اس ضمن میں مولانا گوہر رحمن صاحب نے تیسری بات یہ فرمائی ہے کہ قرآن و سنت سے منحرف حکومت کو اگرچہ عوام کی اکثریت کا اعتماد ہی کیوں نہ حاصل ہو، اسے ’’الجماعۃ‘‘ کہنا اور اس کے التزام کو لازم قرار دینا صحیح نہیں ہے۔
مولانا لکھتے ہیں:

’’قرآن و سنت کی بالا دستی اور التزام سے عملاً منحرف ہو جانے والی حکومت کو بالحق حکومت نہیں کہا جا سکتا۔ اگرچہ اس کو مسلمانوں نے منتخب کیا ہو اور اس کو عامۃ الناس کا اعتماد حاصل ہو۔ ’امرہم شورٰی بینہم‘ کا مطلب یہ تو نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں نے اپنی جہالت و نادانی کی وجہ سے یا فریب خوردگی کی وجہ سے یا مفاد پرستی اور خود غرضی کی وجہ سے اگر قرآن و سنت سے منحرف حکومت کو منتخب کر لیا ہو تو وہ بھی حکومت بالحق ہو گی۔‘‘ (ماہنامہ فاران ،جون ۱۹۹۵ء،۲۲)

اسی بات کو مزید واضح کرتے ہوئے مولانا لکھتے ہیں:

’’... باقی رہی یہ بات کہ اسے مسلمانوں نے منتخب کیا ہے تو مسلمانوں نے اگر دھوکے اور فریب میں آ کر یا مفاد پرستی اور خود غرضی کی وجہ سے یا اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے ایسے لوگوں کو منتخب کر لیا ہو جو اقامت دین کا فریضہ انجام دینے کی بجائے طاغوتی اور غیر اسلامی نظام چلا رہے ہوں تو صرف اکثریت کا ووٹ حاصل کر لینے سے ’’الطاغوت‘‘ کو ’’الجماعۃ‘‘ نہیں کہا جا سکتا۔ اسلام کے سیاسی نظام میں اسلامی حکومت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ مسلمانوں کی معتمد ہو اور مسلمانوں کی رائے سے بنی ہو اور یہ بھی لازمی شرط ہے کہ وہ اسلام کے معیار اہلیت کی کم از کم شرائط پر تو پوری اترتی ہو اور ریاست کا نظام قرآن و سنت کے مطابق چلاتی ہو۔ اصل معیاری صورت تو یہ ہے کہ اسلامی حکومت کا سربراہ بھی علم و عمل کے اعتبار سے اپنے دور میں ایک ممتاز مسلمان ہو، لیکن اگر شخصی کردار اور عمل کے لحاظ سے اس کے اندر کچھ خرابیاں اور کمزوریاں موجود بھی ہوں مگر جب تک وہ ریاست کا نظام شریعت کے مطابق چلا رہا ہو تو شخصی خرابیوں کے باوجود اس کی حکومت اسلامی حکومت ہو گی اور اس کی اطاعت فی المعروف شرعاً ضروری ہو گی۔ البتہ حکمران کی شخصی خرابیوں کے ازالے اور اصلاح کے لیے نقد و احتساب اور نصیحت کا فرض ادا کرنا بھی ضروری ہو گا۔‘‘ (ماہنامہ فاران، جون۱۹۹۵ء، ۲۷)

مولانا گوہر رحمن صاحب سے اس ضمن میں ہم یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کی اکثریت کسی حکمران کو منتخب کرتی ہے تو اس بات کا فیصلہ کون کرے گا کہ مسلمانوں کا یہ انتخاب ’’دھوکے اور فریب میں آ کر یا مفاد پرستی اور خود غرضی کی وجہ سے یا اپنی جہالت اور نادانی کی وجہ سے‘‘ غلط ہے ؟ یہ بات اگر مان لی جائے کہ ’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ‘ کے معنی وہی ہیں جو مولانا بیان فرما رہے ہیں تو یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر اس حوالے سے آخری فیصلہ کس کے ہاتھ میں ہو گا؟ مزید یہ کہ یہ آخری فیصلہ اگر ’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ‘ میں ضمیر مجرور کو چھوڑ کر کسی اور کے ہاتھوں میں ہو گا تو کیا قرآن مجید کی نص صریح کی خلاف ورزی نہیں ہو گی ؟ اسی طرح، عوام اگر، فی الواقع دھوکا، فریب، مفاد پرستی، خود غرضی، جہالت یا نادانی کا شکار ہوں تو کیا ’اَمْرُہُمْ شُوْرٰی بَیْنَہُمْ‘ کا قرآنی اصول معطل قرار پا جائے گا ؟ اگر ایسا ہے تو اس اصول کو معطل کرنے کا اختیار کس کے پاس ہو گا ؟ اسی ضمن میں مولانا محترم سے ہم یہ بھی پوچھنا چاہتے ہیں کہ عوام اگر اپنی جہالت و نادانی یا مفاد پرستی و خود غرضی کے باعث کسی غلط حکمران کا انتخاب کر لیں تو قوم کے علماے دین کا اصل کام کیا یہ نہیں ہے کہ وہ عوام کی تعلیم و تربیت کا کام کریں ؟ مولانا محترم جیسے اہل علم، جو اس بات کو پوری طرح سمجھتے ہیں کہ اسلام کے شورائی نظام میں حکومت کی تبدیلی کا راستہ عوام الناس کی تربیت اور انھیں اپنے نقطۂ نظر کا قائل کر لینا ہے، وہ حکمرانوں کے خلاف محاذ آرائی کرنے کے بجاے عوام میں دین کی دعوت اور انھیں اللہ کی پکڑ سے خبردار کرنے کا وہ کام کرنے تک اپنے آپ کو کیوں محدود نہیں رکھتے جس کی ذمہ داری ان پر اللہ کی کتاب نے عائد کی ہے ؟ کیا مولانا یہ نہیں سمجھتے کہ اس سے ان کی ذمہ داری بھی ادا ہو جائے گی اور اللہ نے چاہا تو اس زمین پر ایک مرتبہ پھر اللہ کے بتائے ہوئے طریقے پر اس کی پسند کا نظام بھی قائم ہو جائے گا ؟ مولانا، دین کے عالم کی حیثیت سے، اس سے بڑھ کر اگر کسی جدوجہد کو ضروری سمجھتے ہیں تو ان سے ہماری گزارش ہے کہ وہ قرآن و سنت میں اس جدوجہد کے ماخذ کی طرف ہماری رہنمائی فرمائیں۔
ہمارے نزدیک اصل بات یہ ہے کہ ایک مرتبہ مسلمان اپنا نظم اجتماعی جب قائم کر لیں تو اس کے ساتھ وابستہ رہنا ہی ’’التزام جماعت‘‘ ہے۔ یہ ممکن ہے کہ مسلمانوں کی اکثریت اپنی غفلت و نادانی، اپنی گمراہی و بے راہ روی ،اپنی مفاد پرستی اور اپنی فریب خوردگی کے باعث کسی ایسی حکومت کو منتخب کر لے جو دین کے نفاذ اور اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کے معاملے میں کسی درجے میں بے اعتنائی کا شکار ہو، تب بھی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس وقت تک ایسے حکمرانوں کی اطاعت پر قائم رہیں، جب تک وہ کفر بواح یا کھلے کفر کے مرتکب نہیں ہوتے۔ بعض روایتوں میں ’ما أقاموا الدین‘ کے الفاظ اسی مفہوم میں آئے ہیں، یعنی، جب تک یہ حکمران دین پر قائم رہیں یا جب تک یہ مسلمان رہیں، اس وقت تک ان کی اطاعت نہ چھوڑی جائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ اپنی صلاحیت، حالات اور معاشرتی پوزیشن کے لحاظ سے ہر باشعور مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان حکمرانوں کی اصلاح کی جدوجہد کرتا رہے، مگر جب تک یہ حکمران کفر بواح کے مرتکب نہیں ہوتے، اس وقت تک یہ جدوجہد کسی حال میں بھی حکمرانوں سے ٹکر لینے یا ان کے ساتھ عدم تعاون کی تحریک چلانے کی صورت میں نہیں ہونی چاہیے۔ اس جدوجہد کا دائرۂ عمل ہرگز دعوت و انذار کے حدود سے متجاوز نہیں ہونا چاہیے۔ ظاہر ہے، جس قوم کی اکثریت ’’دھوکا میں آ کر‘‘، ’’فریب خوردگی کی وجہ سے‘‘، ’’مفاد پرستی اور خود غرضی کے باعث‘‘ یا ’’اپنی جہالت اور نادانی کے سبب‘‘ دین و شریعت کی رو سے کوئی غلط فیصلہ کرتی ہے، وہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس قوم کے علما کو اپنا اصل میدان عمل دعوت و انذار ہی تک محدود رکھنا چاہیے۔ اس صورت حال کا اگر کوئی حقیقی علاج ہے تو یہی ہے کہ دین کے یہ علما اپنی اصل ذمہ داری ادا کریں اور قوم کو جہالت اور گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر دین کی روشن شاہراہ پر واپس لانے کی جدوجہد کریں۔ یہ ذمہ داری ادا کرنے کے بجاے اگر دین کے اہل علم بھی حکمرانوں کو تبدیل کرنے کے لیے ان کے خلاف احتجاجی کارروائیاں اور عدم تعاون کی تحریکیں چلانے میں مصروف رہے تو اس سے ایوان اقتدار میں براجمان ہونے والے چہروں کی تبدیلی کے سوا کچھ بھی حاصل نہ ہو گا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ حکمرانوں کے بارے میں اللہ کی سنت یہ ہے کہ قوم اگر مجموعی طور پر اللہ کی فرماں برداری پر قائم رہے تو اس پر اللہ کی رحمت سے رحم دل اور عادل حکمران حکومت کے لیے مقرر کیے جاتے ہیں اور اگر لوگ اللہ کے معاملے میں بے پروائی کا شکار ہو جائیں تو اللہ ان پر ایسے حکمران مسلط کر دیتا ہے جو ان پر ظلم و جور کے دروازے کھول دیتے اور ان کے لیے اسی دنیا میں اللہ کے عذاب کی ایک نشانی بن جاتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

إن اللّٰہ تعالٰی یقول: أنا اللّٰہ لا إلٰہ إلا أنا، مالک الملوک و ملک الملوک. قلوب الملوک فی یدی. وإن العباد إذا أطاعونی حولت قلوب ملوکھم علیہم بالرحمۃ والرأفۃ. وإن العباد إذا عصونی حولت قلوبہم بالسخطۃ والنقمۃ. فساموہم سوء العذاب. فلا تشغلوا أنفسکم بالدعاء علی الملوک. ولکن أشغلوا أنفسکم بالذکر والتضرع. أکفیکم ملوککم. (مشکوٰۃ المصابیح، رقم ۳۷۲۱)

’’اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں اللہ ہوں۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں بادشاہوں کا مالک اور ان کا بادشاہ ہوں۔ بادشاہوں کے دل میری مٹھی میں ہیں۔ لوگ جب میری اطاعت پر قائم ہوں تو میں بادشاہوں کے دل ان کے حق میں اس طرح پھیر دیتا ہوں کہ وہ ان کے ساتھ نرمی اور رحمت سے پیش آتے ہیں۔ اور لوگ اگر میری نافرمانی کریں تو میں ان کے (بادشاہوں کے) دل ان کی طرف سے اس طرح پھیر دیتا ہوں کہ وہ ان کے ساتھ سختی اور نقمت سے پیش آتے ہیں۔ پھر وہ انھیں بڑے برے عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں، اس لیے تملوگ اپنے ظالم حکمرانوں کے لیے بری دعا نہ کیا کرو، بلکہاپنے آپ کو میرے ذکر اور مجھ سے دعا کرنے میں مصروف رکھو۔ میں تمھارے حکمرانوں کے مقابلے میں تمھارے لیے کافی ہوں۔‘‘

اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ دین کے علما پر قرآن مجید اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی رو سے اصل ذمہ داری جو عائد ہوتی ہے، وہ دعوت اور صرف دعوت کی ہے۔ چنانچہ ہمیں ہر قسم کی جدوجہد کا عزم کرنے سے پہلے اس بات پر بھی غور کر لینا چاہیے کہ جو اقدام ہم کرنے جا رہے ہیں، وہ کہیں ہماری اصل ذمہ داری کو ادا کرنے کی راہ میں رکاوٹ تو نہیں پیدا کر دے گا۔ ہمیں خوب اچھی طرح سے جانچ لینا چاہیے کہ جو اقدام ہمارے پیش نظر ہے، دین ہمیں اس کا مکلف بھی ٹھہراتا ہے یا نہیں۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو اس بات کا شدید اندیشہ پیدا ہو جائے گا کہ آخرت میں ہم جن اقدامات کو نیک اعمال کی حیثیت سے پادشاہ ارض و سما کے حضور پیش کریں، وہی ہمارے لیے وبال جان بن جائیں۔
مولانا محترم سے ہماری گزارش ہے کہ وہ ہمارے لیے اللہ کی کتاب قرآن مجید اور اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات میں سے کسی ایسی چیز کی نشان دہی کر دیں جس کے مطابق حکمرانوں کے خلاف احتجاج اور ان کے خلاف عدم تعاون کی تحریک چلانا یا اس میں حصہ لینا لازم ٹھہرایا گیا ہو۔

____________