وہ غلام ابن غلام تھے۔ مگر اسلام نے انھیں دنیا پر حکومت کرنے والوں کا سردار بنا دیا۔ غلامی سے سرداری تک سیدنا بلالؓ کا یہ دل نواز اور ایمان افروز سفر عبدالحمید جودہ السحار کی عربی کتاب سے ماخوذ ہے۔ اس داستان میں عربوں کی اس زمانے کی مذہبی تہذیب کو بھی بیان کیا گیا ہے۔


سفر کے لیے سامان تیار تھا ۔۔۔ محض ایک کام باقی تھا ۔۔۔ یہ کام بہت اہم تھا۔ اس کے بغیر کسی اہم کام کے کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا یعنی نذر چڑھانے اور فال لینے کا ۔۔۔ مالک نے اپنے غلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
’’بلال، تمھیں تو معلوم ہے کہ اس دفعہ میرا بیٹا قافلے کے ساتھ نہیں جا رہا۔ اس لیے اس بارقافلے کی حفاظت کی ذمہ داری تمھاری ہے!‘‘
’’جو حکم آقا۔‘‘ بلال نے فرمانبرداری سے کہا۔
’’چلو ۔۔۔ پھر ہبل کے پاس چلتے ہیں تاکہ اس کے حضور ہم اپنی نذر پیش کریں۔‘‘
آقا اور غلام دونوں کعبہ کی طرف چل دیے۔ قریب پہنچے تو انھوں نے کچھ معززلوگوں کو محفل جمائے گفتگو کرتے دیکھا۔
آقا نے کہا: ’’بلال ۔۔۔ میں ان لوگوں کے پاس جا رہا ہوں، تم ہبل کے پاس چلے جاؤ اور اسے نذر بھی پیش کرو اور سفر کرنے سے متعلق اس سے فال بھی لے لو۔‘‘
یہ اس زمانے میں مکہ کے لوگوں کا عام طریقہ تھا کہ وہ کوئی اہم کام کرنے سے پہلے اپنے دیوتا کی مرضی معلوم کرتے۔ اس کا طریقہ یہ ہوتا کہ بت کے پاس بہت سارے تیر ہوتے۔ اس پر ہاں یا نہیں اور اس طرح کے دوسرے الفاظ لکھے ہوتے۔ بت کا کاہن ان تیروں کو بت کے سامنے گھماتا اور پھر قرعہ اندازی کرتے ہوئے کوئی سا تیر بغیر دیکھے اٹھا لیتا۔ اس تیر پر جو کچھ لکھا ہوتا، وہی دیوتا کا حکم اور مشورہ خیال کیا جاتا ۔ اسے فال لینا کہتے تھے یا پھر یوں بھی ہوتا کہ کاہن لکھے ہوئے الفاظ پر تیر مارتا اور تیر جہاں لگتا ،وہی قسمت کا فیصلہ ٹھہرتا۔
بلال کعبہ میں رکھے سب سے بڑے بت ہبل کے پاس پہنچا تو وہاں پر پہلے ہی ایک فال لی جا رہی تھی۔
ایک عورت کی گود میں ایک معصوم بچہ تھا، اور اس کے ہمراہ کچھ مرد تھے۔ عورت ان مردوں میں سے ایک کو گود میں لیے بچے کا باپ کہہ رہی تھی اور وہ شخص اس کا انکار کر رہا تھا۔ اس جھگڑے کا حل بھی فال کے تیر کے ذریعے سے ہونا تھا۔ کاہن نے نسب معلوم کرنے کے لیے مخصوص تیر نکالے۔ وہ ان کو گھمانے کے لیے تیار تھا کہ اتنے میں بلال بھی ان کے قریب پہنچ گیا۔
کاہن نے تیروں کو گردش دی اور لوگ دھڑکتے دل کے ساتھ نتیجے کا انتظار کرنے لگے۔ وہ کاہن کے اوپر جھکے ہوئے تھے۔ دوسری طرف عورت شدید کرب میں مبتلا تھی کہ معلوم نہیں اس کے معصوم بچے کو باپ کا نام ملتا ہے یا نہیں۔ نتیجہ نکلا اور جس تیر کا قرعہ نکلا اس پر لکھا تھا ۔۔۔ ’’صریح‘‘ یعنی عورت کا دعویٰ سچ نکلا۔ اس نے خوشی سے بچے کو گلے سے چمٹایا اسے پیار کیا اور اپنے شوہر کی طرف غصے سے دیکھتے ہوئے بولی:
’’تم نے دیکھ لیا ۔۔۔ تسلی کرلی۔۔۔ دیوتا نے میرے حق میں فیصلہ دے دیا ہے۔‘‘
وہ شخص خاموش رہا اور بھیڑ آہستہ آہستہ چھٹنے لگی۔ اب وہاں صرف بلال ہی رہ گیا۔ تب اس نے کاہن کونذرانہ پیش کیا اور بت کو آہستہ آہستہ ،مگربڑی عقیدت سے کہنے لگا:
’’عظیم خداوند ہبل، ہم نہایت عاجزی سے تمھارے حضور نذر پیش کرتے ہیں اور آپ سے درخواست کرتے ہیں کہ ہماری حفاظت فرما اور اس سفر کو ہمارے لیے مبارک بنا۔‘‘
اس کے بعد کاہن نے اس مقصد کے لیے تیار کی گئی ایک خاص تختی کو نشانہ بنایا اور تیر چھوڑا۔ تیرجس خانے پر لگا اس کا مطلب ’’نہیں‘‘ تھا یعنی بت بلال کو سفر نہ کرنے کا مشورہ دے رہا تھا۔
بلال کو ہبل کے اس فیصلے پر بڑی مایوسی ہوئی، اس نے سرخ عقیق سے بنے انسانی شکل کے اس بت کو حسرت سے دیکھا اور پھر کاہن کی طرف رخ کرکے بولا:’’اس نے تو سفر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے، مگر ہم نے تو ہر چیز تیار کر رکھی ہے، ہم تو روانہ ہونے والے ہیں!‘‘
کاہن بولا: ’’پریشان مت ہو، دیوتا کو مزید نذرانہ پیش کرو اور دوبارہ فال لو، ہو سکتا ہے وہ تم پر مہربان ہو کر تمھاری مرضی کے مطابق فیصلہ دے!‘‘
بلال نے فوراً ایک اور نذرانہ دیا اور کاہن نے اس مرتبہ تیر گھما کر فال لی، جو تیر نکلا اس پر لکھا تھا:
’’سفر کرو‘‘
بلال قدر ے مطمئن ہو گیا ،مگر وہ مزید تسلی چاہتا تھا۔ اس نے ایک اور نذرانہ پیش کیا اور پھر فال لی ۔اس مرتبہ بھی دیوتا نے سفر کرنے کے متعلق فیصلہ دیا۔ تیر کا فیصلہ اس کا فیصلہ سمجھا جاتا تھا ۔۔۔ بلال اب مطمئن تھا وہ خوشی خوشی اپنے مالک کو یہ اطلاع دینے چلا۔
اس کا آقا ۔۔۔ امیہ بن خلف۔۔۔ قریش کے سرداروں میں سے تھا۔ بلال نے اسے جا کر اطلاع دی تو وہ بھی خوش ہوا اور اسی شا م تاجروں کا یہ قافلہ شام کے ملک کی طرف روانہ ہو گیا۔
یہ ایک طویل سفر تھا اور قافلہ بھی خاصا بڑا تھا۔ کئی سو اونٹوں پر مختلف سامان لدا ہوا تھا اور کئی محافظ تلواریں میانوں میں لٹکائے اس کے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔
یہ قافلہ دن کو سفر کرتا اور رات کو آرام کرنے کی غرض سے ڈیرے ڈال لیتا۔ رات کو اگر چاندنی ہوتی تو ہمت کے مطابق سفر جاری رکھا جاتا۔
سفر کا بیشتر فاصلہ طے ہو چکا تھا اور شام کا دھندلکا قریب آلگا تھا اور قافلے کے سردار کا کہنا تھا کہ آج ہمیں منزل پر پہنچنا ہے۔ بلال نے محسوس کیا کہ قافلے والے تھکن محسوس کر رہے ہیں۔ اس نے نغمہ الاپنا شروع کر دیا۔
بلال کی آواز اس قدر شیریں اور کانوں میں رس گھولنے والی تھی کہ پورا قافلہ جھوم اٹھا ۔۔۔ تھکے ہوئے اونٹوں اور سست قدم گھوڑوں کی چال میں بھی تیزی آگئی۔ لوگ اپنی تھکن بھول گئے۔ پورے قافلے میں ایک نئی زندگی آگئی اور بلال کے اسی مسحور کن نغمے کی بدولت وہ اسی رات ملک شام پہنچ گئے۔
قافلے نے شہر کے مضافات میں خیمے نصب کرلیے ، کھانا تیار ہونے لگا اور لوگ ٹولیوں میں بیٹھ کر گپیں ہانکنے لگے۔
بلال اسی طرح کی ایک ٹولی کے قریب سے گزرا تو اسے کسی نے پکار کر کہا:’’بلال! تمھاری آواز بہت خوبصورت اور میٹھی ہے ۔۔۔ تمھارے نغمے نے راستے کی تھکاوٹ دور کر دی اور ہمارے لیے سفر مختصر کر دیا!‘‘
بلال نے دیکھا تو یہ ابوبکر بن ابی قحافہ تھے۔ بلال ان کی اس تحسین پر مسکرا دیا۔
ابوبکر کا یہی جملہ ان کے درمیان دوستی کا پہلا رابطہ بنا۔ قافلے کے قیام کے دوران میں دونوں میں اکثرملاقاتیں ہوتی رہیں اور دوستی کا رشتہ مضبوط ہوتا گیا۔
جب قافلے کی واپسی کا دن آیا تو بلال نے دیکھا کہ ابوبکر جلدی جلدی کہیں جا رہے ہیں۔ بلال حیران ہوئے کہ اس وقت بھلا ابوبکر کہاں کا قصد کر رہے ہیں ۔ فوراً ان کی طرف لپکے اور پوچھا کہ وہ کہاں جا رہے ہیں؟
جواب ملا: ’’ایک راہب کے پاس۔‘‘
’’کیوں؟‘‘
’’کئی دنوں سے ایک ہی خواب آرہا ہے، اس کی تعبیر پوچھنے جا رہا ہوں۔ میں نے سنا ہے کہ یہ راہب خوابوں کی ٹھیک تعبیر بتاتا ہے۔‘‘
بلال نے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی اور واپس مڑنے لگا تو ابوبکر نے پوچھا:
’’کیا تم میرے ہمراہ نہیں آؤ گے؟‘‘
بلال نے انکار کرنا مناسب نہ سمجھا اور ان کے ساتھ ہو لیا۔
راہب کے پاس پہنچے اور ابوبکر نے اپنا خواب سنایا۔ راہب نے ان کا خواب بڑے غور سے سنا اور پھر نظریں ان کے چہرے پر گاڑ دیں۔ بلال کو یوں لگا جیسے وہ اس کو پہچان رہا ہو۔ یہ راہب ایک عیسائی تھا اور آسمانی کتابوں کا بڑا عالم تھا ۔اس کے علاوہ خوابوں کی تعبیر بتانے میں بھی اس کا بڑا شہرہ تھا۔
اس نے خاموشی توڑی اور ابوبکر کو مخاطب کرتے ہوئے بولا:
’’آپ کہاں کے رہنے والے ہیں؟‘‘
’’مکہ کے۔‘‘
’’کس قبیلے کے؟‘‘
’’قریش کے۔‘‘
’’کرتے کیا ہیں؟‘‘
’’تجارت ۔۔۔ اس وقت ایک تجارتی قافلے کے ہمراہ آیا ہوں۔‘‘
’’ہوں ۔۔۔ تمھارا خواب سچا ہے ،مگر تمھیں اس وقت اس کی سمجھ نہیں آئے گی۔ اس خواب کی حقیقت تم اس وقت جانو گے ، جب تمھارے اندر ایک نبی مبعوث ہو گا۔ تم اس نبی کے دست راست ہو گے۔ شاید وزیر بنو اور اس کے جانشین بھی!‘‘
ابوبکر حیرت سے راہب کو دیکھنے لگے اور بلال بول اٹھا:
’’یہ نبی کون ہوتا ہے؟‘‘
’’اللہ کا نمائندہ، اس کی طرف سے بندوں کو پیغام پہچانے والا۔‘‘
’’تو کیا اس نبی کو ہبل بھیجے گا یا لات اور عزیٰ میں سے کوئی۔۔۔ یا کعبہ میں موجود کوئی اور خداوند؟‘‘
راہب نے قدرے اکتائے ہوئے لہجے میں کہا:
’’اسے آسمانوں اور زمینوں کا پروردگار بھیجے گا۔ کعبہ میں رکھے دیوتاؤں کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ تو ان بتوں کو گرانے اور توڑنے کا حکم دے گا۔ صرف اسی اللہ کی عبادت کرنے کا حکم دے گا جو اسے بھیجے گا۔‘‘
بلال نے گھبرا کر پوچھا: ’’ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔۔۔؟ کیا وہ تمام دیوتاؤں کو توڑنے اور گرانے کا حکم دے گا؟‘‘
راہب نے بلال کے جواب میں کچھ نہ کہا ،بلکہ محض سر ہلا کر خاموش ہو گیا۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ اب انھیں یہاں سے رخصت ہو جانا چاہیے۔ ابوبکر نے یہ اشارہ سمجھ لیا اور بلال کو اٹھنے کاکہا اور خاموشی سے راہب کی عبادت گاہ سے باہرآگئے۔
قافلہ واپس پہنچا، یہ ایک کامیاب تجارتی سفر تھا۔ لوگوں کی اکثریت کعبہ کی طرف لپکی تاکہ گھرں میں داخل ہونے سے پہلے وہ کعبہ کا طواف کر سکیں۔ کعبہ کا طواف وہ حضرت ابراہیم کی تعلیمات کے مطابق کرتے تھے۔ عربوں میں اس تعلیم پر عمل ایک رواج اور روایت بن گیا تھا۔
بلال بھی دوسرے لوگوں کی طرح کعبہ کا طواف کرنے کے بعد بتوں کی پرستش کر رہا تھا ،لیکن آج اس کی کیفیت عجیب تھی۔
وہ پہلے کی سی کیفیت اور اخلاص سے خالی تھا، اس کا سینہ پہلے اپنے معبودوں کے لیے عاجزی اور نیاز مندی سے بھرا ہوتا ،مگر آج وہ رسمی انداز میں مذہبی رسومات ادا کر رہا تھا۔
وہ پہلے دیوتاؤں کو مخاطب کرتا تو ڈرتے ڈرتے، گڑگڑاتے ہوئے ۔۔۔ رندھی اور درد میں ڈوبی آوا ز کے ساتھ ، مگر اب کوشش کے باوجود بھی وہ اپنے اندر یہ کیفیت پیدا نہیں کر پا رہا تھا۔ راہب کی یہ بات کہ مکہ میں مبعوث ہونے والا نبی لات و منات نہیں کوئی اور ہو گا ۔۔۔ اس کے اندر کئی سوالات پیدا کر چکا تھا ۔۔۔ اس کے ذہن میں بار بار یہ سوال پیدا ہوتا کہ ان معبودوں کو ہم دیوتا کیوں مانتے ہیں؟ کیا یہ زمین و آسمان انھوں نے بنائے ہیں؟ آخر کیسے معلوم ہوا کہ یہ ہماری سفارش اللہ کے حضور پہنچاتے ہیں؟ کیا کسی نے کوئی تجربہ یا مشاہدہ کیا کہ یہ معبود آدمی کی کوئی مدد کرتے ہیں۔‘‘
آخر ان سوالوں کا ایک ہی جواب اس کے ذہن میں آتا تھا ۔۔۔ سارے لوگ ان کو مانتے ہیں۔ سبھی اس کے آگے گڑگڑاتے ہیں۔ کیا یہ سارے غلط ہیں؟ ایسا نہیں ہو سکتا! مگر پھر اسے اپنا ماضی یاد آجاتا۔ یہ ماضی اسے بتاتا کہ سارے لوگ غلط ہو سکتے ہیں۔
وہ جانتا تھا کہ انھی لوگوں میں سے کچھ لوگ اس کے ماں باپ کو حبشہ سے پکڑ لائے تھے اور مکہ لا کر انھیں بیچ دیا۔ اب معلوم نہیں اس کے والدین حبشہ میں کن خداؤں کی پرستش کرتے تھے ،کیونکہ غلام بننے کے بعد تو وہ اپنے خداؤں کو نہیں پوج سکتے تھے۔ تبھی انھوں نے بھی کعبہ کے بتوں کو پوجنا شروع کر دیا تھا جن کی پرستش ان کے آقا کرتے تھے۔ وہ خود مکہ ہی میں پیدا ہوا تھا اور اسی لیے یہاں کا ماحول اس پر اثرا نداز ہوا اور وہ آج ان معبودوں کے آگے سر جھکائے کھڑا ہے۔
بلال انھی منتشر سوچوں اور ڈانواں ڈول ایمان کے ساتھ اٹھا اور اپنے آقا امیہ بن خلف کے گھر کی طرف چل پڑا۔ وہاں خوب رونق تھی ، امیہ کا خاندان، بنو جمح اکٹھا تھا اور خوب جشن منایا جا رہا تھا۔ سبھی تجارت میں اس قدر منافع کی خوشی منا رہے تھے۔
بلال کو بجا طور پر توقع تھی کہ کوئی اس کی بھی تعریف کرے گا کہ اس کی مہارت اور چابک دستی کے سبب اس قدر منافع ہوا ،لیکن کسی نے اس کی تعریف تو دور کی بات، اس سے بات تک نہ کی۔ بلال یہ سوچتا رہا کہ کاش کوئی ہونٹ، کوئی منہ اس کی تعریف کے لیے بھی کھلے، مگر اس نے پتھروں سے امیدیں وابستہ کی تھیں اور جب امیدوں کا چراغ بجھا تو وہ ملول ہو گیا۔ دکھی ہو کر اس محفل سے نکل آیا اوراسے یاد آگیا کہ یہ آقاؤں، مالکوں اور امیروں کی محفل ہے۔ بھلا وہ ایک غلام غیر عربی اور موٹے ہونٹوں والے حبشی کی تعریف کیوں کریں!
وہ اس محفل سے الگ تھلگ ایک کونے میں بیٹھ گیا اور تمنا کرنے لگا کہ کاش وہ بھی آزاد ہوتا جو اچھا برا کرتا، اس کا مالک ہوتا، جہاں چاہتا جاتا، جہاں چاہتا نہ جاتا، مگر اب! اب تو اس کا ہر اچھا کام اس کے مالک کا ہے۔ وہ تو انسان نما جانور ہے جس کا مالک اس کا آقا ہے اور جانور کی طرح و ہی کچھ کرنے پر مجبور ہے جو اس کامالک حکم دے ۔۔۔ بلال جوں جوں سوچتا جاتا، مایوسیاں اور محرومیاں سیاہی بن کر اس کو گھیرنے لگتی۔ وہ بے خیالی سے بڑبڑانے لگا۔
میری قسمت میں یہی لکھا ہے کہ میں غلام بن کر زندہ رہوں، غلام ہی مروں، میں دیکھتا ہوں تو اپنے آقاؤں کی آنکھوں سے دیکھتا ہوں، سنتا ہوں تو انھی کے کانوں سے سنتا ہوں، عبادت کرتا ہوں تو انھی کے خداؤں کی عبادت کرتا ہوں۔
مگر پھر اسے ایک اور خیال آیا۔۔۔ یہ بھی اس کے اندر کی ایک آواز تھی۔ اور یہ آواز بھی بڑی بھرپور اور زوردار تھی۔ یہ آواز اسے ملامت کر رہی تھی اور کہہ رہی تھی :’’اے ناشکرے غلام ! بے شک تو غلام ہے، مگر کیا اوروں کی طرح غلام ہے؟ کیا تیرا مالک تجھ پر اعتماد نہیں کرتا؟ تجھے اچھے کپڑے اور بہتر کھانا نہیں کھلاتا؟ یہ اسی کی دی ہوئی عزت تو ہے لوگ تم سے محبت کرتے ہیں ۔تجھے اپنی محفلوں میں قبول کر لیتے ہیں۔
مگر اس سوچ کا ردِ عمل بڑا شدید ہوا۔ اس کے ذہن کے سارے گوشے چیخ اٹھے کہ اس کی بیدار عزت نفس اسے ملامت کرتی ہوئی بولی:
’’اے کند ذہن غلام توچند لقموں اور چند چیتھڑوں ہی پر بہل گیا! کیا تیری یہی قسمت ہے ؟ اس قدر بے وقوف ہے کہ یہ بھی نہیں جانتا کہ تیرا مالک محض تیری خوش الحانی اور ذہانت کی وجہ سے تمھیں یہ مرتبہ دیتا ہے؟ وہ تم پر تمھاری تنومندی اور شاندار صحت کی وجہ سے مہربان ہے۔ بھلا تم میں اور اس اونٹ میں کیا فرق ہے جس کی اس کا مالک اچھا اور قیمتی سمجھ کر بڑی حفاظت کرتاہے، کھانے پینے کا خیال رکھتا ہے ،مگر ضرور پڑنے پر اسے بیچنے یا ذبح کرنے سے دریغ نہیں کرتا۔۔۔‘‘
شاید اس کی سوچوں کے بے لگام گھوڑے اسے مزید دور لے جاتے ،مگر کچھ آوازوں نے اسے خیالوں کے اس بھنور سے نکال لیا۔
اسے پکارنے والے قریش کے نوجوان تھے۔ وہ اس سے کوئی دلکش نغمہ سننے کی فرمائش کرنے لگے۔

***

خاصے دنوں بعد ایک عجیب واقعہ ہوا ۔۔۔
یہ رات کا وقت تھا۔ سب لوگ سو ئے ہوئے تھے۔ رات کا سکوت اور سکون پوری بستی پر چھایا ہوا تھا۔ اس عالم میں قبیلہ بنو تمیم کے گھروں میں سے ایک گھر کا دروازہ کھلا۔ ایک دبلا پتلا ، مگر چست اور تیز طرار شخص باہر نکلا۔ اس نے دروازہ اسی آہستگی سے بند کیا جس آہستگی سے اسے کھولا تھا۔ باہر نکلا تو اس کے چہرے پر چاند کی روشنی پڑی اور چہرہ روشن ہو گیا۔ اس کے چہرے پر جسم کی مناسبت سے گوشت زیادہ نہیں تھا۔ وہ احتیاط سے قدم بڑھانے لگا۔ رخ بنو جمح کے محلے کی طرف تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ بنو امیہ کے گھر کے سامنے کھڑا تھا۔ چند لمحوں کے توقف کے بعد وہ حویلی کے اس حصے کے سامنے تھا جو غلاموں کے لیے وقف تھا۔ وہ ایک کمرے کے پاس آیا اور ادھر ادھر دیکھنے کے بعد قدرے بلند سرگوشی میں بولا:
’’بلال۔۔۔ بلال!‘‘
بلال ایک غلام تھا اور غلاموں کو بہرکیف اس کی عادت ڈالنی ہوتی ہے کہ ان کی نیند گہری نہ ہو، اوروہ ہلکے سے کھٹکے کے ساتھ ہی اٹھ کھڑے ہوں۔ یہی وجہ تھی کہ بلال ان ہلکی سی آوازوں کو سننے کے بعد اٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے آواز کی سمت دیکھا اور کھڑکی کے قریب آگیا اور ایک سائے کو دیکھ کر باہر کی طرف لپکا۔ ادھر آواز دینے والا قدرے شش و پنج کا شکار تھا کہ نہ جانے بلال نے اس کی آواز سنی ہے یا نہیں۔ اس نے واپس جانے سے قبل پھر بلال کو پکارا۔ تھوڑے ہی انتظار کے بعد بلال ان کے سامنے تھا۔ وہ حیرت سے رات کے اس حصے میں ایک غلام کو یوں چوری چھپے پکارنے والے کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے پہچان چکا تھا بلال حیرت سے بولا:
’’ابوبکر۔۔۔ آپ! اس وقت!! خیریت تو ہے؟‘‘
’’ہاں بلال، ایک اہم خبر ہے، بہت اہم۔ میں وہ خبر تمھیں اسی وقت سنانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’لیکن آپ مجھے صبح بھی تو بتا سکتے تھے۔‘‘
’’نہیں ۔۔۔ وہ خبر پہلے میں تمھیں سنانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’اچھا ۔۔۔ سنایئے۔‘‘
’’بلال۔۔۔ اس امت کے نبی مبعوث ہو چکے ہیں۔‘‘
’’وہ کون صاحب ہیں؟‘‘
’’محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) بن عبداللہ۔‘‘
’’لیکن آپ کو کیسے معلوم ہوا۔‘‘
ابوبکرؓ،بلال کا سوال سن کر بولے: ’’دراصل میں یہ سرگوشیاں خاصے دنوں سے سن رہا تھا کہ محمد (ﷺ) بن عبداللہ اپنے آپ کو اللہ کا نبی کہتے ہیں۔ انھوں نے اپنے گھر پر اپنے قریبی رشتے داروں کو کھانے کی دعوت دی تھی اور انھیں یہ بات بتائی تھی اور پھر یہ بات سننے میں آئی کہ وہ لوگوں کو اپنے نئے دین کی طرف بلاتے ہیں۔ مجھے تجسس ہوا اور میں ان کے پاس پہنچ گیا اور سنی ہوئی باتوں کی بابت پوچھا۔ انھوں نے فرمایا:
’’ہاں ابوبکر، میرے بزرگ و برتر رب نے مجھے اپنا رسول بنایا ہے اور اپنی قوم کی طرف بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ اس نے مجھے ہمارے جد امجد ابراہیم علیہ السلام کے دین کو زندہ کرنے کے لیے بھیجا ہے۔‘‘
میں نے انھیں کہا: ’’اللہ کی قسم! مجھے آپ کے بارے میں جھوٹ کا کبھی تجربہ نہیں۔ آپ یقیناًرسالت کے اہل ہیں۔ اپنا ہاتھ بڑھائیے میں آپ کی بیعت کرتا ہوں۔‘‘
’’آپ نے اتنی جلدی ان کی بیعت کیوں کر لی؟ آخر ان کے پیش نظر جاہ و مال بھی تو ہو سکتا ہے!‘‘
’’نہیں اے بلال! میں ابن عبداللہ سے خوب واقف ہوں۔ انھیں مال و دولت اور مقام و مرتبے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان کے پاس خدیجہؓ اور اپنی تجارت کا بہت سا مال ہے۔ پھر وہ قریش کے اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھیں بھلا اس کی کیا حاجت۔‘‘
’’وہ تعلیم کس بات کی دیتے ہیں۔‘‘ بلال کی دلچسپی بڑھی۔
’’وہ کہتے ہیں کہ پتھر کے بنے بے جان بتوں کی پوجا چھوڑ دو ۔ ان کے دست قدرت میں کچھ نہیں، یہ محض بے جان مورتیاں ہیں اور ان کے بجائے ایک اللہ کی عبادت کرو جس نے زمین و آسمان اور اس کے درمیان کی ہر چیز کو تخلیق کیا ہے۔‘‘
ابوبکر کچھ لمحہ رکے پھر بولے: ’’اور بلال وہ کہتے ہیں کہ آقااور غلام میں کوئی فرق نہیں، یہ انسان کا عمل ہے جو اسے دوسرے سے بہتر بناتا ہے۔‘‘
’’اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ تک اپنی دعا براہ راست پہنچائی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے کسی انسانی یا غیر انسانی وسیلے کی ضرورت نہیں۔‘‘
’’اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اصل زندگی آخرت کی ہے۔۔۔‘‘
بلال سر جھکائے سوچتا رہا اور ابوبکرؓ اس کے چہرے کے تاثرات سے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے رہے وہ کس قدر متاثر ہوا ہے۔ تھوڑی دیر تک دونوں خاموش رہے پھر ابوبکرؓ ہی کو خاموشی توڑنا پڑی۔
’’بلال تمھاری کیا رائے ہے؟‘‘
’’مجھے نہیں معلوم کہ کیا رائے قائم کروں!‘‘
’’حیرت ہے بلال ۔۔۔ مجھے تمھارے متعلق یقین تھا کہ تم اس نئے دین کو ضرور قبول کرو گے اور اس قدر خوش ہو گے جس قدر میں ۔۔۔ دیکھو یہ دین تمھارے اور تمھارے آقاؤں میں فرق کو مٹا دیتا ہے۔ بھلا قریش جن بتوں کی پوجا کرتے ہیں ان کو کوئی عقلمند خدا کہہ سکتا ہے؟‘‘
’’نہیں ابوبکرؓ ،میں قریش کے خداؤں سے ہرگز متاثر نہیں، ان پر سے تو میرا ایمان شام کے سفر کے بعد ڈانواں ڈول ہو ہی چکا ہے ،لیکن میں اس بات کے متعلق سوچ رہا ہوں کہ انسان کو اپنا مذہب اس قدر جلدی نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔ نیا دین وہ چاہے کتنا ہی صحیح کیوں نہ ہو، اسے اختیار کرنے میں جلدی نہیں کرنی چاہیے۔‘‘
’’اے بلال، کوئی قریشی یہ بات کہتا تو میں اسے تسلیم کرتا ،لیکن تمھارے منہ سے یہ بات عجیب لگی۔ قریش کا دین تمھارا دین کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ لات و منات تمھارے باپ دادا کے دیوتا تو نہیں ہیں!تمھیں ان بتوں سے بھلا کیا ہمدردی؟‘‘
’’ہاں مجھے ان سے کوئی ہمدردی نہیں!‘‘
’’تو پھر تردد کس بات کا ۔۔۔ اللہ کی وحدانیت کی گواہی دو کہ اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد انا محمداً رسول اللہ۔‘‘
بلال تھوڑی دیر خاموش رہے پھر کانپتی ہوئی آواز میں شہادت کا کلمہ پڑھنے لگا۔
حضرت ابوبکرؓ کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا۔ پر مسرت آواز میں بولے: ’’بلال کل شام میں اپنے گھر میں تمھارا انتظار کروں گا۔ وہاں پر اللہ کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہوں گے۔‘‘ یہ کہہ کر انھوں نے اپنے گھر کا رخ کیا۔
بلالؓ وہیں کھڑے ابوبکرؓ کو جاتے دیکھتے رہے۔ وہ نظروں سے اوجھل ہوگئے تو واپس اپنے کمرے میں پلٹے۔ بستر میں لیٹے تو نئے دین کے متعلق سوچنے لگے۔
اگلے دن وعدے کے مطابق بلالؓ،ابوبکرؓ کے گھر پہنچ گئے۔ وہاں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی موجود تھے۔ بلالؓ آج انھیں اللہ کے رسول کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے۔ پھر انھوں نے بلالؓ سے گفتگو کی۔ اسلام کے بنیادی عقائد توحید ، رسالت، آخرت کی تعلیم دی۔ ان سے شرک نہ کرنے اور کسی پر ظلم نہ کرنے کی بیعت لی۔ ان کو حق پر قائم رہنے کی دعا دی اور کہا کہ آج بطور انسان وہ کسی سے کم نہیں۔ بلکہ ان تمام سے بلالؓ کا رتبہ بلند اور اعلیٰ ہے جو مشرک ہیں۔ بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں بلالؓ کے سینے کو فراخ کیے جا رہی تھیں۔ بے اعتمادی اور احساس کمتری کے بوجھ تلے پسنے والے بلالؓ کی روح عجیب کیفیت میں تھی۔ وہ محسوس کر رہا تھا کہ اس اعتماد اور احساس برتری نے اس کے ایک ایک رونگٹے میں طاقت اور توانائی بھر دی ہے۔
اگرچہ بلالؓ وہاں سے اٹھ آئے ،لیکن اب ان کا یہی جی چاہتا تھا کہ وہ ہر دم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل میں بیٹھے رہیں ،مگر ابھی یہ خواہش، یہ منزل بہت دور تھی ۔۔۔ البتہ انھیں جب موقع ملتا وہ چوری چھپے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور حاضر ہو جاتے اور نئے دین کی تعلیمات حاصل کرتے۔
چند دنوں کے بعد بلالؓ نے اپنے آپ سے کہا کہ جب سے اس نے اسلام قبول کیا ہے، وہ بتوں سے دور رہا ہے، ان کی طرف اس نے نظر التفات بھی نہ ڈالی اور اس کا دل ان کی نفرت سے بھرپور ہے لیکن اس کے باوجود اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا ،بلکہ اس کا دل جس اطمینان اور تسلی کی دولت سے مالا مال ہوا ہے اس کا تجربہ اسے اپنی پوری زندگی میں نہیں ہوا تھا۔ اسی احساس نے اس کے ایمان کو اور مضبوط کر دیا اور ایک صبح جب وہ کعبہ میں داخل ہوا تو وہاں پر کوئی بھی نہ تھا۔ آج وہ بتوں کی پوجا کرنے نہیں بلکہ رب کعبہ، ایک خدا کی نماز پڑھنے آیا تھا۔ اس نے پہلے ابراہیمی کی روایت کے مطابق کعبہ کا طواف کیا، پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سکھائی ہوئی نماز پڑھی اور اب اس کا رخ ان بتوں کی طرف تھا جن کے آگے وہ چڑھاوے چڑھاتا ، سر جھکاتا، فال لیتا اور ان کی ناراضی کے خوف سے آنسو بہاتا اور ڈرتا تھا۔ وہ دل ہی دل میں اپنی اس حالت پر کڑھ رہا تھا، پچھتا رہا تھا، اپنے آپ پر افسوس کر رہا تھا۔ وہ ان لوگوں کو برا بھلا کہہ رہا تھا جن کی وجہ سے وہ اس جہالت اور گمراہی میں پڑا رہا۔
بلال انھی سوچوں میں گم ہبل کے پاس گیا اس کی طرف غور سے دیکھا اور کہا:
’’اے عاجز بت، اس روز تو کہاں تھا جب تیرا ہاتھ ٹوٹ گیا اور تیرے ہی ایک پجاری نے پتھر کے بجائے سونے کا ہاتھ لگا دیا تھا۔ کاش یہ بات اس وقت میرے ذہن میں آجاتی کہ وہ خدا کیسے ہو سکتا ہے جس کا ہاتھ ٹوٹ جائے ، خدا کی قسم تمھیں اگر کوئی تھپڑ مار دے، یا تمھارے منہ پر تھوک دے تو تم اسے ہرگز نقصان نہیں پہنچا سکتے، تمھارے دست قدرت میں کوئی طاقت نہیں، اگر ہے تو دکھاؤ۔۔۔لو میں تمھار ے منہ پر تھوکتا ہوں۔‘‘
یہ کہہ کر بلالؓ نے واقعی اس کے منہ پر تھوک دیا۔
بلالؓ اپنی نفرت کا اظہار کرکے واپس پلٹ گئے ،لیکن وہ یہ نہ جان سکے کہ ایک آدمی اسے دیکھ رہا تھا۔ اس نے چھپ کر حیرت سے بلالؓ کا وہ سلوک دیکھا تھا جو اس نے ہبل کے ساتھ کیا تھا ۔۔۔
امیہ بن خلف اپنے گھر سے نکلا تو سخت پریشان تھا۔ اس کا رخ کعبہ کے ساتھ بنے ایک کمرے دارالندوہ کی طرف تھا۔ یہاں بیٹھ کر سردارانِ قریش مشورہ کیا کرتے تھے۔ دارالندوہ، اگرچہ ہمیشہ سے کعبہ کے متولیوں کے لیے مشورے کی ایک جگہ رہا تھا ،لیکن قُصّی بن کلاب نے اسے تعمیر کرکے اسے ایک منظم اور باقاعدہ ادارے کی شکل دے دی تھی۔
امیہ بن خلف کو ابوالحکم (ابو جہل)، ابو لہب اور دوسرے سردارانِ قریش کی طرف سے وہاں آنے کی دعوت دی گئی تھی اور یہ خبر بھی دی گئی تھی کہ انھوں نے محمد بن عبداللہ کے متعلق گفتگو کرنی ہے۔
امیہ اس دعوت میں شامل تھا، جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سردارانِ قریش کو اپنے گھر کھانے کی دعوت میں بلایا تھا اور ان کے سامنے اللہ کا دین پیش کیا تھا۔ دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو برا بھلا کہتے ہوئے وہاں سے اٹھ آیا تھا، اور اب اسے یہ اطلاع ملی تھی کہ محمد بن عبداللہ نے اپنی رسالت کا عام اعلان کر دیا ہے اور کئی لوگوں نے اسے قبول کر لیا ہے اس میں ابوبکرؓ ابن قحافہ، عبدالرحمنؓ بن عوف، علیؓ ابن طالب کے نام سب سے نمایاں تھے اور یہ کوئی عام آدمی ہرگز نہیں تھے۔ امیہ سوچ رہا تھا کہ اگر دین کی یہ تبدیلی اسی طرح جاری رہی تو پھر پورے عرب میں ان کی جو عزت اور مقام بنا ہے، وہ خاک میں مل جائے گا۔
اسی سوچ میں تھا کہ اسے سامنے اپنا گہرا دوست عبد عمرو جاتا ہوا دکھائی دیا اس نے آواز دی:
’’اے عبد عمرو ۔۔۔ اے عبد عمرو!‘‘
مگر اس نے کوئی جواب نہ دیا۔ امیہ کو حیرت ہوئی کیونکہ وہ کوئی اس سے اتنا دور تو تھا نہیں کہ اس کی آواز اس تک نہ پہنچ رہی ہو ۔۔۔ خیر ۔۔۔ اس نے دوبارہ پکارا ،مگر پھر اسے کوئی جواب نہ ملا۔ آخر وہ بھاگتا ہوا اس کے قریب پہنچا اور بولا:
’’میں نے پہلے سنا تھا ،مگر اب دیکھ لیا ہے کہ تم اپنے پرانے دوستوں سے بیزار ہو گئے ہو۔ تم نے محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) کا وہ دین قبول کر لیا ہے اوریہ اسی دین کا کمال ہے کہ اب تم اس نام سے بھی بیزار ہو گئے ہو جو تمھارے باپ دادا نے رکھا تھا۔‘‘
’’تو پھر تم اچھی طرح جانتے ہو گے کہ مسلمان ہونے کے بعد میرا نام عبدالرحمن رکھا گیا ہے۔‘‘ انھوں نے کسی قدر درشتی سے کہا۔
’’میں کسی رحمان کو نہیں جانتا، مجھے کوئی اور نام بتاؤ جس سے میں تمھیں پکار سکوں۔‘‘ امیہ نے بگڑتے ہوئے کہا۔
’’امیہ، تم میرے دوست ہو، تم جس نام سے چاہے مجھے پکارو ،مگر وہ نام تم نہیں لے سکتے جس کو میں نے ترک کر دیا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے، میں تمھیں ’’عبدالالہ‘‘ کہہ کر پکارتا ہوں۔‘‘
’’ہاں یہ نام بھی ٹھیک ہے۔‘‘
اب دونوں میں گفتگو ہونے لگی۔ اس گفتگو کا موضوع بھی عبدالرحمنؓ بن عوف کا نیا اختیار کردہ دین ہی تھا اور پھر بہت جلد دونوں کی گفتگو تلخی اختیار کر گئی اور وہ ایک دوسرے کو عقل سے کام لینے کا مشورہ دیتے ہوئے اپنی اپنی راہ لگ گئے۔ امیہ جب دارالندوہ پہنچا تو بہت جھلایا ہوا تھا عبدالرحمنؓ بن عوف کی باتوں نے اسے سخت غصہ دلا دیا تھا۔ یہاں بھی اسی موضوع پر بات ہو رہی تھی ، امیہ، ابوجہل اور ابولہب تینوں کی یہ متفقہ رائے تھی کہ محمد (صلعم) نے جس نئے دین کی بنیاد ڈالی ہے، اسے پوری قوت سے کچل دینا چاہیے ،کیونکہ یہ آباؤ اجداد کی توہین کے مترادف ہے۔
محفل میں گفتگو ابھی جاری تھی کہ ایک شخص اندر داخل ہوا اور سیدھا امیہ کی طرف بڑھا۔اس کے قریب آ کر اس نے کان میں کھسر پھسر کی۔ اس کے نتیجے میں امیہ کا رنگ سرخ انگارہ ہو گیا اور اس کی آنکھوں سے شعلے نکلنے لگے۔ اس نے بے یقینی سے آنے والے شخص سے پوچھا:
’’کیا تجھے یقین ہے۔‘‘
’’پورایقین ہے ۔۔۔ میں نے کئی مرتبہ اسے محمد (صلعم) کے پاس جاتے دیکھا ہے اور ایک اور بات بھی میں نے دیکھی ہے۔ مگر اس کو بیان کرنے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے، کاش میں نے یہ نہ دیکھا ہوتا۔‘‘
’’ایک بری خبر تو تم سنا ہی چکے ہو، چلو ایک اور سہی۔۔۔ بولو، تم نے کیا دیکھا!‘‘
’’میں نے دیکھا ۔۔۔ میں نے دیکھا کہ وہ ہبل عظیم کے چہرے پر تھوک رہا تھا۔‘‘
اب جذبات کو قابو میں رکھنا امیہ کے بس سے باہر تھا۔ دھاڑتے ہوئے بولا: ’’ہائے بد بخت غلام۔‘‘
اتنا کہہ کر وہ اٹھ بیٹھا۔ اس کے دل و دماغ میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف نفرت اور اپنے غلام پر غیض و غضب کے جھکڑ چل رہے تھے۔ اس نے تہیہ کر لیا کہ وہ اپنے غلام کو ایسی سزا دے گا کہ اس قبیل کے لوگوں کو پھر اس طرح کی حرکت کی ہمت نہ ہو۔
ابوجہل اگرچہ واقعے کی نوعیت سمجھ چکا تھا لیکن پھر بھی بولا: ’’کیا ہوا، خیریت تو ہے؟‘‘
’’نہیں۔۔۔ میرے غلام نے محمد(صلعم) کا دین قبول کر لیا ہے۔ اس نے لات و عزیٰ کے ساتھ کفر اختیار کر لیا ہے۔‘‘
’’یہ بہت برا ہوا ۔۔۔ اس سے گڑبڑ اور پھیلے گی۔‘‘ ابوجہل بڑبڑانے لگا۔
’’اگر یہ اطلاع درست ہوئی تو اے حقیر غلام تمھاری خیر نہیں، تمھاری تباہی مقدر ہو گئی!‘‘
امیہ غیض و غضب سے ابلتی ہوئی ہنڈیا کی طرح بڑبڑارہا تھا۔
ابوجہل نے اس کے غصے کو مزید بڑھاتے ہوئے کہا: ’’امیہ، تم اپنے اس حقیر غلام کی طرف جاؤ، اسے ادب سکھاؤ، اسے ایسی سزا دو کہ اس کی ہولناکی سے ان صابیوں (دین بدلنے والا) کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں اور اپنے دل سے رحم نکال دینا، اس قسم کے کافر رحم یا شفقت کے مستحق نہیں۔ جاؤ امیہ، چلے جاؤ ۔۔۔ میری آنکھیں اس وقت تک ٹھنڈی نہیں ہو سکتیں جب تک اپنے خداؤں کے اس وقار کو واپس نہیں لے آتا۔ جسے محمد (ﷺ) نے ختم کرنے کی کوشش کی ہے اور قریش کے سردارو ۔۔۔ تم سب میرا اعلان سن لو ۔۔۔ میں محمد (ﷺ) سے اب کھلم کھلا جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔ اس کی رشتہ داری اور قرابت داری اب میرا راستہ نہیں روک سکے گی۔ میں اسے طرح طرح کی سزاؤں کا مزا چکھاؤں گا۔ تم ہمارے لیے ایسی عار اور ذلت لائے ہو جو کبھی کوئی شخص نہیں لایا۔‘‘
ابوجہل بدکلامی کرتا رہا اور قریش کے دوسرے سردار سنتے رہے۔ امیہ وہاں سے جلد ہی چلا گیا۔ گھر کی طرف جاتے ہوئے اس کے کانوں میں ابوجہل کے الفاظ گونج رہے تھے۔ بلال کے کمرے میں پہنچا تو اس کے کانوں میں بلال ہی کی شیریں آواز آئی۔ اس نے غور سے سنا تو حیران رہ گیا۔ یہ کلام نہ شاعری تھی نہ نثر۔ کوئی عجیب ہی کلام تھا۔ امیہ پہچان چکا تھا کہ یہ اسی طرح کا کلام ہے جو محمد (ﷺ) نے انھیں سنایا تھا۔ وہ بڑبڑایا:
’’بے شک اسی کلام نے بلال پر جادو کیا ہے۔ محمد (ﷺ) کا قرآن اسی طرح کا ہے۔ اے بلال تمھارا راز ظاہر ہو گیا، تو نے لات اور عزیٰ سے کفر کیا۔‘‘
وہ آندھی کی طرح آگے بڑھا اور سیدھا کمرے میں گھس گیا۔ بلال کے سامنے اب اس کے آقا کا ایک نیا روپ تھا۔ اس کا آقا غصے کی شدت سے کانپ رہا تھا ،مگر بلالؓ گھبرائے نہیں، سکون اور اطمینان سے آقا کے ردِ عمل کا انتظار کرنے لگے۔
امیہ گرجا: ’’تو کیا پڑھ رہا تھا؟‘‘
’’اللہ کا کلام۔‘‘
’’کون سے اللہ کا کلام ۔۔۔ اور یہ تو نے اللہ سے کلام کرنا کب سے شروع کر دیا؟‘‘
’’یہ کلام اللہ نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے۔‘‘
’’بالکل جھوٹ ۔۔۔ غلط۔‘‘ امیہ غصے میں معلوم نہ جانے کیا کیا بک گیا۔
’’میرے رب کی قسم، یہ بالکل برحق کلام ہے۔‘‘
’’اے حقیر کیڑے، یہ تو کس رب کی بات کررہا ہے، کون ہے تیرا رب؟‘‘
’’آسمانوں اور زمینوں کا رب، اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اس کا رب، وہ جو ہر قسم کے عیب اور نقص سے پاک ہے۔‘‘
امیہ گرجا: ’’بس کر اے گندے غلام، ورنہ میں تیری جان نکال لوں گا، تو نے کفر کیا، ایسے شخص کی پیروی کی جس پر جادو ہو چکا ہے!‘‘
’’میں نے کفر نہیں کیا۔ اللہ نے مجھے سیدھا راستہ دکھایا ہے۔‘‘ امیہ کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا۔ اس نے بلال کو زوردار طمانچہ رسید کیا اور چیخ کربولا:
’’نافرمان غلام ۔۔۔ تمھارے لیے ہرگز جائز نہیں کہ اپنی خواہش کی پیروی کرے۔ اپنی مرضی کرے، تمھیں کیسے جرات ہوئی کہ اپنے آقاؤں کے خداؤں کو چھوڑ کر کوئی اور اللہ بنا لے۔ تو میرا غلام ہے، میری ملکیت، تجھے وہی کرنا ہو گا وہی ماننا ہو گا جس کا میں تمھیں حکم دوں!‘‘
بلال نے اپنی آواز کو دھیما کرکے کہا: ’’آقا، میں مانتا ہوں کہ میں آپ کا غلام ہوں ، میرا جسم آپ کا غلام ہے ،لیکن میری روح آپ کی غلام نہیں!‘‘
’’میں تمھارے جسم سے اس روح کو نکال باہر کروں گا۔ اے غلام ابن غلام، کیا تو اپنی سرکشی میں بڑھتا چلا جائے گا؟ میری حکم عدولی بھی کرتا جائے گا؟‘‘
’’نہیں میں آپ کی حکم عدولی نہیں ، اپنے رب کے فرمان کی اطاعت کرتا ہوں۔‘‘
’’اے کالی عورت کے بچے، لات و عزیٰ کی قسم میں تجھے ضرور سزا دوں گا۔‘‘ اس کے بعد امیہ نے چیخ چیخ کر سارے لوگوں کو بلایا اور حکم دیا کہ بلال کے جسم پر اچھے اور قیمتی کپڑے اتار لیے جائیں اور اسے بوسیدہ کپڑے پہنا کر کال کوٹھڑی میں بند کر دیا جائے اور اسے اس وقت تک بند رکھا جائے جب تک یہ اپنے پرانے دین پر واپس نہیں آجاتا۔‘‘
نوکروں نے حکم کی تعمیل کی۔ بلال کو بوسیدہ کپڑے پہنا دیے گئے اور امیہ نے ان کی گردن میں مونج کی ایک بٹی ہوئی موٹی رسی ڈال دی اور اسے کھینچتے ہوئے بولا:’’ اگر تو نے میری بات نہ مانی تو میرا عذاب اور خوف ناک ہو جائے گا۔‘‘
’’نہیں آقا ۔۔۔ اللہ کے عذاب سے کسی کا عذاب خوف ناک نہیں۔‘‘
بلال کی بات امیہ کے منہ پر طمانچے کی طرح لگی اور وہ دیوانوں کی طرح ان کی رسی کھینچنے لگا۔ بلالؓ کو گردن پر شدید جھٹکے لگ رہے تھے، لیکن ان کے منہ سے اف تک نہ نکلی۔ بلال کا یہ حوصلہ دیکھ کر امیہ نے اسے کوٹھڑی میں بند کر نے کا ارادہ ترک کر دیا اور محلے کے لڑکوں کو بلایا اور کہا:
’’یہ تمھارا شکار ہے۔ جاؤ اسے مکے کے پہاڑوں پر لے جاؤ اور خوب گھسیٹو، بھگاؤ، گراؤ،مارو۔‘‘ لڑکے اپنا شکار لے کر چلے گئے۔ وہ چیختے چلاتے شور مچاتے بلالؓ کو گھسیٹنے لگے۔ راستے میں لوگ پوچھتے کہ کیا بات ہے تو وہ جواب دیتے: یہ لات کا منکر ہے، یہ عزیٰ کو جھوٹا خدا کہتا ہے۔ یہ قوم کے دین کو چھوڑ چکا ہے۔ ‘‘ یہ سن کر لوگ گندی گالیاں دیتے، برا بھلا کہتے۔ نفرت سے تھوکتے، مگر بلالؓ کو کسی کی پروا نہ تھی۔ وہ خاموش رہے۔ یہ جلوس سارا دن مکے کی گلیوں میں پھرتا رہا۔ سارے شہر کے شرارتی لڑکے تازہ دم ہو ہو کر ان کے ساتھ یہ سلوک کرتے رہے اور بلال خاموشی سے یہ ستم سہتے رہے۔
جب یہ جلوس خانہ کعبہ کے قریب پہنچا تو شور زیادہ ہو گیا، بلالؓ نے بھی با آواز بلند ’’احد احد ، کے نعرے شروع کر دیے۔‘‘
شام تک یہی سلوک ہوتا رہا۔ اب لڑکے تھک چکے تھے۔ وہ انھیں واپس امیہ کے گھر لے آئے اور امیہ نے انھیں کال کوٹھڑی میں بند کرنے کا حکم دیا۔
امیہ کو اس سارے دن کی کارروائی کی رپورٹ بھی مل چکی تھی کہ انھیں دن بھر بے عزتی سے مکہ کی گلیوں میں پھرایا اور گھسیٹا جاتا رہا ہے۔ امیہ نے سوچا کہ یقیناًاس قدر ذلت اور بے عزتی کے بعد بلالؓ کا اسلام کمزور پڑ چکا ہو گا۔ یقیناًوہ اب گھبرا چکے ہوں گے اور اپنے پرانے دین پر واپسی کا کوئی راستہ تلاش کر رہے ہوں گے۔ یہ سوچ کر امیہ بلالؓ کی کوٹھڑی کی طرف چل دیا۔
امیہ ان کے پاس گیا لیکن بلالؓ اس کے احترام میں کھڑے تک نہ ہوئے ، بلکہ انھوں نے اس کے آنے کی پروا بھی نہ کی۔ امیہ نے یہ بے عزتی نظر انداز کر دی اور بے پناہ اپنائیت اور نرمی سے کہا:
’’بلال! کیا تم اب بھی لات اور عزیٰ کا انکار کرتے ہو؟‘‘
’’احد، احد!‘‘بلال نے اسے براہِ راست مخاطب کرنا بھی مناسب نہ سمجھا اور محض ایک اللہ کا نعرہ لگا کر اپنے فیصلے کا اظہار کر دیا۔
’’بلال۔۔۔‘‘ امیہ کے لہجے سے نرمی کا لبادہ اترنے لگا۔
’’حد سے مت بڑھو، یاد رکھو تمھاری روح بھی میری غلام ہے!‘‘
بلالؓ کا ایک ہی نعرہ تھا: ’’احد ۔۔۔ احد!‘‘
امیہ کے لیے بلالؓ کا یہ نعرہ گالی بن گیا تھا۔ لگتا تھا یہ لفظ اس کے منہ پر تھپڑ کی طرح لگتا ہے۔وہ منہ سے تھوک اڑاتا ہوا انتہائی غصے میں چیخا:
’’اے کالی کلوٹی عورت کے بیٹے! یہ لفظ بولنا چھوڑ دو ۔۔۔ ورنہ ۔۔۔ ورنہ۔۔۔ میں تمھیں کسمپرسی کی موت ماروں گا۔‘‘
’’بلالؓ نے ایک مرتبہ پھر اس کے منہ پر تھپڑ مارا۔ ’’احد ۔۔۔ احد!‘‘
امیہ دانت کچکچاتا ہوا ان کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھا۔ ’’لات اور عزیٰ کی قسم! میں تمھیں جان سے مار ڈالوں گا۔‘‘
اس نے بلالؓ کی گردن دبوچ لی اور پوری قوت سے اپنے پنجے اس کی شاہ رگ پر جما دیے پھر یکدم اس نے ہاتھ ڈھیلے کر دیے اور خونخوار آواز میں بولا:
’’نہیں، اگر میں نے تمھیں قتل کر دیا تو تم میرے عذاب سے بچ جاؤ گے۔۔۔ نہیں تم ایسی آرام دہ موت نہیں مرو گے۔‘‘
اس نے بلالؓ کو دھکا دے کر گرایا اور واپس دروازے کی طرف پلٹنے کے لیے مڑا۔ اس کے قدم ابھی دہلیز ہی پر تھے کہ بلالؓ نے اس کی روح پر پھر ہتھوڑے برسائے۔
’’احد ۔۔۔ احد ۔۔۔ احد!‘‘
’’اور اللہ کی قسم! اگرمجھے معلوم ہو کہ اس لفظ کے علاوہ تمھیں کسی اور لفظ سے بھی تکلیف پہنچتی ہے تو میں وہ بھی کہتا۔‘‘
امیہ بے چین ہو کر باہر چلا گیا۔
اگلا دن بلالؓ کے لیے پہلے دن سے بھی زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوا۔ پورا دن انھیں کسی بے جان پتلے کی طرح گھسیٹا اورر گیدا گیا۔ ان کے پائے استقلال میں کوئی فرق نہ آیا۔ ان کو مارنے والے، ستانے والے، گالیاں بکنے والے تھک جاتے، اکتا جاتے مگر بلالؓ تو یوں دکھائی دیتے کہ وہ ایک پہاڑ ہیں جسے لوگ ہلانے کی کوشش کر رہے ہیں اور اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ یہ سلسلہ ایک دو روز نہیں کئی دن جاری رہا اور ایک دن تنگ آ کر امیہ نے ابوجہل سے کہا:
’’اے ابوالحکم، ہم نے اس غلام کو طرح طرح کی سزائیں دی ہیں ،لیکن نہ جانے وہ کس مٹی کا بنا ہوا ہے۔ ٹس سے مس نہیں ہوتا۔ اس کی استقامت تو الٹا ہماری بے عزتی کا باعث بن رہی ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ کیوں نہ اب اسے قتل کر ڈالا جائے!‘‘
’’نہیں اس کے قتل میں ہماری شکست ہے!‘‘ ابوجہل نے سوچتے ہوئے کہا۔
’’ہاں شروع میں یہی کچھ میں بھی سوچتا تھا ،مگر اب یہ سب کچھ میری برداشت سے باہر ہے!‘‘
’’نہیں ہمیں اسے مسلسل سزائیں دینی ہوں گی یہاں تک کہ وہ محمد( صلی اللہ علیہ وسلم) اور اس کے رب کا انکار کر دے۔‘‘
’’یہ تمھاری بھول ہے دوست، یہ سزائیں تو اس کالے پہاڑ کے لیے لذت کا باعث بن چکی ہیں۔ میں نے کسی کالی عورت کے بچے کو اس سے بڑھ کر صبر کرنے والا نہیں پایا۔ ‘‘
’’آپ کیا کریں گے اس کے ساتھ؟‘‘
’’آج شدید گرمی کا دن ہے۔ سورج کی اس تپش میں اسے لوہے کی زرہ پہناؤں گا پھر مکہ کی پتھریلی زمین پر دھوپ میں سلاؤں گا وہ یہ سزا برداشت نہیں کر سکے گا۔ آخر انسان ہے کوئی پتھر تو نہیں کہ پگھل نہ سکے!‘‘
اور ابوجہل اپنے شیطانی منصوبے کو روبہ عمل لانے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔
حضرت بلالؓ کو باندھ کر لایا گیا۔ پھر انھیں ایک جگہ گرم گرم ریت پر لٹا دیا گیا۔ بلالؓ بیڑیوں میں بندھے ہوئے بے بسی سے گرم ریت پر تڑپتے رہے۔ چلچلاتی دھوپ کی گرم اور تیز شعائیں تیروں کی طرح جسم کو چھلنی کر رہی تھیں۔
سورج انھیں ڈستا رہا، پسینہ بہتا رہا، ان کی آنکھوں میں پڑتا رہا، تکلیف کی کوئی حد نہیں تھی ،لیکن اللہ کے دین کی محبت، اس کے رسول ﷺ کی بشارت کہ یہ دنیا تو ایک آزمایش ہے ایک امتحان ہے اس آزمائش اور امتحان میں کامیابی حاصل کرنے والے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جنت ملے گی۔ جہاں ماضی کا نہ کوئی پچھتاوا ہو گا نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ اور بلالؓ اس جنت کو حاصل کرنے کے لیے صبر کی ہر انتہا کو پار کرنے کا تہیہ کئے بیٹھے تھے۔
ادھر امیہ اور ابو جہل کچھ دیر بعد واپس آئے ان کا خیال تھا کہ بلالؓ آج ضرور ان سے معافی مانگ کر اس عذاب سے چھٹکارا پانے کی بھیک مانگیں گے۔ ابوجہل اور اس کے ساتھ ایک پوری جماعت بلالؓ کی زبان سے معافی کے الفاظ سننے کے لیے ان کے قریب آئی۔ جونھی بلالؓ کی نظر ان پر پڑی، وہ اپنی تکلیف بھول گئے خدا کے دشمنوں کو دیکھ کر ان کی قوت برداشت ایک مرتبہ پھر اپنی انتہا کو پہنچ گئی۔ اس دوران میں ابوجہل ان پر جھکا اور بولا:
’’بلال اب سناؤ، کیسے ہو؟‘‘
’’احد ۔۔۔ احد۔‘‘ ابوجہل کو یوں معلوم ہوا کہ بلالؓ نے اس کے چہرے پر مکہ کی تپتی ہوئی ریت پھینک دی ہے۔ اس کا رنگ بدل گیا، سینہ تنگ ہو گیا ۔۔۔ ایک زوردار طمانچہ بلالؓ کے منہ پر دے مارا اور حلق کے بل چیخا۔
’’اے کالی عورت کے بچے، تم ابھی تک اپنی سرکشی پر قائم ہو؟‘‘
یہ کہہ کر اس نے ارد گرد نظر دوڑائی چند قدموں کے فاصلے پر ایک بڑی سی چٹان نظر آئی اس کی آنکھوں میں پھر شیطانی چمک آئی۔ لوگوں کو مخاطب کرکے بولا: ’’چلو ، یہ چٹان اس حقیر غلام کے سینے پر رکھ دو۔‘‘
لوگوں نے مل کر بھاری بھرکم چٹان حضرت بلالؓ کے سینے پر رکھ دی۔
بوجھ سے حضرت بلالؓ کا جسم اور بھی شدت سے دکھنے لگا ،لیکن ان کے عزم اور حوصلے میں بھی اسی نسبت سے اضافہ ہوا۔ وہ دھیمی آواز میں ’’احد ۔۔۔ احد‘‘ کا توحیدی نغمہ گنگنانے لگے۔
درد حضرت بلالؓ کے چہرے پر صاف نظر آ رہا تھا ۔۔۔ پتھر کے بوجھ سے سانس بھی مشکل سے آ رہا تھا۔ آواز بھی صحیح طرح نہیں نکل رہی تھی۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ کراہنے لگے۔
بے رحم امیہ اور ابوجہل اس منظر سے لطف اندوز ہونے لگے۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ اب بلالؓ احد نہیں کہہ سکتے ،بلکہ درد انگیز آوازیں ہی نکال رہے ہیں۔ پھر انھوں نے دیکھا کہ یہ آوازیں بھی بند ہو گئی ہیں اور کچھ لمحوں بعد ان کے ہونٹ کچھ کہنے کے لیے ہلے ،مگر ان کے کانوں میں کوئی آواز نہ آئی۔ یہ منظر دیکھ کر ان کے کان کھڑے ہو گئے۔ سوچنے لگے کہ کہیں بلالؓ کے ہونٹوں پر محمدﷺ اور اس کے دین سے بے زاری کے کلمات تو نہیں نکل رہے۔
اس اشتیاق میں وہ فوراً قریب آئے اور کان لگا کر ان کے ہونٹوں سے نکلنے والے الفاظ سننے لگے۔ بلال انتہائی دھیمی اور آہستہ سی آواز میں کہہ رہے تھے:
’’احد۔۔۔ احد یہ لوگ مجھے قتل بھی کر دیں گے تو میں اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراؤں گا۔ اے ابراہیم ؑ کے رب اے یونسؑ ، موسیٰؑ اور عیسیٰؑ کے رب! مجھے نجات دے اور پھر آزمایش میں نہ ڈال۔‘‘ حضرت بلالؓ کے لب اللہ کے حضور دعا کر رہے تھے۔
دونوں کافروں کے لیے یہ منظر برداشت سے باہر تھا۔ وہ تو اس غلط فہمی میں تھے کہ بلالؓان سے التجا کرے گا ،مگر وہ اس خدائے واحد کو پکار رہے تھے، جس کا نام لینے کے جرم میں وہ سینے پر پہاڑ اٹھائے ہوئے تھے۔ ابوجہل بھی اب امیہ کی اس بات کا قائل ہو چکا تھا کہ اس غلام کو قتل کر دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔

جاری ہے۔۔۔۔۔


***