ابوذرؓ کا شمار عرب کے ان راست باز انسانوں میں ہوتا ہے جو اسلام قبول کرنے سے پہلے دین ابراہیم ؑ پر قائم تھے۔ سیدنا عثمان غنیؓ کے دور میں دولت کی فراوانی دیکھ کر انھوں نے ایک خاص موقف اختیار کیا۔ ان کے موقف سے اگرچہ اختلاف کیا گیا لیکن ان کے اخلاص پر کسی کو شبہ نہ تھا۔ دراصل صحابہؓ جانتے تھے کہ اللہ کے رسول نے ان کے متعلق فرمایا تھا: اس زمین و آسمان نے ابوذرؓ سے بڑھ کر دل کا سچا بھلا کہاں دیکھا ہو گا!
ان کی زندگی کے یہ حالات ان کتابوں سے ماخوذ ہیں:


صور من حیاۃ الصحابہ از عبدالرحمان رافت پاشا
سیرت صحابہ از مولانا شاہ معین الدین ندوی


عرب سے شام جانے والے راستے میں ایک بستی تھی، جسے ودان کہتے تھے۔ یہاں قافلے آ کر ٹھہرتے اور انھی کی آمدن پر یہاں کے اکثر لوگوں کی گزر اوقات ہوتی۔ اگر کبھی تاجر کنجوسی سے کام لیتے یا وہ یہاں نہ ٹھہرتے یا کسی اور وجہ سے ودان کے باسی غربت کا شکار ہو جاتے تو پھر وہ ڈاکے ڈالتے اور اس طرح کے حالات میں ڈاکے ڈالنے کو اسی طرح کا فعل سمجھا جاتا جیسے آج کے زمانے میں تنخواہ پر گزارہ نہ ہونے والے شخص کا رشوت لینا۔ ودان کی اس بستی میں ایک قبیلہ تھا غفار۔ اس قبیلے کے لوگ بھی ضرورت پڑنے پر رہزنی اور ڈاکا زنی کا شغل اختیار کرتے۔
اس قبیلے کا ایک شخص جندب بن جنادہ اپنی دور اندیشی، جرات مندی اور دانش مندی کی وجہ سے بڑا ممتاز تھا۔ اس شخص کی طبیعت بہت عجیب تھی۔ وہ واقعی بہت سے پہلووں سے اپنے قبیلے کے تمام لوگوں سے مختلف تھا۔ وہ جب راہزنی پر آتا تو لوٹ مار بھی کرتا، مگر جب دانش بکھیرتا تو لوگ تب بھی حیرت سے انگلیاں منہ میں دبا لیتے۔
مثلاً جب لوگ مکہ میں حج کرنے کے دوران میں بتوں کے آگے جھکتے، نذر و نیاز دیتے تو وہ ان کا مذاق اڑاتا اور کہتا کہ بھلا ایک سے زیادہ خدا کیسے ہو سکتے ہیں۔ اور ان لکڑی اور پتھر کی مورتیوں کے آگے سر جھکانے کا کیا فائدہ؟
اس کے بجائے وہ لوگوں سے علیحدہ ہو کر عبادت کرتا۔ لوگ اس سے پوچھتے:
’’میاں یہ تم نے ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ کیوں بنا رکھی ہے؟‘‘
وہ جواب دیتا مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ اللہ کہاں ہے، بہرحال وہ جہاں بھی ہے میں اس کی عبادت کروں گا۔اور مجھے جو سمجھ میں آتا ہے، اسی طرح عبادت کرتا رہوں گا۔
جس دن مجھے معلوم ہو گیا وہ کہاں ہے ؟ کیسا ہے؟ اس کی عبادت کیسے کی جائے؟ اس دن میں ویسے ہی عبادت کروں گا۔
وہ یہ بھی کہا کرتا: ’’مجھے اندیشہ ہے کہ شرک کی وجہ سے عربوں پر کوئی عذاب نہ آجائے۔‘‘ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ عرب میں ایسے کھنڈرات کو کئی دفعہ دیکھ چکا تھا جن کے متعلق ہر ایک کو معلوم تھا کہ یہ بستیاں اللہ کی نافرمانیوں کے نتیجے میں تباہ ہوئی ہیں۔
لوگ جندب کی باتیں سنتے اور اسے ایک عجیب شخص قرار دے کر خاموش ہو جاتے۔
اس شخص کو قبیلے والے اس کی کنیت سے پکارتے تھے اور تاریخ میں بھی انھیں ان کی کنیت سے ہی جانا جاتا ہے۔ یعنی ابوذر ۔۔۔ اور غفاری قبیلے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ۔۔۔ ابوذرغفاری۔
ابوذرغفاری کی زندگی اسی طرح گزر رہی تھی۔ حق کی تلاش اور اللہ کی معرفت کے حصول میں سرگرداں دراصل وہ اس وقت کی دستیاب سنت ابراہیمی کے ماننے والے تھے۔ ایک دن انھیں ایک شخص سے ایک عجیب خبر سنائی دی۔
’’ابوذر، تمھیں معلوم ہے کہ مکہ میں ایک قریشی نے نبی ہونے کا دعویٰ کیا ہے؟‘‘
’’اچھا ۔۔۔‘‘ ابوذر نے خوش گوار حیرت سے پوچھا۔
’’اور سب سے عجیب بات تو یہ ہے کہ تمھاری طرح وہ بھی یہ کہتا ہے کہ لا الہ الا اللہ۔۔۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں!‘‘
ابوذر کے لیے یہ بڑی اہم اطلاع تھی۔ انھوں نے فوراً مکہ کی طرف رخت سفر باندھنے کا اعلان کیا لیکن بتانے والوں نے بتایا:
’’ابوذر، جلدی کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس شخص کے دعویٰ نبوت پر اس کی قوم اس کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے ۔۔۔ ‘‘
مگر یہ اطلاع ابوذر کے جوش جذبے کو کم نہ کر سکی۔ البتہ انھوں نے اپنے بھائی انیس سے کہا کہ وہ مکہ تو جا ہی رہا ہے، اس خبر کی تصدیق بھی کرتا آئے۔
انیس مکہ گیا اور پیچھے ابوذر بے چینی سے اس کا انتظار کرنے لگے۔ کچھ دنوں کے بعد واپس آیا تو ابوذر نے پہلی بات یہی پوچھی : ’’کیا خبر لائے ہو؟‘‘
وہ بولے: ’’بھائی، یہ بات درست ہے کہ ایک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور وہ نیکی کی تعلیم اور برائی سے اجتناب کا حکم دیتا ہے۔‘‘
’’لیکن یہ تو بڑی عام بات ہے۔ آپ کو تفصیل سے معلومات حاصل کرنا تھیں!‘‘ ابوذر کی ان معلومات سے تسلی نہیں ہوئی تھی ، مگر بھائی نے عذر پیش کیا۔
’’دراصل قریش محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے سخت خلاف ہیں۔ ان پر اعلانیہ عبادت اور تبلیغ کرنے کے دروازے بند کر رکھے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کے متعلق بات کرنے والے کے بھی دشمن ہو جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں تفصیل معلوم نہیں کر سکا۔‘‘
تب ابوذر نے اعلان کر دیا کہ وہ پہلی فرصت میں مکہ خود جا رہے ہیں۔ ابوذر کے بھائی اور قبیلے کے لوگ ان کی طبیعت سے خوب واقف تھے کہ انھیں اگر کسی کام سے روکا جائے تو پھر یہ اسے کرکے رہتے ہیں۔ انھوں نے کبھی انھیں اپنی کہی ہوئی بات سے پھرتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ابوذر جس بات کو راست سمجھتے ہوں اسے کرکے رہتے ہیں۔ چاہے اس کی قیمت انھیں اپنی جان، مال اور عزت ہی سے اداکیوں نہ کرنی پڑے۔ اس حوالے سے ابوذر کے بعض دوست ان پر تنقیدبھی کرتے تھے۔
بہرکیف اپنے اعلان کے مطابق جب مکہ روانہ ہونے لگے تو بھائی نے اتنی التجا ضرور کی کہ وہاں حکمت سے کام لیں اور کسی اعتماد کے آدمی سے نئے نبیؐ کے بارے میں پوچھیں۔ ابوذر نے وعدہ کیا کہ وہ ایسا ہی کریں گے۔
ابوذر مکہ پہنچے اور دستور کے مطابق آب زم زم کے چشمے کے پاس آ کر بیٹھ گئے۔ سارا دن وہ اپنی قیافہ شناسی سے کسی ایسے شخص کو تاڑتے رہے جو انھیں مطلوبہ معلومات مہیا کرے ،لیکن وہاں جو بھی آیا یا تو بتوں کا پجاری نکلا یا اس کے چہرے پر لکھی عجیب تاریکی اور جہالت انھیں اس سے مخاطب کرنے سے روکتی رہی۔ اتفاقاً وہاں سے حضرت علیؓ کا گزر ہوا۔ انھوں نے ابوذر کو غور سے دیکھا۔ ابوذر بھی انھیں اپنے اندر دلچسپی لیتے دیکھ کر چونکے۔ چنانچہ وہ ان کے قریب آئے اور پوچھا: ’’آپ اجنبی لگتے ہیں؟‘‘
’’ہاں‘‘
’’تو پھر آئیے آج ہمارے ہاں قیام فرمائیں!‘‘
ابوذر کے لیے حضرت علیؓ کی پیش کش سے انکار ممکن نہ تھا۔ کچھ سوچتے ہوئے ساتھ ہو لئے۔ رات ان کے ہاں قیام کیا ،لیکن نہ جانے کیوں انھوں نے حضرت علیؓ سے اپنی بات بیان نہ کی۔ دراصل حضرت علیؓ اس وقت عمر میں خاصے چھوٹے تھے۔ اس لیے وہ توقع ہی نہیں کر رہے تھے کہ ان کی مطلوبہ معلومات انھیں اس ’’لڑکے‘‘ سے مل جائیں گی۔ بہرکیف اگلے دن ابوذر پھر اس انتظار میں رہے کہ ہو سکتا ہے کہ اللہ کے نبیؐ خود ہی یہاں آجائیں ،لیکن ایسا نہ ہوا۔ البتہ دوسرے روز پھر حضرت علیؓ نے ان کی موجودگی کا نوٹس لیا اور ان سے پوچھا: ’’آپ کی منزل کہاں ہے؟‘‘
ابوذر نے کل والا ہی جواب دیا کہ مجھے اپنی منزل کا ابھی کچھ معلوم نہیں۔ حضرت علیؓ انھیں پھر گھر لے گئے۔ راستے میں انھوں نے پوچھا:
’’آپ اگر مناسب سمجھیں تو کیا پوچھ سکتا ہوں کہ یہاں آنے کا مقصد کیا ہے؟‘‘
ابوذر بولے: ’’اگر آپ راز رکھنے کا وعدہ کریں تو میں بتائے دیتا ہوں۔‘‘
’’آپ مطمئن رہیں۔ میرا وعدہ رہا۔‘‘
ایک عرب کے وعدے کا مطلب یہی تھا اب کچھ بھی ہو اس کا پاس کیا جائے گا۔
’’میں نے سنا تھا کہ یہاں کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس خبر کی تصدیق تو میں کر چکا پھر اپنے بھائی کو بھی یہاں بھیج چکا ،لیکن تسلی نہیں ہوئی اور اب میں خود آیا ہوں۔‘‘
’’بخدا! اجنبی، آپ نے نیکی کا راستہ پا لیا۔ آپ نے بالکل ٹھیک آدمی سے بات کی۔ اب میں آپ کو سیدھا انھی کے پاس لے جاتا ہوں۔ میرے پیچھے چلتے رہیں۔ میں جس گھر میں داخل ہوں گا، آپ بھی چلے آئیے گا اور اگر راستے میں کچھ خطرہ محسوس ہوا تو میں جوتا درست کرنے کے بہانے دیوار کے ساتھ لگ کر رک جاؤں گا مگر آپ آگے بڑھتے جائیے گا۔‘‘
خوش قسمتی سے راستے میں کوئی خطرے کی بات نہ ہوئی اور حضرت علیؓ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔
ابوذر کی نظریں جیسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر پڑیں۔ انھیں اسی لمحے یقین آگیا کہ یہ چہرۂ مبارک کسی نبی ہی کا ہو سکتا ہے ۔ وہ فوراً بولے:
’’السلام علیکم یا رسول اللہ!‘‘
ابوذر نے ابراہیمی سنت کے مطابق سلام کیا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ’’وعلیک سلام اللہ ورحمتہ و برکاتہ۔‘‘
ابو ذر بولے: ’’مجھے اسلام کے متعلق بتائیے؟‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی آیات سنائیں۔ انھیں توحید اور آخرت کے متعلق بتایا اور ابوذر کے قلب میں توحید کی چنگاری نے ایمان کے شعلہ جوالہ کی حیثیت اختیار کر لی۔ وہ پانچویں شخص تھے جو اسلام لائے۔
ابوذرؓ کے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ابوذر، اپنے ایمان کو (قریش سے) ابھی پوشیدہ رکھنا۔ ابھی اس کے اظہار کا موقع نہیں۔ اور اب آپ اپنے قبیلے کی طرف لوٹ جائیں۔ جب مناسب موقع آئے تو واپس آجانا۔‘‘
مگر ابوذر اپنی افتاد طبع سے مجبور تھے، بولے: ’’اللہ کی قسم، یہ کام مجھ سے نہ ہو سکے گا۔ میں اپنا اسلام ہرگز نہ چھپا سکوں گا! میں ان لوگوں کے سامنے اعلان کرنا چاہتا ہوں!‘‘
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ’’اس سے تمھاری جان کو خطرہ ہے۔‘‘
’’مگر اے اللہ کے رسول ﷺاس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، مکہ سے روانگی سے قبل، ایک مرتبہ ضرور قریش کے روبرو کلمۂ حق کی گواہی دینے کو جی چاہتا ہے۔‘‘
ابوذر کی طبیعت کا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اندازہ لگا چکے تھے۔ ان کے جواب میں خاموش رہے۔ اور ابوذر وہاں سے اٹھے اور سیدھے کعبہ پہنچے۔ ان کی خواہش کے عین مطابق قریش کا مجمع لگا ہوا تھا۔ ابوذر ان کے سامنے آئے اور با آواز بلند بولے:
’’اے خاندانِ قریش ۔۔۔ سن لو ۔۔۔ میں ابوذر اعلان کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔‘‘
جیسے ہی یہ الفاظ ان کی سماعت سے ٹکرائے وہ غصے سے ان کی طرف لپکے۔ کئی ایک آوازیں ایک ساتھ اٹھیں:
’’اس بے دین کو پکڑو ۔۔۔‘‘
’’مار دو اس کو ۔۔۔ ‘‘
’’جانے نہ پائے۔۔۔‘‘
اور پھر پورے کا پورا ہجوم ان پر پل پڑا۔ گھونسے، لاتیں، تھپڑ، اگر کسی کے ہاتھ میں لاٹھی تھی تو وہ بھی۔ انھوں نے ابوذر کو آڑے ہاتھوں لیا۔
قبل اس کے کہ بپھرا ہوا قریشی مجمع ابوذر کی جان لے لیتا۔ عباس بن عبدالمطلب حرکت میں آئے۔ عباس حضورؐ کے چچا تھے اور اس تعلق کی وجہ سے وہ حضور کے لیے اپنے دل میں نرم گوشہ رکھتے تھے۔ اس موقع پر بھی وہی کام آئے۔ انھوں نے اپنے آپ کو ابوذرؓ کے اوپر گرا لیا اور چیخ چیخ کر پکارنے لگے : ’’اے قریش، تمھاری عقلوں کو کیا ہو گیا ہے ۔۔۔ تم ابوذر کو مار رہے ہو، جو غفاری قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اب تمھاری خیر نہیں، یہ ضرور تمھارے قافلوں کو راستے میں لوٹیں گے!‘‘
عباس کی یہ یاد دہانی جلد ہی موثر ہوئی اور لوگوں نے اپنے ہاتھ روک لیے۔ دراصل عباس کی بات محض ڈراوا نہ تھی۔ حملہ آور اچھی طرح جانتے تھے کہ غفاریوں سے دشمنی مول لینا اپنے تجارتی قافلوں کو غیر محفوظ کرنا ہے۔ مگر ابوذر اس وقت بھی خاصے پٹ چکے تھے اور لباس تار تار ہو چکا تھا اور چہرے پر زخم آ چکے تھے اور خون رس رہا تھا۔ لوگوں میں سے بعض نے ان کے زخم صاف کیے اور وہ واپس حضور کے پاس چلے آئے۔
انھیں اس حالت میں دیکھ کر آپؐ کو شدید رنج ہوا۔ آپؐ نے ابوذرؓ کو ہرگز کوئی شاباش نہیں دی، بلکہ انھیں قدرے خشک لہجے میں کہا:
’’ابوذرؓ! میں نے آپ کو منع کیا تھا کہ اپنا اسلام (قریش پر) ظاہر نہ کریں۔‘‘
وہ بولے: ’’آپؐ نے مجھے یقیناًروکا تھا ، لیکن میں اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھا جو چاہتا تھا کہ مشرکین کے نرغے میں جا کر ایمان لانے کا اعلان کروں۔‘‘
حضورؐ نے فرمایا: ’’اب آپ اپنی قوم میں جائیے، جو کچھ آپ کو معلوم ہوا ہے، انھیں بتائیے، یہی اسلام کی صحیح خدمت ہے اور یہی اصل کام ہے۔ اس سے آپ کی آخرت سنورے گی اور اسلام کا مقصد صرف یہی ہے کہ انسان خود کو جہنم سے بچائے۔‘‘
ابوذرؓ سمجھ گئے کہ یہ آپؐ کا حکم ہے اس لیے اس مرتبہ انھوں نے خاموشی سے سرتسلیم خم کر دیا اور کسی دوسری مہم جوئی کا خیال دل میں لائے بغیر اپنے علاقے میں چلے گئے۔
اپنے قبیلے میں پہنچے تو پہلے چھوٹے بھائی انیس سے ملاقات ہوئی انھوں نے احوال پوچھا تو بتایا کہ میں ایمان لا چکا ہوں! یہ سن کر وہ بھی مسلمان ہو گئے۔ اس طرح بہت جلد ان کے پورے گھرانے نے اسلام قبول کر لیا۔ قبیلے کے دوسرے افراد نے بھی شرک سے توبہ کرکے توحید کا اقرار کیا۔
یہ خبریں جب حضورؐ کے پاس پہنچیں تو انھوں نے ابوذرؓ کے حق میں دعائے خیر کی اور ان کو ہدایت بھجوائی کہ اپنے ہاں نماز کا باقاعدہ نظام قائم کریں۔ دراصل ابوذرؓ اسلام لانے سے قبل بھی انفرادی طور پر نماز پڑھتے تھے کیونکہ نماز روزہ اور حج دین ابراہیم کا حصہ تھا اور دین دار عرب اس پر اپنی سوچ اور سمجھ کے مطابق قائم تھے۔ چنانچہ السلام علیکم کے علاوہ حضرت ابوذرؓ کا دوسرا اعزاز یہ ہے کہ ان کے قبیلے میں سب سے پہلے نماز کا باقاعدہ ’’اہتمام‘‘ شروع ہوا۔
ابوذرؓ ہجرت تک اپنے قبیلے ہی میں مقیم رہے اور پھر پلٹ کر کبھی مکہ نہیں گئے۔ حضورؐ نے جب ہجرت کر لی تو انھوں نے اپنے قبیلے والوں سے مشورہ کیا کہ ہمیں بھی مدینہ چلے جانا چاہیے، مگر بعض لوگوں نے انھیں روکا۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ یہاں بادیہ میں رہ کر وہ اسلام کی بہتر خدمت کر رہے ہیں اور ارد گرد کے قبائل اسلام سے مانوس ہوتے جا رہے ہیں۔
کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ مدینہ میں مہاجرین کی وجہ سے اقتصادی دباؤ ہے۔ ان حالات میں غفاریوں کا وہاں جانا مزید دباؤ کا سبب بنے گا۔ چنانچہ یہی ہوا۔ غزو�ۂخندق کے بعد جب مسلمانوں کی اقتصادی حالت سنبھل گئی اور ارد گرد کے قبائل میں ان کے حلیفانہ تعلقات قائم ہو گئے تو ابوذرؓ مدینہ تشریف لے آئے۔
مدینہ آ کر انھوں نے اپنا زیادہ وقت اللہ کے رسولؐ کی محفل میں بسر کرنا شروع کر دیا۔ اسی دوران میں غزوۂ تبوک پیش آیا تو انھوں نے بڑے جوش و جذبے سے اس میں شرکت کی۔ اس وقت بڑی سختی تھی۔ لوگ چھوٹے موٹے بہانے بنا کر جنگ سے دامن بچا رہے تھے۔ حضوؐر بھی کسی کو مجبور نہیں کر رہے تھے اور اللہ کا حکم بھی یہی تھا کہ لوگوں کے ایمان کا امتحان لیا جائے۔
دراصل یہ زمانۂ قحط تھا اور مسلمان پہلی مرتبہ رومی لشکر سے نبردآزما ہونے جا رہے تھے۔ اس جنگ کی وجہ مسلمان سفیر کا قتل تھا جسے قریبی رومی ریاست کے حکمران نے قتل کر دیا تھا۔
لشکر روانہ تو ہو گیا ،لیکن راستے میں لوگ سواری کے بیمار یا بھوکا ہونے کا بہانہ بنا بنا کر بچھڑنے لگے۔
جب کوئی شخص قافلے سے بچھڑتا تو لوگ آپؐ کو اس کے متعلق بتاتے۔ اور جب وہ وعدے کے مطابق نہ پہنچتا تو صحابہؓ آپؐ سے اس کے متعلق کہتے۔ آپؐ فرماتے:
’’اگر اس کی نیت اچھی ہوئی تو بہت جلد اللہ تم کو اس سے ملا دے گا ورنہ خدا نے اسے تم سے چھڑا کر تمھیں اس کی منافقت سے محفوظ کر دیا۔‘‘
ایک مرحلہ ایسا آیا کہ آپؐ کو بتایا گیا کہ ابوذرؓ بھی بچھڑ گئے ۔۔۔ اور واقعہ بھی یہی تھا۔۔۔ ہوا یوں کہ ان کا اونٹ سست ہو گیا۔ ابوذرؓ نے اسے چلانے کی بہتیری کوشش کی، لیکن وہ واقعی بھوک پیاس سے نڈھال ہو چکا تھا۔ چنانچہ قافلہ آگے نکل گیا اور وہ اپنے اونٹ سمیت پیچھے رہ گئے۔
ابوذرؓ کو معلوم ہو چکا تھا کہ اس بیابان سے اسے اونٹ کے لیے کچھ نہیں مل سکے گا۔ اگر انھوں نے کچھ تلاش کرنے کی کوشش کی تو خود ان کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو گا اور قافلہ بھی نکل جائے گا۔ تب انھوں نے آخری فیصلہ کیا۔ اونٹ سے سامان اتارا، جو کچھ اپنی پیٹھ پر لاد سکتے تھے، لادا اور اونٹ کو اللہ کے حوالے کیا اور پیدل ہی قافلے کے پیچھے چل نکلے۔ ان کی رفتار بہت تیز تھی وہ اگلی منزل پر قافلے سے مل جانا چاہتے تھے۔
ادھر متعین منزل پر اسلامی لشکر کا قافلہ آرام کر رہا تھا کہ ایک صحابیؓ نے پکار کر کہا: ’’اے اللہ کے رسولؐ، وہ دیکھیے، ایک شخص پیدل ہی چلا آ رہا ہے!‘‘
حضوؐر کو کیونکہ معلوم تھا کہ ابوذرؓ پیچھے رہ گئے تھے اس لیے انھوں نے کہا: ’’ابوذرؓ ہوں گے!‘‘
آنے والا نزدیک ترہوا تو وہ واقعی ابوذرؓ تھے!
صحابہؓ نے شور مچا دیا کہ یہ تو واقعی ابوذرؓ ہیں۔ اس مرحلے پر آپؐ نے ابوذرؓ کے متعلق ایک عجیب بات بتائی۔ آپؐ نے فرمایا : ’’اللہ ابوذرؓ پر رحم کرے گا، وہ تنہا چلتے ہیں، تنہا مریں گے اور قیامت کے دن تنہا اٹھیں گے۔‘‘
آنے والے حالات نے ثابت کر دیا کہ حضورؐ نے ابوذرؓ کی طبیعت کو سمجھتے ہوئے جو بات کہی تھی، وہ کیسے حرف بہ حرف پوری ہوئی۔
غزوۂ تبوک کے بعد فتح مکہ کا معرکہ پیش آیا۔ اسلامی لشکر جب تیار ہوا تو جس قبیلے نے پرچم اٹھا رکھا تھا وہ حضرت ابوذرؓ ہی کا قبیلہ بنو غفار تھا۔
رسول ؐ اللہ جب تک حیات رہے، ابوذرؓ کا زیادہ سے زیادہ وقت حضورؐ کے ساتھ گزرتا۔ وہ جب بھی حضورؐ کے متعلق بات کرتے تو انھیں اپنا ’’دوست‘‘ قرار دے کر بات کرتے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی بے تکلفی کو پسند فرماتے اور ابوذرؓ سے اپنی محبت کا واضح لفظوں میں اظہار کرتے۔
مدینہ میں مسلمانوں کے سیاسی حالات کے ساتھ اقتصادی حالات بھی بتدریج بہتر ہوتے گئے، لیکن ابوذرؓ کا معاملہ اس کے برعکس تھا۔ وہ چونکہ اپنا بیشتر وقت مسجد نبوی میں گزارتے۔ آپؐ سے زیادہ سے زیادہ دین سیکھنے اور اپنی تربیت کرنے کی فکر میں رہتے اس لیے ان کی مالی حالت اچھی نہ رہی۔ دراصل وہ کہا کرتے تھے کہ لوگوں نے اگر دین کو چنا ہے تو میں نے آخرت کو اور فقر کو اختیار کیا ہے، لیکن اس فقر کے باوجود ان کی طبیعت میں ایک عجیب طرح کا جلال تھا۔ ایسا جلال جو پرعزم تھا۔ جو اپنے موقف پر کسی قسم کی مصلحت گوارا نہیں کرسکتا تھا۔ اور ان کی اس طبیعت کو دیکھتے ہوئے حضورؐ انھیں وقتاً فوقتاً نصیحتیں کرتے رہتے۔ ایک دفعہ وہ مسجد نبوی میں بیٹھے تھے کہ آپؐ تشریف لائے۔ اللہ کے رسولؐ بڑی محبت کے ساتھ ان کے پاس بیٹھے اور فرمانے لگے:
’’ابوذرؓ اگر لوگ تمھیں اس مسجد سے نکال دیں گے تو تم کیا کرو گے؟‘‘
ابوذرؓ نے بے یقینی سے اپنے آقا کی طرف دیکھا، مگر یہ جانتے ہوئے کہ جو الفاظ ان کے کانوں نے سنے ہیں، یہ ایسی زبان سے نکلے ہیں جس سے جھوٹ کا کوئی حرف بھی نہیں نکلا۔ ان کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا اور وہ بولے:
’’حضورؐ اپنے گھر چلا جاؤں گا۔‘‘
پھر ابوذرؓ کے چہرے پر پرعزم جلال کا شفق طلوع ہوا اور بولے:
’’میں اپنی تلوار نکال لوں گا!‘‘
آپ ؐ نے بڑی محبت سے ان کے کندھے پر دونوں ہاتھ رکھے اور فرمایا: ’’ابوذر، اللہ تمھاری مغفرت کرے، تلوار نہ نکالنا ۔۔۔ بلکہ جہاں وہ لے جانا چاہیں، چلے جانا۔‘‘
ابوذرؓ نے حیرت سے آپؐ کی نصیحت سنی اور پھر حضورؐ نے بھی اپنی یہ نصیحت تین مرتبہ دہرائی۔
حضورؐ کی یہ نصیحت مستقبل میں بہت کام آئی۔ اس نصیحت نے اسلامی تاریخ میں ایک اہم کردار ادا کیا۔
ابوذرؓ کے لیے حضورؐ کا یہ اظہار محبت اصل سرمایہ تھا۔ ایک دفعہ وہ صحابہؓ کی جماعت میں بیٹھے تھے۔ حضورؐ سے پوچھنے لگے:
’’اے اللہ کے رسولؐ ! آدمی اگر ایسے لوگوں سے محبت کرتا ہو، جن کے سے اعمال کرنے کی طاقت نہ رکھتا ہو، تو کیا اس کی محبت پر خلوص کہلائے گی؟‘‘
حضورؐ اپنے صحابہؓ سے سب سے بہتر واقف تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ابوذرؓ کا اشارہ لوگوں کی ان نیکیوں کی طرف ہے جو وہ اللہ کی راہ میں خیرات کرکے کماتے ہیں، چنانچہ آپؐ نے فرمایا:
’’ابوذرؓ تم جس شخص سے محبت کرتے ہو، اسی کے ساتھ ہو!‘‘
ابوذرؓ بولے: ’’میں اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت رکھتا ہوں۔‘‘
’’تم یقیناًانھی کے ساتھ ہو ، جن سے تم محبت کرتے ہو!‘‘
دنیا سے بے رغبتی کے سبب حضورؐ نے انھیں ’’مسیح الاسلام‘‘ کا لقب دیا تھا اور اکثر یہ ہوتا کہ صحابہؓ کی جماعت بیٹھی ہوتی تو سب سے پہلے آپؐ نے انھیں ہی مخاطب کیا۔
جب اللہ کے رسولؐ کی وفات کا وقت قریب آیا اور آپؐ کا مرض بڑھنے لگا تو موقع اور اجازت ملنے پر ابوذرؓ آپ ؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ ایک دفعہ حضورؐ کی طبیعت خاصی ناساز تھی تو انھوں نے بطور خاص ابوذرؓ کو بلا بھیجا۔ ابوذرؓ فوراً حاضر ہوئے۔ حضورؐ لیٹے ہوئے تھے۔ ابوذرؓ ان پر جھکے تو حضورؐ نے ان کا ہاتھ تھام لیا اور دیر تک اسے اپنے سینے سے چمٹائے رکھا۔ محبت اور تعلق خاطر کا یہ اظہار ابوذرؓ کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز تھا۔
اللہ کے رسولؐ نے جب اسی مرض میں وفات پائی تو ابوذرؓ کو بھی دنیا بے رونق اور زندگی بے مزہ لگنے لگی۔ وہ مدینہ میں آپؐ کو یاد کرکے روتے۔
حضورؐ کے بعد جب حضرت ابوبکرؓ صدیق خلیفہ بنے اور پورے عرب میں ارتداد اور بغاوت کا زہر پھیل گیا تو ابوذرؓ کو ایک مصروفیت ہاتھ آگئی اور وہ اسلامی ریاست کو لاحق اس خطرے سے نپٹنے کے لیے صحابہؓ کے ساتھ مصروف ہو گئے۔
ابوذرؓ اپنے قبیلے میں ا یک ممتاز مقام رکھتے تھے۔ ان کی طبیعت میں کسی کی غلامی ہرگز نہیں تھی۔ اس لیے کسی زمانے میں انھوں نے حضورؐ سے درخواست کی کہ ان کے لیے امارت یعنی منصب کی دعا کریں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے احباب اور عام صحابہؓ کے مزاج آشنا تھے اور ابوذر تو مدینہ میں ہجرت کے بعد زیادہ وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے پاس گزارتے تھے، اس لیے بڑی محبت سے انھیں فرمایا:
’’ابوذر! امارت ایک بڑا بار ہے۔ یہ ایک امانت ہے۔ اس کی صحیح نگہداشت نہ کی جائے تو انسان کے ہاتھ آخرت میں رسوائی کے سوا کچھ نہیں آتا۔‘‘ اور اے ابوذر تم ناتواں ہو۔‘‘
اس دن کے بعد ابوذرؓ نے کبھی امارت کی تمنا نہیں کی۔
حضرت ابوبکرؓ کے دور میں وہ مدینہ ہی میں رہے ،لیکن بالکل الگ تھلگ۔ الگ تھلگ ان معنوں میں کہ انھوں نے انتظامی معاملات میں کبھی دلچسپی ظاہر نہ کی۔ وہ گوشہ نشین اور ایک زاہد کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے ،لیکن اس کے باوجود جہاں کہیں انھیں خلاف شریعت یا ایک سطح سے نیچے کا رویہ نظر آتا ، تنقید کا حق ادا کرتے رہتے۔ ان کے اس رویے کی جھلک اس مکالمے میں صاف نظر آتی ہے جو انھوں نے مشہور انصاری صحابی ابودرداؓ سے کیا۔
حضرت ابوذرؓ ان کے مکان کے پاس سے گزرے تو کچھ مزدوروں کو ان کے ہاں کام کرتے دیکھا۔ ابوذرؓ کی حساس طبیعت نے کچھ مزدوروں کو پتھر ڈھوتے دیکھا تو فوراً ابودرداؓ کو بلا بھیجا۔ ابو درداؓ کوئی معمولی صحابی نہیں تھے ،بلکہ اپنی عبادت اور علم کی وجہ سے بڑے صحابہ میں شمار ہوتے تھے۔ اس کے باوجود وہ ابوذرؓ کے مرتبے سے اچھی طرح آشنا تھے فوراً آئے۔ ابوذرؓ انھیں دیکھتے ہی طنزیہ انداز میں گویا ہوئے:
’’ابودردا، لوگوں کی گردنوں پر پتھرا رکھوا رہے ہو!‘‘
’’نہیں بڑے بھائی، میں تو مکان بنوا رہا ہوں۔ یہ مزدور ہیں۔‘‘
’’لیکن کچھ بھی ہو، نتیجہ تو یہی ہے کہ کچھ انسان تمھاری خاطر اپنی گردنوں پر پتھر اٹھائے ہوئے ہیں۔‘‘
ابو درداؓ جان گئے کہ ابوذر کی حساس طبیعت پر یہ منظر گراں گزرا ہے، اس لیے کہا: ’’لگتا ہے اس منظر نے میرے بھائی کو تکلیف پہنچائی ہے!‘‘
ابوذرؓ بولے: ’’اس سے بہتر ہوتا کہ تم بیت الخلاء میں رہتے ،لیکن اپنا اعلیٰ مکان بنوانے کی خاطر لوگوں کو اپنا غلام نہ بناتے۔‘‘ بے چارے ابودرداؓ اس تبصرے کے بعد خاموش ہو گئے۔ دراصل وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ابوذر کے نزدیک اصل گھر آخرت کے بعد کا ہے اور رہا اس دنیا کا عارضی ٹھکانا تو اس کے لیے بھلا تردد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟
اسلامی ریاست کے وسیع ہونے کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے معاشی حالات بہتر ہورہے تھے فطری طور پر مسلمانوں کے رہن سہن میں بھی بہتری آ رہی تھی ،لیکن ابوذرؓ کے لیے یہ صورتِ حال پسندیدہ نہیں تھی۔ ان کا خیال یہی تھا کہ جس فقر و سادگی سے مسلمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں رہتے تھے، انھیں اب بھی اسی طرح رہنا چاہیے۔ وہ اپنے اس موقف کا اظہار بڑی سختی سے کرتے رہتے۔
ایک دفعہ کسی نے ان کی خدمت میں دوچادریں پیش کیں۔ انھوں نے ایک چادر اپنے استعمال میں لے لی اور دوسری غلام کو دے دی۔ گھر سے نکلے تو لوگوں نے دیکھا کہ انھوں نے ایک چادر کے دو حصے کیے ہیں۔ آدھا حصہ لنگی کی طرح ستر ڈھانپنے کے لیے باندھا ہوا ہے اور آدھا حصہ جسم پر لپیٹ رکھا ہے۔ ان کی یہ ہیئت کذائی دیکھ کر کسی نے کہا: ’’ابوذر! کیا بہتر ہوتا اگر آپ دونوں چادریں خود استعمال کرتے!‘‘
ابوذرؓ نے فوراً جواب دیا: ’’میرے دوست اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جو خود کھاؤ وہی غلاموں کو کھلاؤ اور جو خود پہنو غلاموں کو بھی وہی پہناؤ!‘‘ ابوذر کا یہ تبصرہ صاف ظاہر کر رہا تھا کہ وہ بات کا ظاہری مفہوم لیتے تھے اور بات کی گہرائی میں نہیں جاتے۔ ان کے فہم کی اس ناہمواری کے بعد میں خاصے مسائل پیدا ہوئے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ ، حضرت عمر فاروقؓ اور حضرت عثمانؓ سبھی نے ان کا وظیفہ مقرر کیا۔ یہ وظیفہ ایک با وقار زندگی بسر کرنے کے لیے کافی تھا، لیکن ابوذرؓ اس کا بیشتر حصہ خیرات کر دیتے، لوگ کہتے تو فرماتے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں وہ گویا انگارے جمع کرتے ہیں، جن سے ان کی پیٹھوں کو قیامت کے روز داغا جائے گا۔
ان کی خوراک زیادہ تر بکری کے دودھ پر مشتمل ہوتی تھی۔ اس میں بھی وہ پڑوسیوں کو شامل کرتے تھے۔ اس بات کا اچھی طرح خیال رکھتے کہ کہیں پڑوسی بھوکے تو نہیں۔ اگر اس کا ذرا بھی شک ہو جاتا تو سب کچھ ان کے ہاں جا کر پیش کر دیتے اور خود بھوکے رہتے۔
حضرت ابوذرؓ اپنی اس رائے کو ہرگز اجتہادی نہیں سمجھتے تھے، بلکہ اسے منصوص یعنی قرآن و سنت کے مطابق سمجھتے تھے، اسی دوران میں حضرت ابوبکرؓ فوت ہو گئے تو انھیں سخت صدمہ پہنچا اور وہ مدینہ سے نقل مکانی کرکے شام چلے گئے۔
حضرت عمرؓ کے دور میں وہ مدینہ میں بہت شاذ آئے اور شام ہی میں مقیم رہے۔ حضرت عمرؓ کے دور میں حکام کی مثالی درویشی اور سادگی تو انھیں بہت پسند آئی ،مگر جب حضرت عثمانؓ کے دور میں یہ رنگ نہ رہا تو وہ سخت پریشان ہوئے۔ ان کی طبیعت کی سختی اب بہت زیادہ نمایاں ہونے لگی۔ حالانکہ ایسا ہونا بلکہ فطری تھا اور اس میں خلاف اسلام کوئی بات نہ تھی۔
ایک دن ان کی ملاقات ابو موسیٰ اشعریؓ سے ہوئی۔ وہ بڑے تپاک سے ان سے ملے اور معانقہ کرنے ابوذرؓ کی طرف بڑھنے لگے تو وہ پیچھے ہٹ گئے اور بولے:
’’مجھ سے دور رہو ۔۔۔ تم عراق کی گورنری کے بعد مجھ سے ملنے کے قابل نہیں رہے۔‘‘
مگر ابو موسیٰ اشعریؓ جانتے تھے کہ ابوذرؓ دل کے برے نہیں۔ انھوں نے زبردستی ان سے معانقہ کر لیا۔ لیکن ابوذرؓ بھی، ابوذرؓ تھے۔ اپنی بات کے پکے، بولے:
’’دور رہو۔ دور رہو۔‘‘
’’میرے بھائی ابوذر!‘‘ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ ان سے چمٹ گئے۔
’’نہیں ، پہلے میرے سوالوں کا جواب دو!‘‘ وہ بضد رہے۔
ہاں ۔۔۔ میں اپنے بھائی کے ہر سوال کا جواب دینے کو تیار ہوں۔ وہ بھی سنجیدہ ہو گئے۔
’’تو پھربتاؤ ، تم نے گورنری کے زمانے میں کون سی عمارت بنائی؟‘‘
’’نہیں، کوئی بھی نہیں۔‘‘
’’تو پھر تمھاری بڑی زمین ہو گی جہاں تم زراعت کرتے ہو گے!‘‘
’’بخدا۔۔۔ ہرگزنہیں۔‘‘
’’جانوروں کے ریوڑ بنائے ہوں گے۔‘‘
’’نہیں ۔۔۔ ابوذر کچھ بھی نہیں!‘‘
ابوذرؓ نے محبت بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھا اور کہا: ’’ابو موسیٰ ؓ اب تم میرے بھائی ہو۔‘‘ یہ کہہ کر انھوں نے انھیں گلے لگا لیا۔
حضرت ابوذرؓ کی اہلیہ کا رنگ خاصا سیاہ تھا اور وہ ظاہری حسن سے عاری تھیں۔ ان سے کوئی اولاد بھی نہ تھی۔ لوگوں نے کہا کہ آپ دوسری شادی کیوں نہیں کرا لیتے۔ ابوذرؓ نے آبِ زر سے لکھنے کے قابل جواب دیا:
’’میں ایسی عورت کے ساتھ رہنا پسند کرتا ہوں جو مجھ میں تواضع پیدا کرے(یعنی عجز و انکساری) اور ایسی عورت سے محفوظ رہنا چاہتا ہوں جو مجھ میں تفاخر اور ترفع پیدا کرے!‘‘
’’اور بچے؟‘‘ پوچھنے والوں نے پینترا بدل کر دوسرا سوال کیا کہ ہو سکتا ہے ابوذرؓ اس پہلو ہی سے شکایت کا لہجہ اختیار کریں گے۔
مگر وہ گویا ہوئے: ’’اچھا ہے، اس فانی دنیا میں رہنے کے بجائے وہ آسمان میں ہی رہیں۔‘‘
حضرت عثمانؓ کے دور میں ابوذر شام ہی میں تھے اور وہاں حضرت امیر معاویہؓ گورنر تھے۔ حضرت امیر معاویہؓ اعلیٰ درجے کے منتظم تھے۔ ان کے دور میں شام نے بہت ترقی کی۔ لوگوں کے اندر خوشحالی نظر آتی تھی۔ مگر خوشحالی کا نظر آنا بھلا ابوذر کیسے برداشت کر سکتے تھے ،لیکن لوگ بھی مجبور تھے۔ زکوٰۃ و خیرات، صدقات و انفاق کرنے کے باوجود ان کے ہاں اتنی دولت رہتی تھی کہ وہ ایک اچھی زندگی بسر کر سکتے تھے مگر ابوذر قرآن کی سورۂ توبہ کی ان آیات کا حوالہ دیتے:


’’جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس کو اللہ کی راہ میں صرف نہیں کرتے، ان کو دردناک عذاب کی خوش خبری سنا دو!‘‘


اس آیت سے پہلے یہودیوں اور عیسائیوں کا ذکر ہے بعض صحابہؓ کا کہنا تھا کہ اس آیت کا تعلق انھی غیر مسلموں سے ہے ،لیکن حضرت ابوذرؓ کہتے کہ اس کا تعلق مسلمانوں اور غیرمسلموں، دونوں سے ہے۔ ان کی رائے کے مطابق کسی بھی قسم کا مال جمع کرنا گویا دوزخ کی آگ جمع کرنا تھا۔
یہ اختلاف جب گہرا ہوا تو بات شام کے گورنر حضرت امیر معاویہؓ تک پہنچ گئی۔ حضرت امیر معاویہؓ بھی اس آیت کا یہ مطلب سمجھتے تھے کہ اگر کسی مسلمان کے پاس دولت جمع ہے اور وہ تجارت اور دیگر جائز ذرائع سے کمائی گئی ہے اور اس سے زکوٰۃ اور دیگر حکومتی واجبات ادا کر دیے گئے ہیں تو ایسی دولت کا رکھنا ہرگز ناجائز نہیں۔ مگر ابوذرؓ کی رائے دوسری رہی اور انھوں نے سختی سے امراء پر تنقید شروع کر دی۔
حضرت امیر معاویہؓ نے دیکھا کہ ابوذرؓ کی تنقید سے ہو سکتا ہے مسلمانوں میں کوئی بدمزگی پیدا ہو جائے اور امن و امان کا مسئلہ کھڑا ہو جائے تو انھوں نے حضرت عثمانؓ سے گزارش کی کہ انھیں واپس مدینہ بلا لیا جائے۔
حضرت عثمانؓ نے ایسا ہی کیا اور انھیں مدینہ واپس بلا لیا۔
مدینہ آ کر ایک دن حضرت ابوذرؓ نے مشہور صحابہ حضرت کعبؓ جو پہلے یہودی ہوا کرتے تھے اور بعد میں اسلام لے آئے، سے پوچھا کہ ان کی سورہ توبہ کی مذکورہ آیت سے متعلق کیا رائے ہے؟
حضرت کعبؓ نے کہا: ’’ایسا شخص جو زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہے اور اس کے پاس مال بھی جمع ہے، اس کے بارے میں مجھے بھلائی کی امید ہے!‘‘
حضرت ابوذرؓ یہ سن کر بہت غصے میں آگئے اور بولے : ’’اے یہودی عورت کے بیٹے، قیامت کے دن ایسے شخص کے دل کو بچھو ڈنک ماریں گے!‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ ڈنڈا لے کر حضرت کعبؓ کو مارنے دوڑے۔ مگر پھر انھوں نے اپنا غصہ ضبط کر لیا ،لیکن حضرت عثمانؓ نے حالات کا رخ دیکھ لیا تھا۔ انھوں نے ابوذرؓ سے گزارش کی: ’’آپ میرے گھر تشریف رکھیں، صبح و شام اونٹنیاں آپ کے لیے دودھ دے دیں گی۔‘‘
لیکن حضرت ابوذرؓ نے کہا کہ مجھے دنیا کی ذرا بھی ضرورت نہیں۔
انھوں نے اپنی سادگی کی زندگی ابھی تک باقی رکھی تھی اس لیے مدینہ میں لوگ ان کے گرد جمع ہو جاتے اور حضرت ابوذرؓ اپنی رائے بیان کرتے کہ مسلمانوں نے سادگی چھوڑ کر اچھا نہیں کیا۔ تب حضرت عثمانؓ نے یہ محسوس کیا کہ حضرت ابوذرؓ کا مدینہ میں رہنا خود ان کے لیے مناسب نہیں۔ اس کی ایک دوسری وجہ یہ تھی بعض سازشی لوگ انھیں حکومت کے خلاف بھڑکانے کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے چنانچہ انھوں نے حضرت ابوذرؓ کو حکم دیا کہ وہ مدینہ کے قریب ایک دوسری بستی زبذہ چلے جائیں۔ (بعض روایات کے مطابق خود ابوذرؓ نے ربذہ جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔)
بہرکیف وہ اپنی بیوی کے ساتھ گاؤں چلے گئے۔ منافقین اور فتنہ پسند لوگوں نے جب یہ دیکھا تو سازشیوں نے ابوذرؓ کو بھڑکانے کا فیصلہ کیا اور فوراً ربذہ پہنچے اور حضرت ابوذرؓ کی تعریف کرنے کے بعد بولے:
’’اس شخص (حضرت عثمانؓ ) نے آپ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ بخدا آپ تو اسلام قبول کرنے والے پانچویں شخص تھے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اپنا دوست کہتے تھے۔ یہ سلوک آپ کے شایانِ شان نہیں ، اگر آپ ہمت کریں اور بغاوت پر آمادہ ہوں تو ہم آپ کا ساتھ دیں گے!‘‘
حضرت ابوذرؓ یہ سن کر سخت برہم ہوئے اور کہا: ’’اے لوگو! تم میرے اور عثمانؓ کے معاملے میں مت پڑو۔ مجھے اللہ کے رسولﷺ کا حکم اور نصیحت اچھی طرح یاد ہے۔ انھوں نے فرمایا تھا کہ اگر تمھیں لوگ مدینہ سے نکال بھی دیں تو ہاتھ مت اٹھانا اور میں تمھیں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے امیر (خلیفہ) کے خلاف بغاوت مت کرو، سازش نہ کرو، کیونکہ جس نے بغاوت کی، سازش کی، اس کی توبہ قبول نہیں ہو گی! اور یہ بھی سن لو کہ اگر عثمانؓ مجھے سولی پر بھی چڑھا دیں تو مجھے کوئی عذر نہیں ہو گا ، میں ان کی سزا کو انعام سمجھ کر قبول کرتا۔ اپنے لیے اسے بھلائی سمجھتا اور اگر وہ مجھے ربذہ کے بجائے ایک افق سے دوسرے افق یا مشرق سے مغرب میں بھیج دیتے، تب بھی میں سر تسلیم خم کردیتا۔ مجھے اپنے امیر کا حکم ماننے میں کوئی عذر نہیں!‘‘
حضرت ابوذرؓ کے اس عظیم کردار اور رویے نے ایک تو سازشیوں کا منہ بند کر دیا اور دوسرے انھوں نے اپنے عمل سے ثابت کر دیا کہ اسلامی حکومت کے ساتھ اختلاف کرنے کے کیا آداب ہیں۔ بلاشبہ وہ حکمران جماعت کی مجلس شوریٰ میں تھے۔ یعنی لوگ ان سے مشورہ لیتے تھے اور انھیں حضرت عثمانؓ اور دیگر صحابہؓ سے اختلاف تھا ،لیکن انھوں نے اس اختلاف کی آڑ میں مخالفت نہیں کی، بغاوت نہیں کی اور فتنہ و فساد برپا نہیں کیا۔
حضرت ابوذرؓ نے اپنے اس رویے کو اس شدت سے اختیار کیا کہ لوگوں نے ان کے پاس آنا بھی ترک کر دیا۔ اس سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ انسان کی نیت اگر درست ہو تو رائے کی غلطی بھی اس کے لیے نیکی کا وسیلہ بن جاتی ہے۔
انھی حالات میں ایک دن ان کی طبیعت سخت خراب ہو گئی۔ اس وقت صرف ان کی اہلیہ ان کے پاس تھیں۔ وہ ان کی یہ حالت دیکھ کر رونے لگیں۔ حضرت ابوذرؓ نے کہا:
’’اے نیک خاتون، روتی کیوں ہے؟‘‘
وہ بولیں: ’’اس وقت حالت یہ ہے کہ تمھارے اور میرے بدن پر جو کپڑے ہیں، اس کے سوا میرے پاس کوئی کپڑا نہیں! اگر اسی حالت میں تمھارا آخری وقت آن پہنچا تو میں تمھیں کفن کہاں سے لا کر دوں گی!‘‘
حضرت ابوذرؓ بولے: ’’غم نہ کرو، میں تمھیں ایک خوش خبری سناتا ہوں ۔۔۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا کہ جس کی اولاد نرینہ مر جائے اور وہ تنہا رہنے کے باوجود صبر کرے تو اللہ اس کو آگ سے بچا لے گا ۔۔۔ میرے دوست نے جب یہ بات فرمائی تھی تو ہم تین آدمی تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تم میں ایک شخص صحرا میں فوت ہو گا اور اس کی موت کے وقت وہاں مسلمانوں کی ایک جماعت پہنچے گی، میرے علاوہ باقی دونوں آدمی آبادی میں فوت ہو چکے ہیں۔ یقیناًوہ شخص میں ہی ہوں اور اب میرا آخری وقت قریب لگ رہا ہے! مجھے یقین ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہرگز غلط نہیں۔ اس لیے جاؤ، قافلہ کی گزرگاہ پر جاؤ۔ تمھیں یقیناًوہاں لوگ ملیں گے!‘‘
ان کی اہلیہ بولیں: ’’ابوذرؓ خدا آپ پر رحم کرے، کیسی باتیں کر رہے ہو۔ اب تو حجاج بھی واپس جا چکے ہیں اور جس گزرگاہ کی آپ بات کررہے ہیں وہ بند ہو چکا ہے!‘‘
ابوذرؓ نے کہا: ’’نہیں مجھے یقین ہے ۔ تم جاؤ۔‘‘
انھوں نے یہ الفاظ بمشکل ادا کیے۔ بیوی ان کا کہا رد نہ کر سکی اور بادلِ نخواستہ متذکرہ راستے کی طرف چل پڑی۔ اس نے قریب ہی ایک بڑے ٹیلے پر چڑھ کر دیکھا دور دور کسی ذی روح کے آثار نظر نہ آئے۔ وہ واپس پلٹی تاکہ شوہر کی تیمار داری جاری رکھ سکے ، مگر ابوذرؓ نے پھر اصرار کیا کہ قافلے کا سراغ لگانا جاری رکھے۔
ان کی اہلیہ پھر بھاگی بھاگی ٹیلے کی جانب دوڑیں۔ اس طرح وہ چار پانچ مرتبہ کبھی شوہر کے پاس جاتیں اور کبھی ٹیلے پر چڑھ کر لوگوں کا راستہ دیکھتیں۔
اسی کوشش میں انھیں آخر دور سے کچھ لوگ آتے دکھائی دیے۔ انھوں نے چند گھروں کی بستی میں جب ایک خاتون کو ٹیلے پر کھڑے دیکھا تو سمجھ گئے کہ بستی خالی ہے اور اس خاتون کو مدد کی ضرورت ہے۔ وہ تیزی سے حضرت ابوذرؓ کی اہلیہ کی جانب بڑھے۔ وہ انھیں جلدی سے ابوذرؓ کے پاس لے گئیں۔ انھیں دیکھ کر وہ لوگ بولے: ’’یہ کون ہیں؟‘‘
’’ابوذر غفاریؓ ‘‘
’’اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے دوست اور صحابی؟‘‘
’’ہاں وہی!‘‘
’’ان پر ہمارے ماں اور باپ قربان ہوں‘‘ یہ کہہ کر وہ ان کے قریب ہوئے اور ان کا حال دریافت کیا۔
’’ابوذرؓ بولے: ’’ آپ لوگوں کی آمد سے مجھے یقین ہوا ہے کہ میرا آخری وقت آن پہنچا ہے۔‘‘
پھر انھوں نے تفصیل سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی سنائی اور آخری وصیت کی: ’’دیکھو! اگر میرے یا میری بیوی کے پاس کوئی چادر نکل آئے تو مجھے اسی میں کفنانا اور اگر ایسا نہ ہو تو مجھے وہ شخص ہرگز کپڑا نہ دے جو ایسے گورنر یا حکمران کا ملازم رہ چکا ہو جو دولت سے زکوٰۃ دینے کے بعد اس کو جمع کرنے کا قائل ہو!‘‘
ابوذرؓ کی یہ شرط بہت بھاری تھی۔ اس قافلے میں صرف ایک نوجوان انصاری کے علاوہ باقی تمام لوگ کسی نہ کسی حیثیت سے حکومت کی خدمت انجام دیتے رہے تھے۔ حتیٰ کہ ان میں مشہور صحابی حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بھی تھے۔ وہ بھی خاموش رہے۔ اس انصاری نوجوان نے حضرت ابوذرؓ سے وعدہ کیا: ’’چچا آپ بے فکر رہیں آپ کی نصیحت کے مطابق ہی عمل کیا جائے گا۔‘‘
اس یقین دہانی کے سننے کے بعد ابوذریوں مطمئن ہو گئے جیسے انھوں نے زندگی کا مقصد پا لیا ہو۔ اس کے ساتھ ہی ان کے جسم سے جان نکل گئی۔
نصیحت کے مطابق وہیں حضرت ابوذرؓ کو کفنایا اور دفنایا گیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے ان کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ حضرت ابوذرؓ نے ترکہ میں تین گدھے ، چند بکریاں اور کچھ سامان چھوڑا۔
ابوذر کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی۔ ان کا حلیہ یہ تھا: رنگ سیاہی مائل، ڈاڑھی گھنی، سر اور ڈاڑھی کے بال سفید اور قد دراز۔
ان سے 281 احادیث مروی ہیں۔ ان میں 12 متفق علیہ ہیں۔ یعنی امام بخاری کی صحیح بخاری اور امام مسلم کی صحیح مسلم دونوں نے انھیں اپنے مجموعوں میں جگہ دی ہے جب کہ دو حدیثیں بخاری اور سات حدیثیں مفرد طور پر دونوں کتابوں میں درج ہیں۔
وہ اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت عرصہ رہے ،لیکن اپنی خاموش اور محتاط طبیعت کے باوصف وہ لوگوں سے نہ زیادہ میل جول رکھتے یا زیادہ گفتگو کرتے۔ وہ ہمیشہ تنہائی پسندی کا ثبوت دیتے۔ کسی نے نصیحت مانگی تو فرمایا:
’’لوگ موت کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ ویران ہونے کے لیے آبادیاں بساتے ہیں۔ فنا ہونے والی چیزوں کی حرص اور طمع کرتے ہیں اور باقی اور ہمیشہ رہنے والی چیزوں کو چھوڑ دیتے ہیں۔لوگوں کے لیے موت اور فقر ناپسندیدہ ہیں ،لیکن میرے لیے یہ دونوں محبوب ہیں!‘‘
ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا یہ عالم تھا کہ حضورﷺ کے دور کو یاد کرکے روتے تھے ۔ ایک دفعہ اخنف بن قیس نے دیکھا کہ ایک شخص بیت المقدس میں لمبے سجدے کر رہا ہے ۔ وہ اس کی عبادت سے بڑے متاثر ہوئے اور تھوڑی دیر بعد ان کے پاس گئے اور پوچھا:
’’کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ میں نے جفت نماز پڑھی ہے یا طاق؟‘‘
انھوں نے اس عجیب سوال کا ہرگز برا نہ منایا اور کہا ’’اگرچہ میں نہیں جانتا، لیکن اللہ ضرور جانتا ہے!‘‘
اس کے بعد کہا: ’’میرے دوست ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبر دی ہے۔‘‘
اتنا کہہ کر وہ رونے لگے۔ پھر آنسو سنبھالے اور بولے: ’’میرے دوست ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خبردی ہے۔۔۔‘‘
وہ پھر رونے لگے۔ آنکھوں سے آنسو چھلک چھلک پڑے۔
پھر سنبھلے اور پھر یہی جملہ تیسری مرتبہ دہرایا ،مگر آنکھوں نے ان کی زبان پر پھر تالا لگا دیا۔ آخر چوتھی مرتبہ وہ اپنی بات مکمل کرنے میں کامیاب ہوئے اور بولے: ’’میرے دوست ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو بندہ اللہ کو سجدہ کرتا ہے اللہ اس کا ایک درجہ بڑھا دیتا ہے۔ اس کی بدلی کو مٹا دیتا ہے!‘‘
احنف نے پوچھا: ’’اے مردِ درویش، آپ کون ہیں؟‘‘
جواب ملا: ’’ابوذر غفاری‘‘
ایک بدوی کو ان کے ساتھ کچھ دن رہنے کا اتفاق ہوا۔ وہ جانے لگا تو اس کی فرمائش پر انھوں نے یہ نصیحت کی:
’’میرے دوست صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سات نصیحتیں کی ہیں۔ مسکین کی محبت اور اس سے ملنا جلنا۔ مالی لحاظ سے اپنے سے کم تر کو دیکھنا اور بلند تر کو نظر انداز کرنا۔ کسی سے سوال نہ کرنا۔ صلہ رحمی کرنا۔ جس بات کو حق جاننا، اسے برملا کہنا ، چاہے وہ تلخ کیوں نہ ہو۔ خدا کے معاملے میں کسی کی ملامت کا خوف نہ کرنا۔ لا حول ولا قوۃ کا کلمہ ادا کرتے رہنا۔‘‘

____________