ہی اسے اٹھا لیا۔ اب حضرت زیدؓ کی جگہ انھوں نے لے لی تھی۔ وہ بھی اسی شان سے بڑھے اور اسی شان سے شہید ہوئے۔ جب وہ گرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت کے مطابق حضرت عبداللہؓ بن رواحہ آگے بڑھے ، مگر ان کے پہنچنے سے قبل جس ہاتھ میں حضرت جعفرؓ نے پرچم تھام رکھا تھا وہ ہاتھ کاٹ ڈالا گیا۔ حضرت جعفرؓ نے پرچم دوسرے ہاتھ میں لے لیا ۔دشمن بھی ہر قیمت پر اسلامی پرچم گرانے پر تلا ہوا تھا۔ اس نے یہ ہاتھ بھی کاٹ ڈالا۔ حضرت جعفر طیارؓ نے پرچم کو کٹے ہوئے دونوں بازوؤں میں تھام لیا۔ تب دشمن نے تلوار مار کر ان کے جسم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ، مگر اس وقت تک حضرت عبداللہؓ بن رواحہ وہاں پہنچ چکے تھے اور پرچم ان کے ہاتھ میںآگیا تھا۔ اسے گرانے کی حسرت ان کے دل ہی میں رہی۔ اپنے دونوں پیش روؤں کی طرح حضرت عبداللہؓ بن رواحہ بھی جان توڑ کر لڑے۔ بیسیوں زخم کھائے ، بیسیوں دشمن جہنم رسید کیے بالآخر گرے ، مگر جھنڈا ایک مرتبہ پھر چوتھے مجاہد نے تھام لیا اور ان کا نام تھا حضرت ثابت بن ارقمؓ۔ حضرت ثابت بن ارقمؓ کی اس بہادری پر اسلامی لشکر نے جب انھیں سپہ سالار بننے کے لیے کہا تو انھوں نے حضرت خالدؓ بن ولید کا نام لیا۔ حضرت خالدؓ کے نام پر سب نے اتفاق کیا اور اسلامی لشکر کی کمان انھوں نے سنبھال لی۔
حضرت خالدؓ خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ اسلامی لشکر کو رومی ٹڈی دل سے محفوظ رکھنے کے لیے کوئی انوکھا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا۔ ادھر جنگ بھی جاری تھی اور اسے فوری طور پر روکنا مشکل تھا۔ حضرت خالدؓ بن ولید نے حکم دیا کہ فی الحال جنگ اسی طرح جاری رکھی جائے۔ سورج غروب ہوا تو جنگ بھی رک گئی۔ اس زمانے میں لمبی جنگوں کایہی دستور ہوا کرتا تھا کہ سپاہی رات کو آرام کرتے تھے اور اگلی صبح پھر میدان لگتا تھا۔ اس معرکے میں اسلامی لشکر نے رات کو ایک زبردست ا سکیم سوچی۔
جنگ شروع ہوئی تو رومیوں نے دیکھا کہ اسلامی لشکر نے اپنی ساری کی ساری فوج کی ترتیب بدل دی ہے۔ اگلی لائن پچھلی صفوں میں چلی گئی ہے اور پچھلی لائن آگے آگئی ہے۔ یہ دیکھ کر رومی سوچنے لگے کہ یقیناًمسلمانوں کو کمک پہنچ گئی ہے۔
پھر جب جنگ شروع ہوئی تو ابتدا کی جھڑپ ہی کے بعد اسلامی لشکر کی پچھلی صفیں آہستہ آہستہ پیچھے ہٹنے لگیں۔ رومیوں کا شک یقین میں بدل گیا کہ یہ ضرور کوئی چال ہے۔ کل جس لشکر نے ایک انچ پیچھے ہٹنا گوارا نہیں کیا تھا اور جن کے سرداروں کے ہاتھوں تلواروں پر تلواریں ٹوٹی تھیں بھلا آج اس قدر جلدی وہ کیسے شکست تسلیم کرنے کو تیار ہوں گے! یہ سوچ کر انھوں نے اسلامی لشکر کو پیچھے ہٹنے دیا اور اس کا تعاقب نہ کیا۔
ایک رومی سپہ سالار نے یہ کہا کہ مسلمان انھیں آہستہ آہستہ صحرا میں لے جانا چاہتے ہیں تاکہ وہاں انھیں گرمی میں تڑپا تڑپا کر ماریں۔ اس نے بھی یہی رائے دی کہ اسلامی لشکر کا پیچھا کرنے کے بجائے رومیوں کو اپنے علاقے کی طرف پلٹنا چاہیے۔
یوں اسلامی لشکر آہستہ آہستہ لڑتے ہوئے پیچھے ہٹتا گیا اور محفوظ طریقے سے محاذ جنگ سے واپس آگیا۔ اس پور ی جنگ میں مسلمانوں کے بارہ افراد شہید ہوئے اور دشمن کے ہلاک شدگان کی تعداد سینکڑوں تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت زیدؓ اور دوسرے سپہ سالاران کی شہادت کی خبر بذریعہ وحی دی گئی۔ آپؐ فوراً حضرت زیدؓ کے گھر روانہ ہوئے۔ اپنے والد کی شہادت کی خبر سن کر حضرت زیدؓ کی بیٹی رقیہؓ رونے لگیں ۔ انھیں روتا دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ضبط نہ کر سکے اور آپؐ کے آنسو بھی رواں ہو گئے۔
آپؐ نے اسی وقت اعلان کیا کہ رومیوں سے ایک جنگ اور ہو گی اور اس کے سپہ سالار زیدؓ کے بیٹے اسامہؓ ہوں گے۔
حضرت اسامہؓ کا لشکر تیار تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے۔ پھر یہی لشکر حضرت ابوبکر صدیق کے زمانے میں گیا اور فتح و کامرانی کے ساتھ واپس لوٹا۔
حضرت زیدؓ نے 54 یا55برس کی عمر میں شہادت پائی۔ انھوں نے مختلف وقتوں میں متعدد شادیاں کیں۔ آپؓ کے ہاں دو لڑکے اور ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ ان میں صرف حضرت اسامہؓ ہی زندہ رہے۔

____________