نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض روایتیں بیان کی جاتی ہیں جن میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ بیوی اس وقت تک نفلی روزہ نہیں رکھ سکتی، جب تک اس کا شوہراسے اجازت نہ دے۔ بخاری میں ہے:

عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَصُوْمُ الْمَرْأَۃُوَبَعْلُہَا شَاہِدٌ إِلاَّ بِإِذْنِہِ.(رقم ۴۸۹۶)
’’حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:شوہر کی موجودگی میں بیوی کو اس کی اجازت کے بغیر روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔ ‘‘۳۹؂

اس طرح کی روایات کو بنیاد بنا کریہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ اسلام عورت بے زار (misogynist) مذہب ہے ۔چنانچہ ایک عورت کو اتنا بھی حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے عبادت کرسکے۔ بہ ادنی تامل یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ یہ روایت اپنی نوعیت کے اعتبار سے بالکل ویسی ہے، جیسی وہ روایت جس میں بیوی کا شوہر کے قریب آنے سے انکارزیر بحث آیاہے۔ اس روایت کا بڑا تفصیلی جائزہ گذشتہ صفحات میں پیش کیا جا چکا ہے۔ چنانچہ اس بات کی ضرورت ہے کہ مندرجہ ذیل اہم نکات کو ایک مرتبہ پھر ذہن میں تازہ کرلیا جائے:
پہلی بات یہ ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو جنسی تسکین کا جائز ذریعہ فراہم کرکے ایک دوسرے کی عفت کی حفاظت کا باعث بنتے ہیں۔ عفت کا یہ تحفظ خاندان کی بقا کے لیے ضروری ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ خاندان کے ادارہ کی بقا پر معاشرے کی بقا کا انحصار ہے۔کوئی بھی چیز جس سے یہ عفت وعصمت خطرے میں پڑے، وہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔
دوسری اہم بات یہ ہے کہ اس حدیث میں جو ہدایت کی گئی ہے، اس میں مرد بھی اسی طرح مخاطب ہے، جس طرح ایک خاتون مخاطب ہے۔ وہ بھی اگر کوئی نفلی روزہ رکھنا چاہتا ہے تو اسے اپنی بیوی کو اعتماد میں لینا چاہیے اور اس سے مشورہ کرنا چاہیے۔ اس معاملے میں ذہنی ہم آہنگی بہت ضروری ہے اور ذہنی ہم آہنگی سے ہی معاملات آگے بڑھتے ہیں۔
ایک اہم بات جو اس ضمن میں ملحوظ رہنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ قرآن و حدیث میں بعض اوقات مردوں کو مخاطب کرکے احکام دیے گئے ہیں، جبکہ مخاطب مرداور عورت دونوں ہیں۔ چنانچہ اسلوب کی اس لطافت اور ندرت کو سامنے رکھ کر قرآن وحدیث، دونوں کے احکام کو سمجھنا چاہیے۔

_____
۳۹؂ دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رمضان کے علاوہ روزوں کے بارے میں ہے۔ مثال کے طور پر دیکھیے:احمد ، رقم۱۰۱۷۱۔

____________