قرآن مجید میں شوہر کو مخصوص حالات میں اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھانے کا جو حق دیا گیا ہے، اس سے جدید ذہن میں بہت سوال پیدا ہوئے ہیں۔ بلکہ یہ موضوع اسلام کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں پیدا کرنے کا بھی باعث بنا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مسئلہ کو اس کے صحیح تناظر میں سمجھا جائے۔
قرآن مجید میں ہے:

وَالّٰتِیْ تَخَافُوْنَ نُشُوْزَہُنَّ فَعِظُوْہُنَّ وَاہْجُرُوْہُنَّ فِی الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوْہُنَّ فَإِنْ أَطَعْنَکُمْ فَلَا تَبْغُوْا عَلَیْہِنَّ سَبِْیلاً اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیًّا کَبِیْرًا. (النساء ۴: ۳۴)
’’اور جن (بیویوں) سے تمھیں سرکشی کا اندیشہ ہو، انھیں (پہلے) نصیحت کرو اور (پھر اس کے بعد) ان کے بستروں میں انھیں اکیلا چھوڑ دو اور (اس پر بھی نہ مانیں تو) انھیں سزا دو۔ پھر اگر وہ اطاعت کر لیں تو ان پر الزام کی کوئی راہ نہ ڈھونڈو۔بے شک، اللہ تعالیٰ بہت بلند ہے اور بہت بڑا ہے۔‘‘

اس آیت سے متعلق مندرجہ ذیل باتیں بالکل واضح رہنی چاہییں:

۱۔ آیت کے اس حکم کو اس کے صحیح تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس حکم کا اطلاق اس وقت ہوگا جب کوئی بیوی اپنے شوہر کی سربراہ کی حیثیت کو چیلنج کرنا شروع کرے اور خاندان کے نظام کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرے۔ اس صورت میں خاوند کو جو تادیبی اختیار دیا گیا ہے، اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ گھرکے سربراہ کی حیثیت سے خاندان کو بچانے کی آخری کوشش کرے۔ بیوی کے اس سرکشی پر مبنی رویے کے لیے قرآن مجید میں’ نُشُوْز‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے ،’’نا فرمانی ‘‘کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔’ نُشُوْز‘ کا لفظ عورت کی کسی کوتاہی، لاپروائی یا اپنے ذوق یا راے یا اپنی شخصیت کے فطری اظہار کے لیے نہیں بولا جاتا بلکہ بیوی کے شوہر کے خلاف سرکشی پر مبنی رویے کے لیے بولا جاتا ہے جس میں وہ شوہر کی قوّامیت کے مقابلے میں کھڑی ہوجاتی ہے اور ہر وہ کام کرتی ہے جس سے گھر تباہی اور ٹوٹنے کی طرف چلا جائے ۔
۲۔ مندرجہ بالا آیت کے مطابق بیوی کو جسمانی سزا دینے سے پہلے دو مراحل سے گزارنے کی تاکید کی گئی ہے :
سب سے پہلا مرحلہ یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو سمجھائے اور نصیحت کرے۔ بیوی کو اس کی روش سے باز رکھنے کے لیے وہ جتنا صبروتحمل اور برداشت سے کام لے سکتا ہے، اسے لینا چاہیے۔ اکثر اوقات شوہر کی توجہ اور محبت کارگر ہوتی ہے اور بیوی کا منفی رویہ مثبت رویے میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ مناسب مدت تک سمجھانے بجھانے کے باوجود وہ اپنی سرکشی پر مصر رہتی ہے تو پھر اسے اجازت ہے کہ وہ دوسرا مرحلہ اختیار کرے ۔
دوسرا مرحلہ سمجھانے اور تنبیہ کرنے کا یہ ہے کہ شوہر بیوی سے اپنا ازدواجی تعلق قائم کرنے سے گریز کرے۔بستر کو علیحدہ کرنا ایک نوعیت کی سزا ہے اور بیوی سے ایک مؤثر اپیل ہے کہ وہ اپنا سرکشی پر مبنی رویہ درست کرلے ۔ سمجھانے بجھانے کا یہ دوسرا مرحلہ بھی مناسب مدت تک جاری رہنا چاہیے تاکہ اصل مقصد حاصل ہو جائے۔ اس بات کا زیادہ امکان ہے کہ ان دو مرحلوں کے بعد زیادہ تر بیویاں اپنا رویہ درست کرلیں گی۔
چنانچہ شوہر کے صبر، تحمل اور برداشت سے کام لینے کے نتیجے میں اس بات کا قوی امکان ہے کہ وہ اپنی بیویوں کے دلوں کوفتح کرلیں ۔تاہم اگر ان دو مراحل کے بعد بھی بیوی شوہر کی حاکمیت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیتی ہے اورگھر بالکل تباہی کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے تو پھر قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ شوہر کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ہلکی پھلکی جسمانی سزا دے سکتا ہے ۔
۳۔ تادیبی سزا دیتے وقت شوہر کو بہت احتیاط برتنی چاہیے کہ وہ اپنی بیوی کو زخمی نہ کر بیٹھے۔ شوہر کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اس سزا کی مثال بالکل ایسے ہے، جیسے ایک ماں اپنے سرکش بیٹے کو تنبیہ کرنے کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہے یا ایک استاد اپنے نافرمان شاگرد کو مارتا ہے۔ شوہر کواپنا یہ اختیار استعمال کرتے ہوئے یہ بات بھی ذہن نشین رکھنی چاہیے کہ اگر وہ اس حد سے آگے بڑھتا ہے تو قیامت کے دن اسے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہونا ہوگا۔ اس ضمن میں یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ بیوی کے پاس اس بات کا اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کے غلط رویے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرسکتی ہے ۔
۴۔آخرمیں یہ بات پیش نظر رہنی چاہیے کہ شوہر کوتنبیہ کرنے کے لیے دیے گئے یہ سارے حق حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے حکمت کے ساتھ استعمال کیے جانے چاہییں اور یہ بھی ضروری نہیں کہ شوہر،بہرحال، ان اختیارات کو استعمال کرے۔ حالات ہی کے مطابق ایک شخص کو اپنا حق استعمال کرنا چاہیے۔ چنانچہ ایسے حالات بھی پیدا ہوسکتے ہیں کہ خاوند یہ سمجھے کہ ان میں سے ایک یا سب اختیارات استعمال کرنا حکمت اور مصلحت کے خلاف ہے۔

____________