وہ رومی بھی تھے اور عربی بھی۔ انھوں نے ایک دنیا دیکھ رکھی تھی۔ اسی لیے انھوں نے اللہ کے رسولؐ کو پہچاننے میں ذرا دیر نہ کی۔ حق کی خاطر اپنا سارا مال و اسباب لٹا دینے والے صحابی رسول جنھیں خود حضورؐ نے ’’ابو یحییٰ‘‘ کا لقب دیا۔
مآخذ: الصور من حیاۃ الصحابہ۔ از عبدالرحمن
راقث پاشا۔ سیرت صحابہ۔ مولانا معین الدین ندوی

یہ ملکِ عراق کا ایک خوب صورت گاؤں تھا۔لوگ اسے ’’ثنّٰے‘‘ کہتے تھے۔ یہ علاقے بھر میں صحت افزا مقام کے طور پر مشہور تھا۔ لوگ دور دور سے اس کی سیر کرنے آتے۔ لیکن آج یہاں سیر کرنے والوں کا ہجوم نہیں تھا۔ اس کے باوجود بستی کی صفائی کا خاص انتظام کیا گیا تھا۔ دراصل آج یہاں علاقے کے گورنر کا خاندان سیر کرنے آ رہا تھا۔گورنر کا نام سنان تھا اور وہ ابلہ کا حاکم تھا۔ ابلہ اگرچہ عراق کا حصہ تھا ، لیکن اس زمانے میں یہ ایران کے قبضے میں تھا۔ سنان کو ایرانی شہنشاہ ہی نے یہاں کا حاکم مقرر کیا تھا اور اس حاکم کا اصل وطن عرب تھا۔ آج ’’ثنیٰ‘‘ میں سنان کا خاندان سیر کرنے آ رہا تھا۔ وہ خودتو ان کے ہمراہ نہیں تھا ، لیکن حفاظتی دستہ اور خدام شاہی خاندان کے ساتھ تھے۔
یوں تو سنان کو اپنی ساری اولاد سے محبت تھی، لیکن اپنے پانچ سالہ بیٹے صہیب سے اسے خصوصی لگاؤ تھا۔ سنہری بال، گوری رنگت اور دلکش نقش و نگار کی وجہ سے وہ بہت خوب صورت لگتا تھا۔ وہ صرف شکل و صورت ہی کا حسین نہیں تھا ، بلکہ اس کی طبیعت اور عادتیں بھی باقی بچوں سے مختلف اور نہایت با وقار تھیں۔سنان جب سارے دن کی مصروفیت کے بعد گھر آتا اور جیسے ہی اس کی نظر اپنے اس بیٹے پر پڑتی تو اس کا جی خوشی سے بھر جاتا اور تمام تھکن اتر جاتی۔ سنان کے خاندان کا قافلہ اپنی منزل ثنیٰ کی طرف رواں دواں تھا۔ صہیب اپنی والدہ اور بہن بھائیوں کے ہمراہ کھیلنے میں مصروف تھا کہ اچانک گھوڑوں کے بھاگنے کی زور دار آوازیں آئیں۔ ساتھ ہی صہیب کی والدہ کے کانوں میں محافظوں کی آواز آئی:
’’خاتون، بچوں کو سنبھالیں ۔۔۔ ڈاکو آگئے !‘‘
صہیب کی معصوم نگاہوں نے جب گھوڑوں کی آواز کا تعاقب کیا تو ایک خوفناک منظر اس کے سامنے تھا۔ اس کی حفاظت کرنے والا دستہ ڈاکوؤں کے ساتھ لڑ رہا تھا۔ڈاکوؤں کی تعدادحفاظتی دستے سے کئی گنا زیادہ تھی۔محافظوں نے اس کے باوجود بڑی بہادری سے ڈاکوؤں کا مقابلہ کیا، لیکن ان کی ایک نہ چلی اور وہ سارے کے سارے قتل ہو گئے۔ اب ڈاکوؤں نے سیر کے لیے آنے والے تمام افراد کو گھیر لیا، جس نے ذرا بھی حرکت کی اسے فوراً قتل کر دیا۔ سنان کی بیوی، اس کے بچے اور دوسرے کئی لوگ بھی ان میں شامل تھے۔ ڈاکوؤں نے گرفتار لوگوں اور ان کے مال کو آپس میں بانٹ لیا۔ کیسی عجیب بات تھی، انسان اپنے جیسے انسانوں کو آپس میں بانٹ رہے تھے۔ کسی ڈاکو نے اپنے پاس ایک دوسرے کے جاننے والے قیدی نہیں رکھے تھے۔ صہیب کو بھی اس کی ماں اور بہن بھائیوں سے علیحدہ کر دیا گیاتھا۔ وہ جس ڈاکو کے حصے میں آیا تھا، اس کے پاس اس کے خاندان کا کوئی اور فرد نہیں تھا۔ ڈاکوؤں نے ان قیدیوں کو اپنا غلام بنا لیا تھا اور یہی ان کا کاروبار تھا۔
اس زمانے میں ڈاکو قافلوں کو لوٹ کر غلام بنا لیتے اور پھر انھیں دور دراز کے علاقوں میں لے جا کر فروخت کر دیتے تھے۔ صہیب کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اس کے مالک ڈاکو نے اسے ملکِ روم لے جا کر بیچ دیا۔
ان غلام مرد اور عورتوں کے ساتھ بہت برا سلوک کیا جاتا ۔ غلاموں کے کوئی حقوق نہیں تھے۔ اور انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح رکھا جاتا۔ صہیب کو نہ جانے کتنے لوگوں نے خریدا اور کتنوں نے بیچا۔ روم میں رہتے ہوئے اسے اس معاشرے سے بہت نفرت ہو گئی تھی۔ امیر لوگ عیش میں پڑے ہوئے تھے اور غریب دو وقت کی روٹی کو ترستے تھے۔ اس ملک میں دنیا کی ہر برائی موجود تھی۔ صہیب کا جی چاہتا تھا کہ وہ ایک منٹ بھی ان لوگوں کے ساتھ نہ رہے، لیکن کیا کر سکتا تھا؟ وہ تو ایک غلام تھا اور غلام کی کوئی مرضی نہیں تھی۔ اسے اپنے دکھوں کا ایک ہی حل نظر آتا تھا کہ وہ کسی نہ کسی طرح یہاں سے بھاگ جائے، لیکن بھاگنا آسان نہیں تھا۔ سب غلاموں کے گلے میں غلامی کی نشانی کے طور پر ایک زنجیر ڈالی جاتی تھی۔ اگر کوئی غلام بھاگ جاتا تو لوگ اس کے گلے کی زنجیر سے اسے پہچان لیتے اور پکڑ کر اس کے مالک کے حوالے کر دیتے۔ پھر اس کے جسم کو گرم لوہے سے داغا جاتا تاکہ اس کے جسم پر غلامی کا نشان ہمیشہ کے لیے بن جائے اور وہ کبھی بھاگنے کا خیال بھی دل میں نہ لائے۔ اس سب کے باوجود صہیب تہیہ کر چکا تھا کہ وہ اس جہنم سے فرار ہونے کی پوری پوری کوشش کرے گا۔
اس نے اپنی گردن کی زنجیر کو کاٹنا شروع کر دیا۔ وہ اپنے مالک سے نظر بچا کر رات کی تاریکی میں زنجیر کی کڑی لوہے کے ایک ٹکڑے سے رگڑتا رہتا۔ جب اسے نظر آنے لگا کہ زنجیر کسی بھی وقت ٹوٹ سکتی ہے تو اسے یہ فکر ہوئی کہ زنجیر ٹوٹنے پر بھی وہ بھاگ کر کہاں جائے گا؟
صہیب اسی فکر میں تھا کہ اسے معلوم ہوا کہ عراق کی جانب تجارت کا ایک قافلہ کل صبح روانہ ہوگا۔ اس نے اپنے گلے کی زنجیر رات ہی کو توڑ ڈالی اور چھپتے چھپاتے قافلے کی جگہ پر پہنچ گیا۔ قافلہ اس وقت کے رواج کے مطابق صبح ہونے سے پہلے ہی روانہ ہو گیا اور صہیب بھی اس کے ہمراہ شہر سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔
عراق پہنچ کر بھی صہیب نے خود کو محفوظ نہ سمجھا، کیونکہ یہاں پر رومی تاجر آتے جاتے تھے۔ یہ سوچتے ہوئے اسے ایک ایسی سرزمین کا خیال آیا، جس کا نام وہ روم میں ایک عیسائی پادری سے سن چکا تھا۔ صہیب نے سوچ بچار کے بعد اس بنجر پہاڑی علاقے کا رخ کیا۔
اس علاقے میں صہیب نے رہنے کی جگہ خرید لی، محنت مزدوری کرکے کچھ رقم جمع کی اور اس سے تجارت شروع کر دی۔ اس بستی کے لوگ صہیب کو بڑی دلچسپی سے دیکھتے تھے۔ عام لوگوں کے برعکس اس کے بال سنہری تھے اور وہ اس کی زبان بھی ٹھیک طرح سے نہیں بول سکتے تھے۔
اسی دوران میں ایک شخص کے ساتھ اس کی واقفیت ہو گئی۔ اس کا نام عبداللہ بن جدعان تھا۔ یہ شخص اپنے قبیلے کا سردار تھا۔ دونوں نے مل کر تجارت کی جس میں انھیں بڑا نفع ہوا۔ جلد ہی صہیب غریب اجنبی کے بجائے ایک مال دار شخص بن گیا۔
ایک دفعہ صہیب ایک تجارتی سفر سے واپس لوٹا تو اس کے حصے دار عبداللہ نے خوش ہو کر کہا: ’’اے صہیب! تم تو میرے لیے بڑے خوش قسمت ثابت ہوئے، ذرا سچ سچ بتاؤ آخر تم نے عرب میں سے اس بنجر علاقے ہی میں رہنے کا فیصلہ کیوں کیا؟‘‘
صہیب بولا: ’’بھائی، سچی بات تو یہ ہے کہ جب میں روم میں تھا تو میرے آقا کے پاس ایک پادری آیا۔ وہ شخص بڑا پڑھا لکھامعلوم ہوتا تھا۔ میں اس کی باتیں بڑے دھیان سے سنتا تھا۔ ایک دن معلوم نہیں اس نے کس بات کے جواب میں میرے آقا کو بتایا کہ عرب کے شہر مکہ میں بہت جلد ایک نبی آنے والا ہے۔ اس دنیا میں اب ہدایت اور سچائی بس انھی کے پاس سے ملے گی۔ میں نے اسی دن فیصلہ کر لیا کہ اگر اللہ نے مجھے آزادی بخشی تو اسی سرزمین پر پہنچوں گا اور وہیں اس نبی کا انتظار کروں گا۔‘‘
’’تو پھر تمھیں مبارک ہو ۔۔۔ تمھارے سفر کے بعد یہاں قریش کے ایک شخص نے نبی ہونے کا دعویٰ کر دیا ہے۔ اس کے قبیلے والے تو اس کا خوب مذاق اڑا رہے ہیں۔‘‘ عبداللہ نے ہنستے ہوئے کہا۔
’’اے دوست، تم مجھے بتاؤ کہ قریش کا یہ آدمی کس بات کی تلقین کرتا ہے؟‘‘
’’وہ بہت عجیب باتیں کرتا ہے۔ ان بتوں کے خلاف بولتا ہے جن کی لوگ پوجا کرتے ہیں۔ کئی خداؤں کے بجائے ایک اللہ کی عبادت کی تعلیم دیتا ہے، جھوٹ اور فریب سے منع کرتا ہے اور سچ اور ایمان داری اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہے۔‘‘
’’اگر ایسی بات ہے تو پھر میں اس کے پاس ضرور جاؤں گا ۔۔۔ ایک آخری بات یہ بتاؤ کہ یہ وہی صاحب تو نہیں، جنھیں صادق اور امین کہا جاتا ہے؟‘‘
’’ہاں بالکل وہی ۔۔۔ لیکن تم ذرا احتیاط سے ان کے پاس جانا ۔۔۔ پورے مکہ والے اور اس کے قبیلے کے لوگ اس کے خلاف ہو چکے ہیں۔ اگر تمھیں ان لوگوں نے دیکھ لیا تو تم اس نئے نبی کے پاس گئے ہو تو تمھارے لیے مصیبت کھڑی کر دیں گے۔ تم تو یہاں ہو بھی اجنبی، نہ تمھارا کوئی قبیلہ ہے اور نہ کوئی رشتے دار ۔۔۔ وہ تو تمھیں بلا وجہ مار ڈالیں گے۔‘‘
’’بھائی تم فکر نہ کرو ۔۔۔ میں اتنی مدت کے انتظار کے بعد کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس سے میری ساری جدوجہد پر پانی پھر جائے۔‘‘ اس گفتگو کے بعد صہیب بڑی شدت سے رات ہونے کا انتظار کرنے لگا۔ جب ہر طرف اندھیرا چھا گیا تو وہ ستاروں کی روشنی میں عبداللہ کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا۔ جہاں اسے نبی سے ملنے کی توقع تھی۔
اس جگہ اسے ایک سایہ نظر آیا۔ وہ بڑی احتیاط سے آگے بڑھتا گیا۔ اب وہ اس سائے کو خوب پہچانتا تھا ۔ یہ اس کا ایک دوست عمار تھا۔ پہلے تو گھبرایا مگر پھر ہمت کرکے اس سے مخاطب ہوا:
’’عمار، کیا ارادے ہیں؟‘‘
عمار چونک کر اس کی طرف مڑا، جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ بھی چھپ چھپا کر یہاں پہنچا ہے اور اب دروازہ کھٹکھٹانے کا سوچ رہا تھا کہ صہیب کی آواز نے اسے چونکا دیا۔ وہ صہیب کی نظروں میں جھانکتے ہوئے بولا:
’’آپ کے کیا ارادے ہیں؟‘‘
صہیب بولا: ’’میں تو یہاں ٹھہرے اس شخص سے ملنے آیا ہوں جو اپنے آپ کو اللہ کا نبی کہتا ہے۔‘‘ عمار کی آنکھیں چمک اٹھیں، بولا: ’’بخدا میں بھی اسی ارادے سے آیا ہوں ۔۔۔ آؤ، دونوں ایک ساتھ چلتے ہیں۔‘‘
وہ اندر داخل ہوئے۔ اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں خوش آمدید کہا۔ دونوں نے ان سے قرآن سنا، آپ کی تعلیمات سنیں اور کلمۂ توحید پڑھ کر مسلمان ہو گئے۔ جب وہ رات کے اندھیرے میں وہاں سے واپس ہوئے تو عام آدمی نہیں تھے بلکہ اللہ کے رسول کے صحابی بن چکے تھے۔ تاریخ میں یہ صہیب رومی رضی اللہ عنہ‘ اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ‘ کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
دونوں کے متعلق جب کافروں کو معلوم ہوا کہ مسلمان ہو گئے ہیں تو ان پر پل پڑے اور ظلم و تشدد کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ لیکن صہیبؓ جانتے تھے کہ آخرت کی کامیابی ایسی ہی تکلیفوں سے گزر کر حاصل ہوتی ہے۔ ان پر اس قدر ظلم کیے گئے کہ اگر پہاڑ پر یہ ستم ہوتا تو ریزہ ریزہ ہو جاتا، ہاتھی کو اس طرح پیٹا جاتا تو بلبلا اٹھتا، لیکن وہ راہِ حق کی تمام مشکلات کو برداشت کرتے رہے اور ایمان نہ چھوڑا۔
ایک دن انھیں یہ بات معلوم ہوئی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ تمام مسلمان مدینہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔ صہیبؓ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے۔ آپؐ نے انھیں نصیحت کی کہ وہ کسی کو بتائے بغیر مدینہ کی طرف روانہ ہو جائیں۔
حضرت صہیبؓ نے مدینہ ہجرت کا پختہ ارادہ کر لیا تو قریش مکہ کو بھی اس بات کا علم ہو گیا۔ انھوں نے جاسوس مقرر کر دیے تاکہ انھیں مکہ سے باہر نہ جانے دیا جائے۔ مکہ کے کافروں کو شک تھا کہ اگر یہ گئے تو اپنے ساتھ تجارت کا مال اور سونا چاندی بھی لے جائیں گے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ‘ کی ہجرت کے بعد حضرت صہیبؓ مسلسل اس موقع کی تلاش میں رہے کہ کب انھیں ہجرت کا موقع ملتا ہے کیونکہ نگرانوں اور جاسوسوں کی آنکھیں ہمیشہ ان کے تعاقب میں رہتی تھیں۔ آخر کار انھیں ایک ترکیب سوجھی۔ ایک ٹھنڈی رات قضائے حاجت کے بہانے اپنے گھر سے نکلے، اور کچھ دیر بعد واپس گھر میں داخل ہو گئے۔ یہ عمل آپ نے بار بار دہرایا جب آپ کی بے چینی کو جاسوسوں نے دیکھا تو ایک دوسرے سے کہنے لگے: ’’مبارک ہو، لات و عزیٰ نے آج اسے پیٹ کی شدید تکلیف میں مبتلا کر دیا ہے۔‘‘ پھر وہ اطمینان سے اپنے بستروں میں جا لیٹے اور گہری نیند سو گئے۔ حضرت صہیبؓ اس صورتِ حال کو بھانپ کر وہاں سے چل نکلے اور مدینہ کا رخ کیا۔ وہ ابھی تھوڑی دور ہی گئے ہوں گے کہ نگران ہڑبڑا کر اٹھے۔ انھیں وہاں نہ پا کر تیز رفتار گھوڑوں پر سوار ہوئے اور انھیں سرپٹ دوڑایا۔ صہیبؓ ابھی کچھ دور ہی گئے تھے کہ تعاقب کرنے والے بھی آن پہنچے۔ جب آپ نے ان کی آہٹ سنی تو ایک ٹیلے پر کھڑے ہو گئے، ترکش سے تیر نکالا اور کمان پر چڑھا کر انھیں یوں للکارا:
’’اے قریش! تم جانتے ہو کہ میں تم سب سے بڑھ کر تیز انداز ہوں، اور میرا نشانہ کبھی خطا نہیں جاتا۔ خدا کی قسم، تم مجھے اس وقت تک نہیں چھو سکتے جب تک کہ میں تمھارے اتنے آدمی قتل نہ کر دوں جتنے میرے ترکش میں تیر ہیں۔ تیر ختم ہوں گے تو میں اپنی تلوار سے تمھاری گردنیں اڑانا شروع کر دوں گا اور یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک میرے بازوؤں میں طاقت ہے۔‘‘
ان کی جرات مندانہ بات سن کر قریش کا ایک شخص بولا: ’’لات و عزیٰ کی قسم ہم تمھیں یہاں سے جانے نہیں دیں گے۔ جب تم یہاں آئے تھے تو مفلس اور غریب تھے، لیکن تھوڑے ہی عرصے میں دولت مند ہو گئے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ تم سارا مال و دولت اپنے ساتھ لے جاؤ اور ہم دیکھتے رہ جائیں۔‘‘
یہ سن کر حضرت صہیبؓ نے کہا: ’’اگر میں اپنا سارا مال تمھارے سپرد کر دوں تو پھر میر ے راستے سے ہٹ جاؤ گے؟‘‘
’’ہاں ۔۔۔ اگر تم سارا مال ہمارے حوالے کر دو تو پھر ہمارا تمھارا کوئی جھگڑا نہیں!‘‘ انھوں نے جواب دیا۔
حضرت صہیب رضی اللہ عنہ نے سوچا کہ دولت تو آنی جانی چیز ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم تو انمول نعمت ہے۔ یہ سوچ کر انھوں نے آواز بلند کی: ’’ ٹھیک ہے، میرے گھر کے اندر فلاں کونے میں مال و دولت دفن ہے۔ اسے جا کر نکال لو۔‘‘
یہ سننا تھا کہ قریش کے لوگ لوٹ گئے۔ انھوں نے جا کر صہیب رضی اللہ عنہ ، کا مال و دولت حاصل کر لیا اور وہ خود ایمان کی دولت لے کر مدینہ پہنچ گئے۔
جب صہیب رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے تو سیدھے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انھیں اپنی داستان سنائی۔ آپ نے فرمایا:
’’اے صہیب، تم نے قریش مکہ سے منافع کا سودا کیا۔‘‘
حضرت صہیبؓ اور ان جیسے دوسرے جانثار اور پختہ ایمان و یقین رکھنے والے صحابہؓ کے عمل کی تعریف خود قرآن نے بھی کی۔ قرآن کے الفاظ کا مفہوم کچھ یوں ہے:
’’لوگوں میں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو خدا کی رضا جوئی کے لیے اپنی جانیں بیچ دیتے ہیں۔‘‘ (البقرہ)
حضرت عمرؓ کے ساتھ ان کی بڑی عقیدت تھی اور حضرت عمرؓ بھی انؓ سے بہت حسن ظن رکھتے تھے۔ حضرت عمرؓ کو جب ابولولو فیروز نے خنجر مار کر زخمی کر دیا اور زخم سے ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ شہادت کا مرتبہ پائیں گے تو انھوں نے وصیت کی کہ ان کا جنازہ حضرت صہیبؓ پڑھائیں۔
اس کے علاوہ حضرت عمرؓ نے ان کے متعلق یہ وصیت بھی فرمائی کہ جب تک مجلس شوریٰ نئے خلیفہ کا انتخاب نہیں کر لیتی، اس وقت تک حضرت صہیبؓ نگران خلیفہ رہیں گے۔ یوں انھوں نے تین دن تک نگران خلیفہ کے فرائض بھی سر انجام دیے اور بڑی خوش اسلوبی سے یہ ذمہ داری نبھائی۔
حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ ان سے ازراہِ تفنن کہا: ’’اے صہیبؓ مجھے تمھاری تین باتیں ناپسند ہیں۔ ایک یہ کہ تم اپنے آپ کو ابو یحییٰ کہلواتے ہو اور تمھیں معلوم ہو کہ یحییٰ ایک برگزیدہ نبی تھے اور تمھارے کسی بیٹے کا نام یحییٰ نہیں۔ دوسری بات یہ کہ تم اسراف کرتے ہو اور اسراف کرنے والے کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ تیسری بات یہ کہ تم اپنے آپ کو عرب کہلاتے ہو، جب کہ تم رومی ہو۔‘‘
حضرت عمرؓ کی بات سن کر حضرت صہیبؓ سنجیدہ ہو گئے اور بولے: ’’اے میرے بھائی! جہاں تک تمھاری پہلی بات کا تعلق ہے تو یہ کنیت میں نے نہیں رکھی ، بلکہ اللہ کے رسول ؐ محبت سے مجھے ابو یحییٰ ہی پکارتے تھے۔ اسی سے مجھے دوسرے لوگ کہنے لگے اور مجھے بھی یہ نام پسند تھا کہ یہ اللہ کے رسولؐ کا دیا ہوا نام ہے۔ رہی دوسری بات تو میں اسراف یعنی فضول خرچی کو خود بہت برا تصور کرتا ہوں۔ میرا عمل اسراف ہرگز نہیں ، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بالکل مطابق ہے۔
’’تم لوگوں میں سب سے بہتر وہ ہے جو لوگوں کو کھانا کھلائے اور سلام کا جواب دے۔‘‘
اور جہاں تک آپؐ کے تیسرے سوال کا تعلق ہے تو میں درحقیقت عرب ہوں۔ یمن کے علاقے میں پیدا ہوا۔ عرب خاندان کا چشم و چراغ تھا مگر اغوا ہوا اور مجھے روم لے جا کر بیچ ڈالا گیا اور رومیوں کا غلام بن گیا۔ میں اپنے خاندان اور قوم کے متعلق بالکل بھول گیا۔ اسی وجہ سے لوگ رومی کہتے ہیں لیکن میں اصلاً تو عرب ہوں۔‘‘
حضرت صہیبؓ بن سنان نے 72 برس کی عمر پائی اور 38 ھ میں فوت ہوئے۔ انھیں جنت البقیع میں دفن کیا گیا۔

____________