حضرت ابوبکرؓ ہی کیا ، پورا مکہ جانتا تھا کہ بلالؓ پر اسلام قبول کرنے کے جرم میں کیا قیامت گزر رہی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ انھی سوچوں میں گم تھے کہ انھیں اطلاع ملی کہ امیہ اور ابوجہل بلالؓ کو تپتی ریت پر لٹا کر ان کے سینے پر پتھر رکھے ہوئے ہیں۔
وہ اسی لمحے اس کی طرف لپکے، مکہ کی گرم دوپہر ان کے چہرے کو جھلسا رہی تھی اور وہ اپنے اللہ سے بلالؓ کے لیے مدد کی دعا کرتے ہوئے تیزی سے قدم بڑھا رہے تھے۔ جلد ہی وہ اس جگہ پہنچ گئے جہاں بلالؓ کو لٹایا گیا تھا اور کافر ایک چٹان کے سائے تلے بیٹھ کر ان کی بے بسی کا تماشا دیکھ رہے تھے۔
یہ منظر دیکھ کر انھیں امیہ اور اس کے ساتھیوں پر شدید غصہ آیا، وہ یہ بھی جانتے تھے کہ یہ ظلم اکیلے بلالؓ ہی پر نہیں ہو رہا ،بلکہ ہر کمزور مسلمان پر زمین تنگ ہو رہی ہے۔ اور تو اور کفار تو اچھے خاصے اثر و رسوخ رکھنے والے نو مسلموں پر بھی قیامت ڈھا رہے ہیں ،مگر حضرت ابوبکرؓ یہ سب کچھ بھلا کر امیہ کی طرف بڑھے اور غصے سے بولے:
’’امیہ! تم کب تک اس بے قصور غلام کو اذیت دیتے رہو گے۔‘‘
وہ چمک کر بولا: ’’تمھارا اس سے کیا واسطہ، بلالؓ میرا غلام ہے، میں جو چاہوں گا اس سے سلوک کروں گا۔‘‘
حضرت ابوبکرؓ نے تاسف سے بھری آواز میں کہا: ’’کیا اس بے چارے کے بارے میں تم اللہ سے نہیں ڈرتے۔‘‘
’’بس رہنے دو اپنی یہ نصیحتیں، یہ تمھاری ہی وجہ سے اس حال کو پہنچا ہے، تمھیں نے اسے بگاڑا ہے۔‘‘
’’ہرگز نہیں، اللہ کی قسم میں نے تو اسے سیدھے راستے کا پتا بتایا تھا۔‘‘
’’اچھا خیر جو بھی ہو، اب تم اپنا راستہ ناپو!‘‘
’’نہیں میں یہاں سے اس وقت تک نہیں ہلوں گا جب تک تم اسے چھوڑ نہیں دیتے۔‘‘
’’ہم تو اسے چھوڑنے والے نہیں۔۔۔ یا یہ مر جائے گا یا اپنے دین میں واپس آجائے گا۔‘‘
تو پھر جان لو امیہ، یہ روشنی دیکھنے اور ہدایت پانے کے بعد تاریکی اور جہالت کی طرف نہیں پلٹے گا۔ یہ مر جائے گا اور تمھیں ایک غلام کی قیمت جتنا نقصان ہو جائے گا۔‘‘ حضرت ابوبکرؓ نے اس کی دکھتی رگ یعنی مال پر بھی ہاتھ رکھا۔
’’لیکن میں یہ کیسے گوارا کر لوں کہ یہ میرا کھائے، میرا پہنے اور پھر میرے ہی خداؤں کو برا بھلا کہے اور ان کا انکار کرے!‘‘
’’تو پھرایسا کرو، اسے میرے ہاتھ فروخت کر دو!‘‘
’’آپ خریدیں گے اسے!‘‘ وہ بے یقینی سے بولا۔
’’بالکل!‘‘
’’کیا قیمت ادا کرو گے۔‘‘
’’جتنی تم چاہو گے۔‘‘
’’پانچ اوقیہ سونا۔‘‘ امیہ نے اپنی طرف سے کئی گنازیادہ قیمت مانگی تاکہ ابوبکرؓ مایوس ہو جائیں۔ مگر ابوبکرؓ نے کہا:
’’مجھے منظور ہے ۔۔۔ یہ رقم بیعانہ کے طور پر اور اس غلام کو چھوڑ دو!‘‘
امیہ نے بے یقینی سے ابوبکرؓ کی طرف دیکھا اور حیرت سے یہ کہے بغیر نہ رہ سکا: ’’اے ابوبکرؓ تم بلاشبہ ہمارے ہاں کے معزز شخص ہو، خدا کی قسم تم ایک اوقیہ بھی کہہ دیتے تو میں لے لیتا!‘‘
’’اور خدا کی قسم، اگر تم بلالؓ کے بدلے سو اوقیہ سے زیادہ بھی مانگتے تو میں وہ بھی ادا کرنے پر آمادہ ہو جاتا اور بلالؓ کو آزاد کرا لیتا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ حضرت بلالؓ کی طرف بڑھے اور ان کے سینے پر رکھی چٹان ہٹانے لگے۔ شرم کے مارے کچھ اور لوگ ان کی مدد کو آئے اور پھر بلالؓ کے سینے پر رکھا پتھر ہٹ گیا وہ اب آزاد تھے ۔۔۔ ہر قسم کی غلامی سے آزاد!
حضرت ابوبکرؓ نے محبت سے حضرت بلالؓ کا ہاتھ تھام لیا اور انھیں سہارا دیتے ہوئے رسول اللہ ﷺ کی طرف لے چلے۔
راستے میں بلالؓ کہنے لگے: ’’آپؓ نے اگر مجھے اپنے لیے خریدا ہے تو میں آپؓ ہی کے پاس رہوں گا ،لیکن اگر اللہ کے لیے خریدا ہے تو مجھے اللہ کے کام کے لیے چھوڑ دیجئے۔‘‘
حضرت ابوبکرؓ خاموش رہے۔
دونوں نبی کریم ﷺ کے حضور حاضر ہوئے۔ اللہ کے رسول ﷺ نے بلالؓ کو دیکھا، اذیت سے ان کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے ،لیکن آنکھوں کی چمک ظلم سے آزادی کی طمانیت بھی ظاہر کر رہی تھی۔ آپ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ سے فرمایا:
’’ابوبکرؓ! کیا تم نے بلالؓ کو خرید لیا ہے۔‘‘
ابوبکرؓ شانِ بے نیازی سے بولے: ’’اللہ کے رسول ﷺمیں نے اسے آزاد کر دیا ہے۔‘‘

***

حضرت بلالؓ کے لیے یہ آزادی فوری ظلم سے رہائی کا باعث تو بن گئی مگر زندگی ایک نئی آزمایش کی سختیاں لے کر ان کے سامنے آگئی۔ جس آزادی کے وہ خواب دیکھا کرتے تھے اس کی قیمت ادا کرنا انھیں مشکل لگ رہا تھا۔
دراصل بلالؓ کے پاس کوئی سرمایہ نہیں تھا جس سے وہ کاروبار کرتے۔ کوئی گھر نہیں تھا جس میں وہ سر چھپاتے، کوئی رشتہ دار نہیں تھا جس کا وہ سہارا لیتے۔ امیہ ایسے ہی نہیں کہتا تھا کہ جو لباس، جو رہائش اور جو طرح طرح کے کھانے تمھیں میسر ہیں، وہ جب نہیں ہوں گے تو پھر تمھیں میری اہمیت کا اندازہ ہو گا۔
اس موقع پر پھر مسلمان اور حضور ﷺ کا دامن شفقت بلالؓ کی مدد کو آیا اور ان کے لیے کھانے پینے ، پہننے اور رہنے کا انتظام ہو گیا ۔ یہ انتظام اگرچہ بلالؓ کے لیے کسی عظیم نعمت سے کم نہیں تھا ،لیکن اس کی صورت بھی یہ تھی کہ یہ بہت جلد قریش مکہ کے عدم تعاون کے باعث مسلمانوں کی حالت پتلی ہو گئی۔نوبت فاقوں پر آگئی۔ خاص طور پر جب قریش نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کا بائیکاٹ کیا تو یہ لوگ زندہ رہنے کے لیے کچھ نوالوں کو بھی ترس جاتے ۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہؓ کے کچھ قریشی رشتہ داروں کی مداخلت سے یہ بائیکاٹ ختم ہوا اور رسول اللہ ﷺ کے خاندان کو کچھ آسانی ہوئی۔
بلالؓ نے بھی یہ ساری تکالیف برداشت کیں۔
اس کے کچھ عرصے بعد جب کفار مکہ کا ظلم اور بڑھا تو مسلمانوں کا ایک گروہ حبشہ کی طرف ہجرت کر گیا۔ یہ ہجرت اللہ کے رسول ﷺ کی اجازت ہی سے کی گئی۔ بلالؓ اس ہجرت میں شامل نہ ہو سکے۔ ظاہر ہے ان کے پاس اس کے وسائل ہی نہیں تھے۔
حضرت بلالؓ دوسرے مسلمانوں کے ہمراہ کفار کے طعنے، گالیاں، بدتمیزیاں اورظلم برداشت کر رہے تھے ،لیکن وہ اس پہلو سے خوش تھے کہ ظلم کی یہ آندھی ان دنوں سے تو بلاشبہ کم ہی تھی جس کا سامنا انھیں غلامی کے دور میں تھا۔ اس دوران میں قرآن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں یہ تسلی اور بشارت دی جا رہی تھی کہ بہت جلد ان کی آزمایش ختم ہونے والی ہے اور کفار کی سرکشی اپنے منطقی انجام کو پہنچنے والی ہے۔
اسی طرح ظلم کے تیرہ سال ایک ایک کرکے بیت گئے۔ مسلمانوں پر اگرچہ ان برسوں کا ہر لمحہ ایک ایک صدی پر بھاری تھا، مگر اللہ کے بخشے ہوئے صبر اور ایمان کی طاقت نے انھیں اس آزمایش میں سرخرو کر دیا۔
ان تیرہ برسوں کی کلفتیں اور آزمایشیں انسان کی سوچ سے بھی باہر ہیں ان برسوں کا ہر لمحہ اپنے اندر موت کا کھٹکارکھتا تھا۔ ہر لمحے اپنوں کی بیگانگی ، نفرت، دشمنی ، بد تمیزی اور عقل سے عاری رویے کا سامنا تھا ،مگر مصیبتوں اور دکھوں کی یہ آگ ایمان خالص رکھنے والوں کے لیے ایک بھٹی کی شکل اختیار کر گئی۔ جب وہ اس بھٹی میں کندن بن گئے اور اللہ نے جان لیا کہ مکے کی بستی میں اصل اور خالص لوگ علیحدہ ہو چکے ہیں اور باقی اب کھوٹ، بھیڑ چال چلنے والے اور بہت ہی مجبور لوگ بچے ہیں یا وہ ہیں جن کی عقل میں بات ابھی نہیں آئی تو اللہ کے رسول ﷺ نے مسلمانوں کو حکم دے دیا:
’’اللہ نے تمھارے کچھ بھائی بنا دیے ہیں، ایک ٹھکانے کا بندوبست فرما دیا ہے ، جہاں مسلمان امن اور چین سے رہیں گے۔ اس لیے یثرب کے اس علاقے کی طرف سے اپنی سہولت کے مطابق ہجرت کر جاؤ۔‘‘
یہ اگرچہ مشکل وقت سے چھٹکارا کی ایک نوید تھی مگر حضرت بلالؓ کے لیے اس میں بھی دکھ اور درد کی ایک کسک تھی۔
وہ مکہ میں پیدا ہوئے اور اسی کی گلیوں میں پروان چڑھے تھے۔ مکہ اللہ کا گھر تھا ، اس کے نئے دین نے بھی اسے اللہ کا گھر قرار دیا تھا اور انھیں یہ معلوم نہیں تھا انھیں کب یہاں واپس آنا نصیب ہو گا۔ بلاشبہ اس جیسے حساس دل کے لیے یہ دکھ ایک بہت بڑا دکھ تھا۔ مگر اسے بہرکیف انھیں برداشت کرنا تھا۔
انھی سوچوں میں گم ایک دن وہ کعبہ کا طواف کر کے گھر کی طرف آ رہے تھے کہ راستے میں انھیں حضرت عمارؓ بن یاسر اور سعدؓ بن ابی وقاص ملے ۔ حضرت بلالؓ نے ان سے کہا:
’’بھائیو، اب تو مکہ میں ٹھہرنا مشکل ہوگیا ہے میں تو بس آج کل میں روانہ ہو جاؤں گا۔‘‘
عمارؓ نے کہا: ’’کیا آپ کچھ دن انتظار نہیں کر سکتے۔‘‘
’’انتظار کا کوئی فائدہ نہیں بھائی۔ جب اللہ کے رسولﷺ نے حکم دے دیا تو پھر انتظار کاہے کا!‘‘
’’ہاں بھائی، بہترین نیکی وہی ہے جو جلد کر لی جائے،بلالؓ تم تیار ہو تو میں بھی تمھارے ساتھ چلوں گا ۔‘‘ حضرت سعدؓبن ابی وقاص نے اپنا فیصلہ سنایا۔
یہ سن کر عمارؓ بولے:’’ ٹھیک ہے اگر تم دونوں تیار ہو تو میں بھی تمھارے ہمراہ جاؤں گا۔‘‘
ان تینوں نے باہمی مشورے سے ایک جگہ مقرر کی اور طے کیا کہ رات کے تیسرے پہر یہاں اکٹھا ہو جانا ہے اور پھر مل کر یثرب کی راہ لیں گے۔
تینوں وعدے کے مطابق مقررہ جگہ پر پہنچ گئے اور بڑی خاموشی اور رازداری سے یثرب کی طرف روانہ ہو گئے۔
انھیں یقین تھا کہ یثرب میں اللہ ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے گا ان کے لیے اللہ کے دین پر چلنا کوئی جرم نہیں رہے گا۔
تینوں دوست مقررہ جگہ پر وعدے کے مطابق پہنچ گئے اور اب وہ خاموشی کے ساتھ اس سرزمین سے دکھی دل کے ساتھ رخصت ہو رہے تھے جہاں انھوں نے اپنا بچپن گزارا تھا۔ جس کی حسین اور خوب صورت یادیں انھیں رہ رہ کر یاد آ رہی تھیں مگر اسی مکہ میں پچھلے کئی برسوں سے وہ جس عذاب سے گزر رہے تھے وہ بھی تو ان کی یادوں کا حصہ تھا۔ یہ سوچ سوچ کر ان کے دکھ اور درد میں ہر آن اضافہ ہو رہا تھا کہ انھیں اپنے وطن سے محض اس وجہ سے نکلنا پڑ رہا ہے کہ وہ ایک اللہ کی عبادت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ جھوٹ کے بجائے سچ کو ماننا چاہتے ہیں۔ وہ جہالت کے بجائے عقل سے کام لینا چاہتے ہیں۔
تینوں دوست گھاٹیوں اور ہموار میدانوں سے گزرتے حفاظت کے ساتھ مدینہ پہنچ گئے۔ اپنے نبیؐ کے فرمان کے مطابق انھوں نے وہاں کے لوگوں کو اپنا ہمدرد پایا۔ وہ اگرچہ زیادہ امیر اور مالدار لوگ نہیں تھے ،مگر انھوں نے ان کی ضرورت کا لحاظ اپنی ضروریات سے زیادہ رکھا۔
حضرت بلالؓ کو چند ہی روز بعد اپنی زندگی میں ایک خلا محسوس ہونے لگا۔ جلد ہی انھیں اندازہ ہو گیا کہ وہ اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے محروم ہیں۔ جیسے جیسے یہ احساس حضرت بلالؓ کے دل میں بسنے لگا وہ اسی قدر بے چینی محسوس کرنے لگے۔
کچھ دن مزید گزرے کہ حضرت بلالؓ کو حضرت عمرؓ ابن خطاب کی آمد کا معلوم ہوا۔ فوراً ان سے رابطہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں دریافت کیا۔
انھوں نے خوشخبری دی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عنقریب مدینہ پہنچنے والے ہیں۔ حضرت بلالؓ کے لیے یہ خبر ایک بہت بڑی خوشخبری تھی۔
اب حضرت بلالؓ کا یہ روزانہ کا معمول بن گیا کہ وہ سارا دن مکہ سے آنے والے راستے میں بیٹھ جاتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا انتظار کرتے۔ اس انتظار میں مدینہ کے کئی دوسرے لوگ بھی شامل ہوتے۔ یہ لوگ رات گئے تک راستے تکتے رہتے اور جب ہر طرف اندھیرے چھا جاتے تو اگلے دن کی امید لگا کر واپس ہو جاتے۔
یوں کئی دن گزر گئے۔ حضرت بلالؓ کی بے قراری اب سوا ہو چکی تھی۔ ان کے دل میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگتے تو پھر اللہ کی یہ سنت یاد آتی کہ رسولوں کی حفاظت خود اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ،لیکن اس سب کے باوجود وہ پریشان ہی رہتے۔
ایک دن حسب معمول سخت گرمی پڑ رہی تھی اور وہ انتظار کرنے والے کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے۔
دوپہر تک سورج کی شعاعیں بہت زیادہ قیامت ڈھانے لگیں تو سارے لوگ چلے گئے۔ حضرت بلالؓ بھی کچھ دیر بعد وہاں سے چلے گئے۔
انھیں اپنے گھر بیٹھے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ ان کے کانوں میں ایک پرجوش آواز آئی۔
’’اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ۔‘‘
حضرت بلالؓ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے۔ سوچنے لگے کہ شاید یہ جملہ انھوں نے خواب کی حالت میں سنا ہو ،مگر پکارنے والے نے پھر پکارا۔
’’اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ اللہ کے نبی ﷺ تشریف لے آئے۔‘‘
حضرت بلالؓ باہر کو لپکے اور دیوانہ وار مدینہ کے باہر اس راستے کی طرف دوڑنے لگے جہاں پہلے ہی کچھ لوگ آنے والے کی راہ تک رہے تھے۔
ترستی آنکھوں نے پھر دور سے لوگوں کی بھیڑ کے بیچوں بیچ دو سواروں کو آتے دیکھا۔ حضرت بلالؓ کی نظروں نے دور ہی سے سواروں کو پہچان لیا۔ ان میں ایک اللہ کے رسولﷺ اور دوسرے ان کے محسن اور دوست ابوبکرؓ تھے۔ بلالؓ پکار اٹھے۔ ’’اللہ کی قسم یہ اللہ کے رسولﷺ ہیں۔‘‘
یہ نعرہ لگا کر وہ تیزی سے ان کی طرف دوڑے ان کے قدموں نے اس وقت تک اپنی رفتار کم نہ کی جب تک ان کی آنکھوں کے سامنے اللہ کے رسول ﷺ کا چہرہ نہ آگیا ہو۔ وہ منظر جس کی عدم موجودگی میں ان کی زندگی میں ایک خلا آگیا تھا، اب انھیں میسر تھا۔ حضرت بلالؓ کو اب چین آگیا ۔ مکہ چھوڑ کر مدینہ آنے کا غم کافور ہو گیا۔ وطن سے نکالے جانے کا زخم اب بھر گیا تھا۔
مدینہ کے قریب ایک صحرائی وادی تھی بطحان۔ اس میں پانی کے جوہڑ تھے۔ بعض اوقات ہوا اس وادی سے ہو کر جب مدینہ پہنچتی تو مدینہ میں بخار کی وبا پھیل جاتی۔ اس وبا کا خاص طور پر وہ لوگ نشانہ بنتے جو باہر سے آئے ہوتے یا جو اس ہوا کے عادی نہ ہوتے۔ ہجرت کرکے آنے والے صحابہؓ اس کا بطور خاص نشانہ بنے۔ خود حضرت ابوبکرؓ شدید بیمار ہو گئے۔ حضرت بلالؓ کو علم ہوا تو وہ ان کی مزاج پرسی کے لیے گئے۔
حضرت ابوبکرؓ پہلے ہی دھان پان جسم کے مالک تھے۔ بخار نے انھیں بالکل ہی نحیف و نزار کر دیا۔ بلالؓ ان کے پاس گئے تو یہ محسوس کیے بغیر نہ رہ سکے کہ انھیں اس وقت کسی غم گسار کی ضرورت ہے۔ چنانچہ بلالؓ ان کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ انھوں نے محسوس کیا کہ اس گفتگو کی وجہ سے ابوبکرؓ بخار کی تکلیف بھول گئے ہیں۔ اور بلالؓ نے اس بات چیت کو رات گئے تک جاری رکھا۔ جب ابوبکرؓ گہری نیند سو گئے تو وہ ان کے پاس سے اٹھ گئے اور انھی کے گھر کے صحن میں جا کر لیٹ گئے۔
بلالؓ اس صبح اٹھے تو انھیں اپنا سارا وجود درد سے ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا۔ نماز یاد آئی تو فوراً کھڑے ہو ئے ،مگر ایسا چکر آیا کہ پوری دنیا گھومتی ہوئی محسو س ہوئی۔ وہ بری طرح زمین پر گر پڑے اور گرتے ہی بے ہوش ہو گئے۔
حضرت بلالؓ جو اپنے دوست حضرت ابوبکرؓ کی مزاج پرسی کے لیے گئے تھے اب بیمار ہو کر انھی کے گھر پڑ گئے۔ کئی دن تک بیمار رہے۔ بیماری کی حالت میں انھیں ایک بار پھر مکہ کی یاد رہ رہ کر آئی۔ کئی دفعہ وہ آسمان کی طرف دیکھتے اور کہتے۔
’’بلاشبہ مکہ کا آسمان ، اس آسمان سے زیادہ خوب صورت ہے اور مکہ کی ہوا ، ا س ہوا سے زیادہ لطیف اور صاف ہے۔‘‘
انھی دنوں حضرت عائشہؓ نے بلالؓ کو اپنی خوب صورت آواز میں یہ شعر گنگناتے ہوئے سنا (ترجمہ)


کاش میں وادی مکہ میں ایک رات اور رہتا
میرے ارد گرد ازخر اور جلیل کی نرم نرم گھاس کا بستر ہوتا
کاش میں مجنہ کے چشمے کا پانی ایک دن مزید پی لیتا
کاش میں شامہ اور طفیل نامی چشموں کو ایک مرتبہ پھر دیکھ لیتا۔


غم ناک شعر سن کر حضرت عائشہؓ سوچنے لگی کہ کیا یہ سب کچھ بخار کا اثر ہے یا وطن کی محبت کا نتیجہ۔ پھر انھیں حیرت ہوئی کہ یہ لوگ وہاں کتنے ستائے گئے ، لیکن حیرت ہے پھر بھی انھیں وطن کی یاد ستاتی ہے۔
رسول کریم ﷺ کے پاس آئیں اور سارا حال بیان کیا۔ رسولﷺ اپنے دیگر صحابہؓ کی اس بیماری سے پریشان تھے۔ جب ابوبکرؓ اوربلالؓ کی یہ حالت سنی تو اللہ سے یہ دعا کی۔
’’اے اللہ ! ہمارے لیے مدینہ کو مکہ کی طرح ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر محبوب بنا دے، اے اللہ ہماری معیشت میں برکت ڈال، مدینہ کو ہمارے لیے صحت افزا بنا دے۔ اس کا بخار حجفہ کی طرف منتقل کر دے۔‘‘
رسول اللہﷺ کی دعا قبول ہوئی اور بلالؓ سمیت تمام صحابہ روبہ صحت ہوئے۔ ان کی طبیعت مدینہ کی نئی آب و ہوا کے موافق ہو گئی اور مدینہ انھیں مکہ کی طرح لگنے لگا۔

***

فجر کی نماز ہو چکی تھی۔ نماز کے بعد صحابہؓ اللہ کے رسولﷺ کے ارد گرد بیٹھے تھے کہ کچھ اور صحابہؓ آئے ۔ انھیں نماز سے دیر ہو گئی تھی۔ ان میں سے ایک نے گزارش کی۔
’’اے اللہ کے رسولﷺ ہماری فجر کی نماز جماعت سے رہ گئی ہے ۔ کیا ہمیں نماز کے لیے اکٹھا کرنے کا کوئی طریقہ ہے۔‘‘
ان کے اس مطالبے کی کئی دوسرے لوگوں نے بھی حمایت کی کہ نماز کے وقت مقررہ کا عام اعلان ہونا چاہیے تاکہ جماعت سے محرومی نہ ہو۔
ایک صحابیؓ نے رائے دی: ’’ہم نماز کے وقت ایک جھنڈا بلند کر لیا کریں، اس جھنڈے کو دیکھ کر لوگ سمجھ جائیں گے کہ نماز کا وقت ہو گیا۔‘‘
یہ رائے زیادہ پسند نہ کی گئی تو دوسرے رائے سامنے آئی۔
’’نماز کا وقت بتانے کے لیے اگر اونچی جگہ پر آگ روشن کی جائے تو سب لوگ دیکھ کر آجائیں گے۔‘‘
’’یہ مجوسیوں کا طریقہ ہے۔ وہ آگ کی پرستش کرتے تھے۔‘‘ اللہ کے رسولؐ نے یہ رائے پسند نہ کی۔
’’پھر شبور کا طریقہ اپنایا جا سکتا ہے۔‘‘ ایک اور رائے سامنے آئی۔ ’’مگر یہ یہودیوں کا طریقہ ہے۔‘‘ پیغمبر ﷺ کا ارشاد ہوا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ یہ طریقہ انھوں نے بدعت کے طور پر خود اختیار نہ کیا ہو۔
’’تو پھر ناقوس بجانے کو اختیار کرنا چاہیے۔‘‘
رسولﷺ کو یہ رائے بھی مناسب نہ لگی۔
جب کوئی بہتر رائے سامنے نہ آئی تو خیال کیا جانے لگا کہ شاید ناقوس والی ہی تجویز پر عمل ہو گا ،مگر اگلے دن عجیب بات ہو گئی۔
آپؐ مسجد نبوی ہی میں بیٹھے تھے کہ ایک انصاری صحابی حضرت عبداللہؓ بن زید آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مخاطب ہو ئے:
’’اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آج رات میں نے خواب میں ایک شخص کو ناقوس پکڑے دیکھا۔ میں نے اس سے کہا کہ کیا تم مجھے یہ ناقوس بیچو گے؟ اس نے پوچھا، تم اس کا کیا کرو گے؟ میں نے کہا کہ ہم اس کے ذریعے سے لوگوں کو نماز کے لیے بلائیں گے۔ اس نے کہا کہ کیا میں تمھیں اس سے اچھی چیز نہ بتا دوں؟ میں نے کہا کہ وہ کیا ؟ تب اس نے یہ الفاظ بتائے۔‘‘
اس کے بعد حضرت عبداللہؓ بن زید نے اذان کے وہ کلمات بتائے جو ہر نماز سے پہلے مسجدوں سے گونجتے ہیں۔ ان الفاظ کو سن کر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ آپؐ کا چہرہ انور دمک اٹھا۔ آپؐ نے اسی وقت حضرت بلالؓ کو حکم دیا:
’’اے بلالؓ کھڑے ہو جاؤ اور اس خواب کو سچا کر دکھاؤ اور عبداللہؓ آپ ان کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور یہ کلمات آہستہ آہستہ سے کہتے جائیں اور یہ انھیں بلند آواز سے دہراتے جائیں گے۔‘‘
انسان کو بلانے کے لیے اس کائنات میں پہلی بار توحید الٰہی کا یہ شیریں بلاوا حضرت بلالؓ کی بلند اور میٹھی آواز سے بلند ہوا تو مدینہ میں ایک سماں بندھ گیا۔
مدینہ اگرچہ کوئی بڑی بستی نہ تھی ،مگر بڑی بھی ہوتی تو بلالؓ کی آواز پھر بھی پہنچ جاتی۔ اب جب ہر شخص نے یہ اذان سنی تو گھر سے باہر نکل کر مسجد نبوی کا رخ کیا۔
حضرت عمرؓ اذان کی اس آواز کو سن کر مسجد میں آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے ہی جوشیلے انداز سے پکارے: ’’اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے، میں نے بھی وہی خواب دیکھا ہے جو عبداللہؓ نے دیکھا ہے۔‘‘
اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’حمدوثنا اللہ ہی کے لیے ہے!‘‘

***

مسلمان مدینہ ہجرت کر کے آئے تو اپنا سب کچھ چھوڑ کر آئے تھے۔ یہاں ان کے پاس نہ رہنے کو جگہ تھی نہ کمانے کو کوئی روزگار ۔ اس صورتِ حال میں وہ عظیم الشان انتظام کیا گیا جس کو ’’مواخات‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس کے تحت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس کے قریب مہاجر صحابہؓ کو مدینہ کے رہائشی مسلمانوں کا بھائی بنا دیا۔ اسی وجہ سے اہل مدینہ انصار کہلائے یعنی اللہ کے رسولؐ اور ان کے صحابہؓ کی مدد کرنے والے۔
حضرت بلال رضی اللہ عنہ، مدینہ پہنچے تو حضرت سعدؓ بن خشیمہ کے مہمان رہے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ابوردیجہ عبداللہ ابن عبدالرحمان کا بھائی بنادیا۔ دوسرے انصار کی طرح ابو ردیجہ نے بھی اپنا آدھا گھر اور آدھا مال حضرت بلالؓ کے سپرد کر دیا۔ لیکن حضرت بلالؓ تنہا تھے اور ابھی ان کا شادی کا بھی کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس لیے وہ اپنے انصاری بھائی ہی کے ہاں کھا پی لیتے۔
دن اسی طرح گزرنے لگے اور دو سال پر لگا کر گزر گئے۔ سن دو ہجری میں مسلمانوں پر جہاں رمضان روزے فرض ہوئے وہاں انھیں ایک اور اجازت دی گئی۔۔۔ اس اجازت کا مسلمان عرصے سے خواب دیکھ رہے تھے۔ یہ اجازت تھی جہاد کی!
مکہ میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق مسلمان کفار سے جنگ نہیں کر سکتے تھے۔ انھیں اپنے اوپر ہر قسم کا جبر اور ظلم خاموشی کے ساتھ برداشت کرنا تھا تاکہ لوگوں تک اللہ کا پیغام ہر حالت میں پہنچ جائے۔ مدینہ آنے کے بعد یہاں کے مسلم غیر مسلم، سبھی لوگوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا حکمران تسلیم کر لیا تھا۔ لیکن مکہ کے قریش لوگوں کو یہ بتاتے پھرتے تھے کہ یہ مٹھی بھر مسلمان ہمارے باغی ہیں اور ہم بہت جلد انھیں واپس مکہ لے آئیں گے۔ ان مغرور کافروں کا غرور توڑنے اور ان کے سرغنہ اور کرتا دھرتا سرداروں کا خوف دور کرنے کے لیے اللہ نے مسلمانوں کو جہاد کا حکم دیا تھا۔
اللہ نے جہاد کا راستہ اس طرح سے ہموار کیا میدانِ بدر میں مسلمانوں اور کفار کے لشکر آمنے سامنے آگئے۔ مسلمان مدینہ سے، لیکن جلد ہی اللہ نے وحی کے ذریعے سے اپنے رسولؐ کو خبر دے دی کہ مسلمانوں کا مقابلہ قافلے سے نہیں،بلکہ اس لشکر سے ہو گا جو اس قافلے کو بچانے کو مکہ سے مدینہ کی طرف آ رہا ہے۔ اللہ کی جانب سے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر بھی دی جا چکی تھی کہ یہ معرکہ حق اور باطل کے درمیان کسوٹی بن جائے گا اور اس میں قریش کے سبھی سردار تہ تیغ کر دیے جائیں گے۔
حضرت بلالؓ بھی ان تین سو تیرہ مجاہدین میں شامل تھے جو کفار پر ٹوٹ پڑے اور ان کو ملیا میٹ کرنے کے لیے بے چین تھے۔
حضرت بلالؓ دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ اس معرکے میں اگر ان کا سامنا امیہ بن خلف سے ہو جائے تو کیسا رہے؟ وہی امیہ بن خلف جس نے ایمان قبول کرنے کے جرم میں ان پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی تھی۔
حضرت بلالؓ کی خواہش جلد ہی پوری ہو گئی۔ بدر کے میدان میں مقابلہ بہت ہی یک طرفہ ثابت ہوا۔ ایک ہزار کے مقابلے میں تین سو تیرہ کا لشکر اس قدر بھاری ثابت ہوا کہ دشمن کے بڑے بڑے بہادر گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دیے گئے۔ حضرت حمزہؓ، حضرت علیؓ، حضرت عمرؓ اور دوسرے کئی بہادروں نے دشمن کو پہلے ہی ہلے میں بھاگ جانے پر مجبور کر دیا۔
کفار کا سپہ سالار ابوجہل تو کم سن بچوں کی تلواروں کا شکار ہو گیا۔ عتبہ اور شیبہ کا خون حضرت حمزہؓ کی تلوار نے پی لیا۔
حضرت بلالؓ احد کا نعرہ لگاتے ہوئے دشمنوں کا تعاقب کرنے لگے۔ ان کی نگاہیں اب بھی امیہ بن خلف کو ڈھونڈ رہی تھیں۔ جو ابھی تک انھیں کہیں نظر نہیں آیا تھا۔
امیہ اس وقت بھاگنے والوں میں شریک تھا اور دیوانہ وار بھاگ رہا تھا۔ اس کی نظر اپنے پرانے دوست عبدالرحمنؓ بن عوف پر پڑی۔ امیہ نے انھیں آواز دی: ’’یا عبدعمرو!‘‘
عبدالرحمن نے پلٹ کر دیکھا، مگر پھر اس آواز کو نظر انداز کر دیا۔
امیہ کو یادآیا کہ مکہ میں ایک دفعہ دونوں دوستوں میں تکرار ہوئی تھی کہ عبدالرحمن اس بات پر بضد تھے کہ انھیں قبل اسلام کے نام عبد عمرو کی بجائے اسلامی نام عبدالرحمنؓ سے پکارا جائے یا عبدالالہ بلایا جائے۔
امیہ نے فوراً دوبارہ آواز دی ۔۔۔ ’’عبدالا لہ!‘‘
اب انھوں نے پلٹ کر جواب دیا۔ وہ اس وقت کفار کی گری ہوئی زرہیں اور دوسرا سامانِ غنیمت اکٹھا کر رہے تھے۔
امیہ بولا:
’’میں تمھارے لیے ان زرہوں سے بہتر ہوں جو تم نے اکٹھی کر لی ہیں۔‘‘
حضرت عبدالرحمنؓ اس کی بات سمجھ گئے کہ امیہ اپنے آپ کو ان کی قید میں دے رہا ہے اور وہ ایک قیمتی قیدی ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ سوچ کر وہ امیہ کے پاس آئے اور اس کا اور اس کے بیٹے علی کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا:
’’ٹھیک ہے تم دونوں میرے قیدی ہو۔‘‘
حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف اپنے ان قیدیوں کو لے کر آرہے تھے کہ سامنے حضرت بلالؓ آگئے۔ انھوں نے یہ منظر دیکھا تو ان کے سر سے پاؤں تک رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ وہ فوراً چیخے!
’’کفار کا سردار ۔۔۔ امیہ بن خلف! خدا کی قسم اگر یہ بچ گیا توپھر میری موت ہی ہے!‘‘
اتنا کہہ کر انھوں نے اپنی تلوار سیدھی کی اور اس کی طرف لپکے۔
یہ منظر دیکھ کر عبدالرحمنؓ بولے: ’’بلالؓ یہ میرے قیدی ہیں۔ انھیں چھوڑ دیں!‘‘
حضرت بلالؓ نے سپاٹ لہجے میں کہا ’’اگر یہ دونوں ظالم بچ گئے تو پھر میں نہیں بچوں گا۔‘‘
’’تم ہوش میں ہو بلالؓ؟‘‘
حضرت بلالؓ نہ جانے کس کیفیت میں تھے، پھر بولے: ’’اگر یہ دونوں بچ گئے تو پھر میں نہیں بچوں گا۔‘‘
یہ کہہ کر وہ لپک کر آگے بڑھے اور امیہ پر بھرپور وار کیا ،لیکن عبدالرحمنؓ نے امیہ کو دھکا دے کر ایک طرف کرکے حضرت بلالؓ کا وار خالی کر دیا۔
حضرت بلالؓ پھر پلٹ کر آئے اور عبدالرحمنؓ کے منع کرنے کے باوجود دوبارہ وار کیا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ آج کے دن قریش کے سرداروں کی موت کا دن ہے اور امیہ قریش کے بڑے سرداروں میں سے ہے۔ اس لیے انھیں حضرت عبدالرحمنؓ کی ناراضی کی کوئی پروا نہ تھی ، بلکہ حضرت بلالؓ کو یقین تھا کہ امیہ کو جہنم رسید کرنے پر انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شاباش ملے گی۔
اس مرتبہ بھی جب حضرت بلالؓ کا وار خالی گیا تو وہ سمجھ گئے کہ ان کافروں کو حضرت عبدالرحمنؓ کی موجودگی میں قابو نہیں کر سکیں گے۔ انھوں نے فوراً آواز لگائی:
’’اے اللہ کے انصار ۔۔۔ امیہ بن خلف، سردار کفار ادھر ہے۔ آج یہ بچ نکلا تو میں اللہ کے غضب سے نہ بچ سکوں گا!‘‘
حضرت بلالؓ کی یہ للکار سن کر کئی انصار بہادر وہاں آگئے۔ انھوں نے آتے ہی انھیں گھیرے میں لے لیا۔ حضرت عبدالرحمنؓ نے پھر کہا کہ یہ ان کا قیدی ہے ،مگر انصار کے مجاہدوں نے کہا: ’’ہمیں قریش کے سرداروں کو قید کرنے کا نہیں مارنے کا حکم ہے!‘‘
مگر حضرت عبدالرحمنؓ کو اپنی زبان کا پاس تھا۔ انھوں نے اپنے قیدیوں کو بیٹھنے کا حکم دیا اور خود ان کے اوپر لیٹ گئے مگر حضرت بلالؓ نے ایک انصاری سے نیزہ لیا اور موقع پا کر امیہ کے بیٹے کے جسم کو زخمی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ امیہ کا بیٹا تڑپ کر حضرت عبدالرحمنؓ کی اوٹ سے باہر نکلا تو ایک انصاری نے بجلی کی سی تیزی سے امیہ کے بیٹے پر ایسا وار کیا کہ وہ خون میں لت پت ہو کر زمین پر آرہا۔
امیہ نے واویلا مچایا۔ ’’ہائے میرا بیٹا ۔۔۔ ہائے میرا بیٹا!‘‘
حضرت عبدالرحمنؓ نے کہا: ’’اب تم اپنے آپ کو بچاؤ، اللہ کی قسم اب میں تمھارے لیے کچھ نہیں کر سکتا۔‘‘
یہ سن کر امیہ فوراً ان کی اوٹ سے نکلا اور بھاگ اٹھا۔ حضرت بلالؓ اس کا تعاقب کیوں نہ کرتے! فوراً اس موذی کے پیچھے لپکے۔ ان کے ہاتھ میں نیزہ تھا۔
اپنے غلام کے ہر ہر عضو پر ملکیت جتانے والا، اسے تکلیف سے تڑپتا دیکھ کر لطف اٹھانے والا، اس کے جھکے چہرے پر بے رحمی سے تھپڑ مارنے والا، خوددار اور مغرور سردار اب آگے بھاگ رہا تھا۔اپنی جان بچارہا تھا اور حضرت بلالؓ اس کے لیے موت کا پیغام بن کر ہر لمحے اس کے قریب سے قریب تر ہو رہے تھے۔
جب فاصلہ خاصا کم رہ گیا تو حضرت بلالؓ نے ہاتھ میں پکڑا نیزہ سیدھا کیا اور دشمن دین کی طرف پوری قوت سے پھینکا۔نیزہ امیہ کی کمر میں گڑ گیا اور وہ منہ کے بل زمین پر گر پڑا۔
انصاری مجاہد بھی اس دوڑ میں حضرت بلالؓ کے پیچھے تھے۔ وہ بھی آن پہنچے اور امیہ کو جہنم واصل کر دیا۔
عبدالرحمنؓ بھی وہاں پہنچ گئے اوربولے: ’’اے بلالؓ تم نے میرے قیدیوں کے معاملے میں میرا دل کھایا ہے۔‘‘
حضرت بلالؓ نے غضب ناک نگاہوں سے ان کی طرف دیکھا: ’’عبدالرحمنؓ ، خدا تمھیں اس کا بہترین اجر دے گا۔‘‘
معرکہ بدر اپنے انجام کو پہنچا اور مسلمانوں کی جرات، بہادری، اور طاقت کا چرچا پورے عرب میں پھیل گیا۔ اس غزوہ سے مسلمانوں کو خاطر خواہ مال غنیمت حاصل ہوا اور اس کے بارے میں اللہ کا حکم یہ آیا کہ مال غنیمت کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے رشتہ داروں، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔
مال غنیمت کا پانچوں حصہ نکال کر بقایا مجاہدوں میں بانٹ دیا گیا ۔ پانچویں حصے یعنی خمس کا محافظ حضرت بلالؓ مقرر ہوئے۔ انھیں آپؐ نے حکم دیا کہ سارا مال حق داروں میں تقسیم کر دیں۔ حضرت بلالؓ نے ایسا ہی کیا۔
ایک دن رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے سامان خمس کے متعلق پوچھا تو حضرت بلالؓ نے کہا کہ میں نے ایک بوری کھجوروں کی مہمانوں کے لیے رکھی ہے۔
اللہ کے رسولؐ نے فرمایا : ’’بلالؓ جہنم کی آگ سے ڈرو، مال کو خرچ کرتے رہو، عرش والے سے کبھی کمی کا اندیشہ نہ رکھا کرو۔‘‘ حضرت بلالؓ نے نبیؐ کا یہ فرمان ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پلے باندھ لیا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔

***