خواتین کے بارے میں کچھ مخصوص احکام ایسے ہیں جنھیں سورۂ احزاب کی بعض آیات کی غلط تاویل کرکے اخذ کیا جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انھیں سورۂ احزاب کے سیاق وسباق میں رکھ کر سمجھا جائے۔ ذیل میں ان احکام کو درج کیا جاتا ہے:

ا ۔ خواتین کو ہر صورت میں اپنا چہرہ ڈھانپ کے رکھناچاہیے، اور جب وہ گھر سے باہر جانے لگیں تو انھیں بڑی چادر(جلباب) پہننی چاہیے۔
ب۔ خواتین کو اجنبی مردوں کے ساتھ نرم لہجے میں بات نہیں کرنی چاہیے۔
ج۔ خواتین کو گھرمیں ہی رہنا چاہیے جو کہ ان کا اصل دائرۂ کار ہے۔
د۔ خواتین کو قریبی رشتہ داروں کے علاوہ کسی اور کے سامنے نہیں آنا چاہیے۔
اس بات کو سمجھنے کی اشد ضرورت ہے کہ ان احکام کا ایک خاص پس منظر ہے اور انھیں خواتین کے بارے میں عمومی احکام کے طور پر نہیں لیا جاسکتا۔ چنانچہ یہ ناگزیر ہے کہ ان احکام کے پس منظر کو سمجھا جائے۔
مدینہ میں جب اسلام تیزی سے پھیل رہا تھا تو منافقین نے اسلام کی دعوت کو نقصان پہنچانے کے لیے مسلمان خواتین کو تنگ کرنا شروع کردیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج کے بارے میں نازیبا باتیں پھیلانا شروع کردیں۔ان کی بھرپور کوشش تھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج پر تہمتیں لگا کران کی ذاتی زندگی کو نقصان پہنچایا جائے۔ ان کاخیال تھا کہ اس طرح عام لوگوں میں اسلام کی مقبولیت کم ہوجائے گی۔ یہی وہ زمانہ تھا جب واقعۂ افک پیش آیا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبوب اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے کردار پربد نما الزام لگانے کی کوشش کی گئی تھی۔ منافقوں کے اس رویے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن مجید کہتا ہے:

وَالَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اکْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًا یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ اَدْنآی أَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا لَءِنْ لَّمْ یَنْتَہِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ وَّالْمُرْجِفُوْنَ فِیْ الْمَدِیْنَۃِ لَنُغْرِیَنَّکَ بِہِمْ ثُمَّ لاَ یُجَاوِرُوْنَکَ فِیْہَا اِلَّآ قَلِیْلاً مَّلْعُوْنِیْنَ اَیْنَمَا ثُقِفُوْٓا اُخِذُوْا وَقُتِّلُوْا تَقْتِیْلاً. (الاحزاب ۳۳: ۵۸۔۶۱)
’’اور جو لوگ مسلمان عورتوں اور مردوں کو ان چیزوں کے معاملے میں اذیت دیتے ہیں جن کا انھوں نے ارتکاب نہیں کیا، (انھیں معلوم ہوناچاہیے کہ) انھوں نے ایک بہت بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔ (اس صورت حال میں) اے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم)، اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مسلمان خواتین کو ہدایت کردو کہ (باہر نکلیں تو)اپنی کوئی چادر اپنے اوپر ڈال لیا کریں، اس سے یہ ممکن ہوجائے گا کہ وہ (دوسری عورتوں سے الگ )پہچانی جائیں اور انھیں اذیت نہ دی جائے،اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے اور اس کی شفقت ابدی ہے۔ یہ منافق اگر (اس کے بعد بھی)اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے اور وہ بھی جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ بھی جو مدینہ میں جھوٹ اڑانے والے ہیں تو ہم ان کے خلاف تمھیں اٹھا کھڑا کریں گے، پھر وہ مشکل سے ہی تمھارے ساتھ رہ سکیں گے۔ ان پر پھٹکار ہوگی، جہاں ملیں پکڑے جائیں گے اور عبرت ناک طریقے سے قتل کر دیے جائیں گے۔‘‘

درج بالا آیات میں منافقین کی شر انگیز حرکتوں میں سے ایک مخصوص حرکت کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ وہ مومنہ خواتین کو تنگ کرتے تھے اور اپنی شرارتوں سے ان کے لیے اذیت کا باعث بنتے تھے۔ جب انھیں وضاحت کرنے کے لیے طلب کیا جاتا تووہ کہتے کہ انھیں معلوم نہیں تھا کہ یہ مومن خواتین ہیں۔ اس آیت کا پس منظر بیان کرتے ہوئے ابن کثیر، جو کہ قرآن مجید کے ایک مشہور مفسر ہیں ، سدی کی راے ان الفاظ میں بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

کان ناس من فساق أہل المدینۃ یخرجون باللیل حین یختلط الظلام إلی طرق المدینۃ فیعرضون للنساء وکانت مساکن أہل المدینۃ ضیقۃ فإذا کان اللیل خرج النساء إلی الطرق یقضین حاجتہن فکان أولئک الفساق یبتغون ذلک منہن فإذا رأوا المرأۃ علیہا جلباب قالوا: ہذہ حرۃ فکفوا عنہا وإذا رأوا المرأۃ لیس علیہا جلباب قالوا: ہذہ أمۃ فوثبوا علیہا. (تفسیر القرآن العظیم ۳/ ۵۱۸)
’’رات کو جب اندھیرا مدینہ کے اطراف میں پھیل جاتا تو مدینہ کے شرپسند عناصر اپنے گھروں سے باہر نکل آتے اور انصار کی خواتین کا پیچھا کرتے۔ ان دنوں مدینہ کے گھر بہت تنگ ہوتے تھے۔ جب دن ڈھلے کو خواتین اپنی فطری حاجت کے لیے گھر سے باہرنکلتیں تو وہ شر پسند عناصر انھیں پریشان کرتے۔ جب وہ دیکھتے کہ کوئی عورت چادر میں ہے تو کہتے کہ یہ آزاد عورت ہے اور اگر اس پر چادر نہ ہوتی تو کہتے کہ یہ لونڈی ہے اور اس پر جھپٹ پڑتے۔ ‘‘

پھر انھوں نے مجاہد کی راے ان الفاظ میں بیان کی ہے:

یتجلببن فیعلم أنہم حرائر فلا یتعرض لہن فاسق بأذی ولا ریبۃ. (تفسیر القرآن العظیم ۳/ ۵۱۸)
’’یہ خواتین بڑی چادر پہنتیں تویہ جانا جاتا کہ وہ آزاد خواتین ہیں اور شر پسند عناصر انھیں تنگ نہ کرتے اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچاتے۔ ‘‘

اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ ان منافقین کو ان حرکتوں سے باز رکھنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے مومن خواتین کو دوسری خواتین سے ممتاز رہنے کا حکم دیا تاکہ ان منافقین کے پاس ان کو تنگ کرنے کا کوئی جواز نہ رہ سکے۔ ظاہرمیں یہ فرق اس طرح کیا گیا تھا کہ مومن خواتین اپنی چادر سے جسم کو ڈھانپ لیں تاکہ ان کی پہچان قائم ہوجائے کہ وہ مومن خواتین ہیں۔
جولوگ اس آیت سے نقاب کرنے کا حکم نکالتے ہیں، وہ ان آیات کا ترجمہ اس طرح کرتے ہیں:

’’اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی بیویوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی چادر کا کچھ حصہ اپنے چہرے پر لے لیا کریں۔‘‘

یہ صحیح ترجمہ نہیں ہے۔ ادناے جلباب کا صحیح ترجمہ ’’چادر اوڑھنا یا پہننا ہے۔‘‘۴۲؂ یہ بات قابل لحاظ ہے کہ اس آیت میں ’’چہرے‘‘ کا لفظ استعمال نہیں ہوا۔ اگر چہرے کو چھپانا مقصود ہوتا تو الفاظ کچھ اس طرح ہوتے: ’یُغَطِّیْنَ وُجُوْہَہُنَّ‘ (وہ اپنے چہرے ڈھانپیں)۔
اس بحث سے یہ بات واضح ہے کہ اس آیت میں چادر اوڑھنے کا جو حکم دیا گیا ہے، یہ کوئی عمومی حکم ہے ہی نہیں۔ یہ حکم ایک خاص صورت حال سے نمٹنے کے بارے میں ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیدا ہوئی۔
پہلے سوال کا جواب ملنے کے بعد اس سلسلے میں درج ذیل بقیہ تین سوالوں کا جواب استاذ گرامی جاوید احمد صاحب غامدی کی کتاب ’’میزان‘‘ سے مل جاتا ہے:

۱۔خواتین کو اجنبی لوگوں کے ساتھ نرم لہجے میں بات نہیں کرنی چاہیے۔
۲۔ خواتین کو حتی الامکان اپنے گھروں میں رہنا چاہیے۔
۳۔ خواتین کو اپنے نامحرم رشتہ داروں کے سامنے نہیں آنا چاہیے۔
وہ لکھتے ہیں:

’’...عام مسلمان مردوں اور عورتوں سے اِن ہدایات کا اگرچہ کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن بعض اہل علم چونکہ اِن کی تعمیم کرتے ہیں ، اِس لیے ضروری ہے کہ اِن کی صحیح نوعیت بھی یہاں واضح کردی جائے۔
سورہ پر تدبر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مدینہ کے وہی اشرار اور منافقین جن کا ذکراوپر ہوا ہے، جب رات دن اِس تگ ودو میں رہنے لگے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے متعلق کوئی اسکینڈل پیدا کریں تاکہ عام مسلمان بھی آپ سے برگشتہ اور بد گمان ہوں اور اسلام اور مسلمانوں کی اخلاقی ساکھ بھی بالکل برباد ہو کر جائے تو اللہ تعالیٰ نے اِس فتنے کا سدباب اِس طرح سے کیا کہ پہلے ازواج مطہرات کو یہ اختیار دے دیا کہ وہ چاہیں تو دنیا کے عیش اور اُس کی زینتوں کی طلب میں حضور سے الگ ہوجائیں اور چاہیں تو اللہ ورسول اور قیامت کے فوزو فلاح کی طلب گار بن کر پورے شعور کے ساتھ ایک مرتبہ پھر یہ فیصلہ کرلیں کہ اُنھیں اب ہمیشہ کے لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی رہنا ہے۔ اِس کے بعد فرمایا کہ وہ اگر حضور کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کرتی ہیں تو اُنھیں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ آپ کی رفاقت سے جو اُنھیں مرتبہ حاصل ہوا ہے، اُس کے لحاظ سے اُن کی ذمہ داری بہت بڑی ہے۔ وہ پھر عام عورتیں نہیں ہیں۔ اُن کی حیثیت مسلمانوں کی ماؤں کی ہے۔اِس لیے وہ اگر صدق دل سے اللہ ورسول کی فرمانبرداری اور عمل صالح کریں گی تو جس طرح اُن کی جزا دہری ہے، اِسی طرح اگر اُن سے کوئی جرم صادر ہوا تو اُس کی سزا بھی دوسروں کی نسبت دہری ہوگی۔ اُن کے باطن کی پاکیزگی میں شبہ نہیں، لیکن اللہ تعالیٰ اُنھیں لوگوں کی نگاہ میں بھی ہر طرح کی اخلاقی نجاست سے بالکل پاک دیکھنا چاہتا ہے۔ یہ اُن کے مقام و مرتبہ کا تقاضا ہے اور اِس کے لیے یہ چند باتیں اپنے شب وروز میں اُنھیں لازماً ملحوظ رکھنی چاہییں:
اوّل یہ کہ وہ اگر خدا سے ڈرنے والی ہیں تو ہر آنے والے سے بات کرنے میں نرمی اور تواضع اختیار نہ کیا کریں۔ عام حالات میں تو گفتگو کا پسندیدہ طریقہ یہی ہے کہ آدمی تواضع اختیار کرے ، لیکن جو حالات اُنھیں در پیش ہیں، اُن میں اشرار و منافقین مروت اور شرافت کے لہجے سے دلیر ہوتے اور غلط فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اِس سے اُنھیں یہ توقع پیدا ہوجاتی ہے کہ جو وسوسہ اندازی وہ اُن کے دلوں میں پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اُس میں اُنھیں کامیابی حاصل ہوجائے گی۔ اِس لیے ایسے لوگوں سے اگر باتیں کرنے کی نوبت آئے تو بالکل صاف اور سادہ انداز میں اور اِس طرح بات کرنی چاہیے کہ اگر وہ اپنے دل میں کوئی برا ارادہ لے کر آئے ہیں تو انھیں اچھی طرح اندازہ ہوجائے کہ یہاں اُن کے لیے کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے:

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ، لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ، اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَاتَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِہٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلاً مَّعْرُوْفًا. (۳۳: ۳۲)
’’نبی کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو، (اِس لیے )اگر تم اللہ تعالیٰ سے ڈرتی ہو تو لہجے میں نرمی اختیار نہ کروکہ جس کے دل میں خرابی ہے، وہ کسی طمع خام میں مبتلا ہوجائے اور (اِس طرح کے لوگوں سے) صاف سیدھی بات کیا کرو۔ ‘‘

دوم یہ کہ اپنے مقام ومرتبہ کی حفاظت کے لیے وہ گھروں میں ٹک کر رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جس ذمہ داری پر اُنھیں فائز کیا ہے، اُن کے سب انداز اور رویے بھی اُس کے مطابق ہونے چاہییں۔ لہٰذا کسی ضرورت سے باہر نکلنا ناگزیر ہو تو اُس میں بھی زمانۂ جاہلیت کی بیگمات کے طریقے پراپنی زیب وزینت کی نمایش کرتے ہوئے باہر نکلنا جائز نہیں ہے۔ اُن کی حیثیت اور ذمہ داری، دونوں کا تقاضا ہے کہ اپنے گھروں میں رہ کر شب وروز نماز اور زکوٰۃ کا اہتمام رکھیں اور ہر معاملے میں پوری وفا داری کے ساتھ اللہ اور رسول کی اطاعت میں سرگرم ہوں۔ تاہم کسی مجبوری سے باہر نکلنا ہی پڑے تو اسلامی تہذیب کا بہترین نمونہ بن کر نکلیں اور کسی منافق کے لیے انگلی رکھنے کا کوئی موقع نہ پیدا ہونے دیں:

وَقَرْنَ فِیْ بُیُوْتِکُنَّ وَلاَ تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاھِلِیَّۃِ الْاُوْلٰی وَاَقِمْنَ الصَّلٰوۃَ وَاٰتِیْنَ الزَّکٰوۃَ وَاَطِعْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ. اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰہُ لِیُذْہِبَ عَنْکُمُ الرِّجْسَ اَھْلَ الْبَیْتِ، وَ یُطَھِّرَکُمْ تَطْھِیْرًا.(۳۳: ۳۳)
’’اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور پہلی جاہلیت کی طرح سج دھج نہ دکھاتی پھرو، اور نماز کا اہتمام رکھو اور زکوٰۃ دیتی رہو اور اللہ و رسول کی فرماں برداری کرو ۔ اللہ تو یہی چاہتا ہے ، اِس گھرکی بیبیوکہ تم سے (وہ ) گندگی دور کرے (جو یہ منافق تم پر تھوپنا چاہتے ہیں) اور تمھیں پوری طرح پاک کر دے۔‘‘

سوم یہ کہ اللہ کی آیات اور ایمان واخلاق کی جو تعلیم اُن کے گھروں میں دی جارہی ہے، دوسری باتوں کے بجاے وہ اپنے ملنے والوں سے اُس کا چرچا کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اُنھیں جس کام کے لیے منتخب فرمایا ہے، وہ یہی ہے۔ اُن کا مقصد زندگی اب دنیا اور اُس کا عیش وعشرت نہیں، بلکہ اِسی علم وحکمت کا فروغ ہونا چاہیے:

وَاذْکُرْنَ مَا یُتْلٰی فِیْ بُیُوْتِکُنَّ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰہِ وَالْحِکْمَۃِ. اِنَّ اللّٰہَ کَانَ لَطِیْفًا خَبِیْرًا. (۳۳: ۳۴)
’’اور تمھارے گھروں میں اللہ کی آیتوں اور اُس کی (نازل کردہ) حکمت کی جو تعلیم ہوتی ہے، (اپنے ملنے والوں سے) اُس کا چرچا کرو۔ بے شک، اللہ بڑا ہی دقیقہ شناس ہے، وہ پوری طرح خبر رکھنے والا ہے۔ ‘‘

اِس کے بعد بھی معلوم ہوتا ہے کہ اشرار اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئے ۔ چنانچہ اِسی سورہ میں آگے اللہ تعالیٰ نے نہایت سختی کے ساتھ چند مزید ہدایات اِس سلسلہ میں دی ہیں۔
فرمایا ہے کہ اب کوئی مسلمان بن بلائے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہو سکے گا۔ لوگوں کو کھانے کی دعوت بھی دی جائے گی تو وہ وقت کے وقت آئیں گے اور کھانا کھانے کے فوراً بعد منتشر ہو جائیں گے ، باتوں میں لگے ہوئے وہاں بیٹھے نہ رہیں گے۔
آپ کی ازواج مطہرات لوگوں سے پردے میں ہوں گی اور قریبی اعزہ اور میل جول کی عورتوں کے سوا کوئی اُن کے سامنے نہ آئے گا ۔ جس کو کوئی چیز لینا ہو گی ، وہ بھی پردے کے پیچھے ہی سے لے گا۔
پیغمبر کی بیویاں مسلمانوں کی مائیں ہیں ۔ جو منافقین اُن سے نکاح کے ارمان اپنے دلوں میں رکھتے ہیں ، اُن پر واضح ہو جانا چاہیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی ازواج مطہرات سے کسی کا نکاح نہیں ہو سکتا ۔ اُن کی یہ حرمت ہمیشہ کے لیے قائم کر دی گئی ہے ۔ لہٰذا ہر صاحب ایمان کے دل میں احترام و عقیدت کا وہی جذبہ اُن کے لیے ہونا چاہیے جو وہ اپنی ماں کے لیے اپنے دل میں رکھتا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے لوگوں کی یہ باتیں باعث اذیت رہی ہیں ۔ اب وہ متنبہ ہو جائیں کہ اللہ کے رسول کو اذیت پہنچانا کوئی بچوں کا کھیل نہیں ہے ۔ یہ بڑی ہی سنگین بات ہے ۔ یہاں تو ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص اپنی کسی نازیبا سے نازیبا حرکت کے لیے بھی کوئی عذر تراش لے ، لیکن وہ پروردگار جو دلوں کے بھید تک سے واقف ہے ، یہ باتیں اُس کے حضور میں کسی کے کام نہ آ سکیں گی :

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا، لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّآ اَنْ یُّؤْذَنَ لَکُمْ اِلٰی طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰہُ، وَلٰکِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا، وَلَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ. اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْکُمْ، وَاللّٰہُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ. وَاِذَا سَاَلْتُمُوْھُنَّ مَتَاعًا فَسْءَلُوْھُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ. ذٰلِکُمْ اَطْہَرُ لِقُلُوْبِکُمْ وَقُلُوْبِھِنَّ. وَمَا کَانَ لَکُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوْٓا اَزْوَاجَہٗ مِنْم بَعْدِہٖٓ اَبَدًا. اِنَّ ذٰلِکُمْ کَانَ عِنْدَ اللّٰہِ عَظِیْمًا. اِنْ تُبْدُوْا شَیْءًا اَوْتُخْفُوْہُ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا. لَا جُنَاحَ عَلَیْھِنَّ فِیْٓ اٰبَآءِھِنَّ وَلَآ اَبْنَآءِھِنَّ وَلَآ اِخْوَانِھِنَّ وَلَآ اَبْنَآءِ اِخْوَانِھِنَّ وَلَآاَبْنَآءِ اَخَوٰتِھِنَّ وَلَانِسَآءِھِنَّ وَلَامَا مَلَکَتْ اَیْمَانُھُنَّ وَاتَّقِیْنَ اللّٰہَ، اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ شَہِیْدًا.(۳۳: ۵۳۔ ۵۵)
’’ایمان والو، نبی کے گھروں میں داخل نہ ہو، الاّ یہ کہ تمھیں کسی وقت کھانے کے لیے آنے کی اجازت دی جائے ۔ اِس صورت میں بھی اُس کے پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہ بیٹھو ۔ ہاں ، جب بلایا جائے تو آؤ۔ پھر جب کھالو تو منتشر ہو جاؤ اور باتوں میں لگے ہوئے بیٹھے نہ رہو ۔ یہ باتیں نبی کے لیے باعث اذیت تھیں، مگر وہ تمھارا لحاظ کرتے رہے اور اللہ حق بتانے میں کسی کا لحاظ نہیں کرتا۔ اور نبی کی بیویوں سے تمھیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ طریقہ تمھارے دلوں کے لیے بھی زیادہ پاکیزہ ہے اور اُن کے دلوں کے لیے بھی۔ اور تمھارے لیے جائز نہیں کہ تم اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ جائز ہے کہ اُن کے بعد اُن کی بیویوں سے کبھی نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بڑی سنگین بات ہے ۔ تم کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ ، اللہ ہر چیز سے واقف ہے ۔ اِن (بیبیوں) پر ، البتہ اِس معاملے میں کوئی گناہ نہیں کہ اپنے باپوں اور اپنے بیٹوں اور اپنے بھائیوں اور اپنے بھتیجوں اور اپنے بھانجوں اور اپنے میل جول کی عورتوں اور اپنے غلاموں کے سامنے ہوں اور اللہ سے ڈرتی رہو ، بیبیو۔ بے شک، اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔ ‘‘‘‘

(میزان ۴۶۹۔۴۷۲)

چنانچہ ان تفصیلات سے گذشتہ صفحات میں درج کیے تین سوالات کا جواب مل جاتا ہے، یعنی تینوں ہدایات — ا۔ خواتین کو اجنبی لوگوں سے نرمی سے بات نہیں کرنی چاہیے ، ب۔ خواتین کو گھر میں ٹک کر رہنا چاہیے، ج۔ خواتین کو نامحرم رشتہ داروں کے سامنے نہیں آنا چاہیے — کا تعلق صرف آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات سے ہے۔ یہ ہدایات ان کے لیے بھی کوئی عمومی ہدایات نہ تھیں، بلکہ ایک خاص صورت حال سے نمٹنے کی تدابیر تھیں جو ان کو ان کے مخصوص حالات میں دی گئی تھیں۔

_____
۴۲؂ چنانچہ ان الفاظ کی ہماری اختیار کردہ تالیف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے زمخشری لکھتے ہیں: ’یتجلبین ببعض ما لہن من الجلابیب‘ ،’’وہ اپنی کسی چادر کو اوڑھ لیں‘‘ ( الکشاف ۳/ ۵۷۰)۔

____________