ایران کے آتش کدوں سے یثرب کی معطر فضاؤں کا ایک نادر سفرنامہ ۔ تلاشِ حق کی ایک لا زوال داستان۔ اللہ کے راستے میں نکلنے والوں کے لیے ایک مینارۂ نور ۔۔۔ سیدنا سلیمان فارسی کی وہ سرگزشت جسے سننے کے بعد اللہ کے رسولؐ نے صحابہؓ کو فرمایاتھا کہ وہ یہ داستان ضرور سنیں۔
مآخذ: سیرت الصحابہ۔ مولانا معین الدین ندوی


ایران کے مشہور شہر اصفہان کی ایک مضافاتی بستی ’’جی‘‘ میں ایک با اثر زمیندار رہتا تھا۔ اس کانام ’’بودخشان‘‘ تھا۔ اس کا گھر بڑا مذہبی تھا، ہر گھر کی طرح اس کے ہاں بھی ایک معبد تھا۔ اس معبد کے آتش دان میں آگ کبھی بجھنے نہیں پاتی تھی۔ آگ کا ہر وقت جلتے رہنا ان کے نزدیک ایک افضل عبادت تھی۔
بوذخشاں نے یہ کام اپنے چودہ پندرہ برس کے بیٹے کے ذمے لگایا ہوا تھا۔ اس لڑکے کا نام مابہ تھا۔ یہ لڑکا بڑا مذہبی تھا۔ اسے اپنے مذہب یعنی آتش پرستی سے بڑی محبت تھی اور اسی لیے اس کے والد بوذخشان کو مابہ سے بڑا لگاؤ تھا۔
ایک دن والد نے مابہ سے کہا کہ آج کھیتوں کی دیکھ بھال کے لیے اسے جانا ہو گا۔ دراصل گھر کی مرمت کے لیے اسے رکنا پڑ رہا تھا۔ مابہ نے ایک فرمانبردار بیٹے کی طرح باپ کے آگے سر تسلیم خم کیا اور کھیتوں کی طرف روانہ ہو گیا۔
راستے میں مابہ کو ایک عمارت میں اونچی اونچی آواز سے کچھ پڑھنے کی آوازیں سنائی دیں۔ یہ عمارت تو اس نے پہلے بھی دیکھی ہوئی تھی لیکن آوازوں سے اس کے کان پہلی دفعہ مانوس ہو رہے تھے۔ آوازیں اسے بہت بھلی لگی تھیں۔ وہ تجسس کے مارے مجبور ہو کر عبادت گاہ کے اندر چلا گیا۔ وہاں ایک بڑے ہال میں اس نے بہت سارے لوگوں کو مل کر کچھ پڑھتے دیکھا، یہ منظر اسے پسند آیا اور وہ خاصی دیر تک وہاں رکا رہا۔
اگلے دن اسے پھر کھیتوں میں جانے کا حکم ملا تو وہ کھیتوں کے بجائے اس عمارت کے اندر چلا گیا۔ وہاں اسے ایک پادری ملا۔ مابہ نے اس سے بہت سارے سوالات کیے تو اسے معلوم ہوا کہ یہ عیسائی لوگوں کی عبادت گاہ ہے اور اس نے انھیں نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ مابہ سے پادری نے پوچھا تو اس نے جھٹ سے کہہ دیا کہ اسے ان لوگوں کا مذہب بہت اچھا لگا ہے۔ مابہ نے پادری سے عیسائیت کے متعلق بہت سارے سوالات پوچھے تواسے بتایا گیا کہ اسے ان سوالوں کے تفصیلی جواب شام جا کر معلوم ہوں گے۔ ان دنوں شام ہی عیسائی مذہب کا مرکز تھا۔
مابہ رات گئے جب گھر لوٹ رہا تھا تو اس فیصلے پر پہنچ چکا تھا کہ اس کا مذہب عیسائیت کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں۔
گھر پہنچا تو والد نے اس قدر دیر سے آنے کی وجہ پوچھی۔ جھوٹ بولنا تو مابہ نے سیکھا ہی نہیں تھا۔ فوراً سچ سچ سب کچھ بتا دیا اور والد کو یہ بھی بتا دیا کہ اسے عیسائیت آتش پرستی سے بہت بہتر مذہب لگا ہے۔
والد نے یہ سنا تو اپنا سر پیٹ لیا اور بیٹے کو پہلے پیار سے اور پھر ڈانٹ کر سمجھایا کہ اس کا مذہب تمام مذاہب سے اچھا ہے، مگر مابہ نے باپ سے اتفاق نہ کیا تب وہ گرج کر بولا۔
’’مابہ ، اچھی طرح کان کھول کر سن لو، آئندہ تم کبھی گرجا گھر نہیں جاؤ گے۔‘‘
لیکن حق کے متلاشی مابہ پر باپ کا یہ حکم نہ چل سکا اور عبادت کے روز چوری چھپے وہ پھر گرجا گھر پہنچ گیا۔ عبادت ختم ہوئی تو اس نے پادری سے پھر کئی سوالات پوچھے۔ ان سوالات کے نتیجے میں مابہ کو یقین ہو گیا کہ آگ کی پوجا ایک فضول اور بے معنی کام ہے۔ اس نے پادری سے اپنے اس شوق کا اظہار کیا کہ وہ شام جانا چاہتا ہے۔ پادری نے بتایا کہ چند دنوں تک اصفہان سے ایک قافلہ شام کی طرف روانہ ہو گا۔ مابہ دل ہی دل میں منصوبے بناتا گرجا گھر سے باہر نکلا تو اس تلخ حقیقت سے بالکل بے خبر تھا کہ ایک شخص اسے گرجا گھر سے نکلتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔ اس شخص کو بوذخشاں نے بیٹے کی جاسوسی پر لگا رکھا تھا۔
مابہ جیسے ہی گھر پہنچا باپ کی گرج دار آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
’’مابہ ۔۔۔ کہاں گئے تھے۔‘‘
اس ڈانٹ سے مابہ بری طرح سہم گیا تھا لیکن جھوٹ بولنے کی اسے عادت ہرگز نہ تھی۔ سہمی آواز میں بولا۔
’’گرجا گھر۔‘‘
’’کیوں ۔۔۔ میں نے تو منع کیا تھا۔‘‘
’’جی ۔۔۔ آپ نے منع کیا تھا ۔۔۔ لیکن میں نے آپ سے عرض کی تھی کہ وہ مذہب آتش پرستی سے کہیں اچھا ہے، بھلا جس چیز کو انسان خود جلائے اور خود بجھائے، وہ اسے کیسے فائدہ پہنچا سکتی ہے۔‘‘
’’خاموش رہو گستاخ۔۔۔ تمھارا دماغ چل گیا ہے۔ تمھیں اس گستاخی کی سزا ضرور بھگتنی پڑے گی!‘‘ بوذخشان نے کہا اور گھر سے باہر نکل گیا۔
مابہ آنے والے وقت کی تلخی اور تنگی کا اندازہ کرنے لگا۔ اس نے دل ہی دل میں تہیہ کر لیا کہ انجام چاہے جو بھی ہو ۔۔۔ وہ حقیقت تک ضرور پہنچے گا۔
رات کو جب وہ بستر پر لیٹا تو انھی سوچوں میں غرق تھا۔ پھر نہ جانے کب اس کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گیا۔
صبح جب وہ بیدار ہوا تو اسے یوں لگا جیسے اس کی ٹانگیں بھاری بھاری ہیں۔ اس نے بستر سے اٹھنا چاہا لیکن نہ اٹھ سکا۔تبھی اسے معلوم ہوا کہ وہ بیڑیوں سے باندھ دیا گیا ہے۔ وہ سمجھ گیا کہ یہی وہ سزا تھی جس کا مزہ چکھانے کی دھمکی اس کے باپ نے اسے دی تھی۔
اس سلوک نے مابہ کے دل کو شدید ٹھیس پہنچائی۔ باپ کی محبت اور شفقت کا جو تصور اس کے ذہن میں تھا اسے شدید دھچکا لگا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچ چکا تھا کہ اس کے باپ کے لیے اصل اہمیت آگ کی ہے، اپنی نیک نامی کی ہے۔
تھوڑی دیر بعد گھر کا ملازم مابہ کو کھانا دینے کے لیے آیا تو اس نے مابہ کو بتایا کہ اس کا باپ اس سے سخت ناراض ہے۔ اگر وہ گرجا گھر نہ جانے کا وعدہ کرے اور آتش پرستی کو برا نہ کہنے کی قسم اٹھائے تو اس کا باپ اسے معاف کر دے گا لیکن مابہ نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا کہ وہ مر جائے گا لیکن زبردستی کسی چیز کو قبول نہیں کرے گا۔
یہ خادم مابہ سے بہت محبت کرتا تھا۔ جب مسلسل کئی روز تک اس نے اسی طرح باپ بیٹے کو اپنی اپنی ضد پر قائم دیکھا تو اس نے مابہ سے کہا۔
’’بیٹا مجھ سے تمھارا یوں قید میں رہنا دیکھا نہیں جاتا ۔۔۔ تم اپنی ضد کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔‘‘
مابہ نے کہا: ’’بابا! اگر تمھیں مجھ سے کچھ ہمدردی ہے تو کسی نہ کسی طرح گرجا گھر کے پادری سے معلوم کرکے آؤ کہ اصفہان سے شام جانے والا قافلہ کب روانہ ہو گا۔‘‘
خادم نے مابہ کے یہ ارادے دیکھے تو کانوں کو ہاتھ لگانے لگا، لیکن مابہ نے اس کی بہت منت سماجت کی، اپنی محبت کا واسطہ دیا، اپنے دل کی حالت بتائی اور کسی نہ کسی طرح اسے اس کام کے لیے آمادہ کر لیا۔
اور پھر ایک دن اس کا خادم یہ خبر لے کر آہی گیا کہ اصفہان سے شام جانے والا قافلہ صرف دو روز بعد روانہ ہونے والا ہے۔ تب مابہ نے خادم سے کہا۔
’’بابا تم نے جہاں مجھ پر اتنی عنایت کی ایک آخری عنایت اور کر دو ۔۔۔ مجھے کسی طرح اس کوٹھڑی سے باہر نکلوانے کا بندوبست کر دو۔‘‘
خادم نے کہا ’’بیٹے آج تمھارا باپ تم سے ملے گا۔ ہو سکتا ہے اسے تم پر رحم آجائے، لیکن اگر اس نے تم پر اپنا ظلم جاری رکھا تو میں تمھاری مدد ضرور کروں گا۔‘‘
مابہ کو اگرچہ اپنے والد سے کسی خیر کی توقع نہ تھی مگر پھر بھی اس کے دل میں امید کی کرنیں پھوٹ پڑی تھیں۔
رات کو کھانے کے بعد جب بوذخشاں مابہ سے ملنے آیا تو اس کا رویہ بڑا ہمدردانہ تھا۔ اس نے بیٹے کو سینے سے لگایا۔ خوب پیار کیا اور اس کی بیڑیاں اتارنے کا حکم دیا۔ پھر وہ اس کے قریب آیا اور بولا:
’’بیٹے، کوئی باپ اپنے دل کے ٹکڑے کو اس طرح قید کرنا پسند نہیں کرتا، تمھیں تو معلو م ہے کہ مجھے تم سے کتنی محبت ہے ۔۔۔ اور اسی محبت کا نتیجہ ہے کہ میں تمھیں بد دین دیکھنا نہیں چاہتا۔‘‘
مابہ نے کچھ نہیں کہا خاموشی سے زمین کی طرف دیکھتا رہا، باپ نے کچھ دیر خاموشی کے بعد پھر اپنی بات شروع کی۔
’’بیٹے، میں نہیں چاہتا کہ تم اپنے باپ داد ا کے مذہب کو چھوڑ و تمھیں معلوم ہے کہ اگر کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کی سزا اس کے فوت شدہ آباؤ اجداد کو ہوتی ہے۔ اب تمہی بتاؤ کہ تمھیں پسند ہے کہ تمھاری وجہ سے تمھارا دادا اور پڑدادا کی روح کو عذاب دیا جائے۔‘‘
بوذخشان نے اپنے عقیدے کا سہارا لے کے بیٹے پر اخلاقی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی تھی لیکن اس نے بڑی سادگی اور سچائی سے کہا۔
’’بابا میں تمھیں کیسے بتاؤں کہ مجھے آگ جلانا اور اس کی پوجا کرنا اب بالکل اچھا نہیں لگتا۔‘‘
بیٹے کی اس بات نے بوذخشان کو پھر آپے سے باہر کر دیا۔ اس نے بڑی مشکل سے اپنے غصے پر قابو پایا اور ایک مرتبہ پھر اسے سمجھانے لگا مگر اس کے لہجے میں گھلی ہوئی تلخی اور سختی مابہ محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا۔ ویسے بھی اسے والد کی تمام باتیں کھوکھلی اور بے دلیل محسوس ہوئی تھیں۔ اس لیے وہ محض خاموش ہو کر رہ گیا۔ اس ساری گفتگو کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجوسیت سے اس کی نفرت مزید گہری ہو گئی اور اس کا باپ بھی بیٹے کی اندرونی کیفیات کو جانے بغیر نہ رہ سکا چنانچہ وہ غصے سے اٹھا اور مابہ کو مزید دھمکیاں دیتا ہوا باہر نکل گیا۔ جاتے ہوئے اس نے خادم کو حکم دیا کہ مابہ کو پھر بیڑیاں ڈال دی جائیں اور کل سے اس کا کھانا بھی بند کر دیا جائے۔
ادھر باپ کا یوں دکھی اور ناراض ہو کر چلے جانا مابہ کے لیے بڑا تکلیف دہ تھا لیکن وہ بھلا کر بھی کیا سکتا تھا! آخر سچ کی کچھ قیمت تو اسے ادا کرنی ہی تھی۔
مابہ انھی سوچوں میں گم تھا کہ خادم اس کے کمرے میں داخل ہوا۔ اس نے مابہ کو اس کے باپ کا نیا حکم سنایا تو مابہ بولا:
’’بابا ، تم نے میرے باپ کا رویہ دیکھ ہی لیا اب تمھارا کیا فیصلہ ہے۔‘‘
خادم نے کہا : ’’بیٹے، میں نے تمھیں اپنے بیٹوں کی طرح سمجھا ہے۔ مجھ سے یہ برداشت نہیں ہو گا کہ میں خود کھانا کھاؤں اور تمھیں کچھ نہ دوں۔ میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ تمھاری مدد ضرور کروں گا۔ چاہے اس کی مجھ کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑے۔‘‘
اور خادم نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ۔۔۔ اس نے مابہ کو ایک سلاخ دی اور کہا کہ وہ رات کو اس سلاخ کے ذریعے بیڑیاں کھول لے اور وہ کھڑکی کھول رکھے گا۔ بیڑیاں کھل جانے سے اس کے لیے یہاں سے نکلنا مشکل نہیں ہو گا۔‘‘
چنانچہ لگتا یہی ہے کہ آدھی رات کے قریب مابہ نے خادم کے بتائے ہوئے طریقے سے بیڑیاں کھول لیں اور باپ کے قید خانے سے فرار ہو گیا۔ جاتے ہوئے اس کے دل میں خادم کے لیے بہت سی دعائیں تھیں اورماں باپ کے لیے عجیب جذبات جن کو کوئی نام نہ دے سکا۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا وہاں سے دور ہوتا چلا گیا اور اس کی منزل گرجا گھر تھی اسے یقین تھا کہ گرجا گھر کا پادری اس کی مدد ضرور کرے گا۔
مابہ نے جب آدھی رات کے قریب پادری کے کمرے پر دستک دی تو وہ آنکھیں ملتا ہوا باہر نکلا۔ پادری مابہ کو اس وقت اس حالت میں دیکھ کر سخت حیران ہوا۔ اس نے اپنی کہانی سنا کر اس کی حیرت دور کر دی۔ مابہ نے آخر میں کہا:
’’میں اپنا گھر ہمیشہ کے لیے چھوڑ آیا ہوں کیونکہ مجھے یقین ہے کہ وہاں رہ کر میں سچے مذہب کو اختیار نہیں کر سکتا۔ کیا آپ میری مدد کریں گے؟‘‘
پادری نے مابہ جیسا سچا اور مذہب سے محبت کرنے والا نوجوان پہلی مرتبہ دیکھا تھا۔ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ صبح جب اس کے باپ کو مابہ کے فرار کی خبر ملے گی تو وہ سب سے پہلے یہیں آئے گا اور جب مابہ اس کے گھر سے برآمد ہو گا تو اس کے لیے یہ بہت خوف ناک بات ہو گی۔ بوذخشاں ایک با اثر زمیندار تھا اور اس کی رسائی بادشاہ کے دربار تک تھی مگر اس نازک لمحے پر وہ مابہ جیسے مخلص اور سچے جذبے کے مالک لڑکے کو جھوٹ اور جبر کے اندھیروں میں دھکیلنابھی مناسب نہیں سمجھتا تھا۔ اس نے تمام خطرات اور خدشات کے باوجود اپنی ذہنی کیفیت پر قابو پا لیا اور مابہ سے کہا۔
’’بیٹا، میں تمھاری ہر ممکن مدد کروں گا۔آؤ اندر آجاؤ۔‘‘
مابہ نے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا۔ ’’میرا یہاں رہنا خطرے سے خالی نہیں، میرے والد مجھے تلاش کرنے یہاں ضرور آئیں گے۔ آپ نے چند دن قبل شام جانے والے ایک قافلے کا ذکر کیا تھا۔ کیا یہ ممکن نہیں آپ مجھے اس قافلے میں شامل کرا دیں۔‘‘
’’یقیناًایسا ہی ہو گا، اس وقت تم میرے ساتھ آؤ۔‘‘
پادری مابہ کو اپنے بہت قریبی دوست کے گھر چھوڑ آیا اور اسے تسلی دی کہ اسے قافلے کے ساتھ روانہ کر دیا جائے گا۔

***

تاجروں کا ایک قافلہ شام جانے کے لیے تیار کھڑا تھا۔ اسے اپنی منزل کی طرف روانہ ہوجانا چاہئے تھا لیکن اصفہان کے ایک امیر اور با اثر شخص کے حکم پر وہ کچھ دیر کے لیے رک گئے تھے۔
تھوڑی ہی دیر کے بعد وہ با اثر آدمی ایک دوسرے آدمی کے ہمراہ وہاں پر پہنچا۔ یہ دوسرا آدمی بوذخشان کے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔ یہ دونوں شخص اپنے ساتھ بادشاہ کی فوج کے اہم لوگ بھی لائے تھے۔ انھوں نے آتے ہی قافلے کی تلاشی لینا شروع کر دی۔ یقینی طور پر انھیں مابہ کی تلاش تھی۔
انھوں نے قافلے کے ایک ایک شخص کو دیکھا مگر انھیں گوہر مقصود ہاتھ نہ آیا۔
مابہ واقعی اس قافلے میں موجود نہیں تھا۔
دراصل بوذخشان پہلے پادری ہی کے گھر گیا تھا لیکن جب وہاں مابہ کا کچھ علم نہ ہو سکا تو اسے یہ شک گزرا کہ مابہ کہیں عیسائیت قبول کرکے شام کی طرف جانے والے قافلے کے ہمراہ نہ چلا گیا ہو۔ اس نے اپنے ایک جاننے والے کے ذریعے سے تاجروں کے اس قافلے کو روکا تھا جب مابہ نہ ملا تو قافلے کو روانہ ہونے کی اجازت دے دی گئی۔
اصفہان شہر کی حدود سے کچھ فاصلے پر ایک گھوڑا سرپٹ بھاگ رہا تھا۔ اس کا رخ اسی قافلے کی طرف تھا جو ابھی ابھی اصفہان سے روانہ ہوا تھا۔ اس گھوڑے پر ایک کے بجائے دو سوار تھے۔ ایک کی عمر چالیس برس کے لگ بھگ ہو گی اور دوسرا ابھی چودہ پندرہ برس کا نو عمر لڑکا تھا۔
جب قافلے کے سردار کو بتایا گیا کہ ایک گھوڑا سرپٹ دوڑتاہوا قافلے کی طرف آ رہا ہے تو اس نے قافلے کو رکنے کا حکم دیا۔ سردار خود قافلے سے نکل کر چند محافظوں کے ہمراہ اس گھوڑے کی طرف چل دیا۔ جونھی گھوڑا ان کے قریب آ کر رکا سردار بولا:
’’پادری صاحب آپ بہت وقت پر پہنچے ہیں!‘‘
’’اللہ کا شکر ہے جس کی توفیق سے ہم دونوں یہاں محفوظ پہنچ گئے ہیں اور میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ نہ ہی ہمارا تعاقب ہوا ہے اور نہ ہی کسی کو معلوم ہے کہ ہم آپ کے قافلے کی طرف جا رہے ہیں۔‘‘
’’بہت خوب۔‘‘ سردار نے نوجوان کی طرف دیکھا تو پادری بولا۔
’’یہی ہے وہ نوجوان ۔۔۔ مابہ ۔۔۔ جس کے متعلق میں نے آپ سے بات کی تھی۔‘‘
’’ہوں ۔۔۔ ‘‘ سردار نے سر سے پا تک مابہ کا جائزہ لیا ۔ ٹھیک ہے جناب، آپ کے حکم کے مطابق ہم اس لڑکے کو شام تک بحفاظت پہنچا دیں گے۔
مابہ نے پادری کا شکریہ ادا کیا اور اس سے دعا کی درخواست کی۔ پادری نے بڑی محبت سے مابہ کو رخصت کیا اور قافلے کے سردار کو ایک دفعہ پھر درخواست کی کہ وہ مابہ کا خیال رکھے۔
رخصت ہوتے وقت مابہ نے اپنے محسن پادری کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا اور اپنے لیے خصوصی دعا کی استدعا بھی کی۔ پادری نے مابہ کو بڑی محبت اور نم ناک آنکھوں سے الوداع کہا اور ایک خط دے کر کہا کہ وہ اسے شام کے بشپ کو دے دے۔
منزلوں پر منزلیں مارتا یہ قافلہ بخیر و عافیت شام جا پہنچا۔ قافلے کے سردار نے اپنے وعدے کے مطابق مابہ کو عیسائیوں کے مرکز کا پتا بتایا اور وہ جلد ہی ایک پر شکوہ عمارت میں پہنچ گیا۔
مابہ کی رسائی ایک بڑے با رعب شخص سے کرائی گئی جسے تمام لوگ بشپ کہتے تھے۔ اس نے بشپ کو اپنی ساری داستان سنائی اور اصفہان کے اس پادری کا خط بھی اس کے حوالے کیا جو رخصت ہوتے وقت اسے دیا گیا تھا۔خط پڑھ کر اور مابہ کی لگن اور حق سے محبت دیکھ کر بشپ نے اسے اجازت دی کہ وہ اس کے خدمت گزاروں میں داخل ہو سکتا ہے۔
چند ہی دنوں بعد مابہ نے باقاعدہ طور پر عیسائیت قبول کر لی اور بشپ نے اسے بپتسمہ دیا۔ مابہ سمجھتا تھا کہ اس نے زندگی کی سب سے بڑی نعمت پا لی ہے اور اب وہ دل کا چین اور روح کی آسودگی پا سکے گا۔
لیکن اس کی یہ خوشی بہت عارضی ثابت ہوئی۔
اس نے ایک دن ایسا منظر دیکھا جس نے اس کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ اس کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے اور اسے یوں محسوس ہوا جیسے وہ آسمان سے زمین پر گر پڑا ہو۔
ہوایوں کہ ایک دن وہ کسی کام سے بشپ کے ذاتی کمرے میں چلا گیا۔ بشپ کا ذاتی خادم ہونے کے ناتے اسے اجازت کی ضرورت نہیں تھی یا وہ اجازت لینا بھول گیا۔ معاملہ جو کچھ بھی تھا، لیکن اس کے نتیجے میں جو کچھ اس کی آنکھوں نے دیکھا وہ ناقابل یقین تھا۔
مابہ کمرے میں داخل ہوا تو بشپ ایک مٹکے میں کچھ ڈال رہا تھا۔ مابہ نے غور کیا تو اسے معلوم ہوا کہ بشپ مٹکے میں سونے چاندی کے زیورات ڈال رہا ہے۔
مابہ انھی قدموں پر واپس آگیا۔ سونے چاندی کے ان زیورات کو ایک مٹکے میں ڈالنا اور وہ بھی اپنے ذاتی کمرے میں۔ یہ ماجرا اس کی سمجھ سے بالا تر تھا۔ وہ اس حقیقت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا کہ بشپ لوگوں سے وصول کرنے والے نذرانے اور خیرات کے عطیات خود جمع کر رہا ہے لیکن وہ اس بات کو بھی اچھی طرح جانتا تھا کہ بشپ کو تو ایک سادہ زندگی بسر کرنا ہوتی ہے۔ اسے کسی مٹکے میں سونے چاندی کے زیورات جمع کرنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ اس کے ذہن میں آیا کہ ہو سکتا ہے کہ بشپ نے حفاظت کے طور پر چرچ کی اس امانت کو اپنے پاس رکھا ہو لیکن یہ بات اس کے لیے نہیں مانی جا سکتی تھی کہ خیرات اور عطیات کو جمع کرنے اور محفوظ کرنے کا تو باقاعدہ ایک محکمہ ہے۔ ان عطیات کا بشپ کے کمرے سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بہرکیف حقیقت جو بھی تھی مابہ بشپ کو خائن اور بد دیانت ماننے پر آمادہ نہ ہوا۔ لیکن شک کا بیج ضرور اس کے سینے میں بویا جا چکا تھا پھر اسی شک کی بنا پر اس نے بشپ کی سن گن لینا شروع کی اور زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ ایک رات اس نے بشپ کے کمرے میں روشنی دیکھی۔ اس نے دروازے کی درز سے جو کچھ دیکھا اس کے بعد کسی دوسری رائے کی گنجائش نہیں رہی تھی۔
ؔ مابہ بشپ سے بہت محبت کرتا تھا لیکن اس کا یہ روپ دیکھ کر اسے بہت صدمہ پہنچا۔ پوری رات وہ سو نہ سکا۔ نیند اس سے کوسوں دور تھی۔ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے؟
اچھی طرح جانتا تھا کہ جس طرح وہ بشپ سے محبت کرتا ہے، اسی طرح سب لوگ اس کے گرویدہ ہیں۔ یہ بات بھی اس پر واضح تھی کہ وہ ایک اجنبی آدمی ہے اور اسے یہاں پر آئے ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا۔ اس عالم میں اگر اس نے لوگوں کو بشپ کے بارے میں کچھ بتانا بھی چاہا تو لوگ اس کا یقین نہیں کریں گے اور الٹا اسے ہی جھوٹا اور احسان فراموش سمجھیں گے۔ مابہ سوچ کے انھی الجھاؤں میں الجھا رہا لیکن کسی فیصلے پر نہ پہنچ سکا۔
اگلے کئی روز وہ اس ناگوار راز کے بوجھ کو سینے میں دبائے پھرتا رہا۔ کوئی بھی اسے اس قابل نظر نہ آیا کہ اس کا محرم راز بنے۔
بعض اوقات تو وہ اپنے آپ سے لڑنے لگتا کہ جس سچائی اور حقیقت کی خاطر اس نے اپنا گھر بار چھوڑا، ماں باپ اور بہن بھائیوں سے کنارہ کشی اختیار کی، وہ اگر یہی کچھ ہے تو اس نے بہت گھاٹے کا سودا کیا ۔ لیکن پھر اس کے اندرسے آواز آئی کہ یہ ایک شخص کی ذاتی برائی ہے ، اس سے اس کے نئے مذہب میں یا حقیقت کی جستجو میں کوئی خرابی واقع نہیں ہوئی۔
مابہ اسی الجھن میں رہا کہ بشپ اچانک بیمار پڑ گیا۔ اس کے دل نے گواہی دی کہ اللہ کی خاموش لاٹھی اس منافق شخص پر برس کر رہے گی اور یونہی ہوا۔ بشپ چند روز کسی پراسرار علالت کے دوران ہی میں مر گیا۔
بشپ کی موت پر لوگوں میں کہرام مچ گیا۔ دور و نزدیک سے لوگ اس کا سوگ منانے پہنچنے لگے۔ مابہ کے لیے یہ صورت حال بڑی تکلیف دی تھی۔ لوگ اس کو اللہ کا ولی قرار دیتے ۔ عظیم انسان اور عالم دین مانتے مگر حقیقت کا علم تو مابہ کو تھا، وہ دل ہی دل میں کڑھنے لگا۔
جب بشپ کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں اور لوگ اس کا آخری دیدار کرکے رو رو کر ہلکان ہو رہے تھے تو مابہ نے ایک عجیب فیصلہ کیا۔
اس کے ضمیر نے گوارانہ کیا کہ لوگوں کے اخلاص کا مذاق اڑایا جائے اور ان کی سچی محبت پر ایک جھوٹا شخص ڈاکا ڈالے۔ اس نے لوگوں کو بشت کا اصل چہرہ دکھانے کا پختہ عزم کر لیا۔
جب جنازے کی دعائیں مکمل ہوچکیں اور بشپ کی تدفین کا مرحلہ درپیش ہوا تو اچانک آواز گونجی۔ یہ آواز مابہ کی تھی۔
وہ ایک اونچی جگہ پر کھڑا تھا اور پوری قوت سے بول رہا تھا: ’’لوگو! میرے پاس تمھارے پیارے اور محترم بشپ کا ایک اہم راز ہے۔‘‘
تمام لوگ حیران ہو کر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور وہ دوبارہ بولا۔
’’آج میں آپ لوگوں کو بشپ کی اصلیت سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
مابہ خاموش ہوا تو ایک شخص بولا: ’’ہمیں معلوم ہے، وہ نہایت نیک اور پرہیزگار انسان تھے۔‘‘
’’نہیں!‘‘ مابہ چیخا۔ ’’یہی تو تمھاری بھول ہے، بشپ ایک جھوٹا اور مکار شخص تھا، وہ ایک کھوٹا سکہ تھا۔‘‘
اس اعلان نے گویا مجمع میں آگ لگا دی۔ سبھی پہلے حیرت سے اور پھر غصے سے مابہ کی عقل پر ماتم کرنے لگے۔ لوگ مختلف تبصرے کر رہے تھے، کوئی اونچی تو کوئی آہستہ ۔
’’ارے یہ نوجوان کیسی باتیں کر رہا ہے۔‘‘
’’یہ پاگل ہو گیا ہے۔‘‘
’’احسان فراموش ہے۔‘‘
ایک شخص نے لوگوں کو خاموش ہونے کے لیے کہا اور بولا: ’’تمھارے پاس اپنے دعوے کا کیا ثبوت ہے؟‘‘
’’بشپ کو ملنے والے تمام عطیات ان کے خاص کمرے میں محفوظ ہیں۔‘‘
’’تمھیں کیسے معلوم ہوا؟‘‘ اسی شخص نے قدرے حیرانی سے پوچھا۔
’’میں نے ایک دن اتفاقاً بشپ کو اس کے کمرے میں سونے چاندی کے زیورات محفوظ کرتے دیکھ لیا تھا۔ تمھیں یقین نہ ہو تو جاؤ ، خود جا کر اس کمرے کی تلاشی لے لو۔‘‘
مابہ کے اس کھلے چیلنج نے لوگوں میں سنسنی دوڑا دی۔ لوگ اب کھسر پھسر کرنے لگے۔ پھر ایک آواز آئی:
’’مابہ، اگر تمھاری بات غلط نکلی تو سزا جانتے ہو؟‘‘
’’مجھے سزا کی کوئی پروا نہیں، میں تو بس یہ چاہتا ہوں کہ تم لوگوں کے سچے جذبات کو دھوکا نہ دیا جائے۔‘‘
مابہ کی اس بات نے لوگوں کو سنجیدہ کر دیا اور اسی وقت کچھ لوگ بشپ کے ذاتی کمرے کی طرف لپکے۔
انھیں دیر نہ لگی تھی کہ وہ ایک ریڑھی پر کئی ایک دیگیں لاد کر لے آئے اور پھر لوگوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، یہ دیگیں ہیرے جواہرات اور سونے چاندی سے بھری ہوئی ہیں۔
لوگوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ بپھر گئے اور کفن میں لپٹے بشپ کی لاش پر ٹوٹ پڑے۔ پہلے اس کی خوب بے حرمتی کی اور پھر اس کی لاش کو صلیب پر لٹکا دیا۔
مابہ کے لیے یہ منظر کسی راحت یا خوشی کا باعث نہ تھا بلکہ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی مالا موتی موتی ٹوٹنے لگی۔ جلد ہی نیا بشپ مقرر ہوا اور مابہ اس کا بھی خادم مقرر ہوا۔
نئے بشپ کو مابہ نے ہر طرح سے ایمان دار اور نیک انسان پایا۔ مابہ اس سے بے انتہا محبت کرنے لگا۔ اس نے مابہ کو مذہب کے متعلق کئی حقائق اور قیمتی باتیں بتائیں۔ مابہ نے اس قدر نیک اور عظیم انسان کی صحبت مہیا ہونے پر اللہ کا شکر ادا کیا۔ لیکن اس کی یہ خوشی بھی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔
ہوا یوں کہ یہ بشپ بھی بیمار پڑ گیا۔ مابہ نے اس کی خدمت کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی ، لیکن اس کی حالت روز بروز بگڑتی چلی گئی۔صاف نظر آ رہا تھا کہ اب اس کا آخری وقت قریب ہے ۔ ایک روز اس نے مابہ کو اپنے پاس بلایا اور کہا:
’’بیٹا، مجھے یقین ہے کہ میں اب زیادہ دیر نہ جی سکوں گا۔ میں دیکھتا ہوں کہ تمھارے اندر علم کی سچی طلب ہے اور مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ یہاں پر اب کوئی شخص ایسا نہیں جس پر اعتماد کیا جا سکے۔‘‘
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں محترم استاد۔‘‘
’’ہاں بیٹا، تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ سچے مذہب پر کئی جھوٹی باتوں کا سایہ پڑ چکا ہے اور جو لوگ جھوٹے عقیدے کو چھوڑ کر سچا عقیدہ رکھنا چاہتے ہیں ان پر زندگی تنگ کر دی جاتی ہے۔ ان حالات میں تمھارا یہاں رہناٹھیک نہیں۔ تم ’’موصل‘‘ چلے جاؤ۔ وہاں کا پادری ایک سچا انسان ہے۔ وہ جھوٹے عقیدوں پر ایمان نہیں رکھتا، تم اس سے ملنا اور میرا یہ رقعہ اسے دینا۔‘‘ بشپ نے اپنے تکیے کے نیچے سے چمڑے پر لکھا ایک پیغام اسے دیا اور مابہ نے اسے رکھ لیا۔
بشپ کا اسی دن انتقال ہو گیا۔
آخری رسومات ادا کرکے مابہ نے اپنا مختصر سا سامان اٹھایا اور ایک قافلے میں شامل ہو کر موصل جا پہنچا۔ موصل پہنچ کر وہ متذکرہ پادری سے ملا اور اسے پہلے بشپ کا رقعہ دیا۔ اس پادری نے مابہ کی بہت قدر کی اور اسے اپنی شاگردی میں لے لیا۔ مابہ کی قسمت میں ابھی اور سفر لکھا تھا، اسی لیے تو یہ پادری بھی بستر مرگ پر لیٹ گیا۔ پادری کے یوں بستر پر لگ جانے پر مابہ بہت پریشان تھا۔ اس نے مابہ کو نصیحت کی کہ اس کے مرنے کے بعد وہ نصیبین نامی شہر کی طرف روانہ ہو جائے۔ وہاں پر اس نے ایک پادری کا نام بتایا اور کہا کہ اس کے پاس تمھیں سچے مذہب کی تعلیمات ملیں گی۔
اس کی نصیحت کے مطابق مابہ نے نصیبین کا رخ کیا اور بتائے گئے پادری کے پاس جا پہنچا۔ یہاں بھی مابہ زیادہ عرصہ قیام نہ کر سکا اور پادری نے اسے ایک دوسرے شہر عموریہ کی طرف روانہ کر دیا۔
عموریہ میں مابہ نے خاصا عرصہ قیام کیا۔ وہاں کا پادری بھی نیک اور متقی انسان تھا۔ اسے دنیا سے کم اور اپنی آخرت سنوارنے کی زیادہ فکر رہتی۔ اس نے مابہ کو نصیحت کی کہ وہ اپنی گزر بسر کے لیے کچھ کمانے کا انتظام کرلے۔ یہ ایک بڑا پادری تھا اور اسے اسقف کہتے تھے۔
اس نصیحت کے مطابق مابہ نے کچھ بکریاں اور گائیں پال لیں ۔ اس کام میں مابہ کو بڑی کامیابی ہوئی اور اللہ نے اسے خوب رزق دیا۔
آخر اس پادری کا بھی وقت آخر قریب آیا تو مابہ نے اسے کہا:
’’اے شفیق استاد، آپ کو میری ساری داستان کا علم ہے، میں سچائی کی تلاش میں اپنا سفر جاری کیے ہوئے ہوں، اب تک آپ ہی میری منزل تھے، اب بتائیں کہ میں کہاں جاؤں؟‘‘
اس بوڑھے اسقف نے کمزور سی آواز میں کہا:
’’بیٹا، مجھ سے پہلے لوگ خوش قسمت تھے۔ وہ اس دنیا میں اکیلے نہیں تھے۔ ان کی سچائی میں اور بھی کئی شریک تھے۔ لیکن میں مجبور ہوں، مجھے دور دور تک کوئی ایسا شخص نظر نہیں آتا جو اب سچے دین پر قائم رہا ہو۔ سبھی لوگ بگڑے ہوئے دین کو اپنائے ہوئے ہیں۔ اللہ نے جس رسول کو اپنا بندہ بنا کر بھیجا تھا، لوگوں نے اسے اللہ کا بیٹا بنا لیا ہے اور تم جانتے ہو، جو کوئی حضرت عیسیٰ ؑ کو اللہ کا بیٹا نہ مانے گا، لوگ اس کا کیا حشر کریں گے۔ اس دور میں کم از کم مجھے کسی سچے آدمی کا سراغ نہیں ملتا۔‘‘
مابہ نے آنکھوں میں آنسو بھر کرکہا: ’’اے محترم استاد، تو کیا میں پھر اندھیروں میں بھٹکتا پھروں؟‘‘
’’نہیں بیٹے اس اندھیرے میں بھی امید کی کرن باقی ہے۔‘‘
’’وہ کیا میرے محسن؟‘‘
’’تمھیں معلوم ہے کہ اللہ کی کتاب میں ایک آنے والے نبی کا ذکر ہے۔ میرا علم کہتا ہے کہ اس نبی کی آمد کا وقت اب زیادہ دور نہیں۔ بیٹا یہ وہی نبی ہے جو ہمارے جد امجد ابراہیم ؑ کے دین کو پھر سے زندہ کردے گا۔‘‘
’’حضرت اسحاقؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کے والد یعقوب یعنی اسرائیل کے دادا؟‘‘
’’ہاں میرے بیٹے وہ انھی ابراہیمؑ کے دین کو زندہ کرنے والا ہے اور وہ کھجوروں والی سرزمین میں آئے گا۔ تم نے اگر اس نبی کو پا لیا تو سمجھ لو کہ اصفہان سے جس منزل کی تلاش میں تم نے سفر شروع کیا تھا وہ کامیابی سے طے ہو گیا۔‘‘
’’محترم استاد، میں اگر کھجوروں والی زمین پر پہنچ گیا تو پھر اس نبی کو پہچانوں گا کیسے؟‘‘
اسقف نے اپنی ڈوبتی آواز پر قابو پا یا اور کہا: ’’بیٹے تمھیں معلوم ہے کہ تثلیث کے عقیدے کے بعد نئے نبی کی پیشین گوئیوں پر گردوغبار آگیا ہے لیکن میں تمھیں اس نبی کی تین نشانیاں بتاتا ہوں۔ ان نشانیوں کے ذریعے سے تم اس نبی کو پہچان سکو گے۔‘‘
اسقف کچھ لمحے رکا تو مابہ سمٹ کر اور اس کے قریب آگیا۔ مابہ نے انتہائی توجہ سے اسقف کی بتائی نشانیاں سنیں اور انھیں اچھی طرح ذہن نشین کر لیا۔ ان نشانیوں کو سننے کے بعد اسے یوں لگا جیسے دل پر پڑا برسوں کا بوجھ یک دم ہلکا ہو گیا ہو۔ اسے اپنی منزل قریب محسوس ہوئی اور خیالوں ہی خیالوں میں کھجوروں کی سرزمین کی سیر کرنے لگا۔
اگلے ہی روز مابہ کو یہ بشارت دینے والا اسقف بھی راہی ملک عدم ہوا۔ مابہ نے اس کی آخری رسومات میں شرکت کرنے کے بعد اپنی بھیڑ بکریوں اور گائیوں کو فروخت کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس نے کھجوروں والی سرزمین کے متعلق لوگوں سے پوچھا۔ اسے جلد ہی یہ معلوم ہو گیا کہ اسقف کی بتائی ہوئی سرزمین عرب ہے اور وہیں کھجوروں کے باغات ہیں۔ اس دوران میں مابہ کو اپنی بھیڑ بکریاں اور گائیں فروخت کرنے کے لیے کوئی مناسب گاہک نہ ملا۔
ایک دن ایک شخص نے مابہ کو بتایا کہ ایک عرب قبیلے کا تجارتی قافلہ عموریہ میں ٹھہرا ہوا ہے اور جلد ہی عرب کی طرف روانہ ہو جائے گا۔
مابہ نے اس قافلے کے متعلق معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کہ یہ بنی کلب کا قافلہ ہے۔ مابہ نے قافلے کے سردار سے بات کی اور کہا:
’’مجھے عرب کی سرزمین جانا ہے، اگر تم مجھے وہاں پہنچا دو تو میں تمھیں اپنے سارے جانور دینے کو تیار ہوں۔‘‘
سردار نے حیرت سے مابہ کی طرف دیکھا۔ بھلا اس سے بہتر اور کیا پیشکش ہو سکتی تھی۔ اسے کیا خبر تھی کہ مابہ کے لیے مال و دولت ایک بے معنی چیز ہے۔ وہ تو کسی اور خزانے کی تلاش میں ہے۔ عرب سردار نے فوراً ہامی بھر لی اور مابہ کو جانوروں کے بدلے عرب پہنچانے کا وعدہ کر لیا۔
ایک آدھ دن کے وقفے کے بعد قافلہ روانہ ہو گیا اور مابہ اس کے ہمراہ تھا۔
قافلہ جیسے جیسے منزل کے قریب پہنچ رہا تھا، ویسے ویسے قافلے والوں کا رویہ مابہ کے ساتھ کچھ عجیب سا ہونے لگا۔
یہ لوگ نہ اس سے کوئی بات کرتے اور نہ مابہ کو اپنی محفل میں شریک کرتے۔ بعض اوقات تو مابہ دیکھتا کہ وہ اس کی طرف کن اکھیوں سے دیکھ رہے ہیں اور اشارے کر رہے ہیں مگر اس نے ان کی ساری حرکتوں کو نظر انداز کر دیا۔اسے تو عرب پہنچنے سے دلچسپی تھی۔ مابہ نے سوچا کہ عربوں کے اس رویے کی یقیناًیہی وجہ ہو گی کہ وہ ان کے لیے اجنبی ہے۔ اسے کون سا عرب میں ان لوگوں کے ساتھ رہنا ہے۔ منزل پر پہنچ کر سب اپنی اپنی راہ لیں گے۔ نہ ان تاجروں کو اس سے کوئی لینا دینا ہو گا اور نہ اسے ان سے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

____________