جب اسلام مدینے میں پہنچا تو ان کی عمر ۶۰ برس تھی۔ اس عمر میں انسان کا اپنے خیالات و نظریات کو بدلنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن حضرت عمروؓ بن جموح نے حق پسندی کی قابل تقلید مثال پیش کی ۔۔۔ ان کی زندگی کے ان آخری برسوں کی ایمان افروز داستان۔
مآخذ: الصور من حیاۃ الصحابہ از عبدالرحمن رافث پاشا

یہ اس زمانے کی بات ہے جب مدینہ ابھی یثرب تھا۔ یعنی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت نہیں کی تھی۔ بیعت عقبہ اولیٰ اور ثانیہ ہو چکی تھی۔
یاد رہے کہ عقبہ ایک گھاٹی کا نام ہے اور حج کے موقع پر مدینہ سے آئے ہوئے اوس اور خزرج کے بعض سردار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے اور بیعت عقبہ ثانیہ میں ایمان لانے والوں نے یہ سفارش کی تھی کہ دین اسلام کی تبلیغ کے لیے ان کے ہمراہ کسی جلیل القدر صحابیؓ کو بھیجا جائے۔ یہ ذمہ داری حضرت مصعب بن عمیرؓ کے ذمے لگائی گئی اور وہ یثرب میں آکر دین اسلام کی تعلیم دینے کا فریضہ بخوبی انجام دینے لگے۔
مصعبؓ بن عمیر کی ان مبلغانہ سرگرمیوں سے بعض لوگ بہت تنگ تھے۔ یہ وہ افراد تھے ، جو شرک کے مذہب پر سختی سے کاربند تھے اور اسلام کو نیا مذہب قرار دیتے ہوئے اس کے سخت مخالف تھے۔ عمروبن جموح ایسے ہی لوگوں میں سے ایک تھے اپنے قبیلے بنو سلمہ کے سردار تھے ۔ ان کی نہ صرف اپنے قبیلے میں، بلکہ پورے یثرب میں سخی اور بہادر انسان کی شہرت تھی۔اس وقت عمرو بن جموح کی عمر ساٹھ برس ہو چکی تھی ان کے تین بیٹے تھے۔ معوذ، معاذ اور خلاد۔
یہ تینوں بیٹے اسلام لا چکے تھے اور ان کی پیروی میں ان کی والدہ ’’ہند‘‘ بھی مسلمان ہو چکی تھیں۔ لیکن اس عظیم تبدیلی پر گھر کے سربراہ اور قبیلے کے سردار عمرو بن جموح بالکل بے خبر تھے۔ البتہ ان کے بیٹے اور اہلیہ اس بات پر پریشان تھیں کہ اگر کسی دن بڑے میاں کو حقیقت حال کی خبر ہو گئی تو بہت فساد برپا ہو گا۔ اس لیے وہ سب اللہ سے دعا مانگتے کہ گھر کے سربراہ کا سینہ بھی اللہ تعالیٰ ایمان کے لیے کھول دے۔
تینوں بیٹے باپ کے دل میں ایمان کا چراغ روشن کرنے کے لیے مختلف طریقوں پر بھی غور کرتے رہتے اور اس کے ساتھ وہ اس بات کی پوری احتیاط کرتے کہ وقت سے پہلے ان کے ایمان لانے کا راز بھی افشا نہ ہو۔ لیکن قدرت کو یہ منظور نہ تھا۔
عمرو بن جموح کی چھٹی حس بستی میں نئے دین کی آمد پر پہلے ہی بیدار تھی اور پھر انھوں نے محسوس کیا کہ ان کے گھر کے افراد کا رویہ ان سے وہ نہیں جو پہلے والاتھا۔ بلکہ اب ان کی اہلیہ اور ان کے بیٹے ان کا پہلے سے زیادہ خیال رکھنے لگے ہیں۔ تبھی انھوں نے اپنے بیٹوں پر نگاہ رکھنا شروع کر دی۔
اور پھر ایک دن عمرو بن جموح نے اپنے بیٹے معاذؓ کو مصعبؓ بن عمیر سے باتیں کرتے دیکھا۔ انھوں نے گھر آکر اپنی بیوی ہندؓ سے کہا:
’’تمھیں اپنے بیٹوں کا خیال رکھنا چاہیے ، کہیں یہ نہ ہو کہ وہ مصعبؓ بن عمیر کی باتوں میں آ کر اپنے باپ دادا کا دین چھوڑ دیں!‘‘
بیوی نے کہا: ’’آپ کا حکم سر آنکھوں پر، لیکن کیا آپ وہ بات سننا پسند کریں گے جو آپ کے بیٹے نے مصعبؓ بن عمیر سے سنی ہے؟‘‘
عمرو بن جموح غصے سے بولے: ’’ اچھا تو اس کا مطلب ہے کہ میرا بیٹا اپنے دین کو چھوڑ چکا ہے! بہت افسوس کی بات ہے ۔۔۔ اور مجھے اس کا علم بھی نہ ہو سکا!‘‘
ان کی بیوی نے فوراً کہا: ’’یہ ضروری نہیں کہ جو مصعبؓ سے ملے وہ اس کا دین بھی مان لے ۔۔۔ ہمارے بیٹے معاذ نے تو مصعبؓ کو ایک محفل میں جو بات بیان کرتے سنا، اسے یاد کر لیا ۔۔۔ آپ ذرا سنیں تو سہی کہ آخر یہ شخص لوگوں کو کیا سکھا رہا ہے؟‘‘
’’ہمیں اس شخص کا علاج کرنا پڑے گا۔‘‘ وہ غصے سے بولے پھر اپنے بیٹے کو آوازیں دینے لگے۔
بیٹے نے آ کر ان کے کہنے پر وہ باتیں سنائیں جو حضرت مصعبؓ نے بیان کی تھیں۔ ان میں سورہ فاتحہ بھی تھی۔ سورہ فاتحہ کو سن کر وہ کہنے لگے:
’’یہ تو بہت عمدہ کلام ہے ! کیا اس کی ہر بات اسی طرح کی ہوتی ہے؟‘‘
حضرت معاذؓ نے کہا: ’’ اس سے بھی شاندار ابا جان! ان کی ایسی باتیں سن کر میں تو کیا سارے لوگ مسلمان ہو رہے ہیں ۔۔۔ کیا آپ ان پر ایمان نہیں لائیں گے؟‘‘
بیٹے کی یہ بات سن کر وہ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر بولے: ’’دین بدلنا کوئی چھوٹی بات نہیں بیٹا! یہ کام بڑی سوچ سمجھ کا ہے۔ اس لیے میں اپنے معبود سے مشورہ لیے بغیر ایسا نہیں کر سکتا!‘‘
بیٹے نے کہا: ’’لیکن ابا جان، آپ کا معبود تو لکڑی کا ایک بت ہے، اس سے آپ کیسے مشورہ کریں گے؟‘‘
باپ غصے سے بولا: ’’تم میرے معبود ’’منات‘‘ کی توہین نہ کرو ۔۔۔ اور میرا فیصلہ اچھی طرح سن لو ، جب تک میں اس سے مشورہ نہیں کر لیتا میں اپنا دین نہیں چھوڑوں گا!‘‘
حضرت معاذؓ نے دیکھا کہ ان کے والد وہاں سے سیدھے اپنے بت منات کے پاس گئے ہیں۔
اس زمانے میں قبیلوں کے سرداروں نے اپنے اپنے بت علیحدہ سے بنا رکھے تھے۔وہ انھیں گھر کے خاص حصے میں رکھتے۔ حضرت معاذؓ نے والد کو اپنے بت منات کے پاس کھڑے ہوئے دیکھا۔ وہ اس سے پوچھ رہے تھے کہ کیا وہ مصعبؓ بن عمیر کی باتوں پر ایمان لے آئیں لیکن جب بت نے کوئی جواب نہ دیا تو بڑے افسردہ ہوئے اور اس سے معافی مانگتے ہوئے کہنے لگے:
’’میرے پیارے منات، آپ ناراض نہ ہوں، میں آئندہ ایسی کوئی بات آپ سے نہیں کروں گا۔‘‘
معاذؓ یہ منظر دیکھ کر سمجھ گئے کہ اب ان کے والد ایمان نہیں لائیں گے۔ وہ افسردہ دل کے ساتھ اپنے بھائیوں کے پاس گئے اور سارا حال انھیں کہہ سنایا۔
تینوں بھائیوں کو جب کوئی راستہ نہ سوجھا تو وہ اپنے دوست معاذؓ بن جبل کے پاس پہنچے۔
چاروں دوست آپس میں مشورہ کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے کہ جب تک منات کا خوف بڑے میاں کے دل سے نہیں نکلتا وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ آخر انھوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کی ایک ترکیب نکال ہی لی۔
ایک رات عمرو بن جموح کے گھر سے تین سائے نکلے۔ تھوڑی دیر بعد ان کے ساتھ ایک اور سایہ آن ملا۔ ان سب کا رخ گندگی کے ایک گڑھے کی طرف تھا۔ ان چاروں نے ایک لمبی سی بھاری چیز اٹھا رکھی تھی۔ اسے انھوں نے گندگی کے گڑھے میں پھینک دیا اور واپس چل دیے۔ انھیں یہ کام کرتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔
صبح ہوئی تو عمرو بن جموح اپنے بت کی پوجا کرنے اس کے پاس پہنچے لیکن وہ سخت حیران ہوئے۔ ان کا بت، منات اپنی جگہ سے غائب تھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ منات خود کہیں نہیں جا سکتا۔ ’’تو پھر کس نے اسے غائب کیا۔‘‘ وہ اپنے دل سے پوچھنے لگے۔ گھر والوں سے پوچھا تو انھوں نے یہ کہا:
’’بھلا ہم آپ کے بت کے بارے میں کیا بتا سکتے ہیں؟‘‘
’’آخر وہ اسے تلاش کرنے نکلے۔ پوچھتے پوچھتے وہ گندگی کے گڑھے تک جا پہنچے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا بت سر کے بل گندگی میں پڑا ہوا ہے۔ انھیں شدید غصہ آیا۔ بت کو باہر نکالا اور اچھی طرح دھوکر اسے واپس اپنے گھر لے آئے۔ خوشبو لگا کر اسی جگہ رکھا جہاں سے اسے اٹھایا گیا تھا۔ پھر اس سے مخاطب ہو کر کہنے لگے:
’’خدا کی قسم، اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ تمھارے ساتھ یہ حرکت کس نے کی ہے تو میں اسے بہت ذلیل اور رسوا کروں۔‘‘
انھوں نے اپنے طور پر معلوم کرنے کی کوشش بھی کی ، لیکن کچھ سراغ نہ لگا کہ یہ حرکت کس کی ہے۔
رات ہوئی تو پھر ان کے گھر سے چار سائے نکلے اور گندگی کے ڈھیر تک آئے۔ کل کی طرح انھوں نے پھر ایک چیز کو گندگی میں پھینکا اور خاموشی سے واپس ہو گئے۔
اگلی صبح عمرو بن جموح کا بت پھر اپنی جگہ سے غائب تھا۔ وہ بہت سٹپٹائے۔ اب انھیں خود شرم محسوس ہورہی تھی کہ وہ گھر والوں کو کیا بتائیں کہ ان کا ’’معبود‘‘ آج پھر غائب ہو گیا ہے۔ وہ خود ہی خاموشی سے باہر نکلے۔ آج پھر تلاش کرتے ہوئے کل والی جگہ پر گئے۔ منات وہیں موجود تھا اور اسی طرح گندگی سے لتھڑا ہوا تھا ۔ غصے سے بڑبڑاتے ہوئے اسے باہر نکالا اور نہلا دھلا کر اسے واپس اپنی جگہ پر رکھا۔
ان کے بیٹے خاموشی سے اپنے والد کی یہ مصروفیات دیکھتے رہے ، لیکن کسی نے جان بوجھ کر ان سے بات نہ کی۔
اگلے دن پھر یہی معاملہ ہوا اور پھر تو معمول ہی بن گیا۔ وہ صبح اٹھتے اور منات کو غائب پاتے۔ سیدھا گندگی کے ڈھیر میں جاتے اور وہ انھیں وہیں الٹا کوڑے میں گرا مل جاتا۔ جب چھٹی دفعہ وہ اسے گھر لائے تو سخت پریشان ہو چکے تھے۔ انھوں نے اپنی تلوار منات کے گلے سے لٹکائی اور بولے:
’’اے میرے منات! مجھے تو علم نہیں کہ تیرے ساتھ یہ سلوک کون کرتا ہے۔ اگر تم میں ہمت ہے تو خود اپنا دفاع کرو، یہ تلوار تمھارے حوالے کیے جا رہا ہوں۔‘‘
عمرو یہ کہہ کر جب واپس پلٹ رہے تھے تو دل میں یہ سوچ رہے تھے کہ اب بھی اگر منات نے اپنی حفاظت نہ کی تو پھر مصعبؓ بن عمیر کا کہنا صحیح ہی ہو گا کہ یہ معبود محض لکڑی یا پتھر کے بت ہی ہیں جو کسی کو فائدہ دے سکتے ہیں نہ نقصان!
ادھر رات ہوئی اور عمرو گہری نیند سویا تو وہی پراسرار سائے حرکت میں آئے انھوں نے روز کی طرح آج بھی منات کو وہاں سے اٹھایا اور گھر کے باہر لے گئے۔ معمول کے مطابق جب ان کا چوتھا ساتھی ان کی مدد کو آیا تو اس نے رسی کا سرا بھی ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا۔ اس رسی کے ساتھ ایک مردہ کتا بندھا ہوا تھا۔ انھوں نے مرا ہوا کتا منات کے گلے میں لٹکایا اور آج اسے ایک پرانے کنویں میں پھینک آئے۔
بنوسلمہ قبیلے کے لوگوں نے اس کنویں سے پانی نکالنا بند کر دیا تھا اور اب وہ اس میں کوڑا کرکٹ پھینکتے رہتے تھے۔ اپنے کام سے فارغ ہو کر چاروں سائے اپنے اپنے گھروں کو واپس ہو گئے۔
صبح ہوئی تو عمرو جلدی سے اپنے بت کی طرف گیا کہ دیکھیں آج بھی وہ غائب ہے یا اس نے اپنی بے عزتی کرنے والے سے بدلہ لے لیا ہے۔ لیکن بت کو اپنی جگہ نہ پا کر اسے بہت مایوسی ہوئی وہ بڑبڑاتا ہوا ایک دفعہ پھر اس کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔ کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد آج اس نے منات کو گندے کنویں میں دیکھا تو اسے پہلی مرتبہ بت پر بہت غصہ آیا۔ اس کے گلے میں مردہ کتے کو دیکھ کر اسے بت سے شدید نفرت ہوئی۔ منات کو مخاطب کرتے ہوئے بولے:
’’خدا کی قسم اگر تو واقعی معبود ہوتا تو تیرے ساتھ یہ سلوک کبھی نہ ہوتا۔ تو اپنی حفاظت نہیں کر سکا تو میرے کیا کام آئے گا! تم ٹھیک جگہ پہنچ گئے ہو اب اس بدبودار کتے کی لاش کے ساتھ یہیں رہو۔‘‘
اور آج وہ اسے وہیں چھوڑ کر واپس آگئے۔ گھر پہنچے تو ان کے تینوں بیٹے ان کا انتظار کر رہے تھے۔ باپ کو منات کے بغیر دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ ان کی بیوی نے پوچھا:
’’اللہ آپ کے دشمنوں کو برباد کرے، آج آپ منات کے بغیر ہی گھر واپس آگئے۔‘‘
عمرو بن جموح بولے: ’’وہ بے کار بت اپنی ٹھیک جگہ پہنچ گیا ہے۔ مصعبؓ بن عمیر اور اس کی باتوں پر ایمان لانے والے بالکل صحیح کہتے ہیں ۔ یہ بت کچھ نہیں کر سکتے۔ آؤ ہم اس نئے دین کو قبول کرکے مسلمان ہو جائیں ۔۔۔ خدا کی قسم میں ان بتوں سے بہت بے زار ہو گیا ہوں!‘‘
ان کے بیٹوں اور بیوی نے گھر کے سربراہ کے منہ سے یہ الفاظ سنے تو بہت خوش ہوئے۔ تینوں بیٹے انھیں ساتھ لے کر مصعبؓ بن عمیر کے پاس گئے۔ جہاں حضرت عمروؓ بن جموح نے اللہ کے ایک ہونے کی گواہی دی اور محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کا اقرار کیا۔
باپ کے مسلمان ہونے کے بعد تینوں بھائی اپنے دوست معاذؓ بن جبل کے پاس پہنچے۔ وہ آج بہت خوش تھے۔
دراصل وہ تین سائے جو منات کو گندگی میں پھینکتے تھے حضرت عمرو بن جموح کے تین بیٹے معاذؓ، معوذؓ اور خلادؓ تھے۔ ان کے چوتھے ساتھی حضرت معاذؓ بن جبل تھے جنھوں نے آخری دن منات کے گلے میں مردہ کتے کو لٹکایا تھا۔یہ ساری ترکیب انھوں نے اس لیے لڑائی تھی کہ ان کے بوڑھے باپ کو معلوم ہو کہ یہ بت کچھ نہیں کر سکتے، یہ تو بے جان چیزیں ہیں، لیکن انھوں نے ساری زندگی اپنے باپ کو یہ نہیں بتایا کہ یہ ان کے بیٹے ہی تھے جنھوں نے ان کے بت کے ساتھ شرارت کی تھی۔
عمروؓ بن جموح کے ایمان لانے کی خبر جیسے ہی قبیلے کے دوسرے افراد تک پہنچی، پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا ۔ مصعبؓ بن عمیر خصوصی طور پر بنی سلمہ قبیلے میں تشریف لے گئے اور سب کے حق میں دعائے خیر کی۔
عمروؓ کی ایک ٹانگ خراب تھی۔ وہ لنگڑا کر چلتے تھے۔ تیز دوڑ نہیں سکتے تھے۔ عام طور پر لاٹھی کا سہارا لیتے لیکن اس کے باوجود تلوار زنی اور تیر اندازی میں بڑے ماہر تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد ہوئی تو وہ اپنے پورے خاندان کے ہمراہ ان کے حضور دعائے خیر کے طالب ہوئے۔
عمروؓ کوشش کرتے کہ زیادہ سے زیادہ وقت اللہ کے رسولؐ کی صحبت میں گزاریں۔ اپنی زندگی کی گمراہیوں کا انھیں شدید قلق تھا۔ وہ ہمیشہ اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے اور اپنے بیٹوں کو بطور خاص نصیحت کرتے کہ انھیں اپنی ساری زندگی اللہ کے دین کے لیے وقف کر دینی چاہیے۔ وہ اپنے دوستوں سے یہ بھی کہا کرتے کہ میں کوئی ایسا کام کرنا چاہتا ہوں جس سے میرے ماضی کا شرک دھل جائے۔
انھیں بتایا جاتا کہ سچا ایمان لانے کے بعد اللہ تعالیٰ ہر گناہ معاف کر دیتا ہے ، لیکن وہ کہتے شرک بہت بڑا گناہ ہے۔ خود اللہ کا فرمان ہے کہ یہ اللہ کو گالی دینے کے مترادف ہے۔ اس لیے اس گناہ سے دامن کا صاف ہونا آسان بات نہیں۔
وقت اپنی رفتار سے گزرتا گیا اور غزوۂ بدر کا زمانہ آگیا۔جن لوگوں نے اپنے آپ کو جنگ کے لیے پیش کیا ان میں عمروؓ بھی تھے ، لیکن ان کے لنگڑے پن کی وجہ سے انھیں لشکر میں شامل نہ کیا گیا۔
جب دوبارہ اعلانِ جہاد ہوا توعمروؓ نے ایک مرتبہ پھر جہاد کی تیاری شروع کر دی۔ ان کے بیٹے تو پہلے ہی اس تیاری میں مصروف تھے۔ انھوں نے جب والد محترم کو بھی تیاریوں میں دیکھا تو ان سے گزارش کی:
’’والد محترم، آپ کا جذبہ جہاد بجا لیکن معذوری کی وجہ سے آپ کو جہاد میں شمولیت کی اجازت ملنا محال ہے۔‘‘
لیکن انھوں نے اس حقیقت کے باوجود تیاری جاری رکھی۔
بیٹوں نے ایک مرتبہ پھر انھیں سمجھایا تو وہ برا مان گئے اور شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی:
’’اللہ کے رسولؐ، دیکھیے مجھے میرے بیٹے جہاد سے روک رہے ہیں۔ آپ خود فرمائیے کہ جہاد سے محروم ہونا کس قدر سانحہ ہے!‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے تو وہ پھر گویا ہوا:
’’اللہ کی قسم، میں اس لنگڑی ٹانگ کے ساتھ جنت میں جانا چاہتا ہوں۔‘‘ ان کی مراد یہ تھی کہ میں شہادت کا رتبہ پاکر جنت حاصل کرنا چاہتا ہوں۔
ان کا یہ جذبہ شہادت و جہاد دیکھ کر آپؐ نے فرمایا : ’’اے خلاد، اپنے والد کو مت روکو، انھیں جہاد میں ضرور شامل ہونے دیں۔ ہو سکتا ہے اللہ ان کی دعا قبول کر لے!‘‘
گھر آ کر انھوں نے اپنی اہلیہ سے اس طرح کی گفتگو شروع کر دی کہ جیسے وہ میدان جنگ سے واپس نہیں آئیں گے۔ انھوں نے نصیحت کی کہ ان کے ذمے اگر کوئی قرض ہو تو ادا کر دیا جائے ۔ ان کے حق میں دعائے خیر کی جائے اور بچوں کی زندگیوں کو اللہ کے دین کے لیے وقف کر دیا جائے۔
آخر احد کے معرکے کا دن آن پہنچا۔
غزوہ احد دراصل غزوۂ بدر کا ردعمل تھا۔ ابوجہل کی موت کے بعد قریش مکہ کی قیادت ابو سفیان کے ہاتھ میں تھی۔ یہ معرکہ بھی مدینہ کی بستی سے باہر نکل کر لڑا گیا۔
حضرت عمروؓ کیونکہ لنگڑے تھے، اس لیے ان کے لیے بھاگ کر میدانِ جنگ میں دوبدو لڑنا بظاہر ممکن نہ تھا۔ البتہ وہ تیر اندازی ضرور کر سکتے تھے لیکن محض تیر اندازی تک محدود رہنا انھوں نے اپنی عزت کے منافی جانا اور سینہ تان کر یہ اعلان کیا کہ وہ میدانِ جنگ میں لڑیں گے۔ بعض صحابہؓ نے ان کی لنگڑی ٹانگ کی طرف اشارہ کیا تو وہ تلوار لے کر آگے بڑھے اور لکڑی کا سہارا لے کر بڑی تیزی سے لڑنے کا مظاہرہ کیا۔
سب لوگ ان کی تیزی دیکھ کر حیران رہ گئے۔ یوں انھوں نے اپنے بارے میں یہ تاثر غلط کر دیا کہ وہ ایک کمزور حریف ثابت ہوں گے۔البتہ ان کے بیٹوں نے آپس میں مشورہ کرکے خلادؓ کی یہ ذمہ داری لگائی کہ وہ باپ کے ساتھ رہیں گے۔
جب معرکہ شروع ہوا تو لوگوں نے عجیب منظر دیکھا۔عمروؓ آگے کی صفوں میں تھے اور پکار پکار کر کہہ رہے تھے کہ مجھے جنت کی خوشبو آ رہی ہے۔
جنگ کا پہلا مرحلہ شروع ہوا تو حمزہؓ غزوۂ بدر کی طرح ٹوپی پر شتر مرغ کا پر لگائے دشمنوں پر ٹوٹ پڑے۔ ان کے ساتھ علیؓ ابن طالب اور دوسرے جنگجو صحابہؓمعرکہ آرائی کر رہے تھے۔
غزوہ بدر کی طرح پہلے ہی مرحلے میں فریق کے دس سے زیادہ افراد خاک و خون میں نہا گئے۔ جلد ہی ان کے قدم اکھڑ گئے اور وہ میدانِ جنگ سے بھاگنے لگے۔
صحابہ کرامؓ نے ان کا پیچھا کیا اور مالِ غنیمت سمیٹنے لگے۔
دوسری طرف پہاڑ کی جانب متعین تیر اندازوں کا دستہ یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ 30 افراد پر مشتمل اس دستے کو اسلامی لشکر کے عقب میں متعین کیا گیا تھا۔ دراصل یہ واحد راستہ تھا جہاں سے مسلمانوں پر عقب سے حملہ ہو سکتا تھا۔ اسی خطرے کے پیش نظر آپؐ نے یہ دستہ متعین کیا تھا اور انھیں یہ ہدایت کی تھی کہ کسی بھی صورت میں یہ جگہ نہیں چھوڑنی۔لیکن جب قریش کا لشکر تتر بتر ہو گیا تو اس دستے نے گمان کیا کہ اب جنگ ختم ہو گئی ہے اور 25 کے قریب افراد اپنے سردار کے منع کرنے کے باوجود بھاگتے ہوئے کفار کا مال غنیمت اکٹھا کرنے میں مصروف ہو گئے۔
خالد بن ولید جو ابھی ایمان نہیں لائے تھے، جنگ کا یہ منظر دیکھ کر عقب میں گئے اور زور دارحملہ کر دیا۔ مسلمانوں کا لشکر بے خبری میں کفار کی زد میں آگیا اور اس ناگہانی حملہ پر گھبرا گیا۔ حملہ ہوتا دیکھ کر بھاگنے والے کفار بھی سنبھل گئے اور اسلامی لشکر دو اطراف سے حملوں کی زد میںآگیا۔
اس عالم میں جو صحابہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہو گئے ان میں عمروؓ بن جموح اور ان کے بیٹے خلادؓ بھی تھے۔ دونوں یکے بعد دیگرے لڑتے ہوئے شہید ہوگئے۔
جنگ کے بعدمسلمانون کے ستر شہداء میں حضرت عمروؓ اور خلادؓ بھی شامل تھے۔ آپ نے ان دونوں کے لیے جنت کی بشارت دی۔ عمروؓ بن جموح اور عبداللہؓ بن عمرو کو ایک ہی قبر میں دفنایا گیا۔ اس موقع پر آپؐ نے فرمایا: ’’ یہ دونوں زندگی میں بھی ایک دوسرے سے اللہ کی خاطر محبت کرتے تھے۔ آخرت میں بھی اکٹھے ہی اٹھیں گے۔‘‘

____________