حضرت حمزہ بن عبدالمطلب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے پیارے چچا تھے۔ بھتیجے کے ساتھ محبت ہی ان کے قبول اسلام کا باعث بنی اور یہی تعلق خاطر ان کے لیے حیاتِ جاوداں کا مژدہ لایا۔ ان کی زندگی کے یہ حالات ان کتابوں سے ماخوذ ہیں:

(سیرت صحابہ از معین الدین ندوی)


یہ سن 6 نبوی کا دور تھا۔ مکہ میں ابھی تک چند لوگ ہی ایمان لائے تھے اور ان پر کفار نے جینا حرام کر چھوڑا تھا۔ مسلمان چھپ چھپ کر نمازیں پڑھتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ارقمؓ کے گھر اہل ایمان کی محفل لگایا کرتے تھے ،لیکن اس کے باوجود مسلمان ہونے والے طاقت ور قبیلوں کے لوگوں کو کفار ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے تھے ،کیونکہ اس سے ان کی حمایت میں ان کے قبیلے والوں کی طرف سے مزاحمت کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔ ان حالات میں کفار یا تو ان مسلمانوں کو تنگ کرتے جو غلام ہوتے مثلاً حضرت بلالؓ یا ایسے لوگوں کو جن کا کسی قبیلے سے تعلق نہ ہوتا مثلاً حضرت صہیبؓ رومی یا پھر ان غریب مسلمانوں کو جو کسی مضبوط قبیلے سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ مثلاً آل ابن یاسرؓ وغیرہ۔
چنانچہ جسمانی ایذا رسانی کے لیے کفار اس موقع کی تاڑ میں رہتے کہ کب ان کا شکار انھیں اکیلے میں ملے اور ان کا ہاتھ روکنے والا کوئی نہ ہو۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی کفار کی اسی روش کا سامنا کرنا پڑتا۔
ایک دن خانہ کعبہ میں آپؐ لوگوں کو اسلام کے متعلق بتلا رہے تھے کہ ابو جہل وہاں آنکلا۔ آپ کو دیکھتے ہی وہ ہتھے سے اکھڑ گیا۔ وہ عین لوگوں کے درمیان میں بھی آپ سے بدکلامی سے باز نہ آتا۔ اس وقت بھی اس دشمن اسلام نے آپ کا گریبان پکڑا اور آپؐ کی شان میں وہ گستاخی کرنے لگا کہ جس کا ذکر بھی کرنے سے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
ابوجہل نے جی بھر کر یہ ذلیل حرکت کی اور اپنے دل کی بھڑاس خوب نکالی۔ جواب میں اللہ کے رسولؐ نے اس کی غلیظ بات کا جواب نہ دیا اور اس کی ساری زیادتی انتہائی صبر اور تحمل سے برداشت کر لی۔ اس وقت کوئی مسلمان وہاں پر موجود نہ تھا۔ اس لیے ابوجہل کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ تھا۔ البتہ عبداللہ بن جدعان کی ایک لونڈی یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔ یہ لونڈی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بردباری اور صبر پر حیران تھی۔ اس نے اپنی زندگی میں مکہ کے کسی شخص کو اس طرح کا صبر کرتے نہیں دیکھا تھا۔
اس کا دل ابوجہل کو لعنت ملامت کررہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی کہ کاش وہ ا س بد ذات شخص کی اس ذلیل حرکات کا اسے کچھ مزا چکھا سکتی۔ تب اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور اس نے شام تک کا انتظار کرنے کا ارادہ کر لیا۔
شام کے وقت وہ مکہ کی بستی میں آنے والے راستے میں کھڑی ہو گئی۔ اس کا مطلوبہ شخص جلد ہی گھوڑے پر سوار آتا ہوا دکھائی دیا ۔۔۔ یہ سوار حمزہ بن عبدالمطلب تھے۔
جب حمزہؓ کوہِ صفا کے پاس پہنچے تو لونڈی نے گھوڑے کی لگام پکڑی اور اسے روکا اور دہائی دیتے ہوئے بولی: ’’اے ابو عمارہ، تم سارا دن شکار میں مصروف رہتے ہو ۔۔۔ لیکن تمھیں کچھ خبر نہیں کہ تمھارے خاندان والوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں ۔۔۔ کاش تمھیں، تمھاری بہادری کا کچھ پاس ہوتا۔‘‘
’’کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔؟ پوری بات بتاؤ ۔۔۔ کس نے میرے خاندان کو ستایا ہے؟‘‘
’’ابوالحکم نے ۔۔۔ اس نے تمھارے بھتیجے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی ایسی گالیاں دی ہیں کہ اگر میں تمھیں بتا دوں تو تم مجھے قتل کر دو گے ۔۔۔ لیکن تمھیں اس سے کیا؟ تم اپنا شکار کرو، عیش کرو، سیر کرو!‘‘
ان طعنوں نے حمزہؓ کے تن بدن میں آگ لگا دی بولے:
’’تیری ماں تجھے روئے، تم پوری بات کیوں نہیں بتاتی؟‘‘
’’پوری بات نہیں بتا سکتی ۔۔۔ تمھارے بھتیجے کو دی جانے والی گالیاں نہیں دوہرا سکتی۔۔۔ آج محمد صلی اللہ علیہ وسلم خانہ کعبہ میں لوگوں کو اپنے دین کے متعلق بتا رہے تھے کہ ابوالحکم نے اسے گالیاں دیں، گریبان کھینچا ۔۔۔ اور خدا کی قسم، میں اس سے زیادہ تمھیں بتانے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔‘‘
غصے سے حمزہؓ کا سرخ چہرہ مزید سرخ ہو کر انگارے کی طرح دہکنے لگا۔ اور بولے: ’’کہاں ہے ، یہ بد ذات؟‘‘
لونڈی جان چکی تھی کہ آج حمزہؓ خون خرابہ کرکے چھوڑیں گے ۔۔۔ مگر اس نے اپنے حواس قابو میں رکھے اور بولی: ’’بیت اللہ میں۔‘‘
اور انھوں نے اسی حالت میں بیت اللہ کا رخ کیا۔
حمزہؓ کے علم میں یہ بات اچھی طرح تھی کہ ان کے بھتیجے نے ایک نئے دین کی تبلیغ شروع کی ہے۔ جس میں، وہ شرک سے منع کرتے اور ایک اللہ کی عبادت کرنے پر زور دیتے ہیں۔
حمزہؓ کے لیے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت ہرگز اجنبی نہیں تھی۔ دونوں تقریباً ہم عمر تھے۔ حمزہؓ، آپؐ سے صرف دو برس بڑے تھے۔ بچپن میں اکٹھا کھیلتے تھے۔ آپس میں گہرا پیار تھا اور تو اور ۔۔۔ دونوں دودھ شریک بھائی بھی تھے ۔۔۔ انھوں نے ثوبیہ لونڈی کا دودھ پیا تھا۔ دونوں میں محبت کا رشتہ بہت مضبوط تھا۔
شعور کی عمر کو پہنچے تو حمزہؓ کو شکار کا شوق ہوا۔ پہلوانی بھی کرتے تھے۔ گھڑ سواری، تلوارزنی اور نیزہ بازی ان کے دل پسند مشغلے تھے۔ یہ سب شوق ان کے ’’دوست اور محبوب‘‘ بھتیجے، کی دلچسپی کی چیز نہ تھیں، لیکن پھر بھی شخصی اوصاف کی بنا پر دوستی اور محبت کے رشتے میں کبھی کمی نہ آ سکی۔
آپؐ نے جب رسالت کا دعویٰ کیا اور قریش کے سبھی لوگ آپؐ کے خلاف ہو گئے تو ابو طالب کی طرح حضرت حمزہؓ ان لوگوں میں سے تھے جو غیر جانبدار تھے۔ حضرت حمزہؓ کو ویسے بھی بت پرستی وغیرہ سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ دوسرے لفظوں میں وہ ہرگز کوئی مذہبی شخصیت نہ تھے۔ ان کی ساری دلچسپیاں اس زمانے کے رئیس زادوں والی تھیں۔ چنانچہ اس پس منظر میں جب لوگوں نے ان سے آ کر کہا کہ حمزہؓ تمھیں خبر ہے کہ تمھارے محبوب اور دوست بھتیجے نے کیا گل کھلایا ہے تو انھوں نے بات ہی سننے سے انکار کر دیا۔ کسی نے اگر انھیں باپ دادا کے نام پر بھڑکانے کی کوشش بھی کی تو ان کا جواب ہوتا:


’’محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو جتنا میں جانتا ہوں ، اتنا کوئی نہیں جانتا۔ وہ تو ضعیفوں اور کمزوروں کا خیال کرنے والا ہے اس کا کام ہرگز آباؤاجداد کی بے عزتی کرنا نہیں ہو سکتا۔‘‘


پھر وہ کہنے والے کی عقل کا ماتم کرتے: ’’بھئی تمھیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں، کیا محمدؐ اور ہمارے آباؤاجداد علیحدہ علیحدہ ہیں ۔۔۔ اگر وہ تمھارے ہمارے بزرگوں کی شان میں کوئی کمی کر رہا ہے تو اپنے بڑوں ہی کی شان میں کمی کر رہا ہے نا!‘‘
انھیں بھڑکانے والے یہ جواب سن کر اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے۔ ان کی حسرت ہی رہی کہ وہ ان کے منہ سے آپؐ کے خلاف کوئی بات نکلوائیں۔
اور آج جب وہ غصے میں کانپتے ابوجہل کی خبر لینے جا رہے تھے تو سوچ رہے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف لوگوں کی باتیں وہ پہلے ہی سن چکے تھے اور یہ ان کی خاموشی ہی تھی جس نے ابوجہل جیسے واہیات شخص کو اتنی جرات دی کہ وہ ان کے پیارے بھتیجے کے منہ کو آئے۔
وہ جیسے جیسے سوچتے جاتے ویسے ویسے انھیں ابوجہل اور اپنے آپ پر غصہ آتا جاتا۔ انھوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ آج ابوجہل کو ایسا سبق سکھاؤں گا کہ پھر کسی کو پیارے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھنے کی جرات نہ ہو گی۔
’’اور اپنے آپ کو کیا سزا دیں گے؟‘‘
ان کے ضمیر نے جب ان سے یہ سوال کیا تو وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔ اس ضمن میں کیا کیا جائے۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔
اسی کیفیت میں وہ بیت اللہ میں پہنچ گئے۔ ابوجہل لوگوں کے درمیان بیٹھا زور زور سے بول رہا تھا۔ حضرت حمزہؓ کو یوں لگا کہ وہ مزے لے لے کر لوگوں کو اپنی آج کی کارروائی سنا رہا ہے۔ یعنی یہ سنا رہا ہے کہ اس نے عبدالمطلب کے لاڈلے پوتے یعنی اس عبداللہ جس کے عوض سو اونٹوں کی قربانی دی گئی، کے بیٹے کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔
حمزہؓ غصے سے کھولتے سیدھے ابوجہل کے پاس پہنچے جاتے ہی نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اور کمان کھینچ کر اس کے سر پر ماری۔ پھر ابوجہل کو گریبان سے پکڑا اور ایک طرف پھینک دیا۔ ’’اپنی شرم گاہ پر خوشبو لگانے والے ،تم نے میرے بھتیجے کو گالی دی! سن لے ، آج سے میں نے اس کا دین قبول کیا!‘‘
ابوجہل کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔ لوگوں میں ایک کھلبلی مچ گئی۔ ابوجہل اپنے قبیلے بنو مخزوم کا بڑا آدمی تھا۔ اس کے لوگ فوراً بھڑک اٹھے اور مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ مگر حمزہ بنو ہاشم کے معزز فرد تھے۔ ان کے حمایتی بھی وہاں موجود تھے۔
بنو مخزوم کے لوگوں کو تلواریں کھینچتے دیکھ کر بنو ہاشم کے لوگوں کے ہاتھ بھی نیاموں پر جا پڑے۔
اور ابوجہل کی حالت دیدنی تھی۔ اس کے سر سے خون بَہ کر ماتھے پر آ چکا تھا اور وہ دیکھ رہا تھا کہ اس کا یہ گندا خون مزید خون بہانے کا سبب بن سکتا ہے۔ پھر ایک اور بات اس کے شیطانی ذہن میں آئی۔
’’بھائیو ذرا رک جاؤ میں نے واقعی ابو عمارہ(حمزہؓ) کے بھتیجے کو گندی گالی دی تھی۔‘‘
نیام سے باہر آنے والی تلواریں ابو جہل کی اس سفید جھنڈی لہرانے پر دوبارہ نیام میں چلی گئیں۔ ابوجہل کے اس اقدام نے ایک مذہبی جنگ کو قبائلی رنگ دینے سے تو روک دیا، لیکن وہ اس کا کیا کرتا کہ حمزہؓ نے تو اسلام قبول کر نے کا اعلان کر دیا۔ ابوجہل کی مشکل اس وقت حل ہو گئی جب ایک شخص نے حمزہؓ سے پوچھا:
’’ابو عمارہ! کیا تم اپنے آبائی دین سے پھر گئے ہو؟‘‘
اس دفعہ سوال بنو ہاشم کے ایک شخص نے پوچھا تھا۔
حضرت حمزہؓ کا غصہ ابھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا۔ بولے: ’’ہاں میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین اختیار کر لیا ہے۔ مجھے اسلام لانے سے کوئی نہیں روک سکتا!‘‘
ان کی للکار سن کر سب خاموش ہو گئے۔ تب ایک نے بے زاری سے تبصرہ کیا:
’’افسوس ابو عمارہ بد دین ہو گئے!‘‘
’’تمھارا ناس ہو، تم اچھی طرح سمجھ لو کہ میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا دین قبول کر لیا ہے، اگر تم سچے ہو تو مجھے روک کر دیکھو!‘‘
ابوجہل کا خیال تھا کہ حمزہؓ کے منہ سے غصے میں نکل گیا ہے کہ وہ اسلام قبول کرتے ہیں ،لیکن ان کی طرف سے دوبارہ اعلان نے اس کے سر میں خاک ڈال دی تھی۔ صرف وہی نہیں ، وہاں موجود تمام لوگ اب حیران تھے۔
عبداللہؓ بن جدعان کی لونڈی جس نے حمزہؓ کو یہ ساری بات بتائی تھی یہ منظر دیکھ رہی تھی۔ وہ فوراً وہاں سے دوڑی۔ وہ جس سے بھی ملتی اعلان کر دیتی کہ حمزہؓ نے ابوجہل کا سر پھاڑ دیا ہے اور اس نے اسلام قبول کر لیا ہے۔
حضرت حمزہؓ گھر سے فارغ ہو کر سیدھے ابن ارقمؓ کے گھر پہنچے۔ انھیں یہی اطلاع ملی تھی کہ اللہ کے رسولؐ وہیں تشریف رکھتے ہیں۔ وہ جب وہاں پہنچے تو ابھی ابوجہل کے ساتھ ہونے والے واقعے کی آپؐ کو اطلاع نہیں ملی تھی۔
حمزہؓ نے اپنی روایتی محبت کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’پیارے بھتیجے! مجھے معلوم ہے کہ آج ابوالحکم نے تیرے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔ میں نے اسے سبق چکھا دیا ہے۔ اس کا سر پھاڑ دیا ہے۔ تمھارا بدلہ چکا دیا ہے!‘‘
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ عجیب کیفیت سے فرمایا: ’’چچا، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ اگر تم واقعی ابوالحکم کی زیادتی کا بدلہ لینا چاہتے ہو تو اس بات کی شہادت دے دو کہ اللہ کا کوئی شریک نہیں اور وہ تنہا عبادت کے لائق ہے!‘‘
’’ٹھیک ہے بھتیجے اگر تمھاری یہی خوشی ہے تو میں یہ اعلان کر دیتا ہوں۔‘‘
’’نہیں چچا، آپ یہ اعلان مجھے نہیں ،بلکہ اللہ کو خوش کرنے کے لیے کریں۔‘‘
’’تو پھر میں شہادت دیتا ہوں ۔۔۔ اللہ کا کوئی شریک نہیں اور وہ تنہا عبادت کے لائق ہے اور بھتیجے میں تمھیں اس کا پیغمبر مانتا ہوں۔‘‘
ان کا یہ کہنا تھا کہ آپؐ کے گرد بیٹھے ہوئے چند صحابہؓ کے چہرے خوشی سے دمکنے لگے۔ خود آپؐ کی خوشی کا کوئی حساب نہ تھا۔ چہرہ مبارک پھول کی طرح کھل اٹھا۔
حضرت حمزہؓ کے ایمان لانے سے قبل مسلمان اعلانیہ نماز نہیں پڑھ سکتے تھے ،لیکن حضرت حمزہؓ نے واضح اعلان کر دیا کہ اگر کسی نے مسلمانوں کے راستے میں آنے کی کوشش کی تو وہ براہِ راست ان سے دشمنی مول لے گا۔ ان کی اس للکار کا خاطر خواہ نتیجہ برآمد ہوا اور کئی صحابہؓ نے دوبارہ سے کعبہ میں عین بتوں کے درمیان، ان کی طرف پیٹھ پھیر کر ان سے بے زاری کا اظہار کرتے ہوئے ایک اللہ کی عبادت شروع کر دی۔ قرآن کی اونچی آواز میں تلاوت سنی جانے لگی۔
ابو جہل، ابولہب، خاص طور پر حضرت حمزہؓ کے ایمان لانے پر سخت پریشان تھے۔ انھوں نے کبھی سوچا بھی نہ تھاکہ حمزہؓ جیسا شیر دل سپاہی پہلوان اور اونچے قبیلے کا معزز مسلمان ہو جائے گا۔
حضرت حمزہؓ کے اسلام لانے کے بعد مکہ کی وادی میں ایک اور سنسنی خیز واقعہ رونما ہوا۔ یہ تھا حضرت عمرؓ کا اسلام لانا۔
اللہ کے رسولؐ صحابہ کو دین سمجھا رہے تھے کہ اچانک دروازے پر حضرت عمرؓ کھڑے نظر آئے۔ ان کے چہرے کا رنگ بدلا ہوا تھا اور نیام میں تلوار نظر آ رہی تھی۔ حضرت عمرؓ کی اسلام مخالفت صحابہ کے لیے اجنبی نہیں تھی۔ اس لیے ان کا یوں اچانک سامنے آنا غیر معمولی تھا۔
ایک صحابیؓ بولے: عمر کے ارادے ٹھیک نہیں۔ دیکھو، تلوار سمیت آئے ہیں۔‘‘
تب حضرت حمزہؓ بولے: ’’اسے آنے دو، اگر ابن خطاب نیک نیتی سے آئے ہیں تو مرحبا ورنہ انھی کی تلوار سے اس کا سر کاٹ دوں گا۔‘‘
یہ حضرت عمرؓ جیسے شخص کے لیے بہت بڑا جملہ تھا ،لیکن ان کی من کی دنیا بدل چکی تھی۔ اللہ کے رسولؐ نے ان کے چہرے کی کیفیات پڑھ لی تھیں، اس لیے فرمایا: ’’عمر کو آنے دو!‘‘
اور پھر جب انھوں نے اسلام قبول کر نے کا اعلان کیا تو مکہ کی وادی میں اللہ کی تکبیر کا نعرہ دوسری دفعہ گونجا۔
حمزہؓ اور عمرؓ دو عظیم طاقتیں اسلام قبول کر چکی تھیں۔ اس تبدیلی سے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و ستم کا سلسلہ کچھ عرصہ رک گیا، مگر جب ساری کی ساری قبائلی عصبیتیں ان دونوں کے خلاف ہو گئیں تو یہ دونوں بھی اپنے اپنے قبیلے کی حمایت سے محروم ہو گئے اور کمزور مسلمان ایک دفعہ پھر ظلم کی چکی میں پسنے لگے۔
حضرت حمزہؓ کا معاملہ یہ رہا کہ کبھی کسی کافر کو یہ جرات تو نہ ہوئی کہ ان کے سامنے آئے اور ان کو ایذا پہنچائے اسی لیے انھیں ہجرت حبشہ کی ضرورت پیش نہ آئی۔ البتہ مدینہ کی طرف ہجرت کا جب حکم آگیا تو مکہ میں اپنا شخصی اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود انھوں نے عام مسلمانوں کی طرح ہجرت کا فیصلہ کیا۔
حضرت حمزہؓ ان چند مسلمانوں میں شامل تھے جنھوں نے علی الاعلان مدینہ کی طرف ہجرت کی اور کسی کافر کو جرات نہ ہوئی کہ ان کا راستہ روک سکے۔
مدینہ میں آئے جب دو سال مکمل ہو گئے تو قرآن میں وہ حکم آیا جس کا حضرت حمزہؓ اور ان جیسا مزاج رکھنے والے مسلمانوں کو شدت سے انتظار تھا۔ یعنی جہاد کا حکم۔
مکہ میں کفار کے ظلم و ستم کے خلاف مسلح جہاد کرنے کی مسلمانوں کو اجازت نہیں تھی۔ صرف ایک ہی حکم تھا کہ مسلمانوں کو صبر اور خاموشی سے کفار کا ظلم برداشت کرنا ہے، البتہ انھیں اس کی اجازت تھی کہ وہ کسی محفوظ مقام پر چلے جائیں۔ اپنا دین چھپا لیں۔ چھپ کر نماز پڑھ لیں ،مگر اکثر صحابہؓ نے اپنا دین چھپایا اور نہ چھپ چھپ کر نمازیں پڑھیں۔ انھوں نے کفار کے ظلم کو بہادری سے برداشت کیا۔
کفار کے خلاف جہاد کی اس لیے اجازت نہیں دی گئی تھی کہ اس طرح بزدل کفار سارا غصہ کمزور اور غریب مسلمانوں پر نکالتے۔ دوسرا یہ کہ مکہ کی وادی میں برتر حیثیت قریش کی تھی جس میں چند ایک کے علاوہ سبھی اسلام مخالف تھے۔
اب جب جہاد کا حکم آیا تو حضرت حمزہؓ نے اللہ کا شکر ادا کیا ۔ مدینہ میں اب اللہ کے رسولؐ کی حکومت قائم ہو چکی تھی اور مسلمان اپنی حفاظت کا بندوبست اچھی طرح کر سکتے تھے۔
اور پھر آخر وہ دن بھی آیا جب حضرت حمزہؓ نے اپنی سپہ گری اور بہادری کے خوب جوہر دکھائے۔ یہ غزوۂ بدر کا دن تھا۔ اس دن وہ زرہ بند ہو کر ٹوپی پر شتر مرغ کا پر لگا کر میدان میں اترے۔ وہ پورے اسلامی لشکر میں سب سے نمایاں لگ رہے تھے۔
اسلامی لشکر نے جس جگہ پڑاؤ ڈالا تھا وہاں خاصی دھول تھی ، مگر جنگ سے ایک رات پہلے خوب بارش ہوئی اور جگہ بہترین ہو گئی۔ صحابہؓ نے بارش کے پانی کو ایک حوض میں جمع بھی کر لیا ۔ گویا پانی کا یہ تازہ ذخیرہ مسلمانوں کی ملکیت تھی۔
اس وقت کے رواج کے مطابق جب جنگ شروع ہونے لگی تو پہلے مبارزت کا دور شروع ہوا۔ یعنی دونوں طرف سے بہادروں کا انفرادی مقابلہ۔
کفار کی طرف سے اسود بن عبدالاسد نکلا۔ اس کا تعلق بنو خزیمہ سے تھا۔ یعنی ابوجہل کے قبیلے سے اور اغلب یہ ہے کہ یہ اس دن ابوجہل کے ساتھ موجود تھا جب اس نے رسول اللہ کی شان میں گستاخی کی تھی اور جواب میں حضرت حمزہؓ نے اس مردود کا سر پھاڑا تھا اور وہ ابوجہل کی حمایت میں تلوار لے کر میدان میں آگیا تھا۔ اس کی اسلام دشمنی، بد زبانی اور بدمعاشی سے تمام مسلمان اچھی طرح واقف تھے۔ دوسری طرف سے بھلا حضرت حمزہؓ کے سوا کون اس کے مقابلے کے لیے موزوں ہو سکتا تھا!
اسود باہر نکلا اور بڑے غرور سے بولا: ’’میں لشکر کے سامنے عہد کرتا ہوں کہ دشمن کے حوض سے پانی پی کر رہوں گا اور اس حوض کو تباہ کر دوں گا۔‘‘ یہ کہہ کر وہ حوض کی طرف لپکا۔
حمزہؓ آگے بڑھے اور حوض سے چند قدم پہلے ہی دونوں کا آمنا سامنا ہوا۔
تلواروں سے تلواریں ٹکرائیں۔ حضرت حمزہؓ نے مقابلے کو طول دینا مناسب نہ سمجھا اور پہلا موقع ملتے ہی اس خبیث کی پنڈلی پر وار کیا۔ اس کا پاؤں کٹ کر علیحدہ ہو گیا اور وہ حوض کی طرف پیٹ کے بل گرا۔ اس کی ٹانگ سے خون کا فوارہ نکل پڑا۔ غنیمت یہ تھی کہ خون کا رخ حوض کے بجائے کفار کے لشکر کی طرف تھا۔
مگر وہ ضدی شخص پاؤں کٹوا کر بھی حوض کی طرف بڑھنے لگا۔ حضرت حمزہؓ نے فوراً دوسرا وار کیا ،لیکن وہ حیرت انگیز طور پر وار بچا گیا اور گھٹنوں کے بل حوض پر جھک گیا تاکہ پانی کا ایک گھونٹ ہی پی لے اور اپنی قسم پوری کر لے ،مگر حمزہؓ کی تلوار نے اسے اتنا موقع نہ دیا اور ایک کاری وار کرکے اس کے دو ٹکڑے کر دیے ۔
اس قتل کے بعد قریش کی طرف سے تین سورمے نکلے۔ عتبہ، شیبہ اور ولید۔ ان میں عتبہ اور شیبہ آپس میں بھائی تھے اور ولید عتبہ کا بیٹا تھا۔ انھوں نے بڑی اکڑ پھوں سے مقابلے کی دعوت دی۔
اسلامی لشکر سے انصار کے تین جوان نکلے ۔ عوف، عوذ اور عبداللہ بن رواحہ۔
یہ تینوں بہادر، قریشیوں کے لیے اجنبی تھے۔ وہ بولے، ’’تم کون ہو؟ ہم تمھیں نہیں پہچانتے۔‘‘
انھوں نے جواب دیا: ’’ہم انصار ہیں، مدینہ کے انصار۔‘‘
’’ہماری تمھاری کوئی جنگ نہیں۔ تم لوگ تو اس قابل ہی نہیں کہ ہم سے مقابلہ کرو۔ ہم سے تو ہمارے ہم پلہ اور ہم قبیلہ مقابلہ کریں تو مزہ آئے گا۔‘‘
قبل اس کے ، یہ انصاری بہادر ان کے تکبر کا جواب دیتے، اللہ کے رسول نے حکم دیا: ’’عبیدہ بن حارث، حمزہ بن عبدالمطلب، علی ابن ابی طالب اٹھو اور مقابلے پر آؤ۔‘‘
تینوں بہادر میدان میں نکلے تو پوری خدائی کی نظریں میدان پر لگ گئیں۔
انھیں دیکھ کر تینوں کافر مسکرائے اور کہا: ’’اپنا تعارف کراؤ۔‘‘
عتبہ وغیرہ انھیں اچھی طرح پہچانتے تھے ،لیکن انھیں اصرار تھا کہ ان کے مد مقابل سارے لشکر کے سامنے اپنا تعارف کرائیں تاکہ معلوم ہو کہ مقابلہ ہم پلہ لوگوں کے درمیان میں ہے۔ چنانچہ تینوں شیروں نے اپنا تعارف کرایا۔
کفار بولے: ’’ہاں اب ٹھیک ہے۔‘‘
حضرت عبیدہؓ جو سب سے معمر تھے، اپنے ہم عمر عتبہ کے سامنے آئے، حضرت علیؓ نے ولید کو منتخب کیا اور حضرت حمزہؓ نے شیبہ کو۔
حضرت علیؓ نے پہلے ہی وار میں ولید کو زندگی کی قید سے آزاد کر دیا اور اس کا لاشا میدان میں تڑپنے لگا۔
حضرت حمزہؓ نے بھی اپنے مقابل سے ایسا ہی سلوک کیا۔ انھوں نے اسے چیونٹی کی طرح مسل دیا۔ دونوں نے اپنے تیسرے ساتھی کی طرف دیکھا تو معاملہ کچھ مختلف تھا۔
حضرت عبیدہؓ اور عتبہ ایک دوسرے پر حملہ کرتے کرتے زخمی ہو چکے تھے۔ عتبہ زخمی ہو کر ایک طرف گر پڑا اور حضرت عبیدہ بھی زخم کھا کر گر پڑے۔ کفار نے جب حضرت عبدہ کو زخمی دیکھا تو ان کی طرف لپکے۔ حضرت علیؓ اور حمزہؓ نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور لمحوں میں معاملہ طے کر لیا۔ دونوں شاہین کی طرح عتبہ کی طرف لپکے اور اس کا کام تمام کرتے ہوئے حضرت عبیدہؓ کو اٹھایا اور اسلامی لشکر میں لے آئے۔ ان کا پاؤں کٹ گیا تھا اور خون بے تحاشا بَہ رہا تھا وہ جنگ کے چوتھے یا پانچویں روز شہید ہو گئے تھے۔ کفار کے لیے جنگ کا آغاز بہت بھیانک تھا۔ ان کے تین شہ سوار اور کمانڈر خون میں لت پت ہو چکے تھے۔
ابوجہل سے بھلا یہ منظر کیسے برداشت ہوتا۔ اس نے عام حملے کااعلان کر دیا اور ایک ہزار کا لشکر تین سو تیرہ توحید پرستوں کو ختم کرنے اندھا دھند ان پر حملہ آور ہوگیا۔ مگر اللہ کے رسولؐ کا حکم تھا کہ انھیں قریب آنے دیا جائے اور جب تک حملے کا اشارہ نہ کیا جائے صبر سے دامن تھامے رکھیں اور تیر انداز ، تیروں کا رخ دشمنوں کی طرف کر لیں۔
حضرت حمزہؓ اپنا نیزہ لیے دشمن کے انتظار میں اللہ کے رسولؐ کے حکم کے منتظر تھے۔
جب کفار کا لشکر مسلمانوں کے تیروں اور نشانوں کی زد میں آگیا اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پروردگارِ کائنات سے اس کا وعدہ ایفا کرنے کی التجا کر چکے تو انھوں نے ایک مٹھی کنکر یلی مٹی لی اور قریش کی طرف پھینکتے ہوئے مسلمانوں کو حکم دیا:
’’چڑھ دوڑو۔‘‘
بس اسی لمحے کا انتظار تھا۔ بظاہر بے سروسامان لشکر کفار پر چڑھ دوڑا اورپھر عجیب منظر سامنے آیا۔ مسلمانوں کی تلواریں، بھالے، نیزے اور آہنی ڈنڈے دشمن کو یوں مارنے لگے اور دشمن یوں گرنے اور کٹنے لگا کہ لگتا ہی نہیں تھا کہ مقابلے میں عرب کے مشہور جانباز ہیں۔
حضرت حمزہؓ اپنے عمامہ پر شتر مرغ کا پر سجائے دس کے قریب دشمنوں کو تہ تیغ کر چکے تھے ان کا ایک بڑا شکار طعیمہ بن عدی تھا اور ہندہ بنت عتبہ، یعنی ابو سفیان کی بیوی کا چچا اور بھائی بھی اگر قتل نہیں ہوا تو حضرت حمزہؓ کی تلوار کی زد میں ضرور آئے تھے۔
صحابہ کرامؓ کی بے جگری اور اللہ تعالیٰ کی مدد آجانے کے بعد بدر کے میدان کا بہت جلد فیصلہ ہوگیا۔ کفار ستر کے قریب لاشیں چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ اس جنگ میں حضرت حمزہؓ کی دہشت کا اندازہ امیہ بن خلف کے بیان سے لگایا جا سکتا ہے۔
حضرت عبدالرحمان بن عوف کہتے ہیں کہ میں اور امیہ اور اس کے بیٹے کو امان دینے کے بعد ان کے درمیان میں چل رہا تھا۔ امیہ بن خلف (حضرت بلالؓ کا آقا) نے پوچھا:
’’آپ لوگوں میں وہ کون شخص تھا جو اپنے سینے یا سر پر شتر مرغ کا پر لگائے ہوئے تھا۔‘‘
انھوں نے کہا: ’’حمزہ بن عبدالمطلب۔‘‘
وہ بولا: ’’یہی ہے وہ شخص جس نے ہمارے اندر تباہی مچا رکھی تھی۔‘‘
غزوہ بدر میں کفار کے 70 لوگ جہنم واصل ہوئے تھے، ان میں بڑے بڑے سردار شامل تھے اور انفرادی طور پر سب سے زیادہ قتل کرنے والوں میں حضرت حمزہؓ بھی شامل تھے۔
حضرت حمزہؓ کے اس کارنامے نے مکہ میں ان کے انفرادی دشمن پیدا کر دیے۔ ان انفرادی دشمنوں میں دو لوگ سر فہرست تھے ایک حبیبہ بن مطعم یعنی طعیمہ کا چچا اور دوسرا دشمن ہندہ ۔۔۔ ابو سفیان کی بیوی ۔۔۔ ان دونوں دشمنوں نے قسمیں کھائیں کہ وہ حمزہؓ سے انتقام ضرور لیں گے۔
غروہ بدر کے معرکے کے بعد احد کا مرحلہ آتا ہے ،لیکن اس سے قبل حضرت حمزہؓ کے ہاتھوں بعض نہایت اہم مہمیں بھی سر ہوئیں۔
سب سے پہلی مہم غزوہ بدر سے کچھ روز پہلے پیش آئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین صحابہؓ کو حضرت حمزہؓ کی سرکردگی میں ابوجہل کے قافلے کی خبر لینے کے لیے بھیجا تھا۔ حضرت حمزہؓ نے قریشی قافلے کو ڈھونڈ نکالا اور اس کے متعلق آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع بہم پہنچائی۔ یعنی ان کی یہ مہم کامیاب رہی۔
دوسری مہم اس قافلے کی واپسی پر پیش آئی جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ساٹھ صحابہ کا دستہ اس قافلے کے ارادے بھانپنے کے لیے بھیجا۔ اس دستے کے سالار بھی حضرت حمزہؓ ہی تھے۔ غزوہ بدر کے بعد مدینہ کے حالات مسلمانوں کے لیے بظاہر بڑے سازگار تھے ،لیکن یہودی قبائل اسلام کی اس فتح پر حسد و کینہ کی آگ میں جلنے لگے۔ انھی میں بنو قینقاع بطور خاص قابل ذکر تھے۔ انھوں نے میثاقِ مدینہ کو توڑنے کا اعلان کیا تو ان کی سرکوبی کے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بذاتِ خود روانہ ہوئے۔ اس دستے کے علم بردار حضرت حمزہؓ ہی تھے۔
ادھر مکہ میں غزوہ بدر کی عبرت ناک شکست کا بدلہ لینے کی تیاری ہو رہی تھی۔ اس کا ایک اہم پہلو حضرت حمزہؓ سے انتقام بھی تھا۔
جبیر بن مطعم کا ایک حبشی غلام تھا۔ وحشی بن حرب۔ اس غلام کو جبیر نے عجیب لالچ دیا۔ ایک دن اس نے وحشی سے کہا:
’’اے وحشی، کیا تم آزاد ہونا چاہتے ہو؟‘‘
وحشی نے بے یقینی سے آقا کی طرف دیکھا اور کہا: ’’کیا آپ سچ کہتے ہیں؟‘‘
’’ہاں اللہ کی قسم اگر تم نے حمزہؓ بن عبدالمطلب کو قتل کر دیا تو تمھیں آزاد کر دیا جائے گا۔‘‘
وحشی کے لیے حضرت حمزہؓ کا نام نیا نہ تھا۔ وہ انھیں اچھی طرح جانتا تھا اور پہچانتا تھا۔ چنانچہ اس نے کلہاڑی اور برچھی چلانے کی خصوصی مشق شروع کر دی۔
ادھر ہندہ کو بھی اس کی اطلاع مل گئی تھی۔ اس نے بھی وحشی کی ہمت بندھائی۔
’’وحشی، اگر تم نے اپنے شکار کو پا لیا تو وہ انعام پاؤ گے کہ کبھی خواب میں بھی نہ دیکھا ہو گا۔‘‘
وحشی بن حرب نے یہ سن کر اپنی تیاری اور تیز کر دی۔ اب وہ اس قدر طاق ہو چکا تھا کہ نشانہ بمشکل خطا جاتا تھا۔
دن گزرتے گئے حتیٰ کہ تین ہجری کا زمانہ آگیا۔ اس دوران میں ان کفار مکہ کی تیاری بھی مکمل ہو گئی اور ان کا لشکر غزوہ بدر کا بدلہ چکانے شوال کو مدینہ کے قریب احد پہاڑی کے قریب جمع ہو گیا۔
غزوہ احد کا معرکہ 7 شوال بروز ہفتہ کو پیش آیا۔
جنگ کا آغاز حسب روایت مبارزت سے ہوا۔ سب سے پہلے طلحہ بن ابی طلحہ مقابلے کے لیے آیا ۔ یہ شخص بہت ماہر جنگجو سمجھا جاتا تھا۔ مسلمان اسے لشکر کا مینڈھا کہتے تھے۔ مقابلے کے لیے حضرت زبیرؓ آگے بڑھے اور اچھل کر اس کے اونٹ پر چڑھ گئے۔ وہیں سے اس کی گردن دبوچی اور زمین پر آ رہے۔ اس کی گردن انھوں نے اس مضبوطی سے جکڑی کہ جب تک مر نہ گیا اسے نہ چھوڑا۔
پہلی فتح نے صحابہؓ کے ولولے کو دوچند کر دیا اور کفار کے جذبہ انتقام کو اور بڑھا دیا۔ اس فتح پر لشکر اسلام نے تکبیر کا نعرہ بلند کیا اور حضرت زبیرؓ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’حواری‘‘ کا خطاب دیا۔ اس کے بعد پورے میدان میں جنگ کے شعلے بھڑک اٹھے۔ جنگ کا زیادہ زور پرچم تھامے ہوئے کفار کے قبیلے بنو عبدالدار پر تھا۔
طلحہ کی موت کے بعد اس کے بھائی عثمان نے پرچم تھاما اور یہ شعر پڑھتے ہوئے آگے بڑھا:
پرچم والوں کا فرض ہے کہ نیزہ خون سے رنگین ہوجائے یا ٹوٹ جائے۔
اس کا چیلنج حضرت حمزہؓ نے قبول کیا اور مقابلے کے لیے سامنے آئے۔ حضرت حمزہؓ نے اس پر پہلا ہی وار اس زور کا کیا کہ تلوار اس کے ہاتھ سمیت کندھے کو کاٹتی ہوئی اور جسم کو چیرتی ہوئی ناف تک جا پہنچی۔ اس کا جسم بالکل کھل گیا اور پھیپھڑا نظر آنے لگا۔
اس کی موت کے بعد اس کے بھائی ابو سعد نے پرچم اٹھایا ،لیکن اس مرتبہ حضرت سعد بن ابی وقاص نے ایسا تیر نشانے پر چھوڑا کہ وہ ٹھیک اس کے گلے پر لگا۔ جس سے اس کی زبان باہر آ کر لٹکنے لگی اور وہ اسی حالت میں مر گیا۔
اس کے یکے بعد دیگرے اور پرچم بردار کافر قتل ہوئے۔ آخر یہ پرچم ارطاۃ بن شرجیل نے سنبھالا ،مگر حضرت حمزہؓ نے انھیں بھی مار گرایا۔ اس کے بعد پرچم اٹھانے والے قبیلے کے مزید افراد قتل ہوئے۔ حتیٰ کہ دس افراد کی ہلاکت کے بعد سارا قبیلہ ختم ہو گیا اور پرچم اس قبیلے کے غلام کے ہاتھ آگیا۔ وہ اپنے آقاؤں کے مقابلے میں خاصا سخت جان ثابت ہوا اور اس وقت تک لڑتا رہا اور پرچم کو گرنے نہ دیا جب تک اس کادایاں، پھر بایاں ہاتھ نہ کاٹ دیا گیا۔ اس کے باوجود اس نے گھٹنے کے بل بیٹھ کر سینے اور گردن کی مدد سے پرچم پکڑے رکھا ،مگر پھر قتل کر دیا گیا۔
حضرت حمزہؓ بپھرے ہوئے شیر کی مانند بڑھ رہے تھے۔ وہ جدھر کا رخ کرتے، صفوں کی صفیں الٹ دیتے۔ ان کے مقابلے میں آنے والا کوئی بہادر جم کر نہیں لڑ پاتا تھا ،مگر وہ اپنے خفیہ دشمن سے بالکل بے خبر تھے۔ یعنی وحشی بن حرب سے۔
وحشی کے لیے اس جنگ میں سوائے حضرت حمزہؓ کے اور کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ شروع جنگ ہی سے الگ ہو کر حضرت حمزہؓ کو تلاش کرنے لگا ،لیکن وہ کبھی ایک جگہ لڑتے نظر آتے تو کبھی دوسری جگہ۔
آخر وحشی نے دیکھا کہ وہ ایک ایسی جگہ پر کھڑے دشمن سے نبرد آزما ہیں کہ ان پر ہاتھ ڈالا جا سکتا ہے۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا اور ایک قریبی جھاڑی کے پیچھے کھڑا ہو گیا۔ یہاں سے وہ حضرت حمزہؓ کا اچھی طرح نشانہ لے سکتا تھا۔ اس نے جلدی سے نیزہ تولہ اور اسے پھینکنے ہی والا تھا کہ حضرت حمزہؓ نے ایک اور شکار ڈھونڈ نکالا۔ اس دفعہ ان کے مقابلے میں سباع بن عبدالعزی تھا۔ یہ شخص جیسے ہی ان کے سامنے آیا حضرت حمزہؓ نے اسے للکارا۔
وہ مڑا اور حضرت حمزہؓ نے کاری وار کیا۔ اس کا سرتن سے جدا ہو کر دور جا گرا۔ اس کے ہلاک ہوتے ہی حضرت حمزہؓ سیدھے کھڑے ہو گئے اور یہی موقع تھا جس کا وحشی انتظار کر رہا تھا۔ اس نے کوئی لمحہ ضائع کیے بغیر نیزہ تاک کر پھینکا۔ اس کی مہینوں کی مشق کام آئی اور نیزہ حضرت حمزہؓ کے ناف کے نیچے لگا اور جسم سے آر پار ہو گیا۔ حضرت حمزہؓ گر پڑے اور پھر چھپ کر وار کرنے والے کی طرف دیکھا۔ وحشی سے نظریں ملیں اور اس عالم میں بھی انھوں نے اٹھنا چاہا ،مگر جسم کی طاقت جواب دے گئی اور دوبارہ ایسا گرے کہ کبھی نہ اٹھ سکے ۔ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔
وحشی نے اطمینان کر لیا کہ کہیں زندگی کی رمق ان میں باقی تو نہیں۔ اچھی طرح دیکھ بھال کے بعد اس نے اپنا نیزہ ان کے جسم سے نکالا اور ایک طرف جا کر آرام سے بیٹھ گیا۔۔۔ اس کا مقصد پورا ہو گیا تھا۔ اسی دوران حضرت حمزہؓ کی شہادت کے باوجود کفار کے قدم اکھڑ گئے۔ اور وہ دم دبا کر بھاگے۔ مگر پھر تیر اندازوں کی بے پروائی سے جنگ کا پانسہ پلٹ گیا۔ لشکر اسلام کی فتح دیکھتے ہی دیکھتے شکست میں تبدیل ہو گئی۔ پیغمبر کے حکم کی روگردانی کی سزا ملی اور 70 کے قریب مسلمان شہید ہو گئے۔ جنگ اس وقت تھمی جب کفار کو یہ غلط فہمی ہوئی کہ محمد الرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید کر دیے گئے ہیں۔ اس کے بعد کفار نے شہداء کی لاشوں کا مثلہ کرنا شروع کر دیا۔
ہندہ حضرت حمزہؓ کی لاش کو تلاش کر چکی تو اس نے ان کا پیٹ چاک کر دیا۔ سید الشہداء کا کلیجہ باہر نکالا اور اس سے ایک حصہ کاٹ کر منہ میں لے لیا تاکہ اسے کھائے ۔۔۔ وہ اس وقت حقیقی ڈائن بن چکی تھی۔ مگر اس جنون کے باوجود اس سے کچھ نہ نگلا گیا اور اسے قے ہو گئی۔ بھلا شیروں کی خوراک کبھی گیدڑوں کو ہضم ہوئی ہے؟ اس کے بعد بھی اس کی تسلی نہ ہوئی جو اس نے حضرت حمزہؓ کے چہرے کے اعضاء کاٹنے شروع کر دیے۔ دراصل ہندہ اور دوسری عورتیں مسلمان شہداء کے اعضاء کاٹ کر ان کے ہار بنا رہی تھیں۔ اس مقصد میں وہ کامیاب رہی اور ان کے اعضا کا ہار پہن کر وحشی کی طرف متوجہ ہوئی جو اس وقت اپنا انعام پانے کا منتظر تھا۔
ہندہ نے سونے کا ہار اور بالیاں وحشی کے سپرد کیں اور کہا: ’’یہ تمھارا انعام ہے، اسے سنبھال کر رکھنا۔‘‘
جنگ کا خاتمہ ہوا تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم شہدا کو دیکھنے لگے۔ جب حضرت حمزہؓ کی لاش دیکھی تو انتہائی صدمہ پہنچا۔ جب حضرت حمزہؓ کی بہن حضرت صفیہؓ نے بھائی کو دیکھنے آئیں تو حضورؓ نے ان کے بیٹے حضرت زبیرؓ سے کہلا بھیجا کہ صفیہؓ بھائی کی لاش کو نہ دیکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی مشورہ دیا کہ بہتر ہے کہ انھیں کسی طرح واپس بھیج دیا جائے۔
حضرت زبیرؓ نے والدہ کو پیغام دیا تو وہ بولیں: ’’خدا کی قسم میں صبر کروں گی۔ جاہلوں کی طرح آہ و بکا نہیں کروں گی۔ آخر حضرت حمزہؓ نے اللہ کی رضا کی خاطر یہ سب کچھ کیا ہے۔ اللہ نے ان کابہترین انجام کیا ہے۔ وہ شہید ہوئے ہیں۔‘‘
ان کے بلند حوصلے کو دیکھتے ہوئے انھیں اجازت دی گئی۔ وہ بھائی کی لاش پر آئیں اور مجسم صبر بن گئیں۔ اللہ نے ان پر ایسا صبر نازل فرمایا کہ سوائے انا للہ اور دعائے مغفرت کے کوئی لفظ ان کی زبان سے نہ نکلا۔
وہ واپس ہوئیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حمزہؓ کو دفنانے کا حکم دیا۔ اس دوران میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم خود روتے رہے۔ آپ کے رونے میں پورے دن کا غم شامل تھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود کا بیان ہے کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ساری زندگی اس طرح روتے ہوئے نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی بلند آواز سے نہ روئے تھے۔ بس آنکھوں سے برسات کی جھڑی لگ جاتی اور سینہ ابلتی ہوئی ہانڈی کی مانند آواز دیتا۔ مگر اس دفعہ اپنے چچا، دوست ، محسن اور حلیف کے جنازے پر کھڑے ہو کر اس طرح روئے کہ ان کی آواز سنائی دی۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں پہلی اور آخری مرتبہ ہوا تھا۔ حضرت حمزہؓ کو دفنانے کا مرحلہ آیا تو کفن کے طور پر جو چادر ان کے اوپر رکھی گئی وہ چھوٹی تھی۔ سر کی طرف کرنے سے پاؤں ننگے رہتے اور پاؤں ڈھانپنے سے سر کھل جاتا۔
یہ معاملہ صرف انھیں کے ساتھ خاص نہ تھا اس زمانے میں مسلمانوں کی غربت کا یہی عالم تھا۔ آخر دوسرے شہداء کی طرح ان کا سر ڈھانپا گیا اور پاؤں پر اذخر نامی گھاس ڈالی گئی۔ یہ گھاس ایک خوشبودار جھاڑی کی مانند تھی۔ لوگ اس کی چائے بنا کر بھی پیتے تھے۔ دراصل حضرت صفیہؓ نے بھائی کے کفن کے طور پر دو چادریں دی تھیں ،لیکن وہ دوسرے شہداء کو دے دی گئیں۔
اللہ کے رسولؐ نے خود انھیں قبلہ رخ رکھا اور حضرت عبداللہ بن جحش کے ساتھ دفن کیا۔ یہ ان کے بھانجے اور رضاعی بھائی تھے۔ آپؓ کی قبر پر اللہ کے رسولؐ آخری مرتبہ اپنے چچا سے مخاطب ہوئے اور فرمایا:
’’آپؓ پر خدا کی رحمت ہو۔ کیونکہ جہاں تک مجھے معلوم ہے آپ قرابت داروں کا سب سے زیادہ خیال رکھتے تھے۔ نیک کاموں میں پیش پیش رہتے تھے۔‘‘
حضرت حمزہؓ کی داستانِ حیات تو یہاں پر اختتام پذیر ہو جاتی ہے ،لیکن اس داستان کی بازگشت جاری رہی اور اس بازگشت کو ان کے قاتل وحشی بن حرب سے جاری رکھا۔
وحشی جب اس جنگ کے بعد مکہ واپس آیاتو جبیر نے اسے وعدہ کے مطابق آزاد کر دیا۔ آزادی کے بعد وحشی پر ایک عجیب خوف مسلط ہو گیا۔ دراصل جب وہ غلام تھا تو اس کی ذمہ داری اس کے آقا پر تھی ،مگر آزاد ہونے کے بعد اس کی ذمہ داری کسی پر نہ تھی۔ اس لیے وہ ہر دم اس خوف میں مبتلا رہنے لگا کہ حضرت حمزہؓ کے قبیلے کا کوئی شخص کسی بھی وقت اسے قتل کر سکتا ہے۔ وحشی کی اس کیفیت سے اسلام کے اس اقدام کی حکمت عملی واضح ہوتی ہے کہ غلام اور لونڈیوں کو فوری طور پر آزاد کرنے اور اس کا فوراً خاتمہ کرنے کے بجائے تدریج کا طریقہ کیوں اختیار کیا گیا۔
بہر کیف وحشی کا خوف دن بدن بڑھتا رہا۔ جیسے جیسے اسے یہ اطلاع ملتی کہ مسلمانوں کا اثر و رسوخ، ان کی دعوت، ان کی حکومت بڑھتی جا رہی ہے، ویسے ویسے اس کے خوف میں اضافہ ہوتا گیا۔
اور جس دن مکہ فتح ہوا اور اسلامی لشکر پوری شان سے مکہ میں داخل ہوا ، وحشی کا خوف اپنی انتہا کو چھو رہا تھا۔ اسے یہ اطلاع بھی مل چکی تھی کہ جن لوگوں کو بطور خاص قتل کرنے کی اجازت ہے اس میں اس کا نام بھی شامل ہے۔ یہ سن کر اس کے رہے سہے حوصلے بھی پست ہو گئے اور وہ مکہ سے بھاگ گیا اور طائف جا کر رہنے لگا۔
طائف میں وحشی کے سننے میں آیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عفو و درگزر سے کام لے کر بڑے بڑے نامی گرامی مجرموں کو معاف کر دیا ہے۔ اس فہرست میں ہندہ کا نام دیکھ کر اس کے سینے میں امید کی پہلی کرن روشن ہوئی۔
اس دوران میں اسے معلوم ہوا کہ طائف کے لوگ اسلام قبول کرنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ پھر اسے معلوم ہوا کہ عنقریب یہاں سے ایک وفد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لیے جا رہا ہے تو وحشی کی امید پر خوف کا غلبہ ایک بار پھر مسلط ہو گیا۔ اس نے پکا ارادہ کر لیا کہ وہ شام، یمن یا کسی دوسرے ملک فرار ہو جائے ۔ اس حوالے سے اس نے اپنے ایک جاننے والے سے مشورہ کیا تو اس نے کہا:
’’وحشی تم اس قدر خوف زدہ مت ہو۔ خدا کی قسم، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ایسے کسی شخص کو قتل نہیں کرتے جو کلمہ طیبہ پڑھ کر اسلام میں داخل ہو جائے ،کیونکہ ان کے نزدیک اصل اہمیت دین کی ہے۔‘‘
وحشی کے لیے یہ بات بظاہر ڈوبتے کو تنکے کا سہارا تھی ،مگر جیسے ہی اس نے اسلام قبول کرنے کے متعلق سوچا، اس کے دل میں امید وں کے چراغ روشن ہو گئے اور پھر ایک دن اس کا رخ یثرب کی طرف تھا۔
راستے بھر وہ سوچتا رہا کہ اگر کسی نے راستے میں اسے پہچانتے ہی قتل کر دیا تو ۔۔۔ اس خدشے کے تحت اس نے یہی حکمت عملی اپنانے کا پروگرام بنایا کہ وہ کسی طرح چھپتے چھپاتے ایک دم حضور ؐ کے سامنے آجائے اور توحید کا اقرار کرنے کا اعلان کر دے۔
یہی سوچتے ہوئے وہ مدینہ پہنچ گیا۔ کسی اجنبی سے پوچھا کہ اللہ کے رسولؐ کہاں تشریف فرما ہوں گے۔ اسے بتایا گیا مسجد نبوی میں ۔وحشی کا رخ مسجد نبوی کی طرف تھا۔
مسجد میں لوگ آ جا رہے تھے ،مگر اس نے ہمت کی اور خاموشی سے مسجد میں داخل ہو گیا۔ سامنے ہی حضورؐ لوگوں کے درمیان بیٹھے نظر آئے وہ تیزی سے آگے بڑھا اور بلند آواز سے پکارا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدؐ اللہ کے رسول ہیں۔
آواز سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے۔ انھوں نے ایسی نظروں سے اسے دیکھا کہ وحشی کو معلوم ہو گیا کہ اسے پہچان لیا گیا ہے اس کا اندازہ درست تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:
’’تم وحشی بن حرب ہو۔‘‘
’’جی ہاں۔‘‘
یہ سن کر انھوں نے منہ دوسری طرف پھیر لیا ۔۔۔ پھر کچھ لمحوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ’’بیٹھو اور مجھے بتاؤ کہ حضرت حمزہؓ کو تو نے کیسے قتل کیا؟‘‘
وحشی دھڑکتے دل کے ساتھ بیٹھ گیا اور پھر پورا واقعہ بیان کیا ۔۔۔ وحشی خاموش ہوا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصے سے سرخ ہو چکا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے نکلا: ’’وحشی تم پر افسوس ہو!‘‘ پھر کچھ لمحوں کے بعد ارشاد ہوا:’’میری نظروں سے دور ہو جاؤ ۔۔۔ تم مجھے نظر نہ آیا کرو۔۔۔‘‘
وحشی کے لیے یہ الفاظ ایک طرح سے زندگی کا پروانہ تھے۔ اس کا مطلب یہی تھا کہ وحشی کے قتل کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے اور اسے ناپسندیدہ شخص کے طور پر سہی، بہر کیف جینے کی آزادی ہے۔
اس دن کے بعد وحشی کے ذہن سے ایک بات چپک کر رہ گئی کہ معلوم نہیں اس کا گناہ معاف ہوا ہے کہ نہیں۔ اسے اچھی طرح معلوم تھا کہ اگر کسی کے بارے میں اللہ کے رسولؐ خوش نہیں ہیں تو اس کی کوئی مغفرت نہیں۔ وہ مسلسل اس سوچ میں رہنے لگا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسے خوش کیا جائے، اپنے گناہ کا کفارہ کیسے ادا کیا جائے؟
اس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محفلوں میں حاضری دینی تو نہ چھوڑی البتہ یہ ضرور کرتا کہ اس طرح محفل میں بیٹھتا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اسے دیکھ نہ سکیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بقیہ زندگی وہ اسی کیفیت میں رہا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکرؓ مسلمانوں کے امیر المومنین تجویز ہوئے اور اس دوران میں عرب میں فتنۂ ارتداد برپا ہو گیا۔
وحشی نے اس دور میں اسلام پر ثابت قدم رہ کر یہ ثابت کر دیا کہ وہ دل سے اسلام لایا ہے ۔ لوگ اسے کہتے کہ وہ غم نہ کرے، اگر وہ سچے دل سے ایمان لایا ہے تو اللہ اس کے پچھلے سارے گناہ معاف کر دے گا۔ لیکن وہ مطمئن نہ ہوتا ۔۔۔ ہرآن اس کے سامنے احد کا وہ منظر آجاتا جب اس نے چھپ کر حضرت حمزہؓ کو شہید کیا تھا اور پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ الفاظ آتے، جو اس کا سینہ چیر دیتے۔
فتنہ ارتداد ہی کے زمانے میں مسلمانوں کو باغیوں کے ساتھ لڑنا پڑا۔ یہ ایک کٹھن اور آزمایش کا موقع تھا۔ وحشی بن حرب کے لیے کفارہ کا اس سے اچھا موقع اور کیا ہو سکتا تھا۔ وہ بھی ان مہموں میں شامل ہو گیا۔
پھر ایک دن اس کی امید بر آئی۔وہ اس لشکر میں شامل تھا جس کا مقابلہ مسیلمہ کذاب کے ساتھ تھا۔ مسیلمہ کذاب نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور اس کا قبیلہ بنو حنیفہ نے مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا۔
وحشی سوچنے لگا کہ اگر مسلیمہ کذاب کے ساتھ اس جنگ میں اس کے ہاتھوں مسیلمہ کذاب ہلاک ہوا تو حضرت حمزہؓ کا کفارہ ادا ہو جائے گا۔ وہ اسی سوچ کے ساتھ میدانِ جنگ میں اترا۔
اس نے وہی برچھی اور وہی کلہاڑی ایک مرتبہ پھر پکڑی ہوئی تھی اور اس کی نگاہیں مسلیمہ کذاب کو تلاش کر رہی تھیں۔ جنگ کے پہلے مرحلے کے بعد جب مسیلمہ کذاب کی فوج شکست کھا گئی تو وہ بھاگ کر اپنے قلعے نما باغ میں جا چھپا۔ صحابہؓ کے لشکر نے اس کا تعاقب کیا۔ وحشی بھی ان میں شامل تھا اور اپنے ہتھیار لیے مسیلمہ کذاب کو تلاش کر رہا تھا۔ آخر اس کی نظروں نے مسیلمہ کو ڈھونڈ نکالا۔ وہ تلوار لیے ایک جگہ کھڑا بھاگنے کی تیاری کر رہا تھا۔ وحشی نپے تلے قدموں سے اس کی طرف بڑھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک انصاری صحابیؓ کی نظریں بھی مسیلمہ پر لگی ہوئی ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر وحشی کے قدم تیز ہو گئے۔ اس نے تاک کر نیزہ مسیلمہ پر چلایا ،مگر جس لمحے وحشی کا نیزہ مسیلمہ کے جسم میں پیوست ہوا۔ انصاری کی تلوار بھی اس کے جسم کے آرپار ہو گئی۔
حضرت حمزہؓ بنیادی طور پر ایک سپاہی تھے۔ انھوں نے متعدد شادیاں کیں۔ ان کی بیویوں کے نام یہ ہیں: بنت الملہ، خولہ بنت قیس، سلمیٰ بنت عمیس۔ ان سب سے ایک ایک اولاد ہوئی۔ صرف ایک لڑکا ابوالعلی بلوغت کو پہنچا۔ آپؓ کی بقیہ اولاد کم عمری ہی میں انتقال کر گئی۔

____________