سیدنا عمیرؓ بن وہب پہلے پہل اسلام کے بڑے دشمن تھے۔ انھوں نے رسولِؐ خدا کو قتل کرنے کا بھی منصوبہ بنایا ،مگر پھر ان کی کایہ ایسی پلٹی کہ ان کا شمار کبار صحابہؓ میں ہونے لگا۔ یہ داستان ’’صور من حیاۃ الصحابہ‘‘ از عبدالرحمن رافت پاشا اور محمد حسین ہیکل کی کتاب ’’عمرؓ فاروق‘‘ سے ماخوذ ہے۔

اس نے بہت کوشش کی تھی کہ وہ اس منظر کو بھول جائے ،لیکن نہ جانے کیا بات تھی کہ بار بار وہی منظر اس کی نگاہوں میں گھوم جاتا تھا۔ تلواروں کی جھنکار، تیروں کی بوچھاڑ، زخمیوں کی پکار، اور ان سب کے درمیان دشمن کی للکار۔۔۔ جب بھی وہ اکیلا ہوتا، جنگ کا یہ منظر اس کی آنکھوں کے سامنے آجاتا۔ لیکن جس منظر سے اسے سب سے زیادہ نفرت تھی ، جو اس کے لیے عذاب بن گیا تھا، وہ منظر تھا جب دشمن نے اس کے بیٹے کو بے بس کرکے گرفتار کر لیا تھا اور وہ خود اپنی جان بچا کر میدانِ جنگ سے بھاگ جانے پر مجبور ہو گیا تھا۔ اس کا اکلوتا اور بہادر بیٹا دشمن کی قید میں چلا گیا تھا۔ پھراسے دوست یاد آتے، وہ بڑے بڑے سردار نگاہوں کے سامنے آجاتے جن کی گردنیں دشمن نے گاجر مولی کی طرح کاٹ ڈالی تھیں اور جن کی لاشیں ایک کنویں میں پھینک دی گئی تھیں۔ وہ یہ ساری باتیں کیسے بھلا سکتا تھا۔ واقعی ماضی کے اس عذاب سے جان چھڑانا اسے ممکن نظر نہیں آرہا تھا۔ ہاں البتہ ایک صورت تھی ، اس تلخ اور تکلیف دہ یاد سے پیچھا چھڑانے کی۔ وہ صورت تھی انتقام کی۔ بھیانک انتقام کی۔
انھی سوچوں میں گم تھا کہ کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا: ’’عمیر کن خیالوں میں کھوئے ہوئے ہو؟‘‘
’’صفوان! تمھیں اچھی طرح معلوم ہے کہ مجھے آج کل کن اندیشوں نے گھیرا ہوا ہے۔ میں تو ہر دم اپنے بیٹے کی فکر میں روتا ہوں۔ مجھے خوف ہے کہ دشمن میرے بیٹے کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔ میں نے بھی ان کے ساتھ کوئی اچھا سلوک نہیں کیا ہوا۔‘‘
آنے والا، جسے صفوان کے نام سے پکارا گیا تھا، لمبی سانس لے کر کہنے لگا: ’’ٹھیک کہتے ہو بھئی، یہ جنگ بھی کیا خوف ناک جنگ تھی۔ اس میں تو وہ کچھ ہو گیا جس کا ہم نے تصور بھی نہ کیا تھا۔ دشمن نے ہمیں چیونٹیوں کی طرح مسل کر رکھ دیا۔ اس بستی کے سارے بہادر سردار چن چن کر مار ڈالے ۔ خدا کی قسم اب تو زندہ رہنے میں کوئی مزا نہیں۔‘‘
’’کعبہ کے رب کی قسم آپ نے بالکل سچ کہا۔ بھلا اب ہمارے زندہ رہنے کا کیا فائدہ!‘‘
پھر دونوں جنگ کے بارے میں باتیں کرنے لگے کہ ان کے کتنے لوگ قید ہوئے اور کتنے مارے گئے اور کیسے ان سب کی لاشیں قلیب نامی کنویں میں پھینکی گئیں۔
تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد عمیر بولا: ’’کاش۔۔۔ کاش مجھ پر قرض نہ ہوتا اور میں بیوی بچوں والا نہ ہوتا تو اس کعبہ کے رب کی قسم، میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو ابھی جا کر ٹھکانے لگا دیتا۔ اسی کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے۔‘‘
یہ کہہ کر وہ گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ کچھ ہی لمحوں کے بعد وہ دوبارہ بولا: ’’اور اگر میں اپنے بیٹے کی خبر لینے دشمن کے شہر جاؤں تو کوئی مجھ سے یہ نہیں پوچھے گا کہ تم یہاں کیا کرنے آئے ہو؟ میں موقع پا کر انھیں قتل کر سکتا ہوں۔ یہ بالکل ممکن ہے۔‘‘
صفوان فوراً بولا: ’’عمیر! تم فکر نہ کرو، تمھارا سارا قرض میں ادا کروں گا۔ اگر تمھیں کچھ ہو گیا تو میں تمھارے سارے خاندان کی ذمہ داری قبول کر لوں گا۔ یہ میرا وعدہ ہے۔ میرے پاس بہت مال و اسباب ہے، آخر وہ کب کام آئے گا!‘‘
عمیر نے امید بھری نظروں سے اپنے دوست صفوان کی طرف دیکھا اور سرگوشی سے بولا: ’’تو پھر اس بات کو اپنے تک ہی رکھنا۔ کسی سے ذکر نہ کرنا، اور اپنا وعدہ یاد رکھنا۔‘‘
صفوان بولا: ’’تم بھی کسی کو مت بتانا کہ کہاں جا رہے ہو۔‘‘
دونوں دوست ایک دوسرے کو رازداری کی تلقین کرتے ہوئے رخصت ہوئے۔ عمیر نے گھر آ کر تیاری شروع کر دی ۔
ان دنوں کئی لوگ مدینہ اپنے قیدیوں کی خیریت دریافت کرنے جا رہے تھے۔ عمیر کو یقین تھا کہ وہ بھی بیٹے کے بہانے وہاں پہنچ جائے گا۔ کسی کو ذرا بھی شک نہیں ہو گاکہ وہ کس ارادے سے یہاں آیا ہے۔ عمیر نے اپنی تلوار تیز کرکے اسے زہر میں بھگویا اور اگلے ہی دن انتقام کا طوفان سینے میں چھپائے ، دشمن کا نام و نشان مٹانے چل پڑا۔
منزلوں پر منزلیں مارتا وہ مدینہ پہنچ گیا۔ مدینہ اس کے شہر سے تین راتوں کے فاصلے پر تھا۔ شہر میں آ کر وہ پہلے تازہ دم ہوا، کپڑوں کا گردوغبار جھاڑا اور دشمن کی تلاش میں گھومنے لگا۔ جلد ہی اسے اندازہ ہو گیا کہ اگر وہ مسجد نبوی کے قریب رہے تو اسے کامیابی حاصل ہو سکتی ہے۔
مسجد نبوی کے قریب آ کر اس نے اپنا گھوڑا ایک طرف باندھا اور دروازے کی طرف بڑھا۔ جیسے ہی اس نے نظریں اٹھائیں، اس کے سامنے ایک ایسا شخص کھڑا تھا جس کی مثال کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا تھا۔ وہ کسی زمانے میں اس کا اچھا ملنے والا تھا ،مگر اب تو وہ بھی اس کا دشمن بن چکا تھا اور یہ باوقار اور با رعب شخص بھلا عمرؓ بن خطاب کے سوا کون ہو سکتا تھا۔ وہ اسی جنگ کے قیدیوں کے بارے میں گفتگو کر رہا تھا۔ اسی لمحے حضرت عمرؓ کی نظر عمیر پر پڑی جو گلے میں تلوار لٹکائے مسجد کی طرف آ رہا تھا۔
حضرت عمرؓ نے اپنی بات روکی اور عمیر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ’’ارے یہ ہمارا دشمن عمیر! اللہ کی قسم، یہ یقیناًیہاں برے ارادے سے آیا ہو گا۔ اسی نے شہرکے باہر لوگوں کو جنگ پر ابھارا تھا۔ یہ ہماری جاسوسی بھی کرتا رہا ہے اور اب بھی ایسے ہی کسی کام سے آیا ہو گا۔‘‘
پھر وہ فوراً مسجد کے صحن کی طرف لپکے۔ وہاں اللہ کے نبی، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے۔ انھوں نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی حفاظت میں لے لیں کہ کہیں عمیر جیسا چالاک دشمن کوئی چال نہ چل جائے۔ پھر انھوں نے رسولؐ اللہ سے کہا کہ عمیر ادھر ہی آ رہا ہے اور اس جیسے مکار دشمن سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ آپؐ نے حکم دیا کہ اسے میرے پاس لے آؤ۔
حکم سنتے ہی حضرت عمرؓ واپس مڑے اور عمیر کے پاس پہنچ کر اسے خبردار کیا کہ وہ کوئی حرکت نہ کرے اور خاموش کھڑا ہو جائے۔ پھرا چانک انھوں نے اپنی تلوار کا پٹہ اس کی گردن میں ڈال کر اس پر قابوپا لیا اور اسے آپؐ کے سامنے پیش کر دیا۔ آپؐ نے عمیر کو اس حالت میں دیکھا تو فوراً حکم دیا کہ اس کی گردن کو آزاد کر دیا جائے۔ عمیر کی گردن آزاد کر دی گئی۔
آپؐ نے جب حضرت عمرؓ سے کہا کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں تو انھوں نے حکم کی تعمیل کی۔ پھر وہ عمیر کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ’’عمیر تم قریب آجاؤ۔‘‘
عمیر کے دل میں لڈو پھوٹ رہے تھے کہ اب منزل بہت قریب ہے، انتقام لینے کا وقت آگیا ہے۔ میں قریب جاتے ہی پھرتی سے تلوار نکال کر اپنا کام کر دکھاؤں گا۔ وہ نپے تلے قدم اٹھاتا آپؐ کی طرف بڑھا اور ایک دو قدموں کے فاصلے پر جا کر رک گیا اور بولا: ’’صبح بخیر۔‘‘
ان کے ہاں سلام کرنے کا یہ طریقہ ہوتا تھا۔
’’عمیر! اللہ تعالیٰ نے ہمیں تم سے بہتر سلام کا طریقہ بتایا ہے۔۔۔ السلام علیکم!‘‘
’’آپ کا سلام ہمارے سلام سے کوئی زیادہ مختلف تو نہیں ،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ آپ کی بات ہی انوکھی ہے۔‘‘نفرت کی تلخی لیے وہ بولا۔
حضورؐ نے اس کے تبصرے کو نظر انداز کیا اور فرمایا:’’کہو عمیر ، کیسے آنا ہوا؟‘‘
’’میں اپنا قیدی چھڑانے آیا ہوں۔ میرا بیٹا آپ کے قبضے میں ہے۔ برائے مہربانی اسے چھوڑ دیں اور مجھ پر احسان فرمائیں۔‘‘
’’تمھاری گردن میں تو تلوار لٹک رہی ہے۔ اس کا کیا مقصد ہے؟‘‘
’’افسوس یہ تلوار ناکارہ ہو گئی ہے ۔ جس دن آپ لوگوں سے جنگ ہوئی، اس دن کے بعد اس کی دھار کند ہو گئی ہے۔‘‘
’’نہیں عمیر، تم سچ بولو،کہو کیسے آنا ہوا؟‘‘ آپؐ کی بات نے پہلی دفعہ عمیر کے دل میں ہل چل مچائی تھی۔ نہ جانے کیوں اس کے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی۔ اس نے اپنی اس کیفیت پر قابو پاتے ہوئے کہا:
’’میں آپ ؐ کو بتا چکا ہوں کہ میں اپنا قیدی چھڑانے آیا ہوں۔‘‘
آپؐ نے فرمایا: ’’تم اور تمھارا دوست صفوان بن امیہ، حطیم کے پاس بیٹھے، قلیب کنویں میں پھینکی گئی لاشوں کے متعلق باتیں کر رہے تھے۔ پھر تم نے یہ کہا کہ اگر مجھ پر قرض نہ ہوتا اور میں بیوی بچوں والا نہ ہوتا تو یقیناًمحمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کرنے کی مہم پر نکل پڑتا۔ پھر صفوان نے تمھارا قرض اتارنے اور اہل و عیال کی ذمہ داری قبول کرنے کا وعدہ کیا اور تم مجھے قتل کرنے کی مہم پر نکل کھڑے ہوئے ،مگر اللہ نے تیرے اس گھناؤنے منصوبے کو ناکام بنا دیا ہے۔‘‘
یہ سب کچھ سن کروہ ششدر رہ گیا۔اسے سخت حیرت ہورہی تھی کہ صفوان بن امیہ کے ساتھ کی گئی یہ باتیں تو ان دونوں کے سوا کسی نے نہیں سنیں۔ اس نے اپنی بیوی کو بھی کچھ نہیں بتایا تھا اور صفوان کی بھی یہی کیفیت تھی۔ پھر ان تک یہ باتیں کیسے پہنچ گئیں؟ وہ گہری سوچ میں پڑ گیا۔ اسے یوں لگا جیسے وہ کسی سخت خول میں بند تھا اور اب یہ خول ٹوٹنے لگا ہے۔ اس کے وجود پر ان دیکھی زنجیروں کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی ہے۔ آخر وہ پکار اٹھا:
’’اے بلند مرتبہ سردار! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ محمد ،ؐ اللہ کے رسول ہیں۔ آپؐ مکہ میں جب ہمیں آسمانی خبریں بتلاتے تھے تو ہم انھیں تسلیم نہیں کرتے تھے، لیکن صفوان اور میرے درمیان ہونے والی گفتگو کا تو ہمارے سوا کسی کو علم نہیں تھا۔ خدا کی قسم اب مجھے یقین ہو گیا ہے کہ یہ خبر آپؐ کو اللہ تعالیٰ ہی نے دی ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ وہ مجھے آپؐ کے پاس لے آیا تاکہ مجھے اسلام کی دولت نصیب ہو۔‘‘
اور عمیر بن وھب نے کلمہ پڑھا اور مسلمان ہو گئے۔
اللہ کے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: ’’عمیر اب تمھارے بھائی ہیں۔ انھیں دین سمجھاؤ، قرآن مجید کی تعلیم دو اور ان کے قیدی کوآزادکر دو۔‘‘
صحابہ کرامؓ حضرت عمیرؓ بن وھب کے اسلام قبول کرنے پر بہت خوش ہوئے۔ حضرت عمرؓ بھی ان کے اسلام قبول کرنے پر بہت خوش ہوئے۔ انھوں نے فرمایا:
’’جب یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کی نیت سے آیا تھا تو مجھے بہت برا لگا تھا ،لیکن اب اسلام قبول کرنے کے بعد یہ مجھے اپنے بیٹوں سے بھی زیادہ پیارا ہو گیا ہے۔

***

ادھر مکہ میں صفوان بن امیہ بڑی بے چینی سے مدینہ سے کسی بڑی خبر کے آنے کا انتظار کر رہا تھا۔ وہ جب بھی دوستوں کی مجلس میں ہوتا تو کہتا: ’’اے قریش! تمھیں جلد ہی ایک ایسی خبر ملنے والی ہے جوبدر کی یاد بھلا دے گی۔‘‘
مگر صفوان کا انتظار طویل سے طویل تر ہوتا گیا اور اسے وہ خبر ہرگز نہ ملی جس کی اسے توقع تھی۔ اس کے برعکس ایک دن مدینے سے آنے والے ایک شخص نے اسے بتایا کہ عمیر رضی اللہ عنہ تو مسلمان ہو گئے ہیں۔ یہ خبر اس پر بجلی بن کر گری۔ اس نے یہ کہہ کر اس خبر کو ماننے سے انکار کر دیا کہ ساری دنیا مسلمان ہو سکتی ہے ،لیکن عمیر مسلمان نہیں ہو سکتا۔
ایک دن اس کے گھر پر دستک ہوئی۔ وہ باہر نکلا تو سامنے عمیرؓ کھڑے تھے۔ صفوان نے غور سے ان کی طرف دیکھا۔ اسے یوں لگا کہ جیسے وہ اس عمیر کو نہیں دیکھ رہا جسے اس نے اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو شہید کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ یہ عمیرؓ تو بالکل ہی کوئی دوسرا شخص دکھائی دیتا تھا۔ عمیرؓ ان کا ہاتھ پکڑ کر انھیں گھر کے اندر لے گئے۔
صفوان نے ان پر سوالوں کی بوچھاڑ کر دی: ’’عمیر، اللہ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ تمھارے متعلق میں نے جو کچھ بھی سنا۔ وہ غلط تھا، تم اپنے باپ دادا کا دین نہیں چھوڑ سکتے۔ بتاؤ ۔۔۔اللہ کی قسم ، تمھارا چہرہ بدلا بدلا لگ رہا ہے ۔۔۔ بتاؤ تم پر کیا مصیبت آن پڑی ؟‘‘
حضرت عمیرؓ نے اسے اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کا پورا موقع دیا پھر سارا واقعہ بتایا اور پوچھا:
’’صفوان! کیا تم نے ہمارے درمیان ہونے والی باتیں کسی اور شخص کو بتائی تھیں؟‘‘
صفوان نے کہا :’’نہیں، میں نے اس راز کو ہمیشہ اپنے تک ہی رکھا تھا۔‘‘
تب حضرت عمیرؓ بولے:
’’میں نے اسی لیے اسلام قبول کر لیا ہے اور مدینہ میں رہتے ہوئے میں نے اسلام کی تعلیمات بھی سیکھی ہیں اور قرآن بھی یاد کیا ہے اور اب میں یہاں رہ کر اسلام کی تبلیغ کروں گا اور سب سے پہلے تمھیں اس سچے دین کی طرف بلاتا ہوں۔‘‘
’’میں تمھاری طرح بزدل نہیں ہوں جو بیٹے کی زندگی کی خاطر اپنے باپ دادا کا دین بدل لوں گا۔۔۔ عمیر، تم نے بہت برا کیا ۔۔۔ خدا کی قسم تم تو پہلے دن ہی سے اس نئے دین کے لیے ہمدردی رکھتے تھے ۔۔۔اور آج تم مجھ سے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو قتل کرنے کے بجائے اس کا دین قبول کرنے کی بات کرتے ہو ۔۔۔ مگر یاد رکھو آج کے بعد میں تم سے کبھی کلام نہیں کروں گا۔‘‘
اور صفوان نے عمیرؓ کی مزید کوئی بات نہ سنی اور گھر میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا۔ عمیرؓ کے لیے اب کوئی چارہ نہ تھا وہ واپس گھر کی طرف لوٹ چلے۔ وہ راستے میں صفوان کی باتوں پر غور کرنے لگے ۔۔۔ کیا واقعی وہ پہلے دن سے اسلام کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے؟
صفوان کے اس الزام کا پس منظر یہ تھا کہ غزوہ بدر میں انھوں نے قریش کو جنگ سے باز رہنے کی بڑی کوشش کی تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسلمانوں کا جوش و جذبہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے۔ انھیں صاف نظر آ رہا تھا کہ قریش اگر ان لوگوں سے ٹکرائے تو موت کے سوا ان کے حصے میں کچھ نہیں آئے گا۔ اسی لیے انھوں نے بڑی دیانت داری سے ابو سفیان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے قریش کو مشورہ دیا تھا کہ جنگ کا خیال دل سے نکال دیں ،لیکن ابوالحکم (ابوجہل) کا برا انجام اسے بلا رہا تھا۔ اس نے عمیر کو بزدل ہونے کا طعنہ دیا تھا۔ اس کے جواب میں عمیر نے قریش کو دوسرے طریقے سے سمجھاتے ہوئے کہا تھا:
’’اے قریش، تم اپنے سے کم تر قبیلے(انصار) سے لڑو گے؟‘‘
لیکن ان کی یہ تدبیر بھی کامیاب نہ ہوئی اور قریش کے اکثر سردار لڑنے پر مصر رہے۔ تب مجبوراً عمیرؓ کو اپنے بیٹے کو ساتھ لے کر اسلامی لشکر کے مقابل آنا پڑا۔۔۔مگر اس سارے پس منظرسے کہیں ثابت نہیں ہوتا تھا کہ ہم بزدل ہیں یا انھوں نے اپنی قوم سے غداری کی ہے۔ بلکہ عمیرؓ کواس احساس سے یک گونہ اطمینان ہوا کہ ان کی سرشت میں شروع ہی سے قوم کی بہتری اور فلاح تھی اور اب بھی وہ دل کی گہرائیوں سے یہی سمجھتے تھے کہ اہل مکہ اور قریش کی فلاح اسی میں ہے کہ وہ شرک اور کفر سے توبہ کرکے ایک خدا کی وحدانیت پر ایمان لے آئیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا رہبر و رہنما تسلیم کر لیں۔
اپنا اچھی طرح محاسبہ کر لینے کے بعد عمیرؓ نے تہیہ کر لیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اسلام کی تبلیغ کریں گے اور انھیں اسلام کی دعوت دیں گے۔
حضرت عمیرؓ مکہ میں سات آٹھ ماہ کے قریب قیام پذیر رہے، اس دوران میں انھوں نے ہر اس آدمی تک اسلام کا پیغام پہنچایا، جس سے ان کی بات ہو سکتی تھی اور جو اسلام کا پیغام سننے میں سنجیدہ تھا ۔ ان کی کوششوں سے کئی افراد نے اسلام قبول کیا۔ انھی دنوں عمیرؓ کے علم میں یہ بات آئی کہ کفار مکہ غزوہ بدر کی خفت مٹانے کی خاطر مدینہ پر چڑھائی کے منصوبے بنا رہے ہیں۔ اس موقع پر عمیرؓ نے مدینہ جا کر یہ اطلاع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دینے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ عمیرؓ 2 ھ کے قریب مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے۔
عمیرؓ کی اطلاع درست ثابت ہوئی اور چند ہفتوں کے بعد غزوہ احد کا واقعہ پیش آگیا، جس میں مسلمانوں کی لغزش سے انھیں بہت نقصان اٹھانا پڑا۔ عمیرؓ اس معرکے میں شریک رہے اور مسلمانوں کی طرف سے دادِ شجاعت دی۔
احد کے بعد کی ساری جنگوں میں عمیرؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ رہے اور بھرپور حصہ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد انھوں نے ابوبکر صدیقؓ کا پورا پورا ساتھ دیا اور نازک لمحات میں اپنی ساری خدمات اسلامی حکومت کے سپرد کر دیں۔
***
حضرت عمرؓ کے عہد میں حضرت عمیرؓ ان لوگوں میں شامل تھے، جن سے حضرت عمرؓ مشورہ لیا کرتے تھے۔ گویا عمیرؓ خلیفۃ المسلمین کی مجلس شوریٰ کے ممبر تھے۔ اس وجہ سے وہ عام جنگوں میں شامل نہیں رہے ،البتہ مصر کی فتح کے دوران میں حضرت عمرؓ نے انھیں ایک خاص مہم پر بھیجا۔
مصر کے پایہ تخت اسکندریہ میں ایک بہت ہی مضبوط قلعہ تھا۔ اس کے بارے میں یہی سمجھا جاتا تھا کہ اس کا فتح کرنا ممکن نہیں ہے۔ لیکن اسلامی لشکر بغیر کسی مزید کمک کے سکندریہ کی طرف بڑھنے لگا اور جا کر شہر کا محاصرہ کر لیا۔ یہ محاصرہ جب ایک ماہ تک طویل ہوا تو حضرت عمروؓ بن العاص نے مدینے میں کمک کے لیے پیغام بھیجا۔ اس پیغام کے جواب میں حضرت عمرؓ نے دس ہزار کی تعداد میں ایک لشکر مصر کی طرف روانہ کیا۔
اس لشکر کے چار حصے تھے اور ہر حصے کا ایک سردار تھا۔ ان چار سرداروں میں سب سے نمایاں حضرت عمیرؓ بن وھب تھے!
حضرت عمرؓ کی خلافت میں حضرت عمیرؓ کی یہ پہلی باقاعدہ جنگی مہم تھی۔ حضرت عمرؓ نے اس اہم دستے کے متعلق حضرت عمروؓ بن العاص کو یہ حکم بھجوایا کہ حملے کے وقت یہ چاروں دستے اسلامی فوج کے ہراول دستے ہوں گے۔
دس ہزار کی یہ کمک جب اسکندریہ پہنچی تو اسلامی سپہ سالار نے خلیفہ وقت کے فرمان کے مطابق حضرت عمیرؓ اور ان کے دستے کو ہراول کے طور پر متعین کیا۔
اس وقت صورتِ حال یہ تھی کہ محاصرہ تقریباً دو ماہ سے زیادہ کی طوالت اختیار کر چکا تھا ،لیکن محصورین کے حوصلے قائم تھے، جس سے یہی معلوم ہوتا تھا کہ شہر میں کھانے پینے کا سامان ابھی وافرمقدار میں موجود ہے۔ لیکن مسلمانوں کی تازہ کمک سے ان کے حوصلے بڑھے تھے اور اس کا لازمی منفی اثر بھی دشمن پر ہی پڑا تھا، اسی چیز کا اندازہ کرکے حضرت عمیرؓ نے ایک دفعہ پھر وہی کردار ادا کیا جس کی وہ بدر کے موقع پر پیشکش کر چکے تھے۔
حضرت عمرؓکے حکم کے مطابق مدینہ سے آنے والی تازہ کمک اسلامی لشکر کے آگے تھی اور محصورین دیکھ سکتے تھے کہ فوج میں اضافہ ہو چکا ہے۔ چنانچہ انھوں نے مقوقش کی طرف سفارت بھیجنے کا مشورہ دیا اور یہ پیغام لکھوایا کہ اچھی طرح جانتے ہو کہ اسلامی لشکر کو نئی کمک پہنچ گئی ہے، اس لیے یہ خیال دل میں مت لانا کہ تمھارا محاصرہ ختم ہونے والا ہے ،بلکہ تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اسکندریہ تک اب کوئی رسد نہیں پہنچ سکتی اور تمھیں اسی سامان پر گزارہ کرنا پڑے گا جو تمھارے پاس موجود ہے۔ چنانچہ رسد کبھی تو ختم ہو گی اور اس کے بعد جب اسکندریہ فتح ہو گا تو اہل شہر سے مفتوحوں کا سا سلوک کیا جائے گا۔ اس آنے والی تباہی سے بچنے کے لیے مناسب ہے کہ جنگ کا خیال دل سے نکال کر اسلامی لشکر کی طرف سے صلح کی پیش کش کو قبول کیا جائے۔
مقوقش کو سفارت کار کا یہ پیغام حقیقت کے عین مطابق لگا اور اس نے اسکندریہ کے لوگوں کو صلح کرنے پر راضی کر لیا۔ صلح کی شرط یہ تھی کہ اسکندریہ میں جو شخص ٹھہرنے کا خواہش مند ہو گا، اسے ٹھہرنے کی اجازت ہو گی اور جو کوئی جانا چاہے گا، اسے بھی نہ روکا جائے گا۔
عمیرؓ اور ان کے ساتھیوں نے عمروؓ بن العاص کو یہ شرط منظور کرنے پر آمادہ کر لیا اور یوں اسکندریہ کا عظیم شہر کسی خون خرابے کے بغیر تین ماہ کے طویل محاصرے کے بعد اسلامی ریاست میں شامل ہو گیا۔
اسلامی لشکر کے اس فیصلے نے ایک دفعہ پھر غیر مسلم اقوام پر یہ ثابت کر دیا کہ حکومت اسلامی کا اصل مقصد اسلام کی اشاعت و ترویج ہے ، حکومت کی ہوس اور ملک گیری کی خواہش کو اس میں کوئی دخل نہیں۔
اسکندریہ کی فتح میں عمیرؓ کے شاندار کردار پر عمروؓ بن العاص نے ان کی بہت تحسین کی اور انھیں ارد گرد کے دوسرے علاقوں کو فتح کرنے میں مدد کرنے کی درخواست کی۔ حضرت عمیرؓ نے اپنے سپہ سالار کی درخواست کو حکم سمجھتے ہوئے مانا اور تینس، دمیاط، تونہ، دمیرہ، شطا، وقہلہ نبا اور بوسیر کے علاقے معمولی جھڑپوں کے بعد فتح کر لیے اور یہاں پر بھی اسلام کی اشاعت کا راستہ ہموار کیا۔
حضرت عمروؓ بن العاص کی دی ہوئی تمام مہموں کو کامیابی سے مکمل کرنے کے بعد وہ واپس مدینہ آگئے اور عمرؓفاروق کے دور کے آخری برسوں میں مختصر علالت کے بعد وفات پائی۔

____________