یہ سراقہ بن مالک کی زندگی کا وہ واقعہ ہے جس نے اس کی کایاپلٹ دی۔ اللہ اپنے رسولوں کی کس طرح حفاظت کرتا ہے، اس حقیقت کی محیر العقول مثال۔ اللہ کے رسول کی پیش گوئیاں کیسے پوری ہوئیں ۔۔۔ ایک ایمان افروز داستان
مآخذ: الصور من حیاۃ الصحابہ۔ از عبدالرحمن رافث پاشا۔ سیرت فاروق۔ از شبلی نعمانی

ایک منحوس شکل والا شخص بڑے غصے سے دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا۔ ایک معصوم صورت بچی باہر نکلی۔ اسے دیکھتے ہی آنے والے نے بڑی بدتمیزی سے پوچھا:’’تمھارا باپ گھر پر ہے؟‘‘
بچی کے لیے صبح صبح اس شخص کی شکل دیکھنا ہرگز کوئی اچھی بات نہ تھی۔ اس نے سنبھل کر قدرے سہمے مگر ناگوارلہجے میں کہا: ’’مجھے نہیں معلوم کہ اس وقت وہ کہاں ہیں۔‘‘
یہ ترت جواب سن کر اس بدشکل کو بہت طیش آیا، ایک زوردار طمانچہ اس معصوم کے منہ پر مارا۔ تھپڑ اس قدر تیز تھا کہ اس کے کان سے بالی گر کر نیچے گر پڑی۔
ظالم شخص پھنکارتا ہوا وہاں سے کچھ دوسرے لوگوں کے پاس پہنچا۔ وہ اسی کے انتظار میں تھے۔ ان کے قریب پہنچ کر بولا: ’’مجھے اب یقین ہو گیا کہ وہ بستی سے باہر نکل گیا ہے۔۔۔‘‘
اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے، چلو کھوجیوں کے پاس چلتے ہیں۔صبح صبح بستی سے باہر صرف وہی گئے ہیں۔ گھوڑے پر گئے ہوں یا اونٹ پر، ان کے پاؤں کے نشان ہمیں ضرور اس تک پہنچا دیں گے۔‘‘
اور انھوں نے ایسا ہی کیا ۔۔۔ کھوجیوں کی مدد سے وہ اپنے شکار کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔

***

اس تلاش کو دو دن ہو چکے تھے ، مگر وہ اپنے مطلوب کو ڈھونڈ نہ سکے۔ اس دوران میں انھوں نے پورے بستی کے بہادروں کو ایک عظیم انعام کی پیش کش کی تھی:
’’جو بھی ابن ابی کبشہ کو تلاش کرکے لائے گا، اسے سو اونٹوں کا انعام دیا جائے گا۔‘‘
یہ اس زمانے میں ایک زبردست انعام تھا۔
قدیر نامی بستی میں چند بہادر بیٹھے تھے کہ ایک قاصد آیا۔ اس نے ان بہادروں کو بھی سو اونٹوں کے انعام کے متعلق بتایا تو ایک شخص بولا:
’’میں ابھی سفر سے واپس آ رہا ہوں۔ راستے میں مجھے تین آدمی ملے۔ میرا خیال ہے کہ ان میں دو تو وہی تھے جن کی تلاش پر انعام رکھا گیا ہے اور تیسرا ان کو راستہ بتانے والا ہو گا۔‘‘
مجلس میں بیٹھے ایک بہادر سوار’’ ابن مالک‘‘ نے کہا:’’نہیں بھئی، وہ لوگ تو اپنی گم شدہ اونٹنی تلاش کر رہے تھے۔ میں انھیں جانتا ہوں!‘‘
’’اچھا ۔۔۔ شاید ایسا ہی ہو!‘‘
پھر تھوڑی دیر بعد ابن مالک خاموشی سے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ جاتے ہی اپنی لونڈی سے بولا:’’میری گھوڑی تیار کرکے بستی کے باہر لے جاؤ۔ یاد رکھنا، کسی کی نظر تم پر نہیں پڑنی چاہیے۔ بستی کے باہر ٹیلے پر میرا انتظار کرو۔‘‘
پھر وہ اپنے غلام سے مخاطب ہوا: ’’تم میرے تمام ہتھیار لے کر گھروں کے پیچھے سے ہوتے ہوئے اس ٹیلے پر پہنچو، جہاں میں نے گھوڑی کو کھڑا کرنے کا حکم دیا ہے۔‘‘
خود ابن مالک بستی میں اِدھر اُدھر پھرنے کے بعد بتائی گئی جگہ پر پہنچا۔ اسے یقین تھا کہ کسی نے بستی کے باہر جاتے اسے نہیں دیکھا۔ مقررہ جگہ پر گھوڑی اور ہتھیار پہنچ چکے تھے۔ اس نے زرہ پہنی، ہتھیار لگائے، گھوڑی پر زین کسی اور خفیہ مہم پر روانہ ہو گیا۔
ابن مالک کو یقین تھا کہ محفل میں جس شخص نے راستے میں ملنے والے تین افراد کا ذکرکیا تھا، وہ وہی ہیں، جن کی تلاش پر سو اونٹوں کا انعام رکھا گیا ہے۔ اس نے بڑی چالاکی سے جھوٹ بولا تھا اور اب سو اونٹوں کا انعام حاصل کرنے چل پڑا تھا۔

***

ابن مالک کی گھوڑی سرپٹ بھاگ رہی تھی۔ کئی گھنٹوں کے سفر کے بعد وہ دور اونٹ پر ایک مسافر کو دیکھ رہا تھا۔ ایک دوسرا شخص اونٹ کی مہار تھامے پیدل ہی چل رہا تھا۔ اس کا دل بَلیوں اچھلنے لگا۔ اس نے اپنی رفتار اورتیز کر دی۔ اب وہ پیچھا کرنے والوں کے خاصا قریب پہنچ چکا تھا۔ اچانک اس کی گھوڑی نے ٹھوکرکھائی اور گر پڑی۔
ابن مالک نے گھوڑی کو دل ہی دل میں برا بھلا کہا اور دوبارہ سوار ہو کر پھر اسے ایڑ لگا دی۔ اب وہ اپنے شکار کے بہت قریب پہنچ چکا تھا ، مگر چند گز کے فاصلے پر گھوڑی نے دوبارہ ٹھوکر کھائی اور بری طرح زمین پر آ رہی۔ خود ابن مالک گھوڑی کے نیچے آ کر مرتے مرتے بچا۔
وہ تو پہلی ہی دفعہ گھوڑی کے گرنے کو برا شگون سمجھا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اس کی گھوڑی کبھی بھی یوں نہیں گری تھی۔ اس کے دل نے کہا:
’’اے ابن مالک، کہیں انعام کے لالچ میں تو واقعی کسی بزرگ ہستی کو نقصان پہنچانے تو نہیں لگا ۔۔۔‘‘ مگر ضمیر کی یہ آواز سو اونٹ پانے کی خواہش کے مقابلے میں دم توڑ گئی اور وہ دوبارہ اٹھا اور پھر شکار کی طرف بڑھا ۔۔۔ قریب جا کر اس نے اپنا نیزہ سیدھا کیا، لیکن پھر وہ کچھ ہو گیا جس کا اس نے تصور بھی نہ کیا تھا۔
اس دفعہ اس کی گھوڑی گھٹنے گھٹنے ریت میں دھنس گئی! لگتا تھا کہ ریت نے اس کے دونوں پاؤں جکڑ لیے ہیں ۔۔۔ گھوڑی زور لگانے کے باوجود نہ ہل سکی۔
حقیقت اب واضح ہو چکی تھی۔ ابن مالک خوف میں ڈوبی ہوئی آواز میں چیخا:’’مجھے بچاؤ ۔۔۔ اپنے سچے اللہ سے میرے لیے دعا کرو ۔۔۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ آپ کا پیچھا نہیں کروں گا!‘‘
وہ جنھیں زندہ یا مردہ حاصل کرنے کی نیت سے آیا تھا، عجیب مہربان ہستی تھے! انھوں نے اللہ سے دعا کی تو ابن مالک کی اونٹنی ریت سے باہر آ گئی۔ باہر آتے ہی ابن مالک کی نیت پھر بدل گئی۔ وہ دوبارہ ان پر حملہ آور ہوا۔
اس دفعہ اس کی گھوڑی پہلے سے بھی زیادہ زمین میں دھنس گئی!
اپنا یہ حشر دیکھ کر وہ منتیں کرنے لگا۔ اپنے آپ کو ملامت کرتے ، آنکھوں سے ندامت کے آنسو بہاتے فریاد کرنے لگا:
’’اے محمد (ﷺ) میر۱ سارا سازوسامان واپس لے لیں، میں اللہ کو گواہ بنا کرکہتا ہوں کہ اب اس مصیبت سے نکل گیا تو واپس ہو جاؤں گا ، اور آپ کے تعاقب میں آنے والوں کو بھی ادھر نہیں آنے دوں گا۔‘‘
وہ جن کا پیچھا کر رہا تھا، اللہ کے آخری رسولؐ اور دنیا کی سب سے مہربان ہستی تھے اور رسولوں کے معاملے میں اللہ کا قانون یہی ہے کہ کوئی کافر انھیں مغلوب نہیں کر سکتا اسی لیے ابن مالک پر یہ افتاد پڑ رہی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عظیم ترین صحابیؓ حضرت ابوبکر صدیقؓ تھے۔ اللہ کے رسولؐ نے ایک مرتبہ پھر اسے معاف کر دیا اور فرمایا:
’’جاؤ واپس لوٹ جاؤ، سامان کی ہمیں کوئی ضرورت نہیں، البتہ لوگوں کو ہمارے تعاقب میں نہ آنے دینا۔‘‘
آپؐ کے معاف کرتے ہی اس کی گھوڑی پھر زمین کی گرفت سے آزاد ہو گئی۔ ابن مالک حیران بھی تھا، خوف زدہ بھی اور اپنے شکار کا شکر گزار بھی۔ اس نے واپسی کی طرف چند قدم بڑھائے ،پھر رکا اور بلند آواز سے بولا:
’’اجازت ہو توایک بات کروں، اللہ کی قسم کوئی بری حرکت نہیں کروں گا۔‘‘
ارشاد ہوا: ’’پوچھو کیا بات ہے؟‘‘
’’اے محمدؐ! مجھے یقین ہے کہ آپ کا دین پورے عرب میں غالب ہو کر رہے گا۔۔۔ مجھ سے وعدہ کریں جب میں آپ کی سلطنت میں آؤں، تو آپ میری عزت کریں گے۔۔۔ اور مہربانی کرکے یہ وعدہ مجھے لکھ کر دیں ۔۔۔‘‘
حضورؐ نے حضرت ابوبکرؓ کو حکم دیا تو انھوں نے وہاں پر ایک دستیاب ہڈی پر یہ وعدہ لکھ کر اس کے حوالے کر دیا۔
وہ پلٹا تو اس دفعہ آپؐؐ نے اسے آواز دی:
’’سراقہ بن مالک! جب تم کِسریٰ کے کنگن پہنو گے تو تمھیں کیسا لگے گا؟‘‘
ابن مالک حیران ہو کر بولا: ’’کسریٰ ہرمز، شہنشاہِ ایران کے کنگن!‘‘
’’ہاں کسریٰ بن ہرمز کے کنگن!‘‘
وہ اسے حیران چھوڑ کر یثرب کی طرف دوبارہ بڑھنے لگے۔
سراقہ ابھی راستے ہی میں تھا کہ اسے کچھ لوگ ملے جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کر رہے تھے۔
’’واپس چلے جاؤ، میں نے تلاش میں چپہ چپہ چھان مارا ہے، تم اچھی طرح جانتے ہو کہ پاؤں کے نقوش دیکھنے میں میرا کوئی مقابلہ نہیں، جاؤ، انھیں کہیں اور تلاش کرو۔‘‘ اور ڈھونڈنے والے سراقہ کے کہنے پر واپس چلے گئے۔
سراقہ کو جب معلوم ہوا کہ اللہ کے رسولؐ حفاظت سے یثرب پہنچ گئے ہیں تو اس نے اپنے ساتھ پیش آنے والا واقعہ سب کو بتایا۔ منحوس شکل والے شخص ’’ابوجہل ‘‘ کو جب اس کا علم ہوا تو وہ سخت غصہ ہوا، اسے گالیاں دینے لگا۔ سراقہ نے ابوجہل کی گالیوں کے جواب میں کہا:
’’ اللہ کی قسم، جب تم دیکھتے کہ گھوڑی کی ٹانگیں زمین میں دھنس گئی ہیں اور میں بے بس ہو گیا ہوں تو تمھیں بھی کوئی شک نہ رہتا کہ محمدؐ اللہ کے رسول ہیں ۔۔۔ بھلا ان سے مقابلہ کون کر سکتا ہے!‘‘

***

اس واقعے کو کئی برس بیت گئے ۔
پھر وہ دن بھی آیا جب حضورؐ صحابہؓ کے عظیم لشکر کے ساتھ مکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے۔
سراقہ آپ کے پاس آیا۔ اس وقت حضورؐ انصاری صحابہؓ کے جھرمٹ میں تھے۔ سراقہ کو قریب دیکھ کر انھوں نے نیزے اس کی طرف سیدھے کر لیے۔ سراقہ ان سے بچتا بچاتا، گھوڑے پر سوار آپؐ کے پاس پہنچا۔ آپؐ ایک اونٹنی پر سوار تھے۔ سراقہ نے وہی ہڈی اٹھا رکھی تھی جس پر ابوبکرؓ صدیق نے آپؐ کی طرف سے وعدہ لکھ کر دیا تھا۔ بولا:
’’اے اللہ کے رسولؐ ! یہ میں ہوں، سراقہ بن مالک۔ میرے پاس آپ کا لکھا ہوا وعدہ ہے!‘‘
آپؐ نے فرمایا: ’’سراقہ میرے پاس آؤ، آج وعدہ پورا کرنے کا دن ہے۔‘‘
اس نے سنا اور اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔

***

وقت تیزی سے گزرنے لگا ۔۔۔ حتیٰ کہ حضرت عمر فاروقؓ کا زمانہ آ گیا۔ اسلام کا پیغام عرب سے نکل کر دنیا میں پھیلنے لگا۔ خلفائے راشدین، اس ملک کے لوگوں کو ان کے حکمرانوں سے آزاد کرانے کا فرض پورا کر رہے تھے جن کی طرف حضورؐ نے اپنی سفارتیں بھیجی تھیں، انھیں اسلام کی طرف بلایا تھا۔ گویا صحابہؓ حضورؐ ہی کے کام کو آگے بڑھا رہے تھے کیونکہ وہ آپؐ کی نیابت میں یہ کام کر رہے تھے۔ اس لیے راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ دور ہوتی گئی۔ نہ ایرانی سلطنت اسلام کے آگے بند باندھ سکی اور نہ روم کی طاقت ان کا راستہ روک سکی۔
پھر ایک دن لشکر اسلام کا قاصد ایران فتح ہونے کی خوش خبری لایا۔ اس کے ہمراہ بہت سارا سامان بھی تھا۔ مسجد نبوی میں بڑے بڑے صحابہؓ،سیدنا عمرؓفاروق کے ہمراہ موجود تھے۔
قاصد نے مال غنیمت امیر المومنین کے سامنے رکھا۔ اس میں شاہ ایران کا تاج، سونے کے تاروں سے بنا شاہی لباس، قیمتی پیٹی، جس پر ہیرے جواہرات جڑے تھے اور سونے کے دو کنگن بھی موجود تھے۔ دیگر قیمتی نایاب اشیاء اس کے علاوہ تھیں۔ سیدنا عمرؓ نے اس بیش بہا خزانے کو اپنی چھڑی سے الٹ پلٹ کر دیکھا۔ پھر فرمایا:
’’جو لوگ مال غنیمت لے کر آئے ہیں، بلاشبہ وہ ایمان دار ہیں۔‘‘
سیدنا عمرؓ کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ یہ قیمتی سامان بغیر کسی کمی کے، حفاظت کے ساتھ لانا واقعی امانت داری کا بہت بڑا امتحان تھا اور اسلامی قاصد اس امتحان میں پورے اترے تھے۔
حضرت عمرؓ نے حاضرین پر نظر دوڑائی ۔ ان کی نگاہ سراقہؓ بن مالک پر جا کر رکی۔ انھیں معلوم تھا کہ سراقہؓ ایک دیہاتی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے سراقہؓ کو اپنے پاس بلایا۔ اسے شاہ ایران کا لباس پہنایا۔ کمر پر ہیرے جواہرات کی پیٹی باندھی، سر پر تاج رکھا اور آخر میں اس کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن پہنائے ۔۔۔ کسریٰ ہرمز، شہنشاہِ ایران کے کنگن!
سراقہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
اللہ کے رسولؐ کی زبانی ان ہونی بات کئی برسوں کے بعد مکمل ہو گئی تھی!!

____________