صبح بہاراں ، صبح بہاراں        اس میں کم کم موسم باراں
بستی بستی ، گاؤں گاؤں        پھیل رہی ہے ابر کی چھاؤں
دور پپیہا بول رہا ہے        کانوں میں رس گھول رہا ہے
آؤ بچو، سیر کو جائیں        من کے کھیت میں پھول کھلائیں
چڑیا گانا گاتی دیکھیں        بلبل راگ سناتی دیکھیں
باغ میں کلیاں کھلتی دیکھیں        جھوم کے ہر سو ہلتی دیکھیں
اودی اودی ، نیلی نیلی        سرخ ، گلابی ، پیلی پیلی
اپنے رنگ بدلتی دیکھیں        تصویروں میں ڈھلتی دیکھیں
پتی پتی پر گل کاری        جیسے بنو کی عماری
اِس کے ہاتھ میں ایک کٹورا        صبح کی صورت گورا گورا
وہ یاقوت کا ایک پیالہ        اُس پر گنگا جمنی ہالہ
رنگ برنگ کے صافے باندھے        ڈالی ڈالی نافے باندھے
اٹھتے ، جھکتے ، پھر شرماتے        اپنے رنگوں میں چھپ جاتے
دیکھ رہے ہو گوناگوں ہیں        قدرت کا یہ ایک فسوں ہیں
آؤ، ان میں بیٹھ کے گائیں        خوب سنیں اور خوب سنائیں
اُس خالق کے گیت سہانے        ہم کو جس کی ایک ادا نے
بخشی ہے یہ دنیا ساری        آبی ، خاکی ، نوری ، ناری
یہ سب سائنس دان سیانے        چھوڑ کے اپنے عذر بہانے
دیکھیں اب تو اُس کی شانیں
اب تو یہ اُس کو پہچانیں

________