تیر ہواں باب 

سوڈان 1956ء میں آزاد ہوا اور وہاں جمہوری حکومت بن گئی۔ دو ہی سال بعد فوجی انقلاب آیا اور جنرل ابراہیم عبود نے اقتدار سنبھال لیا۔ اس کے چھ برس بعدیعنی 1964ء میں، عوامی تحریک کی مزاحمت کے نتیجے میں، جنرل ابراہیم نے اقتدار چھوڑ دیا۔ 1969ء میں کرنل جعفر نمیری نے ایک اور فوجی انقلاب برپا کردیا۔ یہ ظالمانہ اقتدار سولہ برس تک جاری رہا۔پھر ایک اور عوامی تحریک چلی، جس کے نتیجے میں جنرل عبدالرحمان نے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ انہوں نے ایک برس کے اندر اندر انتخاب کروانے کا وعدہ کیا اور اس وعدے کو پورا بھی کیا۔ چنانچہ 1986ء میں اُمہ پارٹی کے جناب صادق المہدی پارلیمانی انتخابات کے ذریعے وزیراعظم بن گئے۔ ابھی اس حکومت کو صرف تین برس ہوئے تھے کہ جنرل عمر البشیر نے نیشنل اسلامک فرنٹ کے تعاون سے اقتدار پر قبضہ کرلیا۔ جنرل عمر البشیراور نیشنل اسلامک فرنٹ کے جناب حسن ترابی کا یہ اتحاد دس برس تک جاری رہا، حتیٰ کہ 2000ء میں جنرل صاحب نے حسن ترابی کو حکومت سے نکال دیا۔ جنرل عمر البشیر ابھی تک برسراقتدار ہیں۔ 
ابتدا سے ہی سوڈان میں دو بڑی پارٹیاں تھیں۔ ایک جناب صادق المہدی کی اُمہ پارٹی جو جمہوریت اور اسلام کی علم بردار تھی۔ دوسری ڈیموکریٹک یونینسٹ پارٹی جو جمہوریت کے ساتھ سماجی انصاف پر زور دیتی تھی۔ سن اسی کی دہائی میں جناب حسن ترابی نے نیشنل اسلامک فرنٹ کی تشکیل کی۔ حسن ترابی، مولانا مودودی اور جماعت اسلامی سے بہت متاثر ہیں۔ وہ کئی مرتبہ پاکستان تشریف لا چکے ہیں اور ہر دفعہ وہ جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر منصورہ میں رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ 
آزادی کے دوبرس بعد ہی فوج نے اقتدار پرقبضہ کرلیا۔ تاہم جب بھی عوام کو انتخاب کا موقع ملا، انہوں نے ہمیشہ اُمہ پارٹی یا ڈی یوپی ہی کو ووٹ دیا۔ سوڈان کے فوجی حکمرانوں نے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے سوشلزم، اسلام اور قبائلی سسٹم کا نام خوب استعمال کیا۔ مثلاً جنرل ابراہیم عبود اپنے دورِ اقتدار میں مسلسل اسلام کا نام استعمال کرتے رہے۔ کرنل نمیری نے سوشلزم کے نام پر اپنے اقتدار کو طول دیا اور پھر جب انہیں معلوم ہوا کہ اسلام کا نام لینے میں زیادہ کشش ہے تو انہوں نے یک دم 1984ء میں شریعت نافذ کرنے کا اعلان کردیا اور کہا کہ آئندہ وہ اسلام کے مطابق حکومت کریں گے۔ 
جب 1986ء میں ایک جمہوری حکومت برسراقتدار تھی، تو جناب حسن ترابی کی نیشنل اسلامک فرنٹ کے تعاون سے جنرل عمر البشیر نے اس حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ پھر جنرل بشیر اور حسن ترابی ہنسی خوشی اسلام کے نام پر حکومت کرنے لگے۔ 
چونکہ ہر ڈکٹیٹر کو ایک نام نہاد جمہوری چہرے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے غیر جماعتی پارلیمنٹ کا ڈول ڈالا گیا۔ کہاگیا کہ چونکہ اسلام میں سیاسی پارٹیوں کی گنجائش نہیں اور سیاسی جماعتیں ملکی وحدت کو پارہ پارہ کردیتی ہیں چنانچہ ایسا نظام وضع ہونا چاہیے جس میں سیاسی تنظیمیں نہ ہوں۔ اس کے لیے ایک پیچیدہ ڈھانچہ بنادیا گیا جس کے تحت پارلیمنٹ کی نشستیں طبقات کی بنیاد پر تقسیم کی گئیں مثلاً مزدوروں، کسانوں، سرکاری ملازمین کی نشستیں اور اسی طرح نامزد نشستیں۔ یہ پارلیمنٹ بنائی گئی اور جناب حسن ترابی کو اس کا اسپیکر بنادیا گیا۔ صدر کے بعد سب سے زیادہ اختیارات سپیکر کو دیے گئے۔ کچھ مدت بعد وہی جھگڑا پیدا ہوا جو ایسے موقعہ پر ہمیشہ پیدا ہوا کرتا ہے یعنی اختیارات کا تنازعہ۔ ظاہر ہے کہ فوج کے مقابلے میں کون ٹھہر سکتا ہے۔ چنانچہ جناب حسن ترابی کے اختیارات ختم کردیے گئے اور ’’عدم اعتماد‘‘کے ذریعے ان کو سپیکر شپ سے ہٹادیا گیا۔ 
محترم قاضی حسین احمد صاحب بھی اس بحران کو حل کرنے سوڈان گئے اور واپس آکر خوش خبری سنائی کہ انہوں نے اقتدار کے دونوں ’’جائز دعویداروں‘‘ میں صلح کرادی ہے۔ مگر ایسے معاملات میں کہاں صلح ہوتی ہے۔ اقتدار بلا شرکت غیرے جنرل صاحب کے پاس رہا۔ 
ہر فوجی حکمران کو اپنے ’’حلقہ انتخاب‘‘ کے ساتھ ساتھ دوسرے ساتھیوں کی بھی تلاش ہوتی ہے چنانچہ جنرل عمر البشیر نے بھی آبادی کے دوسرے عناصر کو ساتھ ملانے کی کوشش کی۔ اس دفعہ ان کا ہدف سوڈان کی عربی بولنے والی آبادی تھی۔ واضح رہے کہ سوڈان میں چالیس فیصد آبادی عرب ہے اور پچاس فیصد سے کچھ اوپر کی آبادی سیاہ فاموں پر مشتمل ہے۔ تمام کلیدی عہدے عربوں کے پاس ہیں۔ 
جس طرح ہر غیر جمہوری یا نیم جمہوری ملک میں صوبے مرکز سے نالاں رہتے ہیں۔ یہی حال سوڈان کا ہے۔ جنوب کے صوبوں میں عیسائیوں کی اکثریت ہے اس لیے وہاں علیحدگی کی مسلح جدوجہد پچھلی کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ اس کے برعکس اگرچہ دارفر میں سو فیصد آبادی مسلمان ہے تاہم دوتنظیمیں یعنی سوڈان لبریشن آرمی اور جسٹس اینڈ ایکویٹی موومنٹ صوبائی خودمختاری کے لیے مسلح جدوجہد کررہی ہیں۔ ان کی جدوجہد پچھلے چند برس سے جاری ہے۔ ان سے نمٹنے کے لیے سوڈان کی مرکزی حکومت نے ایک منصوبہ بنایا۔ عربی بولنے والوں پر مشتمل دو تنظیمیں کھڑی کیں۔ ایک پاپولر ڈیفنس فورس اور دوسری جنجادیدملیشیا۔ ان کو یہ کام سونپا دیا گیا کہ وہ دارفر سے ساری سیاہ فام آبادی کو نکال باہر کریں اور ہجرت نہ کرنے والوں کو ہلاک کردیں۔ سوڈانی فوج بھی اس کام میں ان کا بھرپور ہاتھ بٹاتی رہی۔چنانچہ فروری2003ء سے لے کراب تک پچاس ہزار سیاہ فام مسلمانوں کو ہلاک کردیا گیا اور دس لاکھ افراد کو اپنے گھروں سے نکال دیا گیا جن میں سے اکثر اس وقت ہمسایہ ملک چاڈ میں پناہ گزین ہیں۔ گویا ظالم اسرائیل نے پچھلے تیس برس سے جتنے فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، ان سے پانچ گنا زیادہ مسلمانوں کو خود سوڈانی فوج اور جنجا دید ملیشیا نے شہید کیا ہے۔ اسی طرح ظالم اسرائیل نے جتنے فلسطینیوں کو ہجرت پر مجبور کیا ہے، اس سے تین گنا بڑی تعداد میں سیاہ فام مسلمانوں کو سوڈان سے ہجرت پر مجبور کردیا گیا ہے۔ یہ ہے وہ صورت حال جس سے اب لازماً امریکہ اور دوسرے ممالک فائدہ اٹھائیں گے۔ 
یہاں یہ بھی واضح رہے کہ سوڈان کی فوجی حکومتوں کے دور میں سوڈان میں مسلسل خانہ جنگی ہوتی رہی ہے۔ اس خانہ جنگی میں دس لاکھ سے زیادہ سوڈانی جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس مختصر جمہوری ادوار میں مجموعی طور پر امن رہا ہے اور مذاکرات جاری رہے ہیں۔ 
یہ سب کچھ پچھلے پانچ برس سے جاری ہے۔ اس دوران مغربی پریس میں بارہارپورٹیں چھپی ہیں۔ لیکن مسلمان ممالک کے ذرائع ابلاغ میں یہ خبریں عموماً جگہ نہیں پاسکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلم صحافت کی نظر میں اگر ایک مسلمان حکمران اپنے ملک کے باشندوں پر ظلم ڈھائے، تو وہ اس کے خلاف آواز اٹھانے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ اسی طرح مسلم امہ کے قائدین صرف اسی مسئلے کو اچھالنے میں دلچسپی رکھتے ہیں جہاں ان کو سیاسی نعرے بازی کے ذریعے سیاسی فوائد ملنے کی امید ہو۔ مظلوم مسلمانوں کے لیے ان کی رگ عدل وانصاف نہیں پھڑکتی۔
جب یہ معاملہ سامنے آگیا تو حسب معمول وضاحتیں پیش کی جانے لگیں۔ کہا گیا کہ یہ سب کچھ دراصل مغرب بالخصوص سی آئی اے کی سازش ہے۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم شتر مرغ کی طرح آنکھیں بند کرکے حقائق کو یکسر مسترد کردیتے ہیں۔ جب سن اکہتر میں پاکستانی فوج بنگالی بستیوں کو جلارہی تھی، یہاں مغربی پاکستان میں ہم سب کا خیال یہ تھا کہ یہ بھارتی اور مغربی پروپیگنڈا ہے۔ اگر سوڈان کا مسئلہ سی آئی اے کی سازش تھی تو سوڈان کو چاہیے تھا کہ وہ پہلے اقدام کرکے 2002ء میں دنیا کے سامنے اپنی شکایت رکھتا۔ اس کے ثبوت پیش کرتااور مسلم حکومتوں سے اپیل کرتا کہ چونکہ حالات اس کے قابو سے باہر ہورہے ہیں اس لیے وہ اپنی افواج مدد کے لیے بھیجیں۔ وہ اقوام متحدہ کے پاس شکایت لے جاتا۔ اس طرح امریکہ دفاعی پوزیشن میں چلا جاتا اور اس کی سازش دم توڑ جاتی۔ لیکن انصاف کی بات تو یہ ہے کہ ایسا کچھ تھا ہی نہیں۔ اس لیے سوڈان کے لیے اس لائحہ عمل پر عمل ممکن ہی نہیں تھا۔دو قریبی ہمسایہ ممالک یعنی چاڈ اور اریٹریا کی طرف سے کسی گروپ کی حمایت بعید از قیاس نہیں۔ بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اریٹریا کے مسلم مذہبی انتہا پسند سیاہ فاموں کے ایک گروپ کی مدد کررہے ہیں کیونکہ یہ لوگ حسن ترابی کے حامی ہیں۔ چاڈ بھی فرانسیسی اثر والا ایک ایسا ملک ہے جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں۔ 
یہ بھی کہا گیا کہ یہ دراصل کسانوں اور خانہ بدوشوں کی لڑائی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر ایسا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ تمام ہلاک شدہ گان اور تمام مہاجرین کا تعلق غیر عرب سیاہ فام آبادی سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی باتیں محض اپنے جرم کی سنگینی کو کم کرنے کے لیے کی جارہی ہیں۔ پورے علاقے میں ایک بھی عرب مہاجر نہیں ہے۔ 
ان دس لاکھ مہاجرین میں سے ہر ایک کے پاس سنانے کے لیے ایک سے ایک بڑھ کر دلخراش واقعہ موجود ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق ’’کور‘‘ نامی ایک قصبے کی ایک مہاجر عورت نے کہا کہ جنجادید جس گاؤں پر بھی قبضہ کرلیتی ہے، اس کی خوب صورت عورتوں کو الگ کرکے غلام بنالیا جاتا ہے اور باقیوں کو بھگایا جاتا ہے یا مار دیا جاتا ہے۔ خود یہ عورت اب جنجادید کی زیادتیوں کے نتیجے میں ایک بچے کی ماں بن چکی ہے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ رپورٹیں سچی ہیں یا جھوٹی۔ تاہم ٹیلی وژن کا کیمرہ تو جھوٹ نہیں بولتا۔ بہر حال اگر سوڈانی حکومت کا دامن صاف ہوتا تو وہ بیرونی صحافیوں پر پابندیاں لگانے کے بجائے ان کو آنے کی دعوت دے دیتی تاکہ وہ بلا روک ٹوک بچشم سر سب کچھ دیکھ لیتے۔ 
مسلمان ملکوں کی ایسی ہی کمزوریوں اور جرائم سے امریکہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ مصیبت تو یہ ہے کہ ان سیاہ فام مسلمانوں کی امداد کے لیے امریکہ نے تین کروڑ ڈالر کی اشیاء بھیج دی ہیں۔ کسی مسلمان ملک کو یہ بھی توفیق نہیں ہوئی کہ ان کی مدد کے لیے کچھ بھیج دیتا۔ چنانچہ کیا اس امداد کے نتیجے میں امریکہ کو سیاہ فام مسلم آبادی میں اپنے ہمدرد دستیاب نہیں ہوجائیں گے؟۔ اگر خدانخواستہ کل امریکہ یہاں اپنی فوجیں یہاں اتار دیتا ہے تو کیاعراق کے کردوں کی طرح یہ لوگ بھی اس کے دست وبازو نہیں بن جائیں گے؟۔ 
اسی طرح صومالیہ بھی ایک بدقسمت مسلمان ملک ہے۔ اس ملک کو 1960ء میں آزادی ملی۔ چونکہ اس ملک میں قبائلی عصبیت زوروں پر ہے، اس لیے اس ملک میں مستقلاً آویزش رہی ہے۔ تاہم جمہوریت کی وجہ سے آہستہ آہستہ صورت حال بہتر ہورہی تھی۔ 1969ء میں میجر جنرل سعید برے نے فوجی انقلاب برپا کردیا اور سوشلزم کو اپنی منزل قرار دے دیا۔ یہ حکومت اگلے بیس برس تک قائم رہی۔ اس نے ظلم وبربریت اور کرپشن کی انتہا کردی۔چنانچہ آخری دس سال مسلسل خانہ جنگی کی کیفیت رہی۔سعید برے نے ایک شہر ہارگیسا پر اتنی بمباری کی کہ پچاس ہزار افراد اسی ایک شہر میں بمباری سے مرگئے۔ 1991ء میں جنرل سعید نے حکومت چھوڑ کر جلاوطنی اختیار کرلی۔1991ء کے بعد سے صومالیہ شدید طوائف الملوکی اور انتشار کی حالت میں ہے۔ شمالی حصے نے ’’صومالی لینڈ‘‘ کے نام سے، مئی 1991ء میں، آزادی کا اعلان کردیا۔ چنانچہ یہ حصہ پرامن ہے۔ باقی صومالیہ میں مختلف وار لارڈز نے اپنی اپنی حکومتیں قائم کرلیں۔ ان میں سے کئی وارلارڈز کی حمایت امریکہ نے بھی کی۔ اقوام متحدہ نے صومالیہ کے لیے ایک عبوری حکومت قائم کرلی۔ گویا بیک وقت کئی حکومتیں کام کررہی تھیں۔ ان میں سب سے اہم حکومت جنرل فرح عدید کی تھی، کیونکہ موغادیشو پر اُس کا قبضہ تھا۔ 
2006ء میں ایک نئی تنظیم اسلامک کورٹس یونین کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس میں کچھ وارلارڈز کے ساتھ ساتھ علماء بھی شامل تھے۔ چونکہ عام لوگ کئی دہائیوں کی خانہ جنگی سے سخت تنگ آئے ہوئے تھے، اس لیے عوام نے بلحاظ مجموعی اس تنظیم کا خیر مقدم کیا۔ اس تنظیم نے بہت جلد مقبولیت حاصل کی اور جون 2006ء میں موغادیشو کو بھی فتح کرلیا۔ اس تنظیم نے اپنے زیرِ قبضہ علاقے میں امن اور انصاف قائم کردیا۔ صومالیہ کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد چاہئے تو یہ تھا کہ یہ تنظیم اعلان کرتی کہ ہم بہت جلد جمہوری انتخابات کے ذریعے صومالیہ میں ایک نمائندہ حکومت کا قیام عمل میں لائیں گے۔ تاہم اس تنظیم سے بھی طالبان والی غلطی ہوگئی، اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ بیدوا نامی قصبے میں واقع اقوام متحدہ کی قائم کردہ حکومت کو ختم کرے گی۔ چنانچہ دسمبر2006ء میں اس نے بیدوا پر حملہ کردیا۔ اس حملے کے نتیجے میں ایتھویوپیا کو یہ بہانہ مل گیاکہ وہ اقوام متحدہ کی عبوری حکومت کو بچانے کے نام پر صومالیہ میں مداخلت کرے۔ چنانچہ اُس نے یہ مداخلت کی اور دوہفتے کے اندر اندر سارے صومالیہ پر قبضہ کرکے بظاہر اقتدار عبوری حکومت کے حوالے کردیا۔ ظاہر ہے کہ یہ مسئلے کا حل نہیں۔ صومالیہ پہلے ہی کی طرح منتشر اور بکھرا ہوا ہے۔ صبروحکمت کی کمی کی وجہ سے مخلص ترین افراد پر مشتمل تنظیم آئی سی یو کا خاتمہ ہوگیا۔ فی الوقت اس بدقسمت ملک کے مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ آئی سی یو عسکری جدوجہد کو خیرباد کہے اور سیاسی پارٹی بن کر ملک میں انتخاب کا مطالبہ کرے۔ تاہم یہ بات واضح ہے کہ اگر ایسا ہوبھی گیا، (جس کا کوئی امکان نظر نہیں آرہا)، تب بھی چند برس سے پہلے شاید ہی کسی بہتری کی امید کی جاسکے۔ 
درج بالا تجزئے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ سوڈان اور صومالیہ کے مسائل کے حل کا پہلا قدم ہی جمہوریت اور حکمت وصبر میں مضمر ہے۔ ان دونوں اقدار کی طرف قدم بڑھانے سے ہی امید کا راستہ کھل سکتا ہے۔