ایسے صحابی رسول کی زندگی کے اہم واقعات جنھیں اللہ تعالیٰ نے غزوہ بدر میں انکارِ رسالت کے عذاب سے محفوظ رکھا۔ قبول اسلام سے لے کر آخری لمحوں تک انھوں نے زندگی میں جس رویے کا مظاہرہ کیا اس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ ایک سلیم الفطرت انسان تھے جو دراصل پہلے ہی دن سے اسلام کی طرف مائل ہو چکے تھے۔
عمرؓ فاروق کے دورِ خلافت میں گورنر بنے تو ایسی مثالیں قائم کیں کہ تاریخ انسانی میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔
ان کی زندگی کے یہ حالات ان کتابوں سے ماخوذ ہیں:


صور من حیاۃ الصحابہ از عبدالرحمان رافت پاشا
سیرت صحابہ از مولانا شاہ معین الدین ندوی
فاروقِ اعظم از مولانا شبلی نعمانی


پورے مکہ میں ایک عجیب ہل چل مچی ہوئی تھی۔ سبھی کا رخ اس درخت کی طرف تھا جہاں پھانسی کے لیے پھندا جھول رہا تھا۔ مرد،عورتیں، بچے، بوڑھے سبھی نعرے لگاتے ایک تماشا دیکھنے جا رہے تھے ۔۔۔ ایک خوف ناک تماشا، جسے دیکھنے کی دعوت مکہ کے بڑے بڑے سرداروں نے دی تھی۔
ان لوگوں میں ایک لمبا تڑنگانوجوان سعید بھی تھا ۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ وہ کون سا تماشا دیکھنے جا رہا ہے۔۔۔یہ بات ساری بستی کی طرح اسے بھی معلوم تھی کہ آج قیدی کو پھانسی دی جانے والی ہے۔ یہ قیدی پچھلے کئی مہینوں سے عقبہ کی قید میں تھا۔ اس نے اسے مہنگے داموں خریدا تھا۔ عقبہ آج اسے پھانسی دے کر اپنے انتقام کی آگ ٹھنڈی کرنے والا تھا۔
ایک سال قبل مسلمانوں کے ساتھ ہونے والے پہلے معرکے ’’غزوۂ بدر‘‘ میں عقبہ کا باپ حارث بن عامر ،خبیبؓ کے ہاتھوں قتل ہو ا تھا۔ تب سے عقبہ نے قسم کھارکھی تھی کہ وہ خبیب سے بدلہ ضرور لے گا۔ پھر اسے خبر ملی کہ خبیبؓ ایک جھڑپ میں گرفتار ہو گیا ہے اور جن لوگوں نے اسے گرفتار کیا ہے وہ اسے غلام بنا کر فروخت کر رہے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، عقبہ گیا اور خبیبؓ کو منہ مانگی قیمت دے کر خرید لایا۔ آج کئی مہینوں کی قید کے بعد وہ اسے شہید کرکے اپنے باپ کا انتقام لینے کا فیصلہ کیے ہوئے تھا۔
سعید کو ان سارے واقعات کا علم تھا۔ اس کے جذبات بھی بستی کے دوسرے لوگوں کی طرح تھے۔ وہ سب خبیبؓ کو شہید کرکے بدر کے میدان میں اٹھائی گئی ذلت کا غم ہلکا کرنا چاہتے تھے۔
پھانسی والے درخت کے ارد گرد ایک بہت بڑا مجمع اکٹھا ہو چکا تھا۔ حضرت خبیبؓ کو بُری طرح جکڑا ہوا تھا۔ لوگ ان پر آوازے کس رہے تھے۔ گالیاں دے رہے تھے، جس کا ہاتھ پہنچ رہا تھا، وہ مار بھی رہا تھا ۔۔۔ خاص طور پر بدر کے میدان میں مسلمان مجاہدین کے ہاتھوں بیوہ ہوجانے والی عورتیں تو غصے سے پاگل ہورہی تھیں ۔۔۔ اس سب کے باوجود سعید نے خبیبؓ کے چہرے پر عجیب سکون دیکھا تھا۔
وہ حیران تھا کہ چند لمحوں کے بعد موت کے منہ میں جانے والایہ انسان اس قدر مطمئن کیوں ہے؟
وہ ان کے چہرے کو قریب سے دیکھنے کی غرض سے آگے بڑھا اورہجوم سے گزرتا ہوا سامنے کی صف میں سردارانِ قریش کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔
خبیبؓ کو پھانسی دینے کے لیے بنائی گئی مخصو ص جگہ پر لایا گیا۔ پھر ان سے اپنی آخری خواہش کے بارے میں پوچھا گیا۔ انھوں نے ایک عجیب اور نرالی فرمایش کی:
’’اگر تمھارے لیے ممکن ہو تو مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔‘‘
لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اجازت دے دی گئی۔
سعید نے دیکھا کہ انھوں نے دو رکعت نماز پڑھی، بڑے ہی سکون اور اطمینان کے ساتھ۔ نماز سے فارغ ہو کر خبیبؓ نے لوگوں کی طرف دیکھا اور کہا:
’’اللہ کی قسم، اگر مجھے اس بات کا خوف نہ ہوتا کہ تم سمجھ بیٹھو گے کہ میں نے نماز کو موت کے ڈرسے لمبا کیا ہے تو میں نماز میں اور زیادہ وقت صرف کرتا!‘‘
لگتا تھا خبیبؓ کا ہر لفظ مکہ والوں کو سخت ناگوار گزرا ہے۔کئی ایک خداؤں کو ماننے والے بھلا ایک اللہ کی عبادت کیسے برداشت کر سکتے تھے؟ اپنے اسی غصے اور دکھ کا اظہار کرنے کے لیے ایک سردار نے خبیبؓ سے پوچھا:
’’خبیب ! تمھارا محمدؐ کے بارے میں کیا خیال ہے؟‘‘
’’وہ اللہ کے رسول ہیں۔‘‘دل کی گہرائیوں سے جواب ملا۔
’’اچھا اگر تمھارے بجائے وہ یہاں ہوتے اور تمھیں چھوڑ دیا جاتا تو کیسا رہتا؟‘‘
’’اللہ کی قسم ۔۔۔ میں تو یہ بھی گوارا نہیں کروں گا کہ ان کو کوئی کانٹا چبھے۔‘‘
ان الفاظ نے قریشی سرداروں کو غصے سے دیوانہ کر دیا اور وہ دانت پیسنے لگے۔
پھر پوچھا گیا: ’’اگر تمھاری بجائے محمدؐ یہاں ہوتے تو۔۔۔؟
جواب ملا:’’اللہ کی قسم ،میں اپنے اور اپنے تمام گھر والوں کے بدلے، ان کے جسم پر ایک کانٹے کا زخم بھی برداشت نہیں کرسکتا۔‘‘
تب آوازیں بلند ہوئیں: ’’مار ڈالو اسے، قتل کر دو!‘‘
قریشی سردار جان چکے تھے کہ ان کا سامنا دنیا کے عجیب و غریب قیدی کے ساتھ ہے۔۔۔ شرمندگی سے بچنے کے لیے انھوں نے کوئی اور سوال نہ کیا اور حضرت خبیبؓ کی گردن میں رسی ڈال دی۔
پھانسی کی رسی گلے میں تھی کہ خبیبؓ نے آخری وقت منہ آسمان کی طرف کیا اور آخری التجا کی:
’’اے اللہ، ان سب ظالموں کو شمار کر لے، انھیں تباہی کا مزا چکھا اور ان میں سے کسی کومعاف نہ کر۔‘‘
ان کا جملہ ابھی پورا ہی ہوا تھا کہ عقبہ آگے بڑھا اور اس پتھر کو ہٹا دیا، جس پر حضرت خبیبؓ کے پاؤں ٹکے ہوئے تھے۔ ان کی گردن کو زور سے جھٹکا لگا۔ کفارِ مکہ کے آگے نہ جھکنے والی گردن ٹوٹنے کے بعد کچھ اور بلند محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔حضرت خبیبؓ شہادت کا مرتبہ پا کر قیامت تک کے لیے زندہ ہو گئے اور انھیں موت سے ہم کنار کرنے والوں کا آج پوری دنیا میں کوئی طرف دارنہیں،کوئی نام لیوا نہیں!
انھیں اس حالت میں دیکھ کر مجمع شور مچا رہا تھا اور سعید عجیب کیفیت میں انھیں خاموشی سے دیکھ رہا تھا۔
اہل مکہ تو خبیبؓ کے خون سے انتقام کی آگ بجھا کر واپس آ گئے ،لیکن سعید کے لیے یہ واقعہ سوچ کے نئے دروازے کھول گیا۔ ان کی نظروں کے سامنے خبیبؓ کا پرسکون چہرہ آجاتا۔ ان کا اطمینان سے دورکعت نماز پڑھنا یاد آجاتا۔ اپنے رہنمامحمدﷺ سے محبت ایک سوال بن جاتا۔ وہ سوچتا، کیاکسی جھوٹے آدمی سے کوئی یوں محبت و عقیدت رکھ سکتا ہے؟
’’نہیں، یقیناًنہیں۔‘‘اس کا ضمیر بڑا واضح جواب دیتا۔
’’کیا موت سے چند لمحے پہلے کسی جھوٹ پر قائم شخص کا چہرہ یوں پر اعتماد اور مطمئن ہو سکتا تھا۔‘‘
’’بالکل نہیں۔‘‘اس کا ضمیر پھر جواب دیتا۔
’’کیا ایسے شخص کی بد دعائیں اللہ رد کر سکتا ہے؟ وہ دعائیں جو اس نے اپنے قاتلوں کے لیے مانگی تھیں۔‘‘
’’ہرگز نہیں۔‘‘
ضمیر کے ساتھ اس کے یہ سوال و جواب ایک دفعہ نہیں، کئی دفعہ ہوئے۔ اتنی دفعہ کہ اس کی نیند اچاٹ ہو گئی۔ وہ ان سوالات سے دامن بچانے کی خاطر انھیں بھولنے کی کوشش کرتا تو خبیبؓ کا مظلوم ،مگر پر اعتماد چہرہ سامنے آجاتا۔ اس صورت حال نے اسے بالکل ہلا کر رکھ دیا اور وہ اندر سے بالکل ٹوٹ پھوٹ گیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس نے مسلمانوں کے خلاف ہونے والی ہر کارروائی سے اپنے آپ کو علیحدہ کر لیا۔حتیٰ کہ غزوۂ احد میں بھی شرکت نہ کی۔
انھی حالات میں غزوۂ خندق پیش آیا ۔۔۔ پورے عرب کے کافر اکٹھے ہو کر مدینہ پر حملہ آور ہوئے ،لیکن پھر بھی مسلمانوں کا کچھ بگاڑ نہ سکے اور انتہائی ذلت اور رسوائی کے ساتھ ناکام واپس آ گئے۔
سعید کے دل کی دنیا تو خبیبؓ کی شہادت کے واقعے کے ساتھ ہی بدل چکی تھی، لیکن غزوۂ خندق نے ان کے اندر اتنی طاقت پیدا کر دی کہ انھوں نے مکہ میں سرعام یہ اعلان کر دیا کہ وہ یہ جان چکے ہیں کہ بتوں کی پوجا میں کوئی سچائی نہیں اور محمدﷺ واقعی اللہ کے رسول ہیں۔
اس اعلان کے بعد وہ ہجرت کرکے مکہ سے مدینہ چلے گئے۔ مدینہ پہنچ کر انھوں نے محمدﷺ کے ساتھ وفاداری کا اعلان کیا اوراپنا مستقبل اسلام کے ساتھ وابستہ کر دیا۔

***

زمانہ پر لگاکراڑتا رہا اور سعیدؓ کا کردار اور ایمان آزمایشوں کی بھٹی میں کندن بنتا رہا ۔۔۔ یہاں تک کہ سیدنا عمر فاروقؓ کا دور آ گیا۔ اسلامی سلطنت دور دور تک پھیل چکی تھی اور حکومت کے لیے حضرت عمرؓ کو ایسے لوگوں کی ضرورت رہتی جو حاکم بننے کے بجائے خادم بن کر لوگوں کی خدمت کر سکیں۔
انھی دنوں ایک علاقے حمص کے گورنر عباسؓ بن غنم فوت ہو گئے تو سیدنا عمرؓ کو نئے گورنر کی تلاش ہوئی۔
اس موقعے پر انھیں سعیدؓ بن عامر کی وہ نصیحتیں یاد آگئیں جو انھوں نے خلیفہ بننے پر انھیں کی تھیں۔ تب عمرؓ خود چل کر سعیدؓ کے پاس پہنچے اور فرمایا:
’’اے سعیدؓ، ہم نے تمھیں حمص کا گورنر بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘
سعیدؓ بولے: ’’اے عمرؓ، اللہ کا واسطہ ہے، مجھے اس آزمایش میں نہ ڈالیے۔‘‘
یہ سننا تھا کہ سیدنا عمرؓ خفا ہو گئے اور فرمایا:’’بڑے افسوس کی بات ہے، تم لوگوں نے خلافت کا بوجھ تنہا میری گردن میں ڈال دیا اور خود الگ تھلگ ہونے کی کوشش کر رہے ہو۔‘‘
عمرفاروقؓ کی یہ بات سن کر سعیدؓ خاموش ہو گئے۔ تب عمرؓ بولے:
خدا کی قسم سعید، میں تمھارے بارے میں یہی رائے رکھتا ہوں کہ تم اس ذمہ داری کے اہل ہو اور میں تمھیں یہ ذمہ داری سونپے بغیرنہیں چھوڑوں گا۔‘‘
اب سعیدؓ کے لیے فرار کا کوئی راستہ نہ تھا اور انھوں نے رضامندی والی خاموشی اختیار کر لی۔ عمرؓ نے ان کا شکریہ ادا کیا اور پوچھا:
’’اے سعید،ؓ کیاتمھارے لیے ہم کچھ معاوضہ مقرر کر دیں؟‘‘
اس پر سعیدؓ بولے: ’’نہیں اس کی ضرورت نہیں، مجھے بیت المال سے پہلے ہی کچھ رقم ملتی ہے۔ یہ رقم میری ضرورت کے لیے کافی ہے ،بلکہ اب قدرے زیادہ ہو جائے گی۔‘‘
یوں گورنری کا عہدہ قبول کرنے کے لیے سعیدؓ حمص کی طرف روانہ ہو گئے۔
سیدنا سعیدؓبن عامر نے اللہ کے دین کا علم محمدصلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل کیاتھا، اس لیے جانتے تھے کہ حکمرانی چاہے پوری ریاست کی ہو یا ریاست کے کسی حصے کی، اس کا پہلا اسلامی تقاضا یہ ہے کہ حکمران رہنے سہنے کو ایک عام شخص کی سطح پر لے آئے تاکہ کسی بھی آدمی کو اپنے گورنر یا حکمران سے بات کرنے میں نفسیاتی یا کسی اور قسم کی رکاوٹ نہ ہو۔ حضرت عمرؓفاروق اور ان کے دوسرے حکومتی عہدے داروں کی طرح انھوں نے بھی غریبانہ زندگی اختیار کر لی اور عوام کی خدمت میں دن رات مصروف ہو گئے۔
کچھ عرصہ بعد حمص سے ایک وفد عمرؓفاروق سے ملنے مدینہ آیا۔ یہ شہر کے اہم لوگ تھے۔ انھوں نے گفتگو کے دوران میں ایک دستاویز پیش کی۔ یہ دستاویزان لوگوں کے بارے میں تھی جو شہر کے معزز لوگ تھے ،لیکن بہت غریب تھے۔ عمرؓفاروق ہر شہر سے ایسے لوگوں کی فہرستیں منگواتے تھے اور گورنر سے ضروری مشورہ کے بعد ان کے وظائف مقرر کر دیتے۔
اب جب عمرؓ فاروق نے فہرست دیکھی تو ایک نام پڑھ کر چونکے اور کہا:
’’یہ سعیدؓ بن عامر کون ہیں؟‘‘
’’امیرالمومنین یہ ہمارے گورنر ہیں!‘‘
’’اچھا ۔۔۔ حیرت ہے۔۔۔!گورنر ۔۔۔ اور شہر کے مفلس لوگوں کی فہرست میں!‘‘
وفد کے ایک صاحب بولے: ’’جی ہاں، یہ وہی ہیں اور اللہ کی قسم ان کے چولہے میں کئی کئی دن آگ نہیں جلتی۔‘‘
’’لیکن میں نے تو ان کا وظیفہ بیت المال سے مقرر کیا تھا اور انھوں نے تسلیم کیا تھا کہ یہ ان کی ضرورت کے مطابق ہے ،بلکہ اس سے زیادہ ہے۔‘‘
’’آپ درست فرماتے ہیں، لیکن ہمارے گورنر اپنے شہر میں کسی مفلس اور غریب کو نہیں دیکھ سکتے۔ وہ بھلا کیسے برداشت کر سکتے ہیں کہ ان کے گھر میں روٹی پکے اور شہر کا کوئی فرد بھوکا سو جائے۔ اسی لیے وہ اپنا سب کچھ ناداروں اور مفلسوں کو دے دیتے ہیں۔‘‘
عمرؓفاروق نے یہ سنا تو آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اتنا روئے کہ آنسو آنکھوں سے داڑھی تک سفر کرتے ہوئے ٹپ ٹپ زمین پر گرنے لگے۔

***

اس واقعے کو زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ عمرؓفاروق شام تشریف لے گئے۔ ان کا یہ دورہ ملک کے حالات سے خود واقف ہونے کے لیے تھا۔حمص شام ہی کا ایک علاقہ تھا۔ وہ اس کے دورے پر بھی وہاں آئے۔
عمرؓ فاروق کی آمد کا سن کر لوگ ان سے ملنے آئے۔ ایک اچھا خاصا ہجوم ہو گیا۔ ان سے جب سعیدؓ بن عامر کے بارے میں پوچھا گیا تو لوگوں نے جہاں اطمینان کا اظہار کیاوہاں کچھ نے شکایتیں بھی کیں۔ عمرؓ فاروق نے کہا کہ گورنر سے شکایت رکھنے والے صبح آئیں۔ میں ان کی موجودگی میں سعیدؓ سے اس کے بارے میں وضاحت طلب کروں گا۔ عمرؓفاروق نے یہ بھی فرمایا کہ انھیں اپنے گورنر پر بھرپور اعتماد ہے اور پورا یقین ہے کہ وہ ان کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے۔
اگلی صبح شکایت کرنے والے بھی موجود تھے اور حضرت سعیدؓ بھی۔ حضرت عمرؓ نے شکایت کرنے والوں کو حکم دیا کہ اپنا بیان دیں۔
ان میں سے ایک شخص بولا: ’’اے امیر المومنین! ہمیں گورنر سے سب سے پہلی شکایت یہ ہے کہ یہ دن چڑھے تک گھر سے باہر نہیں نکلتے۔‘‘
عمرؓ فاروق ان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا: ’’ہاں سعیدؓ، بتاؤ تم اس سلسلے میں کیا کہتے ہو؟‘‘
وہ کچھ لمحے خاموش رہے، پھر بولے: ’’اللہ کی قسم، میں اس ضمن میں کچھ بھی کہنا پسند نہیں کرتا ،لیکن اب آپؓ کا حکم ہے تو میں ضرور بتاؤں گا ۔۔۔ دراصل میرے گھر میں کوئی خادم نہیں۔ میں صبح سویرے اٹھتا ہوں اور اہل خانہ کے لیے آٹا گوندھتا ہوں۔ پھر تھوڑی دیر انتظار کرتا ہوں کہ آٹے میں خمیر پیدا ہو جائے۔ اس کے بعد روٹی پکاتا ہوں اور کھانے سے فارغ ہو کر وضو کرکے لوگوں کی خدمت کے لیے نکلتا ہوں۔‘‘
دراصل عرب میں کھانا پکانا گھرکی خواتین کا کام نہیں۔یہی رواج آج تک قائم ہے۔ اس کے لیے خادم رکھے جاتے ہیں۔ خواتین یہ کام کرنا اپنے لیے شرم کا باعثسمجھتی ہیں اور زمانے کے دستور کے مطابق مرد انھیں ایسا کرنے پر مجبور نہیں کرتے تھے تاکہ دوسری خواتین ان کو طعنے نہ دیں کہ تم اپنے خاوند کی بیوی نہیں باندی ہو۔
سیدنا سعیدؓ کی اس وضاحت کے بعد شکایت کرنے والے خاموش ہو گئے۔ تب عمرؓ نے انھیں دوسری شکایت کرنے کی اجازت دی ۔ وہ بولے:
’’اے امیرالمومنینؓ، رات کے وقت ان کے دروازے ہمارے لیے بند ہوتے ہیں۔ ہمارا خیال ہے کہ گورنر کے دروازے ہمہ وقت عوام کے لیے کھلے رہنے چاہئیں۔‘‘
سعیدؓ بن عامر نے پھر کہا: ’’مجھے اس سوال کا جواب دینا بھی بڑا ناگوار ہے ،لیکن مجبوراً بتاتا ہوں کہ دن میں نے ان کی خدمت کے لیے رکھا ہے اور رات کو اللہ کی عبادت کرتا ہوں۔ جب دن کو میرے پاس ان کی شکایات اور خدمت کے لیے وقت اور موقع، دونوں میسر ہیں تو پھر میں انھیں اپنے پروردگار کا وقت نہیں دے سکتا۔‘‘
عمرؓفاروق نے ان کا یہ عذر بھی قبول کیا۔
تیسری شکایت یوں بیان کی گئی:
’’یہ مہینے میں ایک دن چھٹی کرتے ہیں اورتقریباً سارا دن باہر نہیں نکلتے۔‘‘
حضرت سعیدؓ نے فرمایا: ’’اے امیرالمومنین، میں عرض کر چکا ہوں کہ میرے پاس کوئی خادم نہیں اور جو زندگی میں نے اختیار کی ہے اس کی سختیوں میں، میں اپنی بیوی کوشریک کرنا مناسب نہیں سمجھتا۔ اس لیے مہینے میں ایک روز میں اپنا واحد جوڑا خود دھوتا ہوں، پھر اس کو سکھاتا ہوں اور دن کے آخری حصے میں اسے پہن کرباہر نکلتا ہوں۔‘‘
عمرؓفاروق کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں۔ انھوں نے شکایت کرنے والوں سے پوچھا :’’اور کچھ؟‘‘
ایک شخص بولا: ’’یہ مجلس میں بیٹھے بیٹھے بعض اوقات گم صم ہو جاتے ہیں۔ لگتا ہے بے ہوش ہو گئے ہیں، کسی کی طرف متوجہ نہیں رہتے۔ ہم ان کی اس پراسرار بیماری سے بہت تنگ ہیں۔‘‘
عمرؓ فاروق نے حضرت سعیدؓ کو اس کی بھی وضاحت کرنے کا حکم دیا تو انھوں نے کہا:
’’میں نے حضرت خبیبؓ بن عدی کی شہادت کا واقعہ اپنی اِن آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ان کی وہ بددعائیں بھی سنی تھیں جو انھوں نے تماشائیوں اور قریشی سرداروں کو دی تھیں۔ میں بھی ایک قریشی ہوں، اس وقت میں بھی ان کا تماشا دیکھ رہا تھا اور ان کی مدد کو آگے نہیں بڑھا تھا۔ وہ لمحات بار بارمیرے ذہن میںآجاتے ہیں، جب ان کے جسم کی بوٹیاں نوچی جا رہی تھیں اور انھیں اپنے رسولؐ کی شان میں گستاخی کے لیے کہا جارہا تھا ۔ وہ کہتے تھے کہ میں یہ بھی گوارا نہیں کر سکتا کہ ان کے جسم میں ایک کانٹا بھی چبھے۔ اب سوچتا ہوں کہ میرا خبیبؓ کی مدد نہ کرنے کا جرم معلوم نہیں اللہ معاف کرے گا یا نہیں۔ بس یہ خیال آتا ہے تو مجھ پر بے خودی طاری ہو جاتی ہے۔‘‘
یہ سن کر مجمع پرخاموشی طاری ہو گئی۔ عمرؓ فاروق بولے:’’ اللہ کا شکر ہے جس نے سعیدؓ کے بارے میں میرے اعتماد کو غلط ثابت نہیں ہونے دیا۔‘‘
اس کے بعد انھوں نے ایک ہزار دینار ان کی خدمت میں پیش کیے اور فرمایا کہ اس دورے سے مجھے معلوم ہوا کہ شام کے لوگ آپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔
سعیدؓبن عامر نے رقم لینے سے انکار کردیا اور فرمایا کہ میرے لیے گھوڑوں کی آمدنی کافی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کی خدمت صرف اللہ کی خاطرکروں۔
حضرت عمرؓ نے کہا: ’’اے سعیدؓ، تم پر واجب ہے کہ یہ رقم رکھو۔ کیونکہ ایک مرتبہ خود اللہ کے رسولؐ نے مجھے سمجھایا کہ اگر بغیرسوال کے ملے تو اسے اللہ کی نعمت سمجھ کر قبول کر لینا چاہیے، رد نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
تب سیدنا سعیدؓ نے نہ چاہتے ہوئے بھی وہ رقم رکھ لی ،مگر عمرؓفاروق کے روانہ ہونے کے بعد اس کا بہت بڑا حصہ چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں تقسیم کیا اور اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ یہ تھیلیاں فلاں فلاں یتیم، فلاں فلاں بیوہ اور فلاں مسکین کو دے آؤ۔انھوں نے اپنی باقی زندگی اسی طرح گزاری اور آنے والے وقتوں میں مسلمانوں کے لیے سوچنے، غور کرنے اور عمل کرنے کے لیے بہت کچھ چھوڑ کر گئے۔

____________