تاہم یہ زوال خارجی قوت کا تھا۔ ہندوستان میں ایک مسلم قوم جنم لے چکی تھی جو گرچہ اپنے دور طفولیت میں تھی ، مگر تقدیر اس قوم پر مہربان تھی کہ اس موقع پر اس قوم میں ایک بہت بڑا لیڈر پیدا ہوا۔یہ سر سید احمد خان تھے۔وہ شاہ ولی اللہ کے بعد اس قوم کے دوسرے بڑے قائد تھے جس نے اس کے قومی مزاج کو بے انتہا متاثر کیا۔ ان سے اختلاف کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ خصوصاً ان کے بعض مذہبی خیالات کے حوالے سے ان پر بڑی تنقید ہوئی ہے۔ ہمیں بھی ان کے بعض مذہبی افکار ، بلکہ ان کی قومی رہنمائی کے بعض پہلوؤں سے بھی اتفاق نہیں۔ لیکن ہمارے نزدیک ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے اس وقت قوم کو ایک واضح نقطۂ نظر اور راہ عمل دی، جب اس کے قویٰ آخری حد تک معطل ہوچکے تھے۔ تاریخ کی روشنی میں ہم نے یہ سیکھا ہے کہ زوال کی اس انتہا پر پہنچے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ قوم کو امید دلاکر متحرک کرنے کا ہوتا ہے ۔۔۔ صحیح رہنمائی کرنے کا نہیں۔ ایک دفعہ قوم میں زندگی کی لہر دوڑ جائے، اس کے بعد غلطیوں کی اصلاح ہوسکتی ہے، لیکن اگر قوم مردہ ہو تو صحیح یا غلط عمل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ اکثر تو ایسی قوم زندگی کے دھارے سے کٹ کر ماضی کا ایک قصہ بن کر رہ جاتی ہے۔زوال کی انتہا کو پہنچی ہوئی ایک قوم کو اپنے دور کی سب سے بڑی طاقت کے مقابلہ کی سعی لاحاصل سے ہٹاکر آنے والے دنوں کی تیاری کی مہلت حاصل کرنا ، ان کا ایک عظیم کارنامہ ہے۔ا ن کی فکر کاایک دوسرا پہلو جو بڑا مستحسن ہے ، وہ یہ ہے کہ اس پورے عمل میں انھوں نے اسلام کو بالکلیہ رد کرنے کے بجاے اسے اس دور کے علمی انکشافات کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کی۔ ہر چند کہ اس کوشش میں وہ بہت کچھ ایسی باتیں کرگئے جو اسلام سے انحراف کے مترادف تھیں ، تاہم جب اس دور کے حالات، ان کے کام کی نوعیت، دین پر اس دور میں ہونے والے محدود کام ، انیسویں صدی کی سائنسی فکراور دیگر عوامل کو ذہن میں رکھا جائے تو اسے بھی ان کے کارناموں کی صف میں ڈالنا چاہیے۔ ان کے بعد آنے والوں نے ان کی تصحیح کردی، لیکن ان کے اس طرز عمل کے نتیجے میں قوم نہ صرف متحرک ہوگئی ، بلکہ اسلام کو اس کے قومی مزاج میں مرکزی حیثیت حاصل رہی، اور یہ ان کی بڑی خدمت ہے۔ اس کے علاوہ یہ انھی کی رہنمائی تھی جس کی بنا پر مسلمانوں نے ہندوؤں سے جدا اپنا ایک تشخص برقرار رکھا، وگرنہ اس دور کی ہماری دوسری قیادت تو ذہناً اس چیز کے لیے تیار تھی کہ انگریزوں کے خلاف جنگ اصل مقصد ہے چاہے، اس کے بعد ہندوؤں کے ساتھ ایک ثانوی درجہ کی حیثیت میں رہنا پڑے۔ہندوستان جس جمہوری نظام کی طرف بڑھ رہا تھا اور جس طرح ہماری مذہبی قیادت ہندوؤں سے کسی قسم کا معاہدہ کیے بغیر ان کے ساتھ شامل ہوگئی تھی، اس کا نتیجہ یہ نکلتا کہ اس خطے کے مسلمان ہمیشہ کے لیے اپنا قومی وجود کھودیتے ۔
سر سید کا ایک اور قومی کارنامہ یہ ہے کہ وہ اور ان کے رفقا نے اردو زبان کو بہت مختصر عرصے میں اس قابل بنادیا کہ وہ دنیا کی جدید اور ترقی یافتہ زبانوں کی صف میں آگئی اور اس میں ہر قسم کے مضامین کو ادا کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگئی، وگرنہ اس سے قبل خواص کے لیے یہ شعر وادب کی زبان اور عوام کے لیے محض ایک بولی تھی۔ بہت سے لوگوں کو اس حقیقت کا ادراک نہیں کہ مغلیہ سلطنت کے خاتمے کے بعد مسلمان جس طرح فارسی زبان سے کاٹ دیے گئے تھے ، اس کے نتیجے میں وہ اپنے بہت بڑے تہذیبی اور علمی سرمایہ سے محروم ہوگئے تھے۔ مگر اردو کی بروقت ترقی نے مسلمانوں کو نہ صرف علمی طور پر بنجر ہونے سے بچالیا ، بلکہ ہندوستان کی مسلم قوم کو ایک ترقی یافتہ مشترکہ زبان عطا کی۔زبان قومی اشتراک کی بہت بڑی وجہ ہوتی ہے۔
سر سید کے کارناموں کے یہ چندپہلو ہیں جن کی بنا پر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہندوستان کی ملت اسلامیہ کے باوا آدم ہیں، تاہم ان کی کوششوں کے بعض ایسے پہلو بھی تھے جن کے نتیجے میں ہمارے قومی مزاج میں بعض منفی چیزیں شامل ہوگئیں۔ ان میں سب سے نمایاں مغرب پرستی کا رجحان تھا۔ بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ر جحان کم ہونے کے بجاے بڑھتا چلا جارہا ہے۔ اپنے نتائج کے اعتبار سے یہ ایک انتہائی تباہ کن رویہ ہے جس پر ہم آگے چل کر گفتگو کریں گے۔

____________