ایک حدیث میں یہ بات بیان ہوئی ہے کہ کسی خاتون کو گھر سے باہر جانے کے لیے ہر صورت اپنے شوہر سے اجازت لینی چاہیے:

عَنِ بْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِّی أَنَّ إِمْرَأَۃً أَتَتْہُ فَقَالَتْ: مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلٰی اِمْرَأَتِہِ؟ فَقَالَ: لاَ تَخْرُجْ مِنْ بَیْتِہِ إِلاَّ بِإِذْنِہِ. (السنن الکبریٰ، بیہقی رقم ۱۴۴۹)
’’حضرت ابن عمر روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک خاتون نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے شوہر کے بیوی پر حق کے بارے میں پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے چاہیے کہ وہ اس کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر نہ نکلے۔‘‘

یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ ایک خاندان اپنی حیثیت میں ریاست ہی کی طرح ہوتا ہے۔ اس کے تمام شہریوں سے امید کی جاتی ہے کہ وہ اس ریاست کے اصولوں اور قوانین کی پابندی کریں۔ ان سے یہ توقع ہوتی ہے کہ وہ ریاست کے ساتھ تعاون اورموافقت کا رویہ اختیار کریں۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ ریاست کی پالیسیوں سے اختلاف نہیں کرسکتے۔ ان کا یہ بنیادی جمہوری حق ہے کہ وہ اختلاف کریں اور اپنے اختلاف کو شائستہ طریقے سے پیش کریں۔ ریاست میں نظم وضبط پیدا کرنے اور کسی قسم کے بھی فساد سے بچانے کے لیے یہ اطاعت اور موافقت ناگزیر طور پر ضروری ہے۔ اسی طرح خاندانی نظام کے معاملے میں یہ ضروری ہے کہ خاندان کے سربراہ سے سازگاری کا رویہ اختیار کیا جائے اور اس کی اطاعت کی جائے۔دوسرے لفظوں میں اطاعت کا تعلق صاحب اختیار کی جنس سے نہیں۔ چنانچہ صاحب اختیار چاہے مرد ہویا عورت، اس کی اطاعت کی جائے گی۔ ایک فطری بات ہے کہ مختلف کاموں کے لیے مختلف صلاحیت والے افراد چاہیے ہوتے ہیں اور انصاف کی بات یہ ہے کہ ہر انسان کو چاہے وہ مرد ہو یا عورت، اسے اس کی صلاحیت کے مطابق ذمہ داری ملنی چاہیے اور صلاحیت ہی کی بنیاد پر اختیار ملنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی کتاب سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ مرد گھر کا سربراہ بننے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ شوہر کی اس سربراہی کو تسلیم کرتے ہوئے بیویوں کو قرآن مجید کی سورۂ نساء (۴) آیت ۳۴ میں یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے شوہروں کی اطاعت کریں۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ مرد برتر انسان ہیں، بلکہ اس وجہ سے کہ وہ خاندان کا سربراہ بننے کے لیے زیادہ مناسب ہیں۔ اگر بیویاں خاندان کا سربراہ بننے کے لیے زیادہ موزوں ہوتیں تو شوہروں کو اسی بنیاد پر ان کی اطاعت اور ان سے سازگاری کا رویہ اختیار کرنے کے لیے کہا جاتا۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ بیویوں سے چاہتا ہے کہ وہ شوہروں کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کا رویہ اختیار کریں۔ مزید برآں شوہروں کو بھی بیویوں سے شفقت کا رویہ اختیار کرنا چاہیے اور جہاں تک ممکن ہو، ان کی ضروریات کو فراخ دلی کے ساتھ پورا کرنا چاہیے۔ انھیں اپنی بیویوں پر ناجائز پابندیاں نہیں لگانی چاہییں، اس لیے کہ یہ رویہ اللہ تعالیٰ کے غضب کوبھڑکانے کا باعث بن سکتا ہے۔
بیوی کا گھر سے باہر نکلنے سے پہلے شوہر سے اجازت لینے کے حکم کو بھی اسی پس منظر میں سمجھنا ضروری ہے۔ آپس میں ہم آہنگی کے عمومی حالات میں بیوی کے لیے شوہر سے ہر دفعہ اجازت مانگنا لازم نہیں۔ البتہ مخصوص حالات میں اگر شوہر کی یہ حقیقی راے ہے کہ بیوی کے باہر جانے سے خاندان کسی طرح بھی متاثر ہوسکتا ہے تو وہ اس بات کا حق رکھتا ہے کہ ان حالات میں اپنی بیوی کو باہر جانے سے روکے اور بیوی کو چاہیے کہ وہ شوہر کی اجازت سے باہر جائے۔ اس ضمن میں شوہر کو بھی یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اگر وہ بغیر کسی وجہ اور سبب کے بیوی پر ناجائز طور پر پابندیاں لگاتا ہے تو وہ اپنی حدود کو توڑتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضی مول لیتا ہے۔ چنانچہ شوہر کا غلط رویہ بیوی کو اس کی نافرمانی پر ابھار سکتا ہے جس کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔

____________