سفر کے تیسرے ہفتے وہ لوگ ’’القریٰ‘‘ نامی بستی میں پہنچ گئے ۔ منزل اب قریب تھی۔ مابہ کو بتایا گیا کہ یہاں پر یہودیوں کی خاصی تعداد رہتی ہے۔ قافلے نے رات یہاں قیام کرنے کا فیصلہ کیا۔
خیمے گاڑے گئے اور کھانا تیار کیا جانے لگا۔ مابہ نے محسوس کیا کہ اس دفعہ قافلے والوں نے اہتمام سے کھانا تیار کیا ہے اور ایک بات اور وہ محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا ۔ وہ یہ کہ عربوں کا رویہ اس سے بدل گیا ہے۔ اب وہ اس سے خوش اخلاقی سے پیش آ رہے تھے اور اسے ہنسی مذاق کی محفلوں میں شرکت کرنے کی دعوت دے رہے تھے۔ دسترخوان پر بھی انھوں نے مابہ کو خصوصاً اپنے ساتھ بٹھایا اور خوب کھلایا پلایا۔ کھانے کے بعد اسے ایک شربت پیش کیا گیا۔ مگر مابہ نے کہا کہ وہ پانی کے علاوہ کوئی چیز نہیں پیتا لیکن ہم سفروں نے کچھ اس محبت اور اصرار سے فرمایش کی کہ مابہ کو یہ شربت پینا پڑا۔
دن بھر کے سفر کی تھکن تھی یا شربت کا کچھ اثر، مابہ کو جلد ہی نیند آنے لگی۔ وہ ان سے اجازت لے کر اپنے خیمے میں آگیا اور گہری نیند سو گیا۔
صبح جب اس کی آنکھ کھلی تو سورج سر پر آچکا تھا۔ وہ فوراً اٹھا، خیمے سے باہر دیکھا تو منظر بدل چکا تھا، قافلہ غائب تھا اور اسے چھوڑ کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو چکا تھا۔
مابہ اس صدمے سے ابھی نکل ہی پایا تھا کہ اس کے کانوں میں گھوڑے کے ہنہنانے کی آواز آئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو کچھ لوگوں کو کھڑے پایا۔
ایک شخص نے کہا: ’’مابہ تم میرے غلام ہو، میں نے تمھیں بنی کلب سے خرید لیا ہے۔ یہ دیکھو تحریر۔‘‘
مابہ نے حیرت سے یہ الم ناک خبر سنی۔
اسے اب بنی کلب والوں کی سازش سمجھ آ رہی تھی۔ انھوں نے اسے شربت میں کچھ گھول کر پلا دیا تھا اور اسے فروخت کرکے آگے نکل گئے تھے۔
مابہ ایک کٹی پتنگ کی طرح تھا، وہ یہاں سے بھاگنا بھی چاہتا تو کہاں بھاگتا؟ اس لیے وہ تقدیر کے اس فیصلے کو قبول کرنے پر مجبور تھا۔
اسی وقت اس شخص نے مابہ کو بیڑیاں پہنا دیں اور اسے بتایا کہ وہ ایک یہودی ہے اور مابہ اس کا غلام۔
مابہ نے اس پر بہت شور مچایا، یہودی کو قافلے والوں کے دھوکے کے متعلق بتایا مگر اس نے مابہ کو بیڑیاں پہنا کر دم لیا۔
بیڑیاں پہنتے ہوئے مابہ کی عجیب کیفیت تھی، اسے باپ کا گھر یاد آرہا تھا۔ اس وقت اسے باپ کی پہنائی ہوئی بیڑیاں بہت اچھی لگی تھیں۔ اسے غلام بن جانے کا دکھ تو تھا ہی لیکن اس غم کا اثر سوا تھا کہ وہ منزل کے اس قدر قریب آ کر بھی اس سے دور اور محروم ہے۔ اس کا یہودی آقا اسے اپنے گھر لے گیا اور اسے کام کاج پر لگا دیا۔
مابہ نے القریٰ کی بستی میں بھی کھجوروں کے درخت دیکھے تو دل کو تسلی دی کہ اس کی منزل اس سے اتنی بھی دور نہیں۔ وہ یہ بھی سوچنے لگا کہ ہو سکتا ہے کہ اسقف نے اسی سرزمین کے متعلق اسے کہا ہو۔
کچھ عرصہ کے قیام کے بعد اس کے مالک یہودی سے ملنے اس کا چچا زاد آیا۔ نہ جانے دونوں میں کیا بات ہوئی کہ اس نے مابہ کو اپنے چچا زاد کے حوالے کر دیا اور وہ اسے لے کر جس سرزمین آیا، مابہ کے لیے یہ کسی جنت سے کم نہ تھی۔
یہاں اسے کھجوروں کے کئی باغات نظر آئے، یہ بستی یثرب کی تھی اور اس کا نیا مالک یہیں رہتا تھا۔ مابہ کو یہاں غلام بن کر رہنے میں بھی مزہ آ رہا تھا۔
مابہ کو یہاں رہتے کئی ماہ بیت گئے ۔ اس دوران میں اسے لوگوں کی باتوں سے معلوم ہوا کہ قریب کی بستی میں ایک شخص نیکی اور سچائی کا پیغام لایا ہے اور وہ نبیؐ ہونے کا بھی دعویٰ کرتا ہے۔
مابہ کے دل میں بھی شدید خواہش پیدا ہوئی کہ وہ جا کر خود اس شخص سے ملے لیکن وہ تو غلام تھا اور غلام بھلا اپنی مرضی سے کہاں آجا سکتا ہے؟ اسی لیے مابہ جب رات کو سونے کے لیے لیٹتا تو یہی دعا کرتا:
’’اے خدا! مجھے میری منزل تک پہنچا دے۔ مجھے اس شخص سے ملنے کی توفیق دے، میری مشکلیں اور آزمایشیں کم کر دے۔‘‘
ایک روز مابہ بازار سے گزر رہا تھا تو لوگوں میں عجیب ہل چل اور گہما گہمی دیکھی۔ کچھ لوگ ٹولیوں میں کھڑے باتیں کر رہے تھے اور کچھ لوگ سرگوشیوں میں مصروف تھے۔
مابہ نے ایک شخص سے پوچھا:
’’بھائی آج کیا خاص معاملہ ہے؟‘‘ تو اس نے بتایا : ’’اپنے آپ کو نبی کہنے والا شخص عنقریب یثرب آ رہا ہے۔‘‘
مابہ کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا، اسے ایسے لگا جیسے اس نے کوئی خواب دیکھا تھا جو اب پورا ہونے کو ہے۔
مابہ اپنے آقا کے پاس پہنچا تو انھی خیالوں میں تھا۔ اس کے آقا نے اسے کسی کام کے لیے بلایا ، مگر وہ خیالوں میں مگن مست رہا۔ آقا نے اسے سخت ڈانٹ پلائی لیکن آقا کی ڈانٹ بھی اسے خیالوں کی دنیا سے نکال نہ سکی اور وہ بار بار ان تین نشانیوں کے بارے میں پادریوں اور اسقف کی باتوں میں کھو جاتا۔
اسی کیفیت میں سارا دن گزر گیا۔ شام کے وقت وہ اپنے آقا کے باغ میں کھجوریں توڑ رہا تھا۔ آقا بھی درختوں کے نیچے بیٹھا تھا۔ اس کے پاس اس کا وہی چچا زاد بھائی آیا ہوا تھا، جس نے مابہ کو اس کے ہاتھ فروخت کیا تھا۔
وہ دونوں آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
’’بھئی آج تو پورا شہر پاگل ہو رہا ہے!‘‘
’’کیوں، خیر تو ہے؟‘‘ مابہ کے پہلے آقا نے پوچھا۔
’’دراصل لوگ اس شخص کے پاس جمع ہیں، جو دوسرے شہر سے آیا ہے اور اپنے آپ کو نبی کہتا ہے۔‘‘
یہ جملہ مابہ کے کانوں میں بھی پڑ گیا اور اس کے بدن کے سارے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ پورے وجود میں ایک سنسنی دوڑ گئی۔
وہ فوراً درخت سے نیچے اتر آیا اور آقا کے قریب آ کر کہنے لگا:
’’آقا ۔۔۔ یہ شخص کیا کہتا ہے؟‘‘
آقا کو مابہ کا یوں بے تکلف ہونا سخت ناگوار گزرا۔ اس نے مابہ کے منہ پر ایک زور دار تھپڑ مارا اور غصے سے پھنکارتے ہوئے بولا:
’’تم اپنے کام سے کام رکھو، خبردار جو دوبارہ اس طرح کا سوال کیا!‘‘
مگر مابہ بھلا اس خبر کو کیسے بھلا سکتا تھا۔ وہ اس بے عزتی سے ہرگز بدمزہ نہ ہوا اور سوچنے لگا کہ یہاں سے فارغ ہو کر وہ ضرور اس ہستی کے پاس جائے گا، جو اپنے آپ کو نبی قرار دیتی ہے۔ لیکن اس وقت آقا کے حکم پر وہ دوبارہ کھجور سے پھل اتارنے میں مشغول ہو گیا، تھوڑی دیر بعد آقا کی آواز آئی:
’’مابہ، میں آرام کرنے گھر جا رہا ہوں، تم کام جاری رکھو۔۔۔ اگر سستی کی تو رات کا کھانا نہیں دوں گا۔‘‘
’’آقا آپ فکرنہ کریں، میں اس درخت سے آج سارا پھل اتار لوں گا۔‘‘
آقا کے جانے کے بعد، مابہ نے بڑی پھرتی سے کام شروع کیا، اس نے گھنٹوں کا کام منٹوں میں مکمل کیا اور بھاگتا ہوا اپنے جھونپڑے میں آگیا۔
اس نے کپڑے اتارے اور اپنے پاس موجود بہترین لباس زیب تن کیا ۔ سفید پگڑی کے ایک سرے سے اپنا آدھا چہرہ ڈھانپ لیا۔ اسے خطرہ تھا کہ اگر اس کے آقا کے کسی واقف نے اسے دیکھ لیا تو اس کی شامت آجائے گی۔
جھونپڑی سے باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی پوٹلی بھی تھی۔ یہ اس نشانیوں کی تصدیق کے لیے تھی جو عموریہ کے اسقف نے اسے ذہن نشین کرائی تھیں۔
مابہ کو جلدہی معلوم ہو گیا کہ اللہ کے نبی قبا نامی بستی میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اس نے سیدھا وہاں کا ہی رخ کیا۔
قبا پہنچ کر پتا چلا کہ ایک عبادت گاہ ، جسے مسجد کا نام دیا گیا ہے ، اس میں اللہ کے نبی تشریف رکھتے ہیں۔
مابہ لرزتے قدموں اور دھڑکتے دل کے ساتھ مسجد کی طرف بڑھا۔
مسجد کے باہر اسے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد نظر آئی، وہ صحن میں داخل ہوا تو کئی لوگ وہاں بیٹھے تھے۔
آخر وہ اس کمرے میں داخل ہوا جہاں پر اللہ کے نبیؐ بیٹھے تھے۔
کمرے کے سامنے والی دیوار کے ساتھ ایک سفید چادر بچھی ہوئی تھی جس پر کوئی دس بارہ لوگ بڑے ادب سے بیٹھے تھے اور ان کے درمیان وہ ہستی تھی جسے پہچاننے میں مابہ کو ذرا بھی دقت نہ ہوئی۔
اس ہستی کے چہرے کا نور اور وقار ہی اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ خدا کا نبی ؐ اس کے سوا کوئی نہیں ہو سکتا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو ابھی اس ہستی کی غلامی میں دے دے۔ مگر اس لمحے اسے عموریہ کے اسقف کی بات یاد آگئی کہ جب تک تینوں نشانیاں پوری نہ ہوں، کسی شخص کو اللہ کا نبی نہ ماننا۔
اس نے اپنے جذبات پر قابو پایا اور قریب آ کر اس پر نور ہستی کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔
آخر اس کے ہونٹ ہلے اور وہ ان سے ہم کلام ہوا۔
’’میں نے سنا ہے آپ اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں۔ کچھ غریب الدیار اور حاجت مند بھی آپ کے ساتھ ہیں ۔۔۔ میرے پاس یہ چند چیزیں صدقہ کے لیے ہیں۔ آپ لوگوں سے زیادہ بھلا اس کا کون مستحق ہو سکتا ہے ۔ اسے قبول فرمائیے۔‘‘
آپ ؐ نے مسکراتے ہوئے مابہ کی پوٹلی کو لیا اور حکم دیا کہ اسے غریب لوگوں میں بانٹ دیا جائے۔اور خود انھوں نے اس پوٹلی میں سے ایک بھی چیز نہ لی۔
اس پوٹلی میں کھانے کی کچھ اشیاء تھیں۔ مابہ کی طرف سے دیے گئے اس صدقے سے انھوں نے اپنی ذات کے لیے کچھ بھی نہ لیا۔
مابہ کو یقین تھا کہ ایسا ہی ہو گا۔
عموریہ کے اسقف کی بتائی ہوئی پہلی نشانی پوری ہو گئی تھی کہ اللہ کا وہ نبی صدقہ یعنی خیرات اپنے لیے قبول نہیں کرے گا بلکہ غریبوں میں بانٹ دے گا۔ اسقف نے اسے اچھی طرح بتایا تھا کہ اللہ کے کسی نبیؐ کے لیے خیرات اور صدقہ قبول کرنا جائز نہیں۔
پہلی نشانی کے پورا ہونے کے بعد مابہ کچھ دیر وہاں بیٹھا رہا اور ان کی باتیں سنتا رہا، پھر وہ واپس آگیا۔ اسے خدشہ تھا کہ اگر اس کے آقا کو معلوم ہو گیا کہ وہ کہیں غائب ہے تو وہ مصیبت کھڑی کر دے گا۔
آج کی اس ملاقات میں اسے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس ہستی کا نام نامی ’’محمد ‘‘(صلی اللہ علیہ وسلم)ہے اور وہ مکہ سے ہجرت کرکے یہاں تشریف لائے ہیں۔
اب مابہ اگلے دن کا انتظار کرنے لگا۔ یہ دن اس کے لیے صدیوں پر محیط ثابت ہوا۔
خدا خدا کرکے اگلے دن کا سورج طلوع ہوا، اور جب اس کا آقا آرام کرنے کے لیے لیٹا تو مابہ پھر قبا کی طرف لپکا۔
اس نے کل والا لباس ہی زیب تن کیا، وہی حلیہ بنایا اور اسی طرح کھانے کی کچھ چیزیں پوٹلی میں باندھیں اور بارگاہ رسالت میں حاضر ہو گیا۔
موقع اور اجازت پا کر بولا:
’’اللہ کے نیک بندے ، کل آپ نے صدقہ قبول نہیں کیا تھا، آج میں آپ کے لیے یہ چیزیں تحفے (ہدیے) کے طور پرلایا ہوں۔ اسے قبول فرمائیے۔‘‘
اور اس دفعہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تحفہ قبول کرکے ، خود بھی کھایا اور مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے سامنے بھی پیش کیا۔
یوں اسقف کی بتائی ہوئی دوسری نشانی بھی پوری ہو گئی۔ یعنی اللہ کا نبی تحفے میں دی گئی چیز قبول کرے گا۔
اب ایک نشانی رہ گئی تھی۔۔۔ اس کا دل تو یہی گواہی دے رہا تھا کہ اب تیسری نشانی کی کوئی ضرورت نہیں۔
در، در کی خاک چھاننے اور بڑے بڑے مذہبی لوگوں سے ملاقات کے بعد وہ مردم شناس تو ہو ہی چکا تھا مگر اسقف کی نصیحت اور یہ وعدہ کہ تینوں نشانیوں کے پورے ہونے کا انتظار کیا جائے، اس کو روک رہا تھا ۔ یہ وعدہ اور یہ نصیحت ایک کرب بن کر مابہ کے چہرے پر پھیل گئی اور رسول اللہ نے مابہ کے چہرے پر ثبت اس کیفیت کو کسی تحریر کی طرح پڑھ لیا تھا۔
کچھ لمحوں کے بعد حضور نے کندھے پر پڑی چادر کو ذرا سا خود سرکا دیا یا چادر اتفاقی طور پر سرک گئی۔ بہرحال مابہ بے چینی اور پیاسی نظروں سے ان کے دائیں شانے کو دیکھنے لگا ۔۔۔ جہاں اب کوئی کپڑا نہیں تھا، وہاں تیسری نشانی موجود تھی۔
نہ جانے یہ کسی زخم کا نشان تھا یا قدرت کی طرف سے بنائی گئی علامت ۔۔۔ جو کچھ بھی تھا بہت ہی حسین نشان تھا۔ بہت ہی بھلا تھا۔
بس پھر کیا تھا ۔۔۔ مابہ سے اور صبر نہ ہو سکا۔ برسوں کی خاک چھاننے، میلوں کا سفر طے کرنے اور گھر بار لٹانے کے بعد منزل ملی تھی ۔۔۔ وہ بھلا اب اپنے جذبات پر کیسے قابو رکھ سکتا تھا؟
وہیں فرش پر گر پڑا اور بچوں کی طرح بلک بلک کر رونے لگا۔
وہ روتا جا تا اور کہتا جاتا:
’’اے اللہ کے نبیؐ مجھ سے اور صبر نہیں ہوتا حق اور سچائی کی تلاش میں ، میں نے جتنی ٹھوکریں کھائیں ، اس کے بعد مجھ میں مزید انتظار کی سکت نہیں۔۔۔ مجھ غریب کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ دیجئے۔‘‘
اللہ کے آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اٹھایا، سہارا دیا ۔۔۔ گلے سے لگایا اور فرمایا کہ پوری داستان بیان کرو ۔۔۔
مابہ نے اصفہان کی بستی سے لے کر عموریہ تک اور عموریہ سے القریٰ اور پھر یثرب تک ساری داستان کہہ ڈالی۔
آپ نے فرمایا:’’یہ داستان تمام مسلمان سنیں۔‘‘
پھر مابہ نے باقاعدہ آپؐ کے مبارک ہاتھ پر بیعت کی اور آپؐ کی نبوت کی شہادت دے کر اسلام قبول کیا اور ان کا اسلامی نام ’’سلمانؓ‘‘ رکھا گیا۔
آج تاریخ انھیں سلمانؓ فارسی کے ہے۔
سیدنا سلمانؓ فارسی کے پاس آئے تو انھیں اپنی غلامی بہت کھل رہی تھی۔ ان کا جی یہی چاہتا تھا کہ وہ اپنی تمام بیڑیاں توڑ کر اپنا ہر لمحہ اللہ کے رسولؐ کی معیت میں گزاریں۔ لیکن ابھی تو انھیں اپنا اسلام بھی چھپانا تھا۔ انھیں معلوم تھا کہ یہودی آقا اسلام کے بہت خلاف ہے۔ انھوں نے یہی فیصلہ کیا کہ اسے حالات کے بہتر ہونے تک اپنے اسلام کا اظہار نہیں کرنا چاہیے۔
قبا میں چودہ دن کے قیام کے بعد اللہ کے رسولؐ جب یثرب آگئے تو سلمانؓ فارسی کو موقع ملنے لگا کہ وہ وقت نکال کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں ، اسی دوران میں یہودیوں کے ساتھ جب مسلمانوں کا معاہدہ ہو گیا تو حضرت سلمانؓ فارسی نے اپنے مسلمان ہونے کا بھی اعلان کر دیا۔
اس اعلان پر یہودی آقا بہت جز بز ہوا لیکن وہ حضرت سلمانؓ فارسی پر زبردستی نہیں کر سکتا تھا ۔ وہ انھیں مصروف رکھنے کے لیے ان سے بے تحاشا کام لیتا لیکن وہ پھر بھی نماز، روزے اور حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہونے کا وقت نکال لیتے۔
غلامی کے اس دور میں دو ہجری میں غزوہ بدر ہوا اور ۳ ہجری میں غزوہ احد، وہ ان دونوں جنگوں میں شرکت کرنے سے محروم رہے ۔ غزوہ احد کے بعد ان کے آقا نے مزید سختی کرنا شروع کر دی ۔ اس کی کوشش تھی کہ انھیں نماز تک کے لیے فرصت نہ ملے۔
ایک دن کئی دنوں کے بعد سلمان فارسیؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپؐ نے اس قدر غیر حاضری کی وجہ دریافت فرمائی۔
انھوں نے بتایا کہ آقا بہت دق کرتا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ سے کہا کہ سلمان کے آقا سے بات کی جائے کہ وہ اسے آزاد کر نے کی کیا قیمت مانگتا ہے۔
صحابہ نے جا کر یہودی سے بات کی تو اس نے حضرت سلمان فارسیؓ کے بدلے تین سو کھجور کے درخت اور چالیس اوقیہ سونا مانگا۔
یہ قیمت بہت زیادہ تھی۔ یہ زمانہ مسلمانوں کی غربت کا تھا اور کسی کے پاس اتنی رقم نہ تھی، مگر صحابہؓ حضرت سلمان فارسیؓ کو آزاد دیکھنا چاہتے تھے اور خود رسول اکرم ؐ کی بھی یہی خواہش تھی۔
سب مسلمانوں نے اپنے اپنے باغات میں سے کچھ درخت وقف کیے اور آخر کار تین سو درختوں کی گنتی پوری ہو گئی۔ اب چالیس اوقیہ سونا رہ گیا۔
اسی دوران کفار کے ساتھ ایک جھڑپ میں کچھ مال غنیمت ہاتھ لگا اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مرغی کے انڈے کے برابر سونا ملا۔ اس کا وزن ٹھیک چالیس اوقیہ تھا، آپؐ نے وہ سونا حضرت سلمانؓ کے حوالے کر دیا اور یوں یہودی کی منہ بولی قیمت چکا کر انھیں آزاد کرا لیا گیا۔
یثرب کا نام اب مدینۃ النبی پڑ چکا تھا ۔ اس چھوٹی سی بستی میں اللہ کے رسول نے دوسرے مہاجرین کی انصار کے ساتھ مواخات قائم کر دی گئی اور حضرت سلمانؓ فارسی کو حضرت ابو درداؓ کا بھائی بنایا گیا۔
اب حضرت سلمانؓ فارسی اپنا زیادہ سے زیادہ وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں گزارنے لگے۔اسی دوران جب سن پانچ ہجری میں غزوۂ خندق پیش آیا تو مدینہ کو شدید خطرہ لاحق ہو گیا ۔ دس ہزار کا لشکر ، پورے عرب سے سمٹ سمٹا کر مدینہ کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ اس موقع پر آپؐ نے جہاں تمام صحابہؓ سے مشورہ کیا وہاں حضرت سلمانؓ فارسی سے بھی مشورہ کیا اور ان کا مشورہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سمیت سب نے پسند کیا۔
وہ یہ کہ پورے مدینے کے ارد گرد ایک خندق کھود ڈالی جائے چنانچہ جب کفار کا لشکر مدینہ پہنچا تو ایک ناقابل عبور خندق دیکھ کر حیران رہ گیا۔ کفار نے اکیس بائیس دن محاصرہ کئے رکھا، پھر اللہ نے ان پر خوف مسلط کر دیا تو وہ میدان سے بھاگ نکلے ۔ یوں غزوۂ خندق میں حضرت سلمانؓ فارسی کی تجویز بہت موثر اور کارگر ثابت ہوئی۔ اس کے بعد حضرت سلمانؓ فارسی نے ہر غزوے میں شرکت کی اور ان کا شمار خاص صحابہؓ میں کیا جانے لگا ۔ ان کی طبیعت میں بہت سادگی تھی۔ لباس عام سا پہنتے اور اکثر روزہ رکھتے اور رات گئے تک عبادت کرتے۔ اس کے باوجود کہ ان کی طبیعت میں شروع سے مذہب کے معاملے میں شدت پائی جاتی تھی، انھوں نے اعتدال کا دامن کبھی ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیا۔
ان کے اسلامی بھائی حضرت ابودرداؓ بھی خوب عابد و زاہد تھے ۔ ایک دن ان کے گھر تشریف لے گئے تو ان کی بیوی کو بہت آزردہ دیکھا ۔ خراب کپڑے، بال بکھرے اور صورت اتری ہوئی تھی ۔ وجہ پوچھی تو وہ بولیں:
’’تمھارے بھائی (ابودرداؓ)کو تو دنیا کی کوئی حاجت نہیں رہی ۔ اس لیے میں نے کس کے لیے بننا سنورنا ہے!‘‘
یہ سنا تو کہا کہ ابو درداؓ کو آجانے دو ۔ اس کی خبر لیتا ہوں۔
ابو درداؓ آئے تو حضرت سلمانؓ سے تپاک سے ملے اور کہا کہ کھانا تناول فرمائیے۔
حضرت سلمانؓ نے کہا: ’’آئیے مل کر کھاتے ہیں۔‘‘ مگر وہ بولے کہ میرا تو روزہ ہے۔
حضرت سلمانؓ اسی جملے کے انتظار میں تھے فوراً بولے:
’’جب تک تم نہیں کھاؤ گے ۔ میں نہیں کھاؤں گا۔‘‘
یوں انھوں نے حضرت ابودرداؓ کا روزہ، جو کہ نفلی تھا، تڑوا دیا۔
رات کو حضرت درداؓ انھی کے پاس چارپائی پر لیٹ رہے، جب وہ تہجد کے لیے اٹھے تو حضرت سلمانؓ بھی اٹھ بیٹھے اور کہنے لگے:
’’اے بھائی میں نے تمھارے معمولات دیکھ لیے ہیں ۔۔۔ اور تم بھول چکے ہو تمھارے رب کے ساتھ ساتھ تمھارے بدن اور تمھاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ۔۔۔ روزوں کے ساتھ افطار اور شب بیداری کے ساتھ سونا اور آرام کرنا بھی ضروری ہے۔‘‘
حضرت ابودرداؓ مصر رہے کہ میں دنیا کے چکروں میں نہیں پڑنا چاہتا۔ حضرت سلمانؓ نے ان سے اتفاق نہ کیا اور معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوگیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمانؓ کی بات درست قرار دی اور حضرت ابودرداؓ سے مخاطب ہو کر فرمایا:
’’سلمانؓ تم سے زیادہ مذہب کو جاننے والے ہیں۔‘‘
یہ بہت بڑا اعزاز تھا اور حضرت سلمانؓ کی اس حیثیت کو سبھی صحابہؓ مانتے تھے۔
وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لمبی لمبی نشستیں کرتے اورآپؐ حضرت سلمانؓ کے رویے کو جنتی لوگوں کا رویہ قرار دیتے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد جب لوگوں نے حضرت سلمانؓ سے آپؐ کے متعلق پوچھا تو انھوں نے بڑا محتاط رویہ اختیار کیا انھیں اس بات کا بہت خدشہ تھا کہ کہیں وہ ایسی بات یا الفاظ منہ سے نہ نکال دیں جو آپؐ نے نہ کہے ہوں۔ ان کی اسی احتیاط کے باعث ان سے صرف 60 روایات منسوب ہیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر صدیقؓ کی خلافت کا کم و بیش سارا زمانہ انھوں نے مدینہ میں گزارا اور پھر حضرت عمرؓ کی خلافت کے زمانے کے آغاز میں عراق منتقل ہو گئے ۔ ان کے بھائی ابودرداؓ شام چلے گئے جہاں انھوں نے دنیاوی طور پر بہت ترقی کی ۔ تب ابودرداؓ نے حضرت سلمانؓ فارسی کو خط لکھا کہ تم سے الگ ہونے کے بعد اللہ نے مجھے مال و دولت اور بیٹوں سے نوازا ہے۔
انھوں نے جواب دیا: ’’اصل دولت مال اولاد نہیں بلکہ اخلاق اور وہ علم ہے جس پر عمل کیا جائے۔‘‘
حضرت عمرؓکے زمانے میں جب ایران پر لشکر کشی ہوئی تو وہ اس میں شریک ہوئے اور مسلمانوں کو بڑی قیمتی معلومات بہم پہنچائیں، ان کے علم کی افادیت اس لیے تھی کہ وہ خود ایرانی یعنی فارسی تھے۔
ایک قلعے کو فتح کرنے کی غرض سے انھیں دستہ دے کر بھیجا گیا ۔ انھوں نے قلعہ کا محاصرہ کرنے کے بعد ان لوگوں کو پیغام بھیجا کہ میں بھی تمھاری نسل یعنی ایران سے تعلق رکھتا ہوں ۔ اگر تم مسلمان ہو جاؤ گے تو عرب اور ایرانی کا فرق مٹ جائے گا اور اگر بغیر لڑائی کے ہتھیار ڈال کر اطاعت قبول کر لو گے تو تمھیں زمینوں کے حقوق ملیں گے اور تم اپنے مذہب میں آزاد ہو گے اور صرف جزیہ دو گے۔
وہ یہ تبلیغ مسلسل تین دن کرتے رہے ۔ جب محصورین نہ مانے تو حملہ کرکے قلعہ فتح کر لیا۔
حضرت عمرؓ نے انھیں مدائن کے علاقے کا گورنر مقرر کیا تو نہایت سادگی کے ساتھ حکومت کی۔ ان کا رہنا سہنا عام آدمی سے بھی سادہ تھا ۔ اسی گورنری کے زمانہ میں انھوں نے سواری کے لیے ایک گدھا رکھ لیا تھا ۔ جب اس پر سوارہوتے تو جو لوگ انھیں جانتے نہیں تھے وہ دیکھتے تو مذاق اڑاتے۔
ان کی سادگی کی وجہ سے اکثر لوگ دھوکا کھا جاتے ۔ ایک دفعہ ایک شخص نے چارہ خریدا تو حضرت سلمانؓ بھی پاس کھڑے تھے ۔ اس نے سمجھا کہ مزدور ہیں۔ ان سے کہا کہ وہ یہ چارہ گھر تک پہنچا دیں۔ حضرت سلمانؓ نے خاموشی سے چارہ اٹھا لیا۔
راستے میں لوگوں نے حضرت سلمانؓ کو اس حالت میں دیکھا تو کہا کہ آپ یہ زحمت نہ کیجیے۔ اس شخص نے جب یہ منظر دیکھا تو ان سے معافی مانگنے لگا۔ حضرت سلمانؓ فارسی نے نہ صرف یہ کہ اسے معاف کر دیا بلکہ چارہ اس کے گھر پہنچا کر دم لیا۔
انھیں گورنری کی جس قدر تنخواہ ملتی ، وہ ساری کی ساری خیرات کر دیتے اور خود چٹائی بن کر گزر بسر کرتے ۔ اس مزدوری میں بھی گزارے کے لیے بیوی بچوں کے لیے رکھ لیتے اور باقی خیرات کر دیتے۔
آپؓ حضرت عثمانؓ کے دور میں جب بستر مرگ پر پڑے ہوئے تھے اور لوگ عیادت کے لیے آتے تو انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحتیں کرتے۔
آخری وقت سعد بن ابی وقاصؓ عیادت کرنے گئے تو رونے لگے ۔ حضرت سعدؓ نے فرمایا:
’’اے سلمانؓ آپ کیوں روتے ہیں ؟ رسولؐ اللہ آپ سے خوش خوش اس دنیا سے گئے ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ تم حوضِ کوثر پر ان سے ملو گے اور تمام بچھڑے ساتھیوں سے ملاقات ہو گی۔‘‘
سلمانؓ آنسو بہاتے ہوئے بولے: ’’خدا کی قسم، موت سے ہرگز نہیں ڈرتا اور نہ ہی دنیا کی کوئی حرص باقی ہے ۔ رونا تو اس پر آرہا ہے کہ رسولؐ نے فرمایا تھا کہ اس دنیا میں ہمارا معاملہ ایک مسافر کا سا ہونا چاہیے مگرمیرے پاس تو سانپ ہی سانپ ہیں۔‘‘
حضرت سعدؓ سمجھ گئے اور کہنے لگے :’’ جن کو آپ سانپ یعنی دنیا کا سامان کہتے ہیں ، وہ تو ایک بڑا پیالہ، ایک لگن اور ایک تسلہ ہے، بھلا یہ دنیاوی سامان کہاں سے ہے اور اس کو سانپ کیسے کہا جا سکتا ہے۔‘‘ پھر انھوں نے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجیے ۔ تب حضرت سلمانؓ بولے:
کسی کام کا مقصد یعنی ارادہ کرتے وقت، فیصلہ کرتے وقت ، تقسیم کرتے وقت ، خدا کو یاد رکھا کرو۔
جب آخری وقت آیا تو اپنی بیوی کو کہا کہ مشک کو پانی میں گھول کر میرے چاروں طرف چھڑکاؤ کرو اور لوگوں کو میرے پاس سے ہٹا دو۔ لوگ تھوڑی دیر کے بعد گئے تو وہ اپنے رب کے پاس پہنچ چکے تھے۔

____________